دین کی تبلیغ میں سلطان الہند کا داعیانہ پہلو

تحریر: سبطین رضا مصباحی
کشن گنج بہار
ریسرچ اسکالر البرکات انسی ٹیوٹ علی گڑھ

اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور اس کے فروغ و استحکام میں بر صغیر ہند و پاک میں بڑے بڑے مفکر، محدث، مجدد تشریف لائیں جنھوں نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر دین و ملت کی خدمت کا فریضہ انجام دیا- انھیں عبقری و عظیم اہل سلوک و معرفت شخصیات میں حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین حسن چشتی سجزی علیہ الرحمہ بھی ہے ، جن کی روحانی اور علمی فیضان سے پورا عالم فیضیاب ہورہا ہے_ جن کی ہر ہر ادا جہاں عشقِ رسول اور اصلاحِ فکر و عمل سے روشن ہےوہیں ملت کی تجدید و احیا کے باب میں آپ کی دعوت کا طریقہ و اسلوب نمایاں ہے جس کی وجہ سے آپ کی زندگی دینی خدمات، احیائے دینِ متین اور اشاعتِ اسلام میں مشکبار ہے جن میں آپ زندگی کا اہم ایک پہلو بحیثیت داعی کے ہے
حضرت خواجہ غریب نواز رحمة اللہ علیہ کی شخصیت 537ھ بمطابق 1142 ء ایران کے صوبۂ سیستان کے علاقے سجز میں جلوہ گری ہوئی- طفولیت سے تقریبا شباب تک اپنے والدِ محترم کی آغوشِ محبت میں تربیت پاتے رہے، تعلیم و تربیت کا سلسلہ اس طرح شروع ہوا کہ ابتدائی تعلیم والدِ گرامی کے زیرِ سایہ ہوئی، وطن سے نکل کر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے سمرقند و بخارا کا رخ کیا وہاں آپ نے مختلف علوم کا درس لیا علوم شریعت کی تکمیل کے بعد سلوک و معرفت کے مراحل کا آغاز فرماکر بزرگانِ دین سے اکتسابِ فیض کیا- آپ کے پیر و مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ ہیں جن کے دست مبارک پر شرفِ بیعت سے فیض یاب ہوئے اس کے بعد آپ کے پیر و مرشد نے آپ کو خرقۂ خلافت بھی عنایت فرمایا اور تقریبا بیس سال تک اپنے پیر و مرشد کے ہمراہ رہے، زیارتِ حرمین کے دوران بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم سے آپ کو ہند کی ولایت عطا ہوئی، سرزمینِ ہند تشریف لانے کے بعد اجمیر شریف کو دعوت دین کا مرکز بنایا اور دینِ اسلام کی تبلیغ و ترسیل کا آغاز فرمایا_ آپ کی انقلاب آفریں شخصیت تبلیغِ دین میں بڑی اہمیت کی حامل رہی ہے جس میں دعوت کا مرکزی نقطہ جہاں آپ کا اخلاق و کردار تھا وہیں آپ کا زبرست طریقۂ تبلیغ بھی تھا اور دعوت کے فروغ و استحکام کے لیے ایک دعوتی مرکز کا ہونا تھا جس کے ذریعے آپ اور آپ کے خلفا نےاسلام کی تبلیغ کی اور شریعت کا نفاذ مؤثر انداز میں انجام دیا جو اپنے آپ میں بے مثال ہے_ افراد کی باہمی تعمیر اور عمدہ ذہن سازی جس پر اثر انداز سے کیا ہے وہ لاجواب ہے اور اسلام کی تبلیغ ایک دعوتی مرکز کے ذریعے جس منظم انداز میں فرمایاہے اس پہلو کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام کی نشر و اشاعت میں مؤثر ترین اسباب و ذرائع میں عصری دانش گاہ، تصنیف و تالیف، تقریر و خطابت، مساجد و میڈیا اور دعوتی اصلاحی تنظیم ہیں_ دعوت و تبلیغ کے یہ سب بنیادی ذرائع ہیں لیکن موجودہ دور میں دعوتی مرکز یا تنظیم کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں_ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی جماعت یا پارٹی اسی وقت ترقی پذیر ہوتی ہے جس وقت اس کے افراد منظم طریقے سے دین و مذہب کی نشر و اشاعت کے لیے متحرک ہوتے ہیں اور دین کی فروغ و استحکام میں سرگرم عمل رہتے ہیں اسی مرکز کے ذریعے وابستگان کی تربیت و تنظیم ہوتی ہے اور منظم منصوبہ بند طریقے سے دین کی تبلیغ کرتے ہیں اور اسی مرکز کے ذریعے مذہب و ملت کے فروغ و استحکام کی نئی راہیں تلاش کی جاتی ہیں _
چناں چہ دعوت کے اسی طریقہ کو حضرت خواجہ غریب رحمة اللہ علیہ نے اپنایا اور اجمیر شریف کو دعوت و تبلیغ کا مرکز بنایا جس کا اثر یہ ہوا کہ لاکھوں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے، آپ نے جس مؤثر انداز میں بھارت کے طول و عرض میں اسلام کی بساط بچھائی اور اپنے خلفا کی ایسی جماعت تیار کی جنھوں نے بھارت کے کونے کونے میں جاکر اسلام کی تبلیغ کی، تبلیغ کا یہ طریقہ موجودہ دور میں داعیانِ اسلام کے لیے درسِ عمل ہے- چناں چہ آپ کے خلفا نے اکناف ہند میں مخلوقِ خدا کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اولا ایک تربیتی مرکز کی تعمیر کی پھر اسلام کی تعلیمات سے مخلوق خدا کی اصلاح کرکے ایک درجہ میں لاکر صف بندی کی عمارت کھڑی کی آپ کے اور آپ کے خلفا کی مثال حسنِ اخلاق اور جہد مسلسل اور اس عمل پیہم میں یگانہ ہے اثر یہ ہوا کہ لوگ جوق در جوق اسلام میں آنے لگے اور اس طرح ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل ہوئی، لاکھوں لوگ اسلام کے دامنِ کرم میں آتے گئے۔
اس کو اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مکی دور میں اسلام کی تبلیغ ایک دعوتی مرکز کے ذریعے ہی کی تھی_ دار ارقم اسلام قبول کرنے والوں کے لیے جہاں پناہ گاہ تھی وہی تبلیغ و تربیت کا ایک مرکز بھی تھا- چناں چہ حضرت خواجہ غریب نواز رحمة اللہ علیہ نے اجمیر کو تبلیغ کا مرکز بنایا اور وہاں کے لوگوں کے نظم و نسق کے لیے اجمیر کو تربیتی مرکز بنایا اور دین اسلام کی خدمت کا فریضہ انجام دیا، اسی طرح آپ کے خلفا میں سے حضرت شیخ قطب الدین بختیار کاکی نے دہلی میں،حضرت قاضی حمید الدین ناگوری نے ناگور شریف میں، حضرت بابا فرید گنجِ شکر نے پاکپتن میں، شیخ جمال الدین نے ہانسی میں، حضرت خواجہ فخر الدین نے سروار شریف میں اور حضرت شیخ نظام الدین اولیا رحمھم اللہ علیہم اجمعین نے دہلی میں دعوتِ دین کا مرکز بنایا( حیاتِ خواجہ غریب نواز،ص:36، 37 ،از مولانا شاکر علی رضوی نوری امیر سنی دعوتِ اسلامی) اور لوگوں کو منصوبہ بندی کے ساتھ دین اسلام کے قریب لاتے رہے اور ان مراکز کے ذریعے تبلیغ کا یہ اثر ہوا کہ لوگ کثیر تعداد میں اسلام کے دامن میں آتے گئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ خواجہ غریب نواز رحمة اللہ علیہ نے دین کے تبلیغی مشن کو جس دعوتی مرکز کے ذریعے فروع دیا اسی کو عہد حاضر میں بھی عمل میں لانے کی ضرورت ہے داعیان اسلام دعوتِ دین کے لیے کسی مرکز کے ہونے پر مرتکز رہے اسی طریقے سے اسلام کی تبلیغ ہو تو اس کی نشر و اشاعت مزید مفید طریقے سے ہو گی۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

منقبت سلطان الہند خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ

بے سہارو کے سہارا خواجہء ہندالولیہند کے ہیں آپ راجا خواجہء ہندالولی تیرے در کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے