ایسے کرو اپنا کام۔۔۔۔۔۔

ازقلم: حُسین قریشی
بلڈانہ مہاراشٹرا

بیٹا!!!….. "راجو، تم یہ کیا کر رہے ہو؟ تمھیں کتنی بار سمجھایاہے کہ اپنا کام اپنے آپ کیا کرو۔ شرٹ ، پینٹ اور موزے صحیح طرح سے پہنا کرو۔ ہمیشہ بٹن نیچے اوپر لگاتے ہو۔ تم کب سیکھو گے؟بیٹا اچھے بچے اپنے سارے کام خود سے کرتے ہیں۔”

"جی!!.. ممی میں بھی تواچھا بچہ ہوں۔ میں بھی تو اپنا کام خود کرتا ہوں۔ یہ دیکھئے میں نے سفید شرٹ خود پہنا ہے۔ راجو نے ممی کو بتاتے ہوئے خوشی سے کہا۔”

ہاں ۔۔۔۔ بیٹا ۔۔۔ مگر یہ بٹن نیچے اوپر ہوگئے نا۔۔۔۔ کالر درست کرو۔ ادھر آؤ۔۔۔۔۔ میں صحیح کردیتی ہوں۔ خالدہ اپنے بیٹے راجو کا شرٹ درست کرنے لگی۔ اتنے میں السلام علیکم ۔۔۔۔ خالہ جان کی آواز سے خالدہ چونک گئی۔ وعلیکم السلام عائشہ بیٹا۔۔۔ کیسی ہو۔ "میں ٹھیک ہوں۔ آپ کے لئےامی جان نے یہ میٹھائی بھیجی ہے۔ عائشہ نے مٹھائی کا ڈبہ خالدہ کودیتے ہوئے کہا۔

ارے !!! واہ میٹھائی۔۔۔۔۔ مجھے بہت پسند ہے۔ راجو خوشی سے اچھل پڑا۔ خالدہ نے کہا "بس کھانے پر دھیان ہے پڑھائی اور خود کے کاموں کی فکر نہیں۔۔۔۔۔ تمھیں”

عائشہ نے راجو کو مٹھائی دی۔ راجو مٹھائی کھانے کے لئے میز پر بیٹھ گیا۔

عائشہ نے کہا” ہمارے ٹیچر کہتےہیں کہ چھوٹے بچے صرف کہنے یا حکم دینے سے وہ کام صحیح طریقے سے نہیں کرتے ہیں۔ انھیں تو ہر کام عملی طور پر درجہ بہ درجہ کرکے دکھانا پڑتا ہے۔ تب وہ اچھی طرح ہر کام دھیرے دھیرے سیکھنے لگتے ہیں۔

عائشہ نے کہا، راجو تم نے مٹھائی کھا لی؟ تمھیں مٹھائی کیسی لگی؟ ہاں!! میں نے کھا لی۔ مٹھائی تو بہت مزے کی تھی۔ واہ مزہ آگیا۔۔۔۔۔ چلو آؤ ادھر اب ہم ہاتھ دھوتے ہیں۔ عائشہ اسے بیسِن کے قریب لے گئی اور کہا دیکھو ہمیں پہلے اس طرح سے پانی ہاتھ پر لینا ہے اور اس طرح صابن لگانا ہے پھر انگلیوں و ہتھیلیوں کو اچھی طرح ۔۔۔۔ ایسے کچھ دیر تک ملتے رہنا ہے۔ اسکے بعد پیچھے کا حصہ اور آخر میں اس طرح پانی سے رگڑ رگڑ کر ہاتھ دھونا چاہئے۔ سمجھے؟…… جی سمجھ گیا۔۔۔۔ باجی میں آپ کو ہاتھ دھوکر بتاتا ہوں۔

عائشہ نے خالہ جان کو اشارے سے بیسِن کے قریب بلایا۔ خالدہ نے دیکھا، کہ راجو دھیرے دھیرے بڑے ہی اچھے انداز میں ہاتھ دھو رہا ہے اور ساتھ ہی طریقہ بھی بیان کررہا ہے۔ ایسا کرنا ہے۔۔۔۔۔ پھر اسکے بعد ایسے انگلیاں ملنا ہے۔۔۔۔۔ ایسے ہاتھ دھونا ہے۔۔۔۔ وغیرہ

خالدہ نے کہا”عائیشہ بیٹا !! تم نے واقعی اچھا و مؤثر طریقہ بتایا ہے۔ اب میں بھی اسے ہر کام عملی طور پر کرکے سجمھایا کرونگی۔” "ہاں!!! ۔۔۔۔ خالہ جان اس سے بچے جلد سیکھتے ہیں اور مزے لے لے کراپنا کام خود کرتے ہیں۔ بچے تو ہر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بس سکھانے اور سمجھانے کا طریقہ مؤثر مزیدار ہونا چاہیے۔اسی سے انکی سیکھنے کی صلاحیت بھی پروان چڑھتی ہے۔ بچوں میں خود اعتمادی بڑھتی ہے۔” عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اچھا خالہ جان میں چلتی ہوں۔ مجھے اسکول جانا ہے۔ السلام علیکم۔۔۔۔۔۔ اللہ حافظ ۔۔۔۔ اچھا راجو، اب ممی جیسے تمھیں بتائیں گی ویسے ہی اس طریقے سے خود تم اپنے کام کرنا۔ تم ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔ بائے۔۔۔۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بچوں کا کالم: سایہ

افسانہ نگار: ڈاکٹرصالحہ صدیقی (الہٰ آباد)[email protected] سونی اپنے گھر کی ہوشیار بچی تھی ،پڑھائی ،لکھائی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے