لذت سجدہ محبت میں اگر یاد رہے

ازقلم: مجیب الرحمٰن، جھارکھنڈ

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کرنے کے بعد اس کا مقصد بھی سمجھا دیا، دنیا میں اس کے آنے کی وجہ یہ بتائی کہ میں نے محض تم کو اپنی عبادت کیلئے دنیا میں بھیجا، جہاں کہیں بھی رہو جس حال میں رہو میری عبادت سے تمہیں غافل نہیں ہونا ہے، چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا۔۔۔ *اور میں نے انسانوں اور جناتوں کو محض اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا، / پارہ ٢٧/
عبادت خالق اور مخلوق کے درمیان ایک مخصوص تعلق کا نام ہے جب بندہ عاجزی کے ساتھ مکمل فروتنی کے ساتھ اپنے خالق سے تعلق پیدا کرتا ہے تو پھر اس کا خالق اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا،
شریعت اسلامی نے عبادتوں میں جس عبادت کو سب سے افضل قرار دیا وہ نماز ارشاد خداوندی ہے۔۔۔۔ اور ہم نے وقت مقرر پر بندوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، /پارہ ٥/

نماز کو سب سے افضل عبادت اس لئے قرار دیا کہ اس میں بندہ خدا کے سامنے اپنی پیشانی ٹیکتا ہے جو کہ عاجزی و انکساری کی آخری حد ہے، مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی دولت اپنے پاس بلا کر عطا فرمایا، اس کے علاوہ جتنے بھی احکامات دئیے گئے وہ سب زمین پر ہی دئیے گئے، اس میں کیا تردد ہوسکتا ہے کہ جو چیز عرش معلی پر بلاکر دی جائے وہ ہر چیز سے افضل نہ ہو،
یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا، ۔۔‌ ارشاد فرمایا۔۔ قرۃ عینی فی الصلاۃ۔۔ دیگر عبادتوں کے بارے میں اس طرح کے کلمات ارشاد نہیں فرمائے، اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وقت وصال آپ کی زبان مبارک پر نماز کا لفظ جاری تھا، گویا آخری وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی طرف راغب کرتے رہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ روز قیامت بندوں سے جب حساب لیا جائے گا تو سب سے پہلے نماز ہی کا حساب ہوگا، دیگر عبادتیں بعد میں آئیں گی لیکن پہلے نماز کا حساب ہوگا اگر نماز صحیح پای گئ تو پھر باقی اعمال بھی صحیح ثابت ہونگے لیکن اگر نماز میں کمی رہ گئی تو ہماری گاڑی پھس جائے گی، نماز کی اہمیت کو بتاتے ہوئے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔ کہ نماز دین کا ستون ہے، آگے مزید فرمایا ۔۔ من ترک الصلاۃ متعمدا فقد کفر۔۔ کہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی گویا اس نے کفر کا ارتکاب کیا، ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ مومن اور کافر کے درمیان نماز ہی حد فاصل ہے،

نماز ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے، اسی لئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس رکن کو برقرار رکھنا ہے اور ہر حالت میں برقرار رکھنا ہے، اگر انسان کھڑے ہوکر نماز ادا نہیں کرسکتا تو بیٹھ کر ادا کرے، اگر بیٹھ کر نہیں ادا کرسکتا تو لیٹ کر ادا کرے اگر یہ بھی نہیں کرسکتا تو اشارہ سے ادا کرلے گویا کسی بھی حالت میں معاف نہیں ہے،
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس وقت بہت خوش ہوئے جب نماز کی فرضیت ہوئی کہ چلو اب اللہ تعالیٰ سے مانگنے کا بہانہ مل گیا چنانچہ ان کو جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا وہ وضو کرکے نماز میں مشغول ہو جاتے نماز ان کی زندگی کا بہترین مشغلہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ آب نماز کی نیت باندھتے اور اتنی دیر نماز میں مشغول رہتے کہ پیروں میں ورم آجاتا ، یہی طریقہ ہمارے اکابرین اولیاء اللہ نے اختیار کیا کتنے ایسے واقعات ہیں کہ کوئی نماز میں کھڑا ہوا تو رات بھر نماز میں مشغول رہتے، حضرت فاطمہ زہرا رض کے بارے میں آتا ہے کہ ایک سجدہ میں ہی صبح کردیتے اور پھر رب سے شکایت کرتے یا خدا تو نے رات اتنی چھوٹی بنائی کہ فاطمہ دوسرا سجدہ بھی نہ کرسکی،
ان کی زندگیوں میں نماز کا اہتمام تھا تو خدا ان کے ہر مسائل کو حل فرما دیتے ، پوری دنیا ان کی ایک ایک ادا پر فدا تھی یہ واقعہ بھی یہاں قابل ذکر ہے کہ جب حضرت خبیب بن عدی رض کو مقتل گاہ لایا گیا تو ان سے ان کی آخری خواہش کے بارے میں پوچھا گیا ۔‌فرمایا مجھے نماز پڑھنے کی مہلت دو ، چنانچہ اطمنان سے انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی اور لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔۔ لوگو میں نماز اور لمبی کرتا لیکن اس ڈر سے میں نے نماز کو مختصر کر دیا کہ کہیں آپ لوگ یہ نہ سمجھنے لگیں کہ میں نے موت کے ڈر سے نماز طویل کردی،
ان سب چیزوں کے پس منظر میں ہم اپنی زندگی کا محاسبہ کریں کہ ہمارے اندر کتنی نمازیں ہیں ہم نمازوں کا کتنا اہتمام کرتے ہیں، دنیا کا ہر کام ہم سے ہوجاتا ہے لیکن جب نماز کی باری آتی ہے تو ہر طرح کے بہانے شروع ہوجاتے ہیں، نتیجہ ہے ہوا کہ ہر میدان میں ہم ذلیل ہوگئے ہماری کوئی وقعت وقعت نہیں رہ گئی ہم اللہ تعالیٰ کی باتوں کو نہیں سننے لگے تو آج دنیا ہماری باتوں کو نظر انداز کر رہی ہے، رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی مسجدوں میں چہل پہل شروع ہو جاتی ہے ایسا نہیں لگتا کہ یہ وہی مخلوق ہے جو سال بھر نماز سے دور رہی، سنت و نوافل کی بھی پابندی شروع ہوجاتی ہے لیکن عید الفطر کا چاند نظر آتے ہی ساری عبادتیں یکسر غائب ہو جاتی ہیں ، اور پھر عید گاہ میں سال بھر کی نمازوں کی چھٹی لے لیتے ہیں،
عشق مجازی کے ہم خوگر ہوگئے لیکن ہمیں عشق حقیقی یاد نہ رہا اگر ایک سجدہ کی ذلت ہمیں محسوس ہو جائے تو نمازوں کو چھوڑنے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے، ۔
اس لئے تمام برادران اسلام سے عاجزانہ درخواست ہے کہ نمازوں کی پابندی کریں نماز ہی آپ کی زندگی کے ہر مسائل کا حل ہے ، پھر وہی بات دہراتا ہوں کہ قیامت کے دن اپ سے سب سے پہلا حساب نماز کا لیا جائے گا، نماز سے ہی اپ کے اندر حقیقی محبت پیدا ہوگی اور اگر حقیقی محبت پیدا ہو گئی تو پھر دونوں جہاں میں اپ کامیاب ہیں،

لذت سجدہ محبت میں اگر یاد رہے،
کیسے ممکن ہے نمازوں کا قضا ہو جانا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے