غزل: اب بہاروں کی کوئی شام نہیں

خیال آرائی: ناطق مصباحی

جب ترے دل میں احترام نہیں
اس کی محفل میں تراکام نہیں

مسکرا کر ہی ظلم ڈھاتے ہو
ظالموں میں تمہارانام نہیں

مست کرتے ہواپنی نظروں سے
اپنے ساقی کاکویءجام نہیں

صبح نو ہےمسرتوں کے نام
اب بہاروں کی کوئی شام نہیں

اچھے اچھوں میں بہت اچھےہو
جبکہ اچھوں میں ترانام نہیں

اپنے قاتل کو سزاکیوں دیتا
اس کے جذبہ میں انتقام نہیں

تیری مرضی سے چل نہیں سکتا
وہ ترےباپ کاغلام نہیں

کون اصلاح کرے گا ناطقؔ
آج جب حالی و خیام نہیں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے