غزل: ہم ایک دوسرے سے محبت جتایئں

خیال آرائی: گل گلشن، ممبئی


ہمیں تم ستاؤ تمہیں ہم ستایئں
ہم ایک دوسرے سے محبت جتایئں

اس اسرار الفت کو بس ہم ہی جانیں
کبھی تم جو روٹھو تمہیں ہم منایئں

یہ نفرت زدہ جھوٹی دنیا سے نکلیں
ہم اپنی الگ ایک جنت بنایئں

یہ شکوے شکایت سبھی کچھ بھلا کر
خلوص و وفا کا ہنڈولہ بنایئں

ہے چاہت کی نگری میں گل کا نشیمن
وہیں چل کے ہم بھی گھروندہ بنایئں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے