نوے لاکھ دلوں میں ایمان کا چراغ جلانا خواجہ سب سے بڑا کارنامہ ہے۔مولانا سالک مصباحی

جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، دہلی میں سرکار غریب نواز رحمہ اللہ کے ساتھ سرکاران کچھوچھہ مقدسہ کا بھی عرس منایا گیا

آٹھ سو نواں (809)سالانہ عرس سرکار غریب نواز کی پورے ملک میں دھوم مچی ہوئی ہے،مدرسہ مدرسہ، مسجد مسجد،اور گھر گھرغریب نواز کا فاتحہ کریاجارہاہے۔اسی سلسلے میں دہلی کی معرف دانش گاہ جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی میں بھی مورخہ/6رجب 1442ہجری مطابق/19فروری2021 ء بروزجمعہ بعد نماز عشاجشن غریب نواز کا اہتمام کیا گیا۔جس میں علما وعوام نے کوڈ ۹۱کی گائیڈ لائن کی رعایت کرتے ہوئے شرکت کی۔ مولانا مقبول حمد سالک مصباحی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ 587ھ / 1191ء کو اجمیر شہر پہنچے۔ جہاں پہلے ہی دن سے آپ نے اپنی موثر تبلیغ،حُسنِ اَخلاق، اعلی سیرت و کردار اور باطل شکن کرامتوں سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ اہلِ اجمیر نے جب اس بوریہ نشین فقیر کی روحانی عظمتوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تو جوق در جوق مسلمان ہونے لگے۔ اس طرح رفتہ رفتہ اجمیر جو کبھی کفر و شرک اور بت پرستی کا مرکز تھا، اسلام و ایمان کا گہوارہ بن گیا۔ عطاے رسول حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر ی رحمۃ اللہ علیہ نے تبلیغِ اسلام اور دعوتِ حق کے لیے ہندوستان کی سرزمین پر تقریباً ۴۵ سال گذارے۔ آپ کی کوششوں سے ہندوستان میں جہاں کفر و شرک اور بت پرستی میں مصروف لوگ مسلمان ہوتے گئے وہیں ایک مستحکم اور مضبوط اسلامی حکومت کی بنیاد بھی پڑ گئی۔ تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ حضرت خواجہ کی روحانی کوششوں سے تقریباً نوے لاکھ لوگوں نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ جو کہ ایک طرح کا ناقابلِ فراموش کارنامہ ہے۔
مولانا سالک مصباحی نے بتا یا کہ آج کا پروگرام نہصرف بارگاہ خواجہ غریب نواز میں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کیا گیاہے بلکہ آپ کے فرزندگاں محبوب ربانی: مخدوم الاولیا،اعلیٰ حضرت،شیخ المشائخ،اعلیٰ حضرت سید شاہ ابو احمد المدعوامحمد علی حسین الاشرفی الجیلانی رضی اللہ تعالی عنہ، عالم ربانی سلطان الواعظین حضرت سید شاہ احمد اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھوی، مخدوم المشائخ حضرت علامہ مفتی سید شاہ محمد مختار اشرف اشرفی جیلانی رحمہ اللہ،کچھوچھہ مقدسہ،اورآپ کے فرزند ارجمند مخدوم العلما حضرت علامہ مفتی سید شاہ محمد اظہار اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی رحمہ اللہ،بانی جامع اشرف وسابق سجادہ نشیں، خانقاہ عالیہ اشرفیہ حسنیہ سرکارکلاں درگاہ کچھوچھہ مقدسہ کے نام سے بھی منسوب ہے،اور ان تمام بررگوں کی ارواح طیبات کے ایصال ثواب کے لیے بر پاکیاگیاہے۔
مولانا زین اللہ نظامی خطیب وامام غوثیہ مسجد جسولہ گاؤں نے کہا کہ علما ئے عصر کو سب سے زیادہ حضرت خواجہ غریب نواز کی سیرت وکردار کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ علما تن آسان ہو گئے،مشائخ ریا کار ہوگئے۔جب کہ حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز – رحمۃ اللہ علیہ – کا معمول تھا کہ ساری ساری رات عبادت الٰہی میں مصروف رہتے، حتی کہ عشا کے وضو سے نماز فجر ادا کرتے اور تلاوت قرآن سے اس قدر شغف تھا کہ دن میں دو قرآن پاک ختم فرما لیا کرتے، دوران سفر بھی قرآن پاک کی تلاوت جاری رہتی۔ کم کھانے کی عادت: دیگر بزرگان دین اور اولیائے کاملین رحمھم اللہ کی طرح آپ بھی زیادہ سے زیادہ عبادت الٰہی بجا لانے کی خاطر بہت ہی کم کھانا تناول فرماتے تا کہ کھانے کی کثرت کی وجہ سے سستی، نیند یا غنودگی عبادت میں رکاوٹ کا باعث نہ بنے۔ چنانچہ آپ کے بارے میں منقول ہے کہ سات (7) روز بعد دو ڈھائی تولہ وزن کے برابر روٹی پانی میں بھگو کر کھایا کرتے۔
حافظ وقاری شکیل احمد سیتا پوری،خطیب وامام مسجد عمر فاروق،شاہین باغ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تذکرہ خواجگان چشت کے مطابق بیس (20) سال خدمت مرشد میں مشغول رہے – آپ رحمۃ اللہ علیہ خود فرماتے ہیں: میں نے نہ رات دیکھی نہ دن ہمیشہ ان کے سفر میں رہا – ان کے کپڑے بستر اور دیگر سامان سفر سر پر رکھ کر ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا – جب انھوں نے مجھ درویش کی خدمت دیکھا تو مجھے وہ نعمت ابدی عطا فرمائی جس کی نہ کوئی حد ہے اور نہ انتہا“ان اشارات سے بخوبی واضح ہو گیا کہ خواجہ غریب نواز – رحمۃ اللہ علیہ – نے اپنی جوانی کو حصول علم اور خدا طلبی میں گذار دیا جس کے نتیجے میں اللہ رب العزت نے اپنے فضل خاص سے بلند سے بلند ترین مقام تک پہنچایا –
مولانا قاری اصغر علی استاذ درالعلوم بر کاتیہ شاہین باغ،نے حضرت خواجہ کی سیرت وعظمت پر کہا کہ حضرت خواجہ کی اتنی عظیم بزرگی ہے کہ زیارت حرمین طیبین کے موقع پر مکہ مکرمہ میں غیب سے ندا آئی کہ ”معین الدین میرا دوست ہے، میں نے اس کو اپنے مقبول اور برگذیدہ بندوں میں شامل کیا“ – اور پھر جب مدینہ منورہ میں روضہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ و سلم پر حاضری دی اور ادب و احترام کے ساتھ سلام پیش کیا تو جوابا روضہ اقدس سے ”وعلیکم السلام یا قطب المشائخ“ کی صدا آئی۔
وقت کی نزاکت کودیکھتے ہوئے اختصا کے ساتھ پروگرام کا آغازتلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعد قاری احمد رضا سلمہ اور بلال احمد خورد نے نعت منقبت کانذرایہ پیش کیا اسکے بعد ترتیب کے مطابق علما کی گفتگو ہوئی۔پروگرام کو کامیاب بنانے میں معروف شوشل ورکرمحتر المقام جناب ممتاز احمد اصاحب مدن پور کھاد ر،جناب غلام غوث فاروقی پروپرائٹر فاروقی گارمنٹ شاہین باغ،مولانا خورشید احمد فاروقی گارمنٹ شاہین باغ،ایڈوکیٹ حسن اقبال شاہین باغ،جناب عبد الرحمن نورانی مسجد،منصور احمد،عبدالباری،شمشاد احمد،صلاح الدین بدایوں۔شہزاد احمد،صغیر احمد نے خاص کوشش کی۔جامعہ ہٰذاکے استاذقاری کفایت اللہ قادری اور ہونہار طلبہ حافظ عبد الودود قطبی، حافظ غلام احمد رضا قطبی،ریحان احمدقطبی،بلال احمد کلاں،بلال احمد خورد،طیب علی،شمیم احمدنے مہمانوں کی خدمت کرنے میں پوری ذمہ داری نبھائی۔علاقے کی دیگر مساجد کے ائمہ وموذنین اور ذمہ داران نے بھی بھی اپنی شرکت سے نوازا۔آخر میں قل شریف پڑھاگیا،اور علامہ سالک مصباحی نے گڑ گڑ ا کرعالم اسلام کی سلامتی اور ملک عزیز بھارت کی خوشحالی اور ملت اسلامیہ کے بقا وتحفظ کے لیے دعا کی اور بارگاہ غریب نواز میں وسیلہ طلب کیا۔خلیفہ حضور اشرف ملت پیر طریقت مولانا عرفان عالم اشرفی سجادہ نشین خانقاہ اشرفیہ ھا لینڈ کی شدید بیماردادی اماں کی صحت یابی کے لیے بارگاہ غریب نواز میں عرضی پیش کی گئی۔غوثیہ فلاح ملت فاؤنڈیشن کی جانب سے سرکار غریب نواز کی سیرت سے متعلق ایک اردو کتابچہ بھی تقسیم کیا گیا۔
ہے رتبہ افضل واعلیٰ معین الدین چشتی کا
جدھر دیکھو ادھر چر چا معین الدین چشتی کا
دیا ر ہند سے ہم کو نکالے کس کی ہمت ہے
ہمارے سر پہ ہے سایہ معین الدین چشتی کا
Contact: Maqbool Ahmad Salik Misbahi,Founder and administrator of,
JAMIA KHWAJA QUTBUDDIN BAKHTIYAR KAKI,
210-B,block,Madanpur Khadar,Extension Saritya Viahar New Delhi-110076
Mob.8585962791,[email protected]

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں محمد شعیب رضا

محمد شعیب رضا نظامی فیضی ہماری آواز اردو،ہندی ویب پورٹل و میگزین کے بانی و چیف ایڈیٹر ہیں۔ رابطہ نمبر: 09792125987 (ادارہ)

یہ بھی پڑھیں

دارالقلم دہلی میں مولانا محمد یامین نعیمی کے لیے ایصال ثواب

دہلی، 11اپریل، ہماری آواز(پریس ریلیز)10 اپریل شنبہ کی شب میں بارہ بج کر 54 منٹ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے