جہیز کی وجہ سے

ازقلم: ابو المتبسِّم ایاز احمد عطاری، پاکستان

فی زمانہ بیٹی کی شادی کا سوچتے ہی جو خیال سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے وہ جہیز ہے۔ اگر ہم اس خیال کو اس طرح بیان کریں کہ جہیز کے بغیر بیٹی کے ہاتھ لال کرنا نہ ممکن ہے تو یقیناً غلط نہیں ہوگا۔جہیز نے لاکھوں بہنوں اور بیٹیوں کی زندگیوں کو حرام کر دیا ہے۔ جہیز نے انکی آنکھوں سے رنگین خواب تک چھین لیے ہیں۔ جہیز نے انکو ایسے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے جہاں ہر طرف صرف نا امیدی ، مایوسی کے اندھیرے ہی ان کو نظر آرہے ہیں۔

جہیز کو ہم نے اتنا اہم بنا دیا ہے کہ جب تک لڑکی والے ٹرک سے بھرے ہوئے سامان نہ دیں تب تک لڑکے والے شادی کو راضی نہیں ہوتے۔ ہمارے معاشرے میں غریب کی کوئی اہمیت نہیں ہے وہ محض زمین پر ایک رینگتا ہوا کیڑا مکوڑا ہے۔ جیسے ہر کوئی مسلتا ہوا آگے نکلنا چاہتا ہے۔

اور جب غریب کے گھر بیٹی پیدا ہوجائے تو ایک طرف وہ خدا کی رحمت ہے تو دوسری طرف وہی رحمت جب شادی کی عمر کو آتی ہے تو زحمت بن جاتی ہے کیونکہ لڑکے والے جہیز کا تقاضا کرتے ہیں۔ جہیز کی اصل حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کہ اگر والدین جو کے اپنی بیٹی کو پال پوس کر بڑا کرتے ہیں اگلے گھر کی دہلیز سے رخصت ہوتے وقت پیار اور محبت میں کچھ تحفے دیں تو وہ جہیز نہیں بلکہ والدین کے پیار اور محبت کی بنا پر ایک فطری عمل ہے جیسے اس معاشرے کے لوگوں نے جہیز کا نام دے کر فرمائشی پروگرام بنا دیا ہے۔

اگر ہم قرآن و حدیث پر روشنی ڈالیں تو یہ بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ جس جہیز کو ہم نے اتنی اہمیت دی ہوئی ہے دین اسلام میں اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی پابندی عائد کی گئی ہے کہ اگر بیٹی کو سامان سے بھرے ٹرک نہیں دو گے تو شادی مکمل نہیں ہوگی بلکہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی کے وقت سادگی کی ایک بہترین مثال قائم کر کے دکھائی ہے ۔

مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم مسلمان اپنے رسول ﷺ کی سیرت کو بھول بیٹھے ہیں نمائش اور دکھاوے کے نت نئے انداز اپناتے ہوئے نظر آرہے ہیں جب تک ہماری تقریب میں دس دس ڈشوں کا اہتمام نہ ہو تب تک ہماری تقریب مکمل نہیں ہوتی ۔

ہمیں چاہیئے کہ جہیز پر فضول خرچ نہ کریں اور غریب اور متوسط طبقےکا خیال رکھیں تاکہ ان کا شادی بیاہ کا خواب پورا ہو سکے اور وہ اپنی بیٹیوں کے ہاتھ لال کر سکیں۔ والدین کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ نا جہیز دیں گیں اور نا جہیز لیں گیں۔ ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ جہیز کے نام پر جائیداد وغیرہ فروخت کروا کر فضول مطالبات پورے کروانا ایک اخلاقی جرم ہے۔

صاحب ثروت لوگوں کو چاہیے کہ دولت کو جہیز پر خرچ کرنے کے بجائے کسی مسجد کی تعمیر ، بیوہ اور یتیم کی مدد کرنے یا کسی غریب کی بیٹی کی شادی پر خرچ کریں تاکہ غریب کی دعائیں ملیں۔ جس سے ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو کر آخرت سنور جائے گی اور دوسری طرف روحانی لذت حاصل ہوگی۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دنیا حیاتیاتی جنگ کی زد میں

عمیر محمد خانریسرچ سکالررابط: 9970306300 جنگ و جدل ایسے وسیلے ہیں جس کی بدولت قوموں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے