منقبت: ہم کو بھی بلا لو تم اک بار مرے خواجہ

سلطان الہند عطائے رسول ہند الولی حضرت خواجہ سید محمد معین الدین حسن چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ

نتیجۂ فکر: محمد شاہد رضا رضوی، سنت کبیر نگر

ہم کو بھی بلا لو تم اک بار مرے خواجہ
اک بار ہی دکھلادو دربار مرے خواجہ

تم پیارے ہو حیدر کے زہرا کے دلارے ہو
حسنین کے گلشن کے گلزار مرے خواجہ

مجھ پہ بھی مرے خواجہ اک چشم کرم کر دے
برسوں سے ہوں میں تیرا بیمار مرے خواجہ

بھیجا ہے یہاں تم کو سرکار دوعالم نے
اور تم کو بنایا ہے سردار مرے خواجہ

اس دیش کے ولیوں کے سردار تمہیں تو ہو
ہے سر پہ تمہارے ہی دستار مرے خواجہ

یہ راج بظاہر ہے اس دیش میں غیروں کا
اس دیش کے ہیں لیکن سرکار مرے خواجہ

آرام نہیں ملتا بے چین ہے میرا دل
اس دل کے تمھیں تو ہو غمخوار مرے خواجہ

خوش بخت ہیں وہ جو بھی حاضر ہیں ترے در پر
اے کاش کروں میں بھی دیدار مرے خواجہ

اے آل نبی بگڑی میری بھی بنا دو تم
میرے لئے ہو تم ہی غمخوار مرے خواجہ

منجدھار میں امت کی کشتی ہے پھنسی لیکن
ہو تیرے کرم سے اب یہ پار مرے خواجہ

شاہد ہی کیا لیتے ہیں خیرات سبھی تجھ سے
ہے تیرا بھکاری یہ سنسار مرے خواجہ

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نعت : مرے مصطفے ہیں زمانے سے پہلے

رشحات قلم : شمس الحق علیمی مہراج گنج ادب سے رہو طیبہ آنے سے پہلےشہِ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے