نظم: اے مری قوم!

نتیجۂ فکر: صادق طاہر قاسمی ندوی کبیر نگری
مقیم حال: ریاض، سعودی عرب


اے مری قوم کے جانثاروں اٹھو
عزم و ہمت کے پیکر جوانوں اٹھو

قوم کی بیٹیوں کی پکاریں سنو
درد سے چیکھتی ان کی آہیں سنو
غیرتِ قوم تیری کہاں کھو گیٔ
اپنے ایمان کی داستانیں سنو

اے محمد کے سارے دیوانوں اٹھو
اے مری قوم کے جانثاروں اٹھو

اے مری قوم کے رہنماؤں اٹھو
اہل مسند اٹھو، خانقاہوں اٹھو
فکری دانشکدوں، درسگاہوں اٹھو
دین اسلام کے اے جیالوں اٹھو

قومیت کے حسیں ماہپاروں اٹھو
اے مری قوم کے جانثاروں اٹھو

فرقہ بندی کی آؤ حدیں توڑ دیں
آؤ نفرت کی ساری جڑیں توڑ دیں
وقت وحالات کا سارا رخ موڑ دیں
دشمنی کے چلو سارے بت توڑ دیں

آؤ توحید کے باغبانوں اٹھو
اے مری قوم کے جانثاروں اٹھو

قوم کی ڈوبتی کشتیوں کو بچا
پیکر حسن کی بیٹیوں کو بچا
گلشنِ زندگی کے حسیں موڑ پر
حسن کی سب حسیں تتلیوں کو بچا

ملت ہند کے پاسبانوں اٹھو
اے مری قوم کے جانثاروں اٹھو

آؤ شام و سحر کی فضاؤں اٹھو
رقص کرتی حسیں اے بہاروں اٹھو
مہر وماہ وفلک، کہکشاؤں اٹھو
آبشاروں اٹھو، کوہساروں اٹھو

صبح دم،شام کے سب نظاروں اٹھو
اے مری قوم کے جانثاروں اٹھو

اپنے حق کی چلو سب لڑائی لڑو
اب نہ ہاتھوں کو رنگ حنایٔ کرو
توڑ دو فرقہ بندی کے بت توڑ دو
اب نہ آپس میں کوئی لڑائی لڑو

اے محبت کے سب آشیانوں اٹھو
اے مری قوم کے جانثاروں اٹھو

کوئی منصف، مسیحا، نہ غم خوار ہے
گونگی بہری ہماری یہ سرکار ہے
آؤ مل کر بناءیں نیا کارواں
قافلہ تو ہی ہے، تو ہی سالار ہے

قوم مظلوم کے غم گساروں اٹھو
اے مری قوم کے جانثاروں اٹھو

زہر نفرت کا گھلتا چلا جائے گا
پیار دل سے نکلتا چلا جائے گا
گلشنِ زندگی کو سنوارو ذرا
پھول نفرت کا اگتا چلا جائے گا

اے محبت کے نغمہ نگاروں اٹھو
اے مری قوم کے جانثاروں اٹھو

ہر طرف تیری عظمت کی ہے داستاں
رشک کرتے ہیں تجھ پر زمیں، آسماں
ابن قاسم ہو، طارق، سعد ہو تمہیں
پھر بلاتا ہے تم کو وہی کارواں

اپنی تاریخ کے شاہپاروں اٹھو
اے مری قوم کے جانثاروں اٹھو

سب اٹھو عالموں، حافظوں، شاعروں
عزم و ہمت کی اے تیز تر آندھیوں
اہل فن، اہل فکر و نظر، ساتھیوں
اے سمندر کے خاموش تر ساحلوں

اے صحافت کے زندہ ستاروں اٹھو
اے مری قوم کے جانثاروں اٹھو

رنگ نور سحر، چاند تاروں اٹھو
چاندنی رات کے اے اجالوں اٹھو
دشت و صحرا کے سب ریگزاروں اٹھو
اور زنداں کی ساری سلاخوں اٹھو

اے محبت کی سب رزمگاہوں اٹھو
اے مری قوم کے جانثاروں اٹھو

جان دے کر لہو سے ہے سینچا چمن
یہ ہمارا وطن ہے، ہمارا وطن
آؤ صادق بھلا دیں ہر اک دشمنی
بھر دیں پیار ومحبت سے کوہ ودمن

اب عزیمت کے اے شہ سواروں اٹھو
اے مری قوم کے جانثاروں اٹھو

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نظم :مُبارک ہو عزیزو پھر مہِ رمضان آیا ہے

نتیجۂ فکر: استاد بریلوی، نینی تال مُبارک ہو عزیزو پھر مہِ رمضان آیا ہےہزاروں برکتیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے