مسئلہ صرف زینت کا نہیں جنسیت کا بھی ہے

تحریر: پٹیل عبد الرحمن مصباحی، گجرات (انڈیا)

صاحبو! یہ جو مرد کی داڑھی ہے نا! یہ صرف ایک دینی نہیں، جنسی اور فیزیو لوجیکل مسئلہ بھی ہے. یہ چہرے پر نمودار ہو کر وقار اور بر گزیدگی میں اضافہ تو کرتی ہی ہے، ساتھ میں جنسی امتیاز کو اجاگر کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کرتی ہے کہ جس کے چہرے کو میں نے زینت بخشی ہے، اس کے جملہ جنسی حقوق بحقِ صنفِ نازک محفوظ ہیں. گویا یہ داڑھی ایک طرح کا نوٹس بورڈ ہے جس پر جلی حروف میں لکھا ہے "خبردار! یہ مخلوق انفعال نہیں، فعل کا تقاضا کرتی ہے. اس کی طبیعت میں اثر انگیزی ہے، اثر پذیری نہیں.” بالفاظ دیگر یہ ایک قسم کا سائن بورڈ ہے، جسے دیکھ کر مردوں کو اپنا جنسی نصب العین تلاشنے میں آسانی ہوتی ہے، جس میں لٹکتا ہر بال؛ ایک تیر کا نشان ہے جو جنسی بے راہ روی سے بچانے میں معاون ہوتا ہے.

جب سے مغربیت نے مرد کو داڑھی کی انمول نعمت سے محروم کیا ہے تب سے عورت فطری کشش کی قلت کے زعم میں مبتلا ہو گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ مرد کے اِس غاصبانہ عمل کے مقابلے میں اپنے جنسی حقوق کی بقا کے لیے عورت نے غازہ اور میک اپ کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے. آپ سمجھتے ہوں گے کہ یہ عورتیں شوقیہ پاؤڈر کی دکان بنی پھرتی ہیں، حالاں کہ حقیقت میں وہ چہرے پر سفیدی پوت کر اپنی مظلومیت کا اعلان رہی ہوتی ہیں اور زبان حال سے کہتی ہیں "اِن مردوں کو کوئی سمجھاؤ! اب تک تو یہ ہماری صنفی پہچان کو چھیڑے بغیر ہم پر ظلم ڈھاتے تھے مگر اب تو انہوں نے داڑھیاں منڈا کر ہماری صنفی شناخت مٹانے کی ٹھان لی ہے. جس معاشرے میں عورت کو اس کے پرائیویٹ جنسی حق سے بھی محروم کر دیا جائے وہ بہت جلد ہم جنس پرستی کا شکار ہو کر بانجھ ہو جاتا ہے.”

اس اعتبار سے ہم پکّے فیمنسٹ واقع ہوئے ہیں کہ ہم کسی”مرد ما قبل الف” کو وہ حق نہیں دے سکتے جو قدرت نے خالصۃََ عورت کے لیے رکھا ہے. کیا مرد کو اپنی طرف مائل کرنے کی کَشش، قدرت کی طرف سے عورت کو ملا ہوا منفرد عطیہ نہیں؟ اپنی پر کشش شکل و صورت اور پر تکلف نقش و نگار سے مرد کی جنسی بے راہ روی کو لگام دینا، یہی عورت کا وہ وصف ہے جس میں دنیا کی کوئی دوسری مخلوق اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی. لہٰذا اگر ہم میں کا کوئی مرد داڑھی منڈا کر عورت کے امتیازی حق کو پامال کرنے کی کوشش کرے تو نسوانی حقوق پر ایسا ڈاکہ؛ یقیناً ناقابل برداشت مانا جائے گا. سچائی یہ ہے کہ خوبصورتی میں تو مرد و زن مشترک ہو سکتے ہیں مگر کششِ حُسن و صوت؛ عورت کے ساتھ ایسے ہی خاص ہے جیسے نیوٹن کے حساب سے کششِ ثقل زمین کے ساتھ خاص ہے.

پوری بات کو صاف لفظوں میں کہا جائے تو مطلب یہ ہے کہ فی زمانہ ہم جنس پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک بڑی وجہ مرد و زن کا تہذیب کے فطری تقاضوں سے انحراف بھی ہے. اِس زمینی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تہذیبی بے راہ روی نے معاشروں میں بد کرداری کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی رول ادا کیا ہے. مردوں کا داڑھی منڈا کر زنانہ شکل بنانا اور عورتوں کا سر کے بال کٹوا کر مردانہ وضع اپنانا؛ یہ وہ بنیادی محرّک ہے جس کی وجہ سے ہم جنس پرستی کا دیو دن بدن جدید انسانی سماج میں زور پکڑتا جا رہا ہے. اِدھر کسی نوجوان کے چہرے سے داڑھی مونچھ نے رخصتی لی نہیں کہ نسوانیت اپنی تمام تر نزاکتوں کے ساتھ بسیرا کرنے چلی آتی ہے، اور اُدھر بنت حوّا اپنی زلفیں قربان کر کے حُسن کے شیش محل کو چکنا چور کرنے پر تلی ہے. مغرب کا مرد عورت کی سنہری زلفوں کی کٹائی کے روح فرسا مناظر دیکھ کر اتنا بد مزہ ہو چکا ہے کہ اب اس نے مردوں کے بے ریش شکلوں میں لذت کی تلاش شروع کر دی ہے.

ہم جنس پرستی کی ٹیڑھی سڑک کو اب تک اگر آپ دو راہا سمجھ رہے ہیں تو آنکھیں مسل کر پھر دیکھیے، یہ دو راہا نہیں تِراہا ہے. ایک جانب تجارتی فوائد کے لیے کی جانے والی ایڈوَرٹائزِنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مرد و زن کی باہم مشابہت کی شدید خواہش نے نازک مردوں اور کٹھن عورتوں کی بھیڑ چال میں اضافہ کیا ہے. دوسرے موڑ پر موبائل اسکرین سے لے کر سنیما کے پردے اور فٹ پاتھ سے لے کر سمندر کے کنارے تک روز و شب عورت کی عریانیت سے روبرو ہونے والا مغربی مرد -اور اب نئی دنیا کا تقریباً ہر مرد- عورت میں اپنی کشش کھو کر بے حرکتی کی شکایت میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے. ایسے میں تیسری سمت سے آتا ہوا غیر فطری جذبات کا قافلہ کئی ایک غیر مطمئن لونڈوں اور حسیناؤوں کو اپنے ہمراہ لے کر جنسی تسکین کی کسی بستیٔ لوط میں جا بستا ہے.

فرائڈ نے نفسیاتی تحقیق کے نام پر جنسی آزادی کا جِن بوتل سے نکالا تھا مگر رفتہ رفتہ نوبت ایں جا رسید کہ اب باقاعدہ ہم جنس ساتھی تلاش کرنے کے ایپ بن چکے ہیں، درجنوں ڈراموں کے ذریعے غیر فطری تسکین کو مثبت انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، حکومتی سطح پر ایسے افراد کی حمایت و معاونت کے قوانین لاگو ہو رہے ہیں، اس سب کے نتیجے میں معاشرہ قیامت خیز حرکات و مناظر کا دلدل بن چکا ہے، جس کا تعفّن خاندانی نظام کے چمنستان کو بدبو کے ڈھیر میں تبدیل کر رہا ہے. اندیشہ یہ بھی ہے کہ موجودہ نسل کی جنسی بے راہ روی آئندہ نسل کے عشرت کدوں کو جنسی زیادتیوں کے دوزخ میں تبدیل کر کے رکھ دے گی. آئندہ نسل کی عورت مرد سے اپنا فطری حق وصول کرنے سے عاجز ہوگی اور مستقبل کا مرد برآمد کی جگہ درآمد کی شناعت میں مبتلا ہو جائے گا، یوں دونوں جنسوں کا بڑا طبقہ ہمیشہ کے لیے حقیقی جنسی لذت سے محروم ہو کر کسی ٹیڑھی سڑک کے کنارے کسی کج رَو ہجوم کا حصہ بن جائے گا.

قرآن میں مذکور مغضوب اقوام میں قوم لوط کے انتخاب کی منطقی، تہذیبی، جنسی اور طِبّی حکمت ہمارے دور میں زیادہ نکھر کر سامنے آئی ہے. آج جب کہ مشینی ترقیوں کا دعوے دار انسان اخلاقی پستیوں کے قعر مذلت میں گر کر اپنا تہذیبی وقار کھو چکا ہے، ایسے میں قوم لوط کا قصہ اور ان کی ہلاکت کا بیان؛ اعلانِ عبرت ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی معاشرے میں جنسی توازن بر قرار رکھنے کے لیے فطری وضع قطع اپنانے کا واضح پیغام بھی ہے. نئی نسل کو یہ ماننا ہوگا کہ جہاں ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے آلودگی پیدا کرنے والے اسباب سے احتراز لازم ہے اور ذہنی توازن برقرار رکھنے کے لیے دماغی ہیجان کو جنم دینے والے خیالات سے پرہیز ضروری ہے؛ وہیں جنسی بد ذوقی اور سماجی آلودگی سے بچتے ہوئے جنسیات میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بہت سارے دیگر جنسی ہتھکنڈوں پر قدرت رکھنے کے باوجود جنسی تسکین کے معاملے میں فطری طریقوں پر انحصار لازم ہے. لہٰذا بود و باش میں مرد و زن کی مشابہت سے لے کر جنسی معاملے میں خود انحصاری کے مغربی فلسفے تک ہر باطل نظریہ کا معقول رد کرنا، وقت کی اہم ضرورت اور ہمارے دور کے داعیانِ قرآن و اسلام کا اولین فریضہ ہے.

والذي بعثني بالحق لا تنقضي الدنيا حتى يقع فيها الخسف والقذف والمسخ والقذف……….. واستغنى الرجال بالرجال والنساء بالنساء.
(مسند الفردوس للدیلمي)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے