قاضی عبد الجلیل قاسمی کی یادیں اور باتیں: شہر کان پور کے حوالے سے

ازقلم:عین الحق امینی قاسمی، بیگوسرائے

28/جون تا 3/جولائی 2004ء کو انجمن اشاعت دین مدرسہ اشاعت العلوم قلی بازار کان پور کے تحت ایک” شش روزہ تربیت قضاء کیمپ” کا انعقاد ہوا تھا جس کی عمومی صدارت حضرت مولانا قاضی منظور احمد صاحب مظاہری رحمہ اللہ فرمارہے تھے،جب کہ انجمن کے صدر جناب قاری عبد القدوس ہادی صاحب زید مجدہ مہتمم مدرسہ اشاعت العلوم قلی بازار کان پور تھے اور وہی پروگرام کےمحرک اول اور اصل داعی بھی تھے ۔
امارت شرعیہ پٹنہ کے حوالے سے بحیثیت قاضی القضاۃ صرف حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ کے دید وشنید سے ہی اس وقت تک یہ عاجز راقم سطور واقف تھا ،اس لئےاپنا احساس یہ تھا کہ” قاضی صاحب مرحوم 4/اپریل 2002ء کو گذرچکے ہیں ،اب بہار میں کیا دھرا ہے ،یقینا بہار سے نظام قضاء کا بوریہ بستر سمٹ چکا "مگر جب منتظمین کیمپ کی طرف سے مدرسہ حسینیہ ولایت الاسلام شہر میرٹھ ، دعوت نامہ پہنچا، تو مدرسہ کے مہتمم محترم جناب حافظ شبیر احمد صاحب مدظلہ نے پروگرام میں شرکت کے لئے میرے نام کی منظوری دیدی ، مغربی اتر پردیش کے ضلع میرٹھ شہر سے میرا وہاں آناپہلی بار ہو رہاتھا ،مجھے یہ جان کر بے انتہا خوشی بھی ہورہی تھی کہ صوبہ بہار کے مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ سے اکابر علماء تربیت قضاء کے لئے بحیثیت مربی تشریف لارہے ہیں ۔اس کا مطلب اور بھی قاضی صاحبان وہاں رہتے ہیں ،میں بڑے اشتیاق کے ساتھ دن گننے لگا ، امارت میں کسی سے شناسائی نہیں تھی ،اس لئے پہلے سے کوئی رابطہ کرنا بھی ضروری خیال نہیں کیا گیا ۔
حسب پروگرام جب وہاں حاضری ہوئی تو امارت سے تشریف لانے والے اکابرین سے ملنے کی جستجو میں رہا ،مگر تمام مشارکین اور قضاء کی تربیت لینے والے احباب کو "حلیم مسلم انگلش اسکول چمن گنج” میں ٹھہرایا گیا تھا ،اس لئے پہنچنے والے روز امارت سے تشریف لائے معزز اکابرین سے ملاقات نہ ہوسکی ۔اگلی صبح دس بجے سے پروگرام طے تھا ،حسب پروگرام ،مجلس کا روایتی آغاز ہوا ۔تمہیدی گفتگو قاضی منظور احمد صاحب مظاہری مرحوم کی ہوئی تھی اور بنیادی وموضوعاتی خطاب محترم قاضی انظار عالم صاحب قاسمی زید مجدہ امارت شرعیہ پٹنہ کی ہوئی تھی ،مربیین کی فہرست میں ایک شنا ساچہرہ قاضی انظار عالم قاسمی کا تھا جنہیں میں نے دارالعلوم دیوبند میں پہلے سے کبھی صرف دیکھ رکھا تھا ،اچانک آج انہیں یہاں دیکھ کر کئی گنا خوشی بڑھ گئی ۔پہلی نششت کے اختتام پر ان سے خصوصی ملاقات کی اور تب سے کھانے اور سونے کے علاؤہ انہیں کے ساتھ پورے چھ روز بتانے کا موقع ملا ۔
محترم قاضی انظار عالم صاحب قاسمی نے پہلی بار 28/جون کو بعد عصرقاضی عبد الجلیل صاحب قاسمی مرحوم سے ایک سطر میں تعارف کروایا :”یہ مولانا بہار بیگوسراے کے ہیں ،میرٹھ سے آئے ہیں ” اس پرقاضی عبد الجلیل صاحب مسکرائے اور بس ! قاضی صاحب مرحوم کی طرف سے اس غیر متوقع انداز ونیاز ،مستان صفت اور صوفی صورت وضع دیکھ کر مجھ پر کوئی خاص تآثر قائم نہیں ہوسکا ،مگر مغرب بعد کے پروگرام میں جب ان کی کار قضاء کی اہمیت وضرورت پر مفصل اور لانبی گفتگو ہوئی تو یقین جانئیے کہ میں مبہوت ہی رہ گیا اور غائبانہ ان کا مرید خاص بھی،اسی نسبت سے دو چند وقتی نمازوں کی امامت بھی سبھوں کے ساتھ اس عاجز کے حصے میں بھی آتی رہتی تھی ۔
اس سلسلے کی دوسری نششت تھی جو مغرب بعد رکھی گئی تھی ،جس کی صدارت خود قاضی صاحب مرحوم ہی فرمارہے تھے اور اس پوری نششت میں تنہا صرف آپ کی گفتگو ہوئی تھی ،جس سے مجھ جیسے خواص کو بھی یہ قائل ہوجا نا پڑا کہ” امارت شرعیہ بہار اڑیسہ جھارکھنڈ ایک تحریک اورمشن کا نام ہے ،اس کی وہی روح آج چوراسی برس بعد بھی زندہ ہے ،جو علمی وفکری روح 1921ءمیں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالمحاسن محمد سجاد دعلیہ الرحمہ نے اول دن ڈالی تھی ،امارت شرعیہ قاضی مجاہد الاسلام قاسمی مرحوم کے بعد بھی ان کے فکر و نہج پر تابندہ ہے ،وہا ں اب بھی ایسے ایسے جید عالم دین ہیں ،جو اپنے اندر دین اور دعوت دین کا گھلا دینے والا درد رکھتے ہیں "یہ صرف میرا ذاتی تاثر نہیں تھا ،بلکہ وہاں تربیت لینے آئے ہوئے مشارکین میں سے ایسے بہت سوں کا تھا جوبرملا امارت شرعیہ پٹنہ کے نظام کو محدود زمان ومکان کے لئے اپنے اندرسادہ خیال پالے ہوئے تھے ۔مولانا عبد الجلیل صاحب کی اس گفتگو نے آنے والے ساتھیوں کوپوری طرح اسیر کرلیا تھا ،ورنہ صورت حال ایسی لگ رہی تھی یا اپنا بھی ذہن یہ بن رہا تھا کہ دو ایک روز بعد سبک گامی سے نکل لینا ہے ،مگر قاضی صاحب کے اس خطبے نے مجھ جیسے بہت سوں کو اپنا قبلہ بدلنے پر مجبور کردیا اور تقریبا سوا سو افراد نے پابندی سے شرکت کی اور اپنی سرٹیفکیٹ لے کر وہاں سے روانہ ہوئے ۔
کار قضاء سے متعلق عام طور پر اگر کچھ اصول ومبادیات ذہن نشین کرانا ہوتا تو اس کے لئے محترم قاضی انظار عالم صاحب قاسمی نوٹس سطح کی بہت سی باتیں املا کرادیا کرتے تھے اور پھر اگلی نششت میں حضرت مولانا عبد الجلیل صاحب اس قضیہ کی ساری گتھیاں اس طرح سلجھاتے کہ مانو ایک کیسٹ ہے جو مسلسل بج رہا ہے ۔ کبھی ولایت تو کبھی وکالت اور فسخ وتفریق جیسے مسائل پر ظاہر داری اور آواز وانداز میں کچھ نمایاں تبدیلی کئے بغیر عام فہم انداز میں ان کی گفتگو بہت مؤثر ہوتی تھی، جس کااثر سامعین پر صاف دیکھنے سننے کو ملتا ۔احباب وسامعین چوں کہ سبھی یوپی سے تھے اور یوپی میں اگر کچھ اس سلسلے کا کام ہوبھی رہا تھا تو جمعیۃ علماء ہندکےمحکمہ شرعیہ کی طرف سے ،بہارکے امارت شرعیہ کی وہاں وہی حالت تھی جو بہاری طلباء کے سلسلے میں عمومی سطح پر نظریہ قائم ہے ،مگر مولانا عبد الجلیل صاحب قاسمی نے پورے پروگرام کے دوران اپنی اعلی استعداد ،پختہ علم اور سلجھی ہوئی علمی گفتگو کے ذریعے نہ صرف امارت شرعیہ کے نظام کو موجود اکابرین و عمائدین شہرکان پور کے درمیان متعارف کرانے میں متآثر کن انداز سے کام یاب رہے ، بلکہ اعترافا بہت سی زبانوں سے یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ” ایک بہاری سو پہ بھاری "کا آج چشم دید مشاہدہ ہورہا ہے۔
خوبی اور چوں کانے والی بات یہ بھی تھی کہ یہ پروگرام اتر پردیش کے شہر کان پور میں ایسی جگہ ہورہا تھا ،جہاں پہلے سے امارت شرعیہ کا کوئی مبلغ یا نقیب تک نہیں تھا ،بلکہ محض مخلصانہ جذبوں سے منعقد یہ پروگرام ،کار قضاء کو امارت شرعیہ پٹنہ کے نہج پر اور ان کو سینیر مان کر استفادہ کرنے کی تڑپ کے ساتھ محکمہ شرعیہ کان پور کے اعلی ذمہ داران کی دعوت پر رکھا گیا تھا ،جو بہت ہی کامیاب رہا اور اس پورے پروگرام کے مرد میداں مولانا قاضی عبد الجلیل قاسمی رہے ،رحمہ اللہ رحمۃ واسعہ ……(جاری )

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ضلع مئو کے پانچ باحیات مصنفین کتب کثیره

: محمد سلیم انصاری ادروی ضلع مئو ویسے تو رقبے کے حساب سے کافی چھوٹا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے