خواجہ غریب نواز اور دور حاضر کے صوفیاے کرام: ایک تنقیدی جائزہ

از قلم : عبدالجبار علیمی ثقافی، بستی یوپی
خادم التدریس: جامعہ قادریہ بشیرالعلوم قصبہ بھوج پور ضلع مرادآباد یوپی

وارث رسول، سلطان الہند خواجہ معین الدین حسن چشتی سجزی اجمیری رضی اللہ تعالی عنہ(متوفٰی رجب المرجب ٦٢٧ ھ بمقام اجمیر معلی) کی عظیم المرتبت شخصیت کے مطالعہ کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کی آپ جملہ اوصاف حمیدہ کے پیکر تھے . انہیں میں سے ایک عظیم پہلو تصوف ہے۔ جس سے کسی ذی علم کو مجالِ انکار نہیں۔ لیکن حیات اور کارناموں کے پس منظر پر بنظر عمیق دوڑائی جائے تو یہ حقیقت مخفی نہ ہوگی کہ اہل تصوف و سلوک نے اصلاح باطنی کے متعلق جو اصلاحی نصاب مرتب کیا ہے اس پر آپ کما حقہ کاربند نظر آتے ہیں۔
امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی دمشقی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے رسالہ "المقاصد” میں تصوف کے پانچ اصول کچھ اس طرح بیان فرمائے ہیں۔

( ١ ):خلوت اور جلوت میں اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرنا۔
( ٢ ):اقوال و افعال میں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا۔
( ٣ ):عروج و اقبال اور پستی میں مخلوق خدا سے اعراض کرنا۔
( ٤ ):قلیل و کثیر رزق پر اللہ تعالی سے راضی رہنا۔
( ٥ ):خوشی و مسرت اور رنج و غم میں اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنا۔
مذکورہ بالا اصول کی روشنی میں اگر سلطان الہند معین الدین حسن چشتی اجمیری رضی اللہ تعالی کی مقدس زندگی کو سامنے رکھا جائے تو یہ امر واضح ہوجائے گا کہ عہد طفولیت سے ہی آپ کے دیندار گھرانے نے رضائے الہی کیلئے صبر و توکل، صبر وغناء، ذکر و مراقبہ، اخلاص و ایثار، تطہیر وتزکیہ، تسبیح و تہلیل، ریاضت و مجاہدہ اور خدمت خلق و اتباع سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا خوگر بنا دیا کہ جو بھی آپ سے منسلک ہوا زمانے میں مثل آفتاب چمکتا رہا اور تاہنوز یہ فیض جاری و ساری ہے اور تا قیام قیامت جاری رہے گا۔انشاء اللہ تعالی عز وجل۔
یہ تصوف ہی کی سرمستیاں تھی کہ آپ نے نو سال کی قلیل عمر میں اللہ تعالی کا مقدس کلام حفظ کرکے تفسیر و حدیث اور فقہ کی طرف رغبت کی۔ اور علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد علوم باطنی کے لائق ہو گئے۔ تحصیلِ علوم باطنی میں اس وقت زیادہ چاہت ہوئی جب آپ کے باغ میں ایک درویش،صوفئ کامل حضرت ابراہیم قندوزی رضی اللہ تعالی عنہ کا ورود مسعود ہوا اور انہوں نے اپنی تھیلی سے کھلی چبا کر آپ کو پیش کیا جس کی وجہ سے دل کی دنیا بدل گئی اور دل نور الہی سے چمک اٹھا۔ اسی کے بعد اپنی پَن چکّی و باغ فروخت کرکے غرباء و مساکین میں تقسیم کر دیے۔ اور سمرقند و بخارا کی طرف حصول علوم ظاہری و باطنی کے لیے کوچ فرمائے۔
اس درویش کی نظر کیمیا نے اس قدر اثر کیا کہ دل میں طلب مولیٰ کا وہ تلاطم اٹھا جو آپ کو دنیا سے بے رغبت اور لاتعلق کر دیا۔بالآخر ایک مرشد برحق کی جستجو میں اس قدر سرگرداں رہے کہ آپ وقت کے بڑے بڑے صوفیائے کرام و بزرگانِ دین کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت حاصل کی تاکہ طلبِ بیعت ہوکر مرشد کی سرپرستی اور نگرانی میں مصروف مجاہدہ و ریاضت ہو کر تصوف کے منازل بآسانی طے کر سکوں مگر ہر جگہ سے یہی جواب ملتا کہ” اےمعین الدین آپ کا حصہ میرے یہاں نہیں ہے” چنانچہ تلاش بسیار کے بعد آپ ٥٥٢ ھ میں علاقے نیشاپور کے قصبہ ہارون میں پہنچے وہاں عارف باللہ حضرت خواجہ عثمان ہارونی چشتی رضی اللہ تعالی عنہ کے دست حق پرست پر بیعت کی۔ بعدہ: عشق و عرفان کا وہ جام میسر ہوا جس نے سارے حجابات کو اٹھا دیے. اور یہ مصرع آپ کی زندگی کا عکاس بن گیا۔ ع
"علم ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا”
خلوت و جلوت میں تقویٰ اور پرہیز گاری کا عنصر آپ کے اندر اس قدر موجود تھا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر آپ کا شیوہ بن گیا۔
تصوف کی دو تعبیر کی جا سکتی ہے :
( ١ ):اثبات۔
( ٢ ):نفی۔
اثباتی پہلو میں بدعات و رسومات سے مکمل اجتناب پایا جاتا ہے۔اور قرآن و حدیث کی تعلیمات سے وابستگی اور وارفتگی نمایاں ہوتی ہے۔ اور دوسرا پہلو نفی ہے ۔جس میں مکمل بدعات اور خرافات ہُویداہوتے ہیں۔
حضرت سلطان الہند خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالی عنہ کی سادہ زندگی علمی اور عملی تصوف سے لبریز تھی۔ جس کا اثر یہ ہوا کی ٩٠/ لاکھ غیر مسلموں کو اسلام کی دولت سے سرفراز فرما کر ان کے دلوں میں عشق رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور خوف خدا عزوجل کا وہ چراغ روشن کیا جن کی مثال دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے۔
یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کی فی زماننا تعبیر دوم اس قدر غالب آگئی ہے کی سادہ لوح مسلمان اس سے متاثر ہو کر تصوف کی تمام تعلیمات کو یکسر انکار کرتے بلکہ مخالفت پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ جو رات و دن اللہ و رسول کا تذکرہ اور عبادت و ریاضت، تسبیح و تہلیل میں مستغرق رہتے ہیں جن کے قول وفعل میں یکسانیت کہیں دور سے بھی بھی نہیں چلتی ملتی کیا وہ اللہ تعالی کا یہ فرمان بھول گئے ؟”یَعلمُ خائنةالأعین ما تُخفِي الصدور”(غافر ١٩)
کچھ تو ایسے متصوّف اور صوفیت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں کہ سادہ لوح لوگوں کے سامنے اپنے ہی منگھڑت کرامات اور خوارق عادات چیزوں کا تذکرہ بدہانِ خود کرنے میں ذرہ برابر دریغ محسوس نہیں کرتے۔ جن کا یہ دعویٰ ہو کہ وہ ہمہ وقت ذکر و اذکار اور تلاوتِ قرآن میں مصروف رہتے ہیں۔ تو کیا ان کے سامنے یہ آیت مبارکہ”إن اللّٰه لا یخفٰى عليه شيئ في الأرض ولا في السماء” ( آل عمران ٦ ) ببانگِ دہل یہ نہیں اعلان کر رہی ہےکہ "پروردگارسےکوئی شئ پوشیدہ نہیں ہے” ؟ ؟ ؟
اعمال کی نمائش تو یہاں تک پہنچ گئی کہ کچھ دنیا دار صوفی حضرات اپنے جاہل اور دنیا دار مریدین سے یہ کہنے میں ذرّہ برابر جِھجَھک اور عار محسوس نہیں کرتے کہ
"آپ جنت میں ہمارے ساتھ ہوں گے”
جو صوفیائے کرام پوری زندگی رضائے الٰہی پانے کے لیے شب و روز عبادت میں مصروف رہتے انہیں ایسا جملہ ادا کرنے کی جسارت نہیں ہوتی۔ بلکہ جن صوفیائے کرام پر تصوف کو بھی نازہے وہ خود کو ہمیشہ اللّٰہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات میں حقیر و ذلیل تصور کرتے تھے۔ جیسا کہ امامِ ہمام حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کے سامنے جب اس شخص کا ذکر کیا گیا جو سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا۔ جس کا نام "ہناد”ہوگا۔اس کو ایک ہزار سال عذاب ہوا ہوگا۔ وہ” یاحَنَّانُ یامنَّانُ” پکارتے ہوئے دوزخ سے باہر آئے گا۔تو اس کا حال سن کر رو پڑے اور فرمانے لگے” کاش ہناد میں ہوتا” لوگوں کو آپ کے اس قول پر تعجب ہوا۔آپ نے فرمایا کہ "تم پر افسوس کہ بات نہیں سمجھتے وہ ایک نہ ایک دن عذاب سے نکل تو آئے گا”(منہاج العابدین ص/٢٦٦ )
مگر دنیا طلبی و جاہ طلبی اور شہرت و ناموری کے حرص نے اس قدر خوف خدا دل سے نکال دیا کی آخرت کی کچھ بھی فکر نہیں۔ ایسا شخص حدیث پاک کی روشنی میں عاجز، لاچار اور مجبور ہے۔”قال سول اللّٰه صلی اللّٰه تعالى علیه وسلم:الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت والعاجز من اتبع نفسه وهواها و تمنى على اللّٰه”( رواه الترمذي ٢٤٦١ )
اس حدیث پاک کی روشنی میں یہ بات دو، دو چار کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ عقل مند اور غیر عقلمند کون ہے ؟ ایسے لوگ جو اعمال کی نمائش کرتے ہیں اور خود کو کسی ولی سے کم نہیں تصور کرتے دے وہ غفلت اور سخت تاریکی میں ہیں۔ ضروری ہے کہ وہ "من حسن اسلام المرء ترکه ما لا یعنیه”(الحديث) کا پیکر بن کر دین و سنیت کا کام کریں تاکہ اس سے قوم کا بے حد فائدہ ہو۔ اور تعلیماتِ خواجہ غریب نواز رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ پوری دنیا میں عام و تام ہو سکے۔ ع
"شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات”
الغرض تصوف کا یہ ماہتاب ماہ رجب المرجب ٦٢٧ ه‍ بروز پیر بوقت صبح ڈوب گیا ۔ جس نے لاکھوں دلوں میں شمع ہدایت روشن کیا۔ بوقت انتقال آپ کی پیشانئ مبارک پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی:
"ه‍ذا حبیب اللّٰه مات في حبّ اللّه” جو بارگاہ خدا میں آپ کی مقبولیت کا بین ثبوت دے رہی ہے۔
بارالٰہا ! اپنے محبوب کائنات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صدقے میں علمائے اہل سنت کو خلوص وللّٰہیت کے ساتھ تبلیغ دین کا جذبہ عطا فرمائے۔ اور خواجہ ہند کے فیضان سے مالا مال فرمائے۔ ( آمین )

"ابر رحمت تری مرقد پر گہر باری کرے حشرتک شانِ کریمی ناز برداری کرے”

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دل

تحریر: ریاض فردوسی، پٹنہ 9968012976 دل انسانی عام مٹھی کے سائز کے برابر میں ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے