بچوں کا نظم: ماسک اور صفائی

خیال آرائی: ڈاکٹر صالحہ صدیقی (الٰہ آباد،یو۔پی)
[email protected]

ننھے منے پیارے بچوں !
ماسک پہن کر باہر نکلو
ماسک کو ایسے پہننا تم کہ
ناک بھی اچھے سے
ڈھکی ہوئی ہو
باہر نکل کر پیارے بچوں !
ماسک نہیں اتارنا تم
کان پر لٹکاکر
یا پھر جیب میں
ماسک کو نہ رکھنا تم
ہاتھ بھی دھو نا صابن سے
اور اگر نا صابن ہو تو
سنی ٹائزر کو ہاتھ پر مل لو
مانوگے اگر یہ کہنا تم تو
کرونا تمہارے پاس نہ آئے
دیکھ تمہیں پھر وہ گھبرائیں
الٹے پاؤں و ہ دور سے بھاگے
میرے پیارے معصوم بچوں !
صفائی کو تم دھیان میں رکھو
گھر سے جب بھی باہر نکلو
ادھر ادھر کی چیز نہ پکڑو
اور نہ کسی سے ہاتھ ملاؤ
بھیڑ اگر تم دیکھو تو
دور کھڑے ہی رہنا تم
پاس نہ ہرگز جانا تم
بات چیت بھی دور سے کرنا
کیونکہ کورونا ہر جگہ ہے پھیلا
احتیاط ہر لمحہ کرنا
کھانسی زخام ہو اگر کسی کو
پھر تم ان کے پاس نہ جانا
اور دوری کا خیال رکھنا
باہر کی کھلی چیزوں کو
مٹھائی یا کھلونوں کو
گڑیا یا گڈے کو
رنگ برنگی چیزوں کو
ہاتھ نہیں لگانا تم
اور اگر غلطی سے تم نے
چھو لیا ہو کھلی چیزوں کو
گھر آکے صابن سے مل مل کر
ہاتھ کو اپنے تم دھو لینا
کیونکہ یہ ظالم کورونا ہے
اس کو تم نا مذاق سمجھو
بوڑھا ہو یا بچہ ہو
خطرہ اس سے سب کو ہے
نہیں کوئی دوا ہے اس کی
اور نہ کوئی علاج اس کا
صفائی ہی بس ٹالے اس کو
اس لیے میرے پیارے بچو!
صفائی کی تم عادت ڈالو
اور بڑوں کا کہنا مانو
بلا وجہ نہ باہر گھومو
ادھر ادھر کی چیز نہ پکڑو
بنا ماسک کے اگر گئے تم
کرونا تمہیں اپنے جال میں جکڑے
پھر نہ کوئی چھڑا پائے گا
جان سے اپنی وہ جائے گا
اس لیے میرے پیارے بچو!
صفائی کو تم دھیان میں رکھو
ماسک پہن کر باہر نکلو

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نظم: رودادِ درد

نتیجہ فکر: سید اولاد رسول قدسی، امریکہ ہند میں کیسا یہ آیا ہے عذابزیست ہوتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے