یادگار کربلا: سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ

تحریر: ریاض فردوسی، پٹنہ9968012976

میں بچ بھی جاؤ تو تنہائی مار ڈالے گی
میرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے

حرم کی پر نور فضا ہے،رات کی تاریکی ہے،مخلوق خدا دن بھر کی جی توڑ محنت و مشقت کے بعد نیند کے گہرے آغوش میں ہے،نیند جو سکون اور اطمینان بخشتی ہے،اللہ تعالیٰ نے نیند انسانی صحت کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔لیکن اس سکون اوراطمینان بخشنے والی نیند کو فراموش کرکے ایک بندۂ خدا دیوانہ وار اپنے خالق حقیقی سے یوں رقم طراز ہے،اے معبود !میرے گناہوں نے مجھے ذلت کا لباس پہنا دیاہے، تجھ سے دوری کے باعث بے چارگی اورلاچارگی نے مجھے ڈھانپ لیا ہے،بڑے بڑے اورقبیح جرائم نے میرے دل کو مردہ بنادیاہے،پس تومجھے توفیق توبہ سے میرے دل کو زندہ کردے،یہی میری خواہش وآرزوہے، مجھے تیری عزت وجلال کی قسم !سوائے تیرے میرے گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ، تیرے سوا میری کمی پوری کرنے والاکوئی نہیں۔بادشاہوں نے اپنے اپنے دروازے بند کر لئے ہیں اور ان پر دربان بٹھا دیا ہے،لیکن تیرادر ہمیشہ سے سب کے لئے کھلا ہے،اگر تو نے مجھے اپنے آستانے سے دھتکار دیا تو کس کی پناہ لوں گا،اے اللہ اگر میں نیک ہوں تو تیری توفیق ہے،اگر برا ہوں تو میرے نفس نے مجھے برباد کر دیا ہے۔میں تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں۔ اے گناہ کبیرہ اور صغیرہ کو بخشنے والے،کمزور ناتواں کی مدد کرنے والے، اے ظالم اور گنہگاروں کو بھی پناہ دینے والے۔ ٹوٹی ہڈیوں کو جوڑنے والے،تومیرے سخت ترین جرائم کو بخش دے اورمیرے رسوا کرنے والے بھیدوں کی پردہ پوشی میدان قیامت میں بھی فرما۔مجھے اپنی بخشش اور مغفرت سے محروم نہ فرما،میرا تیرے سوا کوئی نہیں ہے۔کوئی نہیں ہے جو میرے غموں کو مجھ سے دور کر دے۔کوئی پرسان حال نہیں،کوئی یار ومددگار نہیں،کوئی ہمدرد نہیں،کوئی دوست نہیں،کوئی نہیں جو میرے آنسوؤں کو صاف کرے،کوئی نہیں جو تسکین دے سکے،بس تو ہی ہے صرف تو ہی ہے۔
اے معبود کیا بھاگا ہوا غلام سوائے اپنے آقا کے کسی کے پاس لوٹتا ہے یا یہ کہ آقا کی ناراضی پرسوائے آقاکے کوئی اسے پناہ دے سکتا ہے، میرے معبود اگر گناہ پر پشیمانی کا مطلب توبہ ہی ہے تو مجھے تیری عزت کی قسم کہ میں پشیمان ہونے والوں میں ہوں، اگر خطا کی معافی مانگنے سے خطا معاف ہوجاتی ہے تو بے شک میں تجھ سے معافی مانگنے والوں میں ہوں ، میںتیری چوکھٹ بھکاری کے مانند پڑا ہوں،آنسوؤں کا نظرانہ پیش کررہا ہوں،اور میرے پاس پیش کرنے کے لئے سوائے آنسوؤں کے علاوہ کچھ نہیںہے۔ حتیٰ کہ تو راضی ہوجائے اے معبود اپنی بے انتہاکرم اور مغفرت کے صدقے ،میری توبہ قبول فرما اور اپنی ملائمت سے مجھے معاف فرما۔اے سختی ٹالنے والے، اے بہت احسان کرنے والے، اے پوشیدہ باتوں کے جاننے والے، اے بہتر پردہ پوشی کرنے والے، میرے بھی عیب کو پردہ میں رکھ،اور مجھے اپنی رحمت کی چادر سے ڈھانپ لے،اگر تو نے مجھے پناہ نہیں دی تو پھر کون ہے ،جو مجھے پناہ دے سکے،کس کے اندر میرے گناہوں اور غلطیوں کو برداشت کرنے کی طاقت ہے ؟تومجھے معاف فردے(آمین یا رب العالمین)

یہ خالص اور مخلص مومن جن کا نام نامی اسم گرامی علی اصغر ہے، مشہور معروف سیدناامام زین العابدین رضی اللہ عنہ ہے۔زین العابدین کے لقب سے معروف اس بزرگ کی نسبت خاندان رسالت مآب ﷺ کی طرف ہے، یہ مولیٰ علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہ کے صاحب زادے سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں، علیؓ بن حسینؓ ان کا نام ہے، قریشی اور ہاشمی ہیں، ابوالحسن ان کی کنیت ہے، ابو الحسن، ابو محمد اور ابو عبداللہ بھی کہا جاتا ہے (ذکر امام زین العابدین،مناقب الاصفیاء ۔از مخدوم شعیب رحمتہ اللہ، تہذیب الکمال:382/20،سیر اعلام النبلاء:386/4،حلیۃ الاولیا:133/3،تذکرۃالحفاظ:74/1،تہذیب التہذیب:304/7،الثقات:159/5،الجرح والتعدیل:229/6،التاریخ الکبیر:266/6،تاریخ الاسلام:180/3،الکاشف:37/2)
علامہ ذہبی نے ’’تاریخ اسلام‘‘ (181/3)میں یعقوب بن سفیان فسوی سے نقل کیا ہے کہ علی بن حسین رضی اللہ عنہ 33 ہجری میں پیدا ہوئے، لیکن ’’سیر اَعلام النبلاء‘‘ (386/4) میں علامہ موصوف نے یہ لکھا ہے کہ (شاید) ان کی پیدائش38 ہجری میں ہوئی ہے، علامہ ابوالحجاج جمال الدین یوسف مزّی نے بھی تھذیب الکمال میں(402/20) یعقوب بن سفیان سے سن پیدائش33 ہجری نقل کیا ہے اور یہی راجح ہے۔آپ کو علی اصغر کہا جاتا ہے، ان کے دوسرے بھائی جو آپ سے عمر میں بڑے تھے، ان کو علی اکبر کہا جاتا تھا، جو معرکہ کربلا میں اپنے والد سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ظالموں کے ہاتھوں شہید ہو گئے (تاریخ الاسلام:181/3،الطبقات الکبری:211/5)
ان کو علی اوسط بھی کہا جاتا ہے، آپ سے چھوٹے بھائی معصوم سیدناعلی اصغر بھی ظالموںکے ہاتھوں جام شہادت پی کر سرشار ہوئے۔علی اوسط یعنی علی بن حسین المعروف زین العابدین رضی اللہ عنہ بعد میں علی اصغر کے نام سے مشہور ہوئے۔علی اصغر یعنی علی بن حسین المعروف زین العابدین ؓ بھی اپنے والد گرامی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ معرکۂ کربلا میں شریک تھے۔
آپ نے اپنے والد حضرت حسین، اپنے چچا حضرت حسن، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم اور ابو رافع، مسور بن مخرمہ، زینب بنت ابی سلمہ، سعید بن مسیب، ذکوان، عمروبن عثمان بن عفان اور عبیداللہ بن ابی رافع رحم اللہ علیھم وغیرہ سے حدیث شریف کا علم حاصل کیا اوراپنے جد امجد مولیٰ علی کرم اللہ وجہ سے بھی مرسل روایت کرتے ہیں(تہذیب الکمال:383/20،سیر اعلام النبلاء:387/4،تہذیب التہذیب:304/7،المراسیل:139)
معرکہ کربلا میںجب آقا و مولیٰ سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے، تو شمر نے کہا کہ اسے بھی قتل کر دو، شمر کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا: سبحان اللہ! کیا تم ایسے جوان کو قتل کرنا چاہتے ہو جو مریض ہے اور اس نے ہمارے خلاف جنگ میں شرکت بھی نہیں کی؟ اتنے میں عمروبن سعد بن ابی وقاص آیا او ر کہا کہ ان عورتوں اور اس مریض یعنی علی اصغر سے کوئی تعرض نہ کرے، اس کے بعد ان کووہاں سے دمشق لایا گیا اور بعد میں مع اہل مدینہ منورہ واپس روانہ کر دیا گیا۔
ابو حازم کہتے ہیں کہ سیدنا علی ؓبن حسینؓامعروف امام زین العابدین سے کسی نے پوچھا کہ حضرت ابوبکر وعمر کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کیا مرتبہ تھا؟ انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مبارک کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: جو تقرب ان کو آج اس روضہ میں حاصل ہے ایسا ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی تھا۔ جعفربن محمدؒ نے اپنے والد سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے والدکے پاس ایک آدمی آیا او رکہنے لگا مجھے ابوبکر وعمر رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کے بارے میں بتائیں۔ انھوں نے فرمایا صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس آدمی نے کہا آپ انہیں’’صدیق‘‘ کہہ رہے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: تیری ماں تجھے گم کر دے! مجھ سے بہتر یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او رمہاجرین وانصار نے ان کو ’’صدیق‘‘ کہا ہے، پس جو ان کو صدیق نہ کہے، اللہ اس کی بات کو سچا نہ کرے، جاؤ! ابوبکر وعمر رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین سے محبت کرو اور انھیں عزیز رکھو، اس کی تمام ذمہ داری میری گردن پر ہے۔
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں علی بن حسین المعروف زین العابدین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ناحق شہید کیا گیا ہے۔

سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے اقوال مبارک۔
جسم اگر بیمار نہ ہوتو وہ مست ومگن ہو جاتا ہے اور کوئی خیر نہیں ایسے جسم میں جو مست ومگن ہو۔
جو اللہ کے دیے ہوئے پر قناعت اختیار کر لے وہ لوگوں میں سب سے غنی آدمی ہو گا۔
لوگوں میں سب سے زیادہ خطرے میں وہ شخص ہے جو دنیا کو اپنے لیے خطرے والی نہ سمجھے۔
جن دو شخصوں کا ملاپ اللہ کی اطاعت کے علاوہ ہوا ہو تو قریب ہے کہ ان کی جدائی بھی اسی پر ہو۔
اے بیٹے!مصائب پر صبر کرو اور حقوق سے تعرض نہ کرو اوراپنے بھائی کو اس معاملے کے لیے پسند نہ کرو جس کا نقصان تمہارے لیے زیادہ ہو اس بھائی کو ہونے والے فائدے سے۔
اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے گناہ گار مومن سے محبت فرماتا ہے۔

سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا خطبہ۔
واقعہ کربلا کے بعد کوفہ میں آپ نے پہلے خدا کی حمد و ثنا اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکے ذکر و درود کے بعد کہا کہ ‘اے لوگو جو مجھے پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہے جو نہیں پہچانتا وہ پہچان لے کہ میں علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ ہوں۔ میں ان دادا کا پوتا ہوں جن کے ساتھ کم ہی لوگوں نے وفا کیا،جن کے نہ اپنے وفادار تھے نہ ہی رشتے دار(الا ماشاء اللہ)جن کی شہادت کے بعد بھی لوگوں نے ممبروں سے نازیبا کلمات ادا کئے،بہتان تراشیاں کی،جھوٹے الزامات عائد کیے، میں ان محترم والد کا فرزند ہوں، جن کی بے حرمتی کی گئی، جن کا سامان لوٹ لیا گیا۔ جن کے اہل و عیال قید کر دیے گئے۔جن خواتین کو کبھی ننگے سر آسمان نے نہیں دیکھا تھا ،ان کے سروں سے چادریں چھین لی گئی،ان کی بے حرمتی کی گئی، میں ان کا فرزند ہوں جنہیں ساحلِ فرات پر ذبح کر دیا گیا اور بغیر کفن و دفن کے چھوڑ دیا گیا۔ شہادتِ حسین ؓہمارے فخر کے لیے کافی ہے۔ اے مردانِ شام،ہوشیار ہو جاو کہ اللہ تعالیٰ نے بے شمار نبی و اولیاء دنیا میں بھیجے ہیں۔ اُن میں سے سات فضیلتیں اللہ تعالیٰ نے ہم کو خاص طور پر بخشی ہیں۔1۔ علم 2۔ حلم۔ 3۔ بخشش 4۔ بردباری۔5۔ بزرگواری 6۔ محبت 7۔ مومنین کے دلوں میں ہماری محبت والفت قائم کی ہے۔
دمشق میں یزید کے دربار میں آپ نے جو مشہور خطبہ دیا اس کا ایک حصہ یوں ہے:میں پسرِ زمزم و صفا ہوں، میں فرزندِ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا ہوں، میں ان کا فرزند ہوں جسے پسِ گردن ذبح کیا گیا۔ میں ان کا فرزند ہوں جس کا سر نوکِ نیزہ پر بلند کیا گیا۔ ہمارے دوست روزِ قیامت سیر و سیراب ہوں گے اور ہمارے دشمن روزِ قیامت بد بختی میں ہوں گے۔
امام محمد باقررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے بابا نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور فرمایا: اے میرے فرزند! میں تمہیں وہ وصیتیں کرنا چاہتا ہوں جو میرے بابا نے مجھے اس وقت کی تھیں ،جب ان کی وفات کا وقت قریب آ گیا تھاپھر امام نے کچھ وصیتیں فرمائی کہ جن میں سب سے خاص وصیت یہ تھی کہ:اے بیٹا! خبردار کسی ایسے پر ظلم نہ کرنا جس کا اللہ کے علاوہ کوئی مددگار نہ ہو۔
وصیتیں کرنے کے بعد تین مرتبہ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ پر غش طاری ہوا، پھر آنکھیں کھول کر امام نے یہ پڑھا: ”اذا وقعت الواقعۃ” ”انا فتحنا لک فتحا مبینا” پھر فرمایا: تمام تعریفیں اس معبود کے لیے ہیں کہ جس نے ہم سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث قرار دیا، ہم بہشت میں جس مکان میں چاہیں رہیں، تو اچھے عمل کرنے والوں کا اجر کتنا ہی اچھا ہے۔ اس کی بعد امام کی روح پرواز کر گئی،انتہائی مظلومیت کے عالم میں،گواہ معرکہ کربلہ 25محرم الحرام 94ہجری(یہ صرف مشہور ہے) کو اس بے وفا دنیا کو خیر باد کہہ کر اپنے اس مالکِ حقیقی جا ملے جو کسی کو بھی تنہا نہیںچھوڑتا ۔جہاں سب ساتھ چھوڑ دیتے ہیں یہ وہی رہتا ہے۔
آپ کی سنہ وفات کے بارے میں اختلاف ہے،99,95,94,93,92 اور100 ہجری کے مختلف اقوال منقول ہیں، مگر صحیح قول کے مطابق سیدنازین العابدین بروز منگل14 ربیع الاول94 ہجری میں دار فانی سے داربقاکی طرف کوچ کر گئے، جنت البقیع میں جنازہ پڑھا گیا اور وہیں پر مدفون ہوئے۔
عمر بن ثابت کہتے ہیں کہ جب امام علی بن حسین (زین العابدینؓ)کی وفات ہوئی اور انھیں غسل دیا گیا تو غسل دینے والے ان کی کمر پر سیاہ نشانات دیکھنے لگے اور کہنے لگے:یہ کیا ہے؟ تو کسی نے انھیں بتایا کہ: امام زین العابدین رات کو آٹے کی بوریاں اپنی کمر پر اٹھا کر اہل مدینہ کے فقراء میں تقسیم کرتے تھے اور یہ انھی بوریوں کے نشانات ہیں۔امام ؓ کے چند خاص لوگ ہی انجانے میں جا ن چکے تھے۔
ایک مرتبہ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا بیٹا کنوئیں میں گر گیا تو اہل مدینہ نے بہت زیادہ چیخ و پکار شروع کردی اور پھر امام کے فرزند کو کنوئیں سے نکال لیاگیا، اس دوران حضرت امام مغموم رضی اللہ عنہ محراب عبادت میں نماز پڑھ رہے تھے، جب بعد میں آپ کو اس واقعہ کے بارے میں بتایا گیا تو آپ نے فرمایا:مجھے کچھ محسوس نہیں ہوا میں اس دوران اپنے پروردگار سے مناجات کر رہا تھا۔
طاؤوس کہتا ہے کہ میں نے ایک دن مسجد الحرام میں محراب کے نیچے ایک نمازی کو دیکھا کہ جو دعا کر رہا تھا اور دعا میں بہت گریہ کر رہا تھا، جب اس آدمی نے نماز ختم کی تو میں اس کے پاس گیا تو دیکھا تو وہ امام علی بن حسین ؓ ہیں۔ میں نے امام سے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ کے فرزند!میں نے آپ کو اس حالت میں د یکھا ہے، حالانکہ آپ کے پاس تین ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں مجھے امید ہے کہ وہ آپ کو خوف سے امان دے سکتی ہیں، ان میں سے پہلی چیز یہ ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ہیں، دوسری چیز آپ کے جد امجد کی شفاعت ہے اور تیسری چیز اللہ کی رحمت ہے۔ امام مظلومؓ نے یہ سن کر فرمایا: اے طاؤوس جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میں رسول خداﷺ کا فرزند ہوں تو یہ چیز مجھے امان نہیں دے سکتی کیونکہ میں نے اللہ کا یہ فرمان سن رکھا ہے ”اس دن ان کے درمیان کوئی رشتہ داری نہ رہے گی اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے” اور جہاں تک میرے جد امجد کی شفاعت کی بات ہے تو وہ بھی مجھے امان نہیں دے سکتی ”کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے وہ صرف اسی کی شفاعت کریں گے جس سے اللہ راضی ہو گا” اور جہاں تک اللہ کی رحمت کی بات ہے تو اللہ فرماتا ہے ”اللہ کی رحمت محسنین کے قریب ہے اور میں یہ نہیں جانتا کہ میں محسن ہوں یا نہیں”
زرارہ سے مروی ہے: حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ ایک اونٹنی پر سوار ہو کر بیس مرتبہ حج کے لیے گئے لیکن کبھی ایک مرتبہ بھی اسے چھڑی سے نہ مارا۔
ہشام بن عبد الملک تخت حکومت پر بیٹھنے سے پہلے ایک مرتبہ حج کے لیے آیاتو طواف کے بعد حجر اسود کا بوسہ لینے کے لیے اس نے حجر اسود تک پہنچنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ لوگوں کے رش کی وجہ سے حجر اسود تک نہ پہنچ سکا، پھر اس کے لیے حطیم میں زم زم کے کنویں کے پاس ایک منبر لگا دیا گیا جس پر بیٹھ کر وہ لوگوں کو دیکھنے لگا اور اہل شام اس کے گرد کھڑے ہو گئے۔ اسی دوران حضرت امامؓ یادگارمعرکہ کربلہ بھی
آ کر خانہ کعبہ کا طواف کرنے لگے اور جب وہ حجر اسود کی طرف بڑھے تو لوگوں نے امام گواہ کربلہ کو خود ہی راستہ دے دیا اور وہ حجر اسود کے پاس بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر ایک شامی نے کہا: یہ کون ہے جس کی لوگوں کے دلوں میں اتنی ہیبت و جلالت ہے کہ لوگ اس کے لیے دائیں بائیں ہٹ کر صف بستہ کھڑے ہو گئے؟ ہشام نے اس شامی کو جواب دیتے ہوئے کہا: میں ان کو نہیں جانتا۔ فرزدق بھی وہیں پر موجود تھا اس نے سوال کرنے والے شامی سے کہا: میں اس شخص کو جانتا ہوں۔ اس شامی نے کہا: اے ابا فراس کون ہے یہ؟ تو فرزدق نے اس کے جواب میں ا یک قصیدہ پڑھا!
ترجمہ۔
اے ”کہاں ہے سخاوت اور کرم” کا سوال کرنے والے، اگر اس بات کو جاننے کے طلبگار آ جائیں تو میرے پا س اس کا جواب ہے۔
یہ تمام بندگان خدا میں سے بہترو افضل ہستی کے فرزند ہیں، یہ متقی و پرہیز گار پاک و پاکیزہ اور علمِ ہدایت ہیں۔
یہ علی ہیں اور ان کے بابا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں، کہ جن کے نور سے امت تاریکیوں میں ہدایت حاصل کرتی ہے۔
یہ وہ شخصیت ہیں جن کے نشانِ قدم کو بھی وادئی بطحاء(مکہ) پہنچانتی ہے، انھیں خانہ کعبہ، حرم اور حرم سے باہر کا سارا علاقہ پہنچانتا ہے۔
جب قریش انھیں دیکھتے ہیں تو کہنے والے کہتے ہیں ان کے بلند مرتبہ اخلاق پہ جود و سخاوت کی انتہاء ہوتی ہے۔
انھیں عزت و شرف کی وہ بلندی نصیب ہوئی ہے جس کو پانے سے عرب و عجم قاصر ہیں۔
اگر یہ حجر اسود کا بوسہ لینے نہ آتے تو حجر اسود والا کونہ خود ان کی ہتھیلی کو چومنے ان کے پاس پہنچ جاتا۔
وہ حیا و شرافت کی وجہ سے آنکھیں جھکائے رکھتے ہیں اور لوگ ان کی ہیبت و جلالت کی وجہ سے آنکھیں نیچی رکھتے ہیں اور ان سے صرف اس وقت بات کی جا سکتی ہے جب وہ مسکرا رہے ہوں۔
اگر تم ان کو نہیں جانتے تو جان لو یہ فرزندِ فاطمہ ؓہیں ان کے جد امجد پر تمام انبیاء کی نبوت کا اختتام ہوتا ہے۔
ان کے جد امجد کی عظمت کو انبیاء کی فضیلتیں نہیں پہنچ پاتیں اور ان کی امت کی عظمت کے سامنے تمام امتوں کی عظمتیں کم نظر آتی ہیں۔
یہ نرم مزاج ہیں اور ان کے غصے کا ڈر نہیں اور یہ دو اوصاف ان کے اخلاق کو مزین کیے ہوئے ہیں۔
لوگوں کا ان(آل رسول) سے محبت کرنا عین دین ہے اور ان سے بغض وکینہ رکھنا عین کفر ہے ان کا قرب ہی نجات دینے والا اور بچانے والا ہے۔
اگر اہل تقوی کو شمار کیا جائے تو یہ متقیوں کے امام نظر آئیں گے اور اگر کوئی کہے زمین پر سب سے افضل کون ہیں؟ تو بھی کہا جائے گا سب سے افضل یہی ہیں۔
کوئی بھی سخی ان کی بلندی کو نہیں پہنچ سکتا اور کوئی بھی قوم چاہے جتنی بھی سخاوت کر لے ان کی برابری نہیں کر سکتی۔
کریم اخلاق ان کے در پر مذمت کو آنے نہیں دیتا اور ان کے ہاتھوں کی سخاوتیں ہر وقت جاری ہیں۔
حالات کی تنگی ان کے سخاوت کو کم نہیں کرتی چاہے ان کے پاس مال ہو یا کچھ نہ ہو ان کی سخاوت کے انداز نہیں بدلتے۔

آپ کی زندگی غم و اندوہ میں گزری،اور سچ ہے کہ جس نے اپنے پورے کنبے کو اپنی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتے دیکھا ہے اس کے غم کا اندازہ لگانہ بہت ہی مشکل کام ہے۔لیکن یہ جانتے تھے کہ
حسین ابن علی اور موت ایسا ہو نہیں سکتا
شہید ناز کو نیند آگئی آغوش خنجر میں؟
اے کربلہ کی خاک اس احسان کو نہ بھول
تڑپی ہے تجھ پہ لاش جگر گوشئے رسولﷺ
آپ کی بے انتہا خشوع و خضوع، زہد و تقوی اور عبادت و خدا پرستی ضرب المثل بن گئی اور آج تک آپ کو زین العابدین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں ایک نعت پاک بھی کہی ہے۔ترجمہ،مفہوم کے ساتھ۔
اے بادِ صبا، اگر تیرا گزر سرزمینِ حرم تک ہو
تو میرا سلام اس روضہ کو پہنچانا جس میں نبیِ محترم تشریف فرما ہیں
وہ جن کا چہرہ انور مہرِ نیمروز ہے اور جن کے رخسارتاباں ماہِ کامل ہیں
جن کی ذات نورِ ہدایت، جن کی ہتھیلی سخاوت میں دریاہے
اُن کا (لایا ہوا) قرآن ہمارے لئے واضح دلیل ہے جس نے ماضی کے تمام دینوں کو منسوخ کر دیا
جب اس کے احکام ہمارے پاس آئے تو (پچھلے) سارے صحیفے معدوم ہو گئے
ہمارے جگر زخمی ہیں فراقِ مصطفیٰ کی تلوار سے
خوش نصیبی اس شہر کے لوگوں کی ہے جس میں نبیِ محتشم ہیں
کاش میں اس طرح ہوتا ،جو نبی کی پیروی علم کے ساتھ کرتا ہے
(اے اللہ مجھے) دن اور رات ہمیشہ یہی صورت اپنے کرم سے عطا فرما
اے رحمتِ عالم آپ گناہ گاروں کے شفیع ہیں
ہمیں قیامت کے دن فضل و سخاوت اور کرم سے عزت بخشئے
اے رحمتِ عالم زین العابدین کو سنبھالیے
وہ ظالموں کے ہاتھوں میں گرفتار بھیڑ میں ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ذکی احمد، شخصیت اور شاعری: ایک مطالعہ

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے