منزلوں کے نشانات

ازقلم: غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

سفر بھی نوید ظفر ہوتا ہے۔ راقم نے اجمیر شریف کی یادیں قلم بند کیں۔ امین ملت سے ملاقات کے نقوش ترتیب دیے۔ نوازشاتِ مارہرہ مطہرہ پر لکھا۔ بریلی شریف کی مسافرت کے نقوش یک جا کیے۔ باسنی کی صبحوں اور شاموں کا تذکرہ کیا۔
مسافرت کا دورانیہ ۲۱؍جنوری کی شام سے ۳۰؍ جنوری کی شب تک محیط تھا۔ جو نقوشِ سفر حیطۂ تحریر میں آئے؛ پسندیدہ نگاہوں سے دیکھے گئے۔ بصد ذوق پڑھے گئے۔ علما، مشائخ، محققین اور ادبا نے مثبت آرا کا اظہار کیا۔ سراہا اور دعاؤں کی سوغات نذر کی۔ کئی مقامات سے یہ تقاضا ہوا کہ؛ ان کڑیوں کو بھی سلکِ تحریر میں پرو دیا جائے جو جُڑنے سے رہ گئیں۔ بکھری پنکھڑیاں یک جا کر دی جائیں۔
اب پھر یادیں تازہ ہیں۔ پھر گزرے سفر کے نقوش ہیں۔ سفر تو کئی دنوں قبل مکمل ہوا لیکن قلم کا سفر جاری ہے۔ چند یادیں چند باتیں چند نقوش اور چند پہلو پیش خدمت ہیں۔
٢٤؍ جنوری کی شام مارہرہ شریف میں گزری۔ اقطاب کی بارگاہیں، روح پرور فضائیں۔ حسرت کے ساتھ رُخصت ہوئے۔ بدایوں شریف پہنچے۔ یہ شہر بھی مدینۃ الاولیاء اور مسکنِ اسلاف ہے۔ یہاں کی نقوش ہند کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے لیے اکابر بدایوں کی خدمات آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہے۔
بدایوں پہنچ کر مفتی شمشاد حسین رضوی (پرنسپل شمس العلوم، گھنٹہ گھر)سے ملاقات کی۔ موصوف نے پُر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا۔ آپ مصنف ہیں۔ محقق و ادیب ہیں۔ اسلوب میں عقلی استدلال اور منطقی ابحاث کا غلبہ ہے۔ درجنوں کتابیں اور مقالات یادگار ہیں۔ فکر اعلیٰ حضرت کے ترجمان ہیں۔ تصلب دینی اہم خصوصیت ہے۔ اخلاص سے ملے، محبت سے پیش آئے۔ کئی کتابیں تحفتاً عنایت کیں۔ جن میں خصوصیت سے ’’مسلک اعلیٰ حضرت: منظر پس منظر‘‘ قابلِ تعریف ہے-
یہ کتاب علم و آگہی کا مرقع ہے۔ ادبی جمالیات اور استدلالی کیفیات نے کتاب کے رنگ و آہنگ کو گہرا کر دیا ہے۔ ۴۰۰؍ صفحات پر مشتمل کتاب حسن ظاہر و حسن باطن سے مرصع ہے۔ سنجیدگی و متانت نے مسلکِ حق کے شفاف آئینے کی چمک بڑھا دی ہے۔ کتاب کا انتساب جامع ہے:

’’مشائخ بدایوں کے نام!
جن کے قلم کی بکھری ہوئی روشنائی سے آج بھی ظلمتوں کا سینہ چاک ہے۔‘‘

کتاب کیا ہے؟ حقائق کا توشہ اور علم کا خزینہ۔ مسلکِ حق کی ترجمانی بھی ہے اور محبت رسول ﷺ کے پاکیزہ کیف کا گلشن بھی۔ اعلیٰ حضرت! حق و صداقت کے لیے سینہ سپر ہو گئے- ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ کیا۔ گستاخ فکروں کو بے نقاب کیا۔ علم و فضل کے دریا بہائے۔ دین کے پاکیزہ رُخ کو واضح کیا۔ لادینی تحریکات کا سدِ باب کیا۔ چمک گئے۔ دین کی پہچان بن گئے۔ عرب و عجم کے اکابر نے آپ کو مسلکِ سلفِ صالحین کا ترجمان قرار دیا۔ باطل فرقوں سے امتیاز کے لیے مسلکِ اعلیٰ حضرت کہا جانے لگا۔ یہ اہلسنّت کی مترادف اصطلاح قرار پائی۔ اِس رُخ سے آفاقی تحریر ہے مفتی شمشاد حسین رضوی کی۔ جس کا ہر صفحہ فکر انگیز اور نکات حیات بخش ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

’’حضور سیدی آل رسول احمدی علیہ الرحمۃ نے امام احمد رضا کو اپنے خدا کے سپرد کیا کیا کہ ان کی ہر تحریک، اصول و نظریات اور مسلک کامیاب و کامراں ہو گئے۔ انھیں کی تحریک کا یہ خوش گوار اثر ہے کہ آج خانقاہیں آباد ہیں، اور مدارس مکاتب برقرار ہیں۔ اور ہم جس طرف نگاہ اُٹھا کر دیکھتے ہیں عشق و محبت اور خوش اعتقادی کی بہاریں نظر آتی ہیں۔ جب تک یہ سبز شادابی، ہری بھری وادیاں، اور لہلہاتے کھیت کھلیان رہیں گے امام احمد رضا کی یادیں تازہ ہوتی رہیں گی، کیوں کہ میرا امام ان افراد و شخصیات میں نمایاں طور پر شامل ہے؛ جن کے بارے میں شاعر نے کہا تھا کہ ؎

مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں وہ لوگ
مٹتے نہیں ہیں دہر سے جن کے نشاں کبھی‘‘

آپ کے مقالات میں کئی عناوین رضویات سے متعلق ہیں۔ ایک مدت قبل اعلیٰ حضرت کی سائنسی بصیرت پر ایک جامع مقالہ "پیغام رضا” میں پڑھا تھا؛ بعد کو کئی مقالات رضا اکیڈمی ممبئی کے مجلہ ’’یادگارِ رضا‘‘ میں راقم نے شامل کیے۔ ماہ نامہ معارف رضا کراچی اور سالنامہ معارفِ رضا میں بھی نگارشات کی اشاعت ہوئیں۔
تاریخی مسجد جامع شمسی بھی دیکھی۔ بلند و بالا محرابیں، کشادہ صحن، پر شکوہ گنبد، وسیع دالان سبھی شوکتِ اسلامی کے مظہر ہیں۔ سلطان شمس الدین التمش کی یادگار یہ مسجد اسلامی فنِ تعمیر کا دل کش نمونہ ہے۔
بدایوں شریف میں ۲۵؍ جنوری کی صبح اکابر بدایوں کی بارگاہوں میں حاضری کی سعادت ملی۔ جن میں ان بزرگوں کی بارگاہیں نمایاں ہیں جن کی خدمات کے نقوش اب بھی تازہ ہیں:
[۱] مولانا شاہ عبدالحمید قادری
[۲] مولانا شاہ عین الحق عبدالمجید بدایونی
[۳] تاج الفحول علامہ فضل رسول بدایونی
[٤] محب الرسول علامہ عبدالقادر بدایونی
[۵] مطیع الرسول مولانا عبدالمقتدر بدایونی
[٦] عاشق الرسول مولانا عبدالقدیر بدایونی
اِسی صبح عازمِ بریلی شریف ہو گئے جہاں کا تصور ہی اہلسنّت کے لیے روح کی پاکیزگی اور فکر کی بالیدگی کا باعث ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تہنیت نامہ

جامع معقول و منقول، حاوی فروع و أصول، استاذ العلماء، محقق مسائل جدیدہ ،سراج الفقہاء، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے