خواجہ غریب نواز اور درسِ ایمان و عمل

تحریر: محمد عبدالمبین نعمانی قادری
المجمع الاسلامی ،مبارک پور اعظم گڑھ ،یوپی

خواجۂ خواجگاں، سلطان الہند عطاے رسول سیدنا معین الدین حسن اجمیری علیہ الرحمۃ والرضوان (متوفی ۶/رجب ۶۳۳ھ) کی شان بڑی نرالی اور عظیم ہے۔ ہندوستان میں ان کی تشریف آوری سے اسلام کو بہت فروغ ملا۔ سرکار خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامتوں نے یہاں کے جادوگروں اور ہندو جوگیوں کو مات دے کر اسلام کا غلغلہ بلند کیا۔ دوسرے یہ کہ آپ کے اعمالِ صالحہ نے ان کے دلوں میں وہ اثر ڈالا کہ جوق در جوق کفارِ ہند حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔
حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ مقامات سلوک کیسے حاصل کیے، کیسے کیسے بزرگوں سے ملے اور خود پیر و مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کیسی خدمت کی، یہ باتیں قابل غور اور لائق توجہ ہیں۔ حضرت خواجہ نے بیس سال تو اپنے مرشد کی خدمت میں رہ کر سیر و سیاحت کرتے رہے۔ مرشد سے جدا ہونے کے بعد بھی کافی عرصے تک سیاحت کی اور اولیاء اللہ کے ارشادات و فرمودات سے متمتع (فیضیاب) ہوتے رہے۔
کشف و کرامات کے واقعات تو بہت سی کتابوں میں ملیں گے جن سے خواجۂ خواجگاں کی عظمت ولایت کا ضرور پتہ چلتا ہے مگر یہاں حضرت خواجہ کی زندگی اور سیاحت کے وہ واقعات بیان کرنا چاہتا ہوں جن سے خود حضرت خواجہ نے بڑا سبق حاصل کیا اور جن سے متاثر ہو کر آپ نے اپنی زندگی میں نکھار پیدا کیا تا کہ ہم بھی اپنی زندگی میں انقلاب لائیں اور ان واقعات سے سبق لیں۔کرامات بلاشبہہ برحق ہیںلیکن بزرگوں کی زندگی میں عمل وتقویٰ کی جو مثالیں پائی جاتی ہیں ان کو بھی مد نظررکھنا چاہیے اس سے عمل کا جذبہ اور عبادت کا شوق بیدار ہوتاہے۔
والد کے انتقال کے بعد حضرت خواجہ نے وراثت میں ملے باغ کی رکھوالی شروع کر دی۔ ایک روز ایک مجذوب بزرگ ابراہیم قندوری نامی تشریف لائے۔ حضرت خواجہ نے انگور کے خوشے پیش کیے۔ آپ نے انگور نہ کھائے، اور کھلی کے ایک ٹکڑے کو دانتوں سے چبا کر خواجہ کے منہ میں ڈال دیا۔ اس کھلی کا کھانا تھا کہ حضرت خواجہ کا دل انوار الٰہی سے روشن ہو گیا۔ دنیاوی علائق کو چھوڑ کرطلب مولا میں لگ گئے۔ بخارا اور سمرقند جا کر سب سے پہلے علوم ظاہری سے اپنے کو آراستہ کیا۔ پھر سمرقند سے روانہ ہو کر عراق پہنچے اور قصبہ ہارْوَن میں شیخ عثمان ہارونی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی، آپ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ بیعت کے وقت مرشد نے وضو کرایا، دو رکعت نماز پڑھوائی، پھر قبلہ رخ ہو کر سورہ بقرہ پڑھنے کو کہا، اس کے بعد اکیس بار درود شریف پڑھوایا اور ساٹھ بار سبحان اللہ، پھر آسمان کی طرف چہرۂ مبارک اٹھاکراور خواجہ غریب نواز کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا میں نے تجھ کو خدا تک پہنچایا اور اس کی بارگاہ کا مقبول کیا۔

ذیل میں وہ واقعات نقل کیے جاتے ہیں جو حضرت خواجہ بزرگ کی زندگی پر اَثر انداز ہوئے اور باطن کو سنوارنے میں مدد کی۔
جس کو موت آنے والی ہو: اکثر تذکرہ نویسوں کا کہنا ہے کہ حضرت خواجہ نے بیس سال تک اپنے مرشد کی خدمت کی، حتیٰ کہ سفر میں بستر اور دیگر ضروری سامان سر پر رکھ کر چلتے۔ دورانِ سفر مرشد نے عجیب عجیب بزرگوں سے ملاقات کرائی۔ چنانچہ مرشد کی معیت میں سیوستان پہنچے، شیخ صدر الدین محمد سیوستانی سے ملنے ان کے عبادت خانے میں گئے اور کئی روز وہاں گزارے، ان کے استغراق کا عجیب عالم تھا۔ موت اور قبر کا حال سنتے ہی بید کی طرح کانپتے اور روتے، یہاں تک کہ ان کی آنکھوں سے خون بہنے لگتا، جیسے کسی چشمے سے پانی بہتا ہو، سات سات روز روتے ہی رہتے، ایسا روتے کہ دیکھ کر دوسروں کو رونا آجاتا۔ ایک موقع پر حضرت خواجہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
اے عزیز! جس کو موت آنے والی ہو، اور اس کا حریف ملک الموت ہو، اس کو سونے، ہنسنے اور خوش رہنے سے کیا کام۔
اس کے بعد فرمایا: اے عزیز! اگر تمہیں ان لوگوں کا ذرا بھی حال معلوم ہو جائے، جو زمین کے نیچے ایسی کوٹھری میں سوتے ہیں، جس میں سانپ بچھو بھرے ہوئے ہیں تو اس کو معلوم کرتے ہی تم اس طرح پگھل جائوگے جیسے پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔
پھر انھوں نے فرمایا: ایک دن میں ایک بزرگ کامل کے ساتھ بصرہ کے ایک قبرستان میں بیٹھا تھا اور پاس ہی ایک قبر میں مردے پر عذاب ہو رہا تھا۔ ان بزرگ کو جب یہ حال معلوم ہوا تو زور سے نعرہ مارا اور زمین پر گر پڑے، میں نے ان کو اٹھانا چاہا مگر ان کی روح قالب سے پرواز کر چکی تھی، اور پھر تھوڑی ہی دیر میں ان کا سارا جسم پانی بن کر بہہ گیا۔ اس دن سے مجھ پر بھی قبر کی بڑی ہیبت طاری ہے۔ اس لیے اے عزیزو! دنیا میں مشغول نہ ہونا، کہ حق سے غافل ہو جائو۔ (دلیل العارفین)
یہ واقعہ جب سرکار غریب نواز نے سنا ہوگا ضرور ان کی بھی روح کانپ اُٹھی ہوگی۔ آج لوگ موت سے گھبراتے ہیں لیکن حساب کی فکر نہیں کرتے، گناہوں سے لت پت رہنے میں مزا ملتا ہے لیکن قبر کے عذاب سے نہیں ڈرتے، جب کہ سرکار اقدس آقاے کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کثرت سے موت کو یاد کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا: قبروں کی زیارت کرو، اس سے دنیا میں بے رغبتی پیدا ہوتی ہے اور آخرت یاد آتی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح: ۱۵۴ ، زیارۃ القبور)
افسوس آج ہم آخرت کی یاد سے تو بھاگتے ہیں لیکن کل آخرت سے بھاگ کر کہیں نہ جاسکیں گے!۔
بارگاہِ رسالت کی مقبولیت: اپنے مرشد گرامی کے ساتھ خواجہ غریب نواز نے حرمین طیبین کی زیارت کا شرف بھی حاصل کیا۔ مرشد نے خدا اور اس کے رسول کی بارگاہ میں اپنے محبوب مرید کے لیے دعائیں کیں، پھر مرشد نے خود سنا کہ قبر اطہر سے آواز آئی:
’’معین الدین دوستِ ما ست اور اقبول کردم و برگزیدم۔‘‘
(معین الدین ہمارا دوست ہے، اس کو قبول کیا اور برگزیدگی عطا کی)
پھر مدینہ منورہ ہی سے حضرت خواجہ کو ہندوستان جانے کی بشارت ملی۔(سید الاقطاب و مونس الارواح)
بارگاہِ رسالت میں یہ مقبولیت بلا وجہ تو نہیں، یہ خواجہ پاک کے ایمان کی پختگی اور زہدو تقویٰ نیز اتباعِ شریعت ہی کا توثمرہ ہے۔
بارگاہِ مرشد میں مقبولیت: حضرت خواجہ غریب نواز کو اپنے مرشد سے بے پناہ عقیدت تھی، جس کا صلہ ان کو یہ ملا کہ مرشد نے ان کو بھی اپنا بنا لیا۔ چناں چہ آپ کے مرشدِ گرامی فرماتے ہیں:
’’معین الدین محبوب خدا است مرا فخر است برمریدی او‘‘
یعنی معین الدین خدا کا محبوب ہے اور مجھ کو اس کی مریدی پر فخر ہے۔( سفینۃ الاولیاء، مونس الارواح)
سبحان اللہ! مرشد نے خدا کی محبوبیت کی گواہی دی اور ان کی مریدی پر ناز کیا ہے۔
بھلا جسے مرشد چاہیں اور فخر کریں، اس کے مقام و مرتبے کا کون اندازہ لگا سکتا ہے!۔
خوفِ خدا کی کارفرمائی: قیام بغداد کے دوران دجلہ کے کنارے ایک خانقاہ میں گئے جہاں ایک بزرگ مقیم تھے۔ حضرت خواجہ نے ان کو سلام کیا، اشارے سے انھوں نے جواب دیا اور بیٹھ جانے کو کہا۔ جب حضرت خواجہ بیٹھے تو بزرگ گویا ہوئے، مجھے پچاس سال ہوئے کہ مخلوق خدا سے جدا ہو کر یہاں بیٹھا ہوں، جیسے تم سفر کرتے ہو، میں بھی ویسے ہی سفر کیا کرتا تھا، سفر کے دوران میرا گزر ایک شہر میں ہوا، جہاں ایک مال دار شخص لوگوں سے معاملات میں سختی کیا کرتا تھا اور گاہکوں کو ستاتا تھا ۔ بس میں خاموشی سے گزر گیا، اس کو تنبیہ نہ کی۔ نداے غیبی آئی۔ اگر تو خدا کے لیے اس مردار دنیا سے باز رہنے کی تلقین کرتا اور اس کو سختی کرنے سے منع کرتا تو وہ تیری بات مان جاتا اور ظلم سے باز آتا۔
جس روز سے میں نے یہ آواز سنی ہے، میں بہت شرمندہ ہوں اور اسی وقت سے اس خانقاہ میں مقیم ہوں۔ کبھی اس سے باہر قدم نہیں نکالا۔ مجھے اس بات کا بڑا خوف ہے کہ قیامت کے دن اگر اس معاملے میں مجھ سے سوال ہوا تو کیا جواب دوں گا۔ میں نے اس تاریخ سے قسم کھا لی ہے کہ کہیں نہیں جائوں گا کہ میری نظر کسی ایسی چیز پر نہ پڑے کہ میں اس سے متعلق پوچھا جائوں۔ (دلیل العارفین)
قیامت میں کیا منہ دکھائوں گا!: کِرمان میں ایک بزرگ سے ملے جن کے بدن پر گوشت نہ تھا، باتیں بہت کم کرتے، سوچا ان کا حال پوچھوں، تو خود ہی بزرگ نے روشن ضمیری سے جان لیااور فرمایا: ایک روز میں اپنے دوست کے ساتھ قبرستان گیا۔ اتفاقاً اسی دوست سے لہو لعب کی کوئی بات نکلی جس پر میں نے ہنس دیا۔ فوراً میرے کان میں آواز آئی، جس کا حریف ملک الموت ہو اور زیر زمین سانپ بچھو کے درمیان جس کا گھر ہو، اس کو ہنسی سے کیا سروکار۔ جب اس کو سنا فوراً دوست سے جدا ہوا، گھر آیا اور پھر اس غار میں گوشہ نشین ہو گیا۔ اس دن سے میرے اوپر بڑی ہیبت ہے کہ آج چالیس سال ہوئے نہ میں ہنسا، نہ ہی آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دیکھا۔ شرمندہ ہوں کہ کل قیامت کے دن اگر سوال ہوا تو کیا منہ دکھائوں گا اور کیا جواب دوں گا۔ (فوائد السالکین)
آج ہم لوگ عام طور سے قبرستانوں کے آداب سے ناواقف ہیں۔ قبرستانوں میں ہنسنا کھیلنا تو عام بات ہوگئی ہے، یہ واقعہ اپنے اندربڑا درسِ عبرت رکھتاہے۔
نماز گئی تو سب کچھ گیا: حضرت خواجہ قدس سرہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ میں شام کے قریب ایک شہرمیں تھا، اس کے باہر ایک غار تھا، جس میں ایک بزرگ شیخ محمد الواحد غزنوی علیہ الرحمہ رہتے تھے۔ جن کے جسم پر چمڑا ہی چمڑا تھا، گوشت کا نام بھی نہ تھا۔ سجادے پر بیٹھے ہوئے تھے اور دو شیر اُن کے پاس کھڑے تھے۔ جب ان کی نگاہ مجھ پر پڑی، فرمایا: آجائو ڈرو نہیں، جب میں پاس گیا تو آداب بجالا کر بیٹھ گیا۔ فرمایا: اگر تو کسی کا ارادہ نہ کرے گا تو وہ بھی تیرا ارادہ نہ کرے گا، یعنی شیر کی کیا ہستی ہے کہ تو اس سے ڈرتا ہے۔
پھر فرمایا: جب تیرے دل میں خوفِ خدا ہوگا تو سب تجھ سے ڈریں گے، شیر کی کیا حقیقت ہے۔ پھر پوچھا، کہاں سے آنا ہوا۔ عرض کیا، بغداد سے۔ فرمایا: آنا مبارک ہو، لیکن لازم ہے کہ تو درویشوں کی خدمت کرے تا کہ بزرگ بن جائے۔ سنو! مجھے اس غار میں رہتے کئی سال گزر گئے۔ یہاں میں تنہا گوشہ نشینی اختیار کیے ہوئے ہوں اور مخلوق سے دور ہوں اور تیس سال سے ایک چیز کے لیے رو رہا ہوں اور رات دن خوف زدہ رہتا ہوں۔ خواجہ صاحب فرماتے ہیں، میں نے پوچھا، وہ کیا ہے؟ فرمایا: جب میں نماز ادا کرتا ہوں تو اپنے آپ کو دیکھ کر روتا ہوں کہ اگر شرائط نماز میں ذرا بھی کوتاہی ہوئی تو نماز گئی اور جب نماز گئی تو سب کچھ گیا۔ پھر کہیں یہ نماز قیامت کے دن میرے منہ پر نہ مار دی جائے تو اے درویش! اگر تو نماز کے حقوق سے عہدہ برآ ہو جائے تو واقعی تو نے بڑا کام کیا، ورنہ تیری عمر ضائع ہی ہوگی۔ پھر یہ حدیث بیان فرمائی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک کوئی گناہ دنیا میں اور کوئی دشمن قیامت میں اس سے بڑھ کر نہیں کہ آدمی نماز کو شرائط کی پابندی کے ساتھ ادا نہ کرے۔ پھر فرمایا: میرے بدن پر جو ہڈیاں اور چمڑا دکھائی دیتا ہے، یہ اسی سبب اور خوف سے ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ آیا مجھ سے نماز کا حق ادا ہوا یا نہیں۔
اس کو بیان کر کے حضرت خواجہ قدس سرہ نے فرمایا: ان بزرگ کی ساری گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ نماز کا معاملہ بڑا اہم ہے۔ اگر سلامتی کے ساتھ اس سے عہدہ بر آ ہو سکے تو نجات پا جائے گا ورنہ شرمندگی ہاتھ آئے گی اور منہ دکھانے کے لائق نہ ہوگا۔ (دلیل العارفین، مجلس دوم)
اس کے بعد حضرت خواجہ نے آبدیدہ ہو کر نماز کی مزید اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: نماز دین کا رُکن ہے اور رکن ستون کو کہتے ہیں، جب ستون قائم رہے گا گھر بھی برقرار رہے گا اور اگر ستون ہی نکل جائے گا تو گھر بھی گر پڑے گا۔ جب نماز کے اندر فرض، سنت اور رکوع و سجود میں خلل پڑے گا تو حقیقت اسلام میں خلال آجائے گا کیونکہ نماز ہی دین کا ستون ہے۔
اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کسی عبادت میں ایسی تاکید نہ کی جیسی تاکید و تشدید (سختی) نماز کے بارے میں کی ہے۔ پھر تفسیر کے حوالے سے ارشاد فرمایا: قیامت کے روز پچاس مختلف مقامات پر مختلف سوالات ہر آدمی سے ہوں گے۔ پہلے مقام پر ایمان کے بارے میں سوال ہوگا، اگر اس کا صحیح جواب نہ دے سکا تو وہیں سے سیدھے جہنم میں بھیج دیا جائے گا پھر دوسرے مقام پر نماز اور دیگر فرائض کا سوال ہوگا۔ اگر صحیح جواب دے سکا تو بہتر ورنہ وہیں سے سیدھے دوزخ بھیج دیا جائے گا۔ پھر تیسرے مقام پر سنت نبوی کی بابت سوال ہوگا، اگر ان سے عہدہ برآ ہو سکا یعنی صحیح ادا کیا تھا اور ٹھیک ٹھیک جواب دے دیا تو رہائی ملے گی ورنہ موکلوں کے ہاتھوں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مجرم بنا کر بھیجا جائے گا کہ یہ شخص آپ کی اُمت سے ہے، مگر اس نے سنت کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے۔
حضرت خواجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اس بیان کو ختم کر چکے تو زار زار رونے لگے اور فرمایا کہ افسوس اس شخص پر جو قیامت کے روز پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندہ ہوگا اور جو ان کی بارگاہ میں شرمندہ ہوگا، کہاں جائے گا؟ (دلیل العارفین)
وقت سے پہلے نماز کی تیاری: حضرت خواجہ نے فرمایا: میرا گزر ایک ایسے شہر سے ہوا جہاں یہ رسم تھی کہ وقت سے پہلے ہی لوگ نماز کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔ میں نے پوچھا اس میں کیا حکمت ہے؟ کہا: وجہ یہ ہے کہ جب وقت ہو جلد نماز ادا کر لیں، جب پہلے سے تیار نہ ہوں گے تو شاید وقت گزر جائے اور نماز فوت ہو جائے۔ پھر کس منہ سے سرکار دو عالم شفیع امم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جائیں گے کیونکہ حدیث میں آیا ہے : عَجِّلُوْا بِالتَّوْبَۃِ قَبْلَ الْمَوْتِ وَعَجِّلُوْا بِالصَّلٰوۃِ قَبْلَ الْفَوْتِ۔ یعنی مرنے سے پہلے توبہ کے لیے جلدی کرو، اور فوت (یعنی قضا) ہونے سے پہلے نماز میں جلدی کرو۔
دونمازیں جمع کرنا گناہ ہے: پھر فرمایا کہ امام یحیٰ زندوسی رحمۃ اللہ علیہ کے روضے میں لکھا دیکھا ہے کہ پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مِنْ اَکْبَرِ الْکَبَائِرِ الْجَمْعُ بَیْنَ الصَّلٰوتَیْنِ یعنی سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ فرض نماز میں اس قدر تاخیر کی جائے کہ وقت گزر جائے اور پھر دو نمازیں اکٹھا ادا کرنی پڑیں۔ (دلیل العارفین)
جھوٹی قسم اور نماز چھوڑنے والوں پر عذاب: اس کے بعد ایک واقعہ یہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ بغداد کی جامع مسجد میں ایک ذاکر مولانا عماد الدین بخاری رہتے تھے جو نہایت صالح اور نیک مرد تھے۔ یہ حکایت میں نے ان سے سنی کہ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دوزخ کے بارے میں فرمایا کہ اے موسیٰ! میں نے دوزخ میں ایک وادی ‘‘ہاوِیہ‘‘ پیدا کی ہے جو ساتواں دوزخ ہے اور سب سے زیادہ خوف ناک و سیاہ ہے۔ اس کی آگ بھی سیاہ اور نہایت سخت ہے اس میں سانپ بچھو بہ کثرت ہیں۔ وہ ایسے گندھک کے پتھروں سے ہر روز تپایا جاتا ہے کہ اس گندھک کا ایک قطرہ دنیا میں آجائے تو تمام پانی ہی خشک ہو جائے اور تمام پہاڑ اس کی تیزی سے گل جائیں اور اس کی گرمی سے زمین پھٹ جائے۔ اے موسیٰ! ایسا عذاب دو شخصوں کے لیے بنایا ہے۔ ایک وہ جو نماز ادا نہیں کرتا، دوسرے وہ جو میرے نام کی جھوٹی قسم کھاتا ہے۔
سچی قسم کا کفارہ: پھر فرمایا: ایک بزرگ خواجہ محمد اسلم طوسی نے ایک مرتبہ کسی کام کی خاطر سچی قسم کھائی۔ اس وقت وہ حالت سکر (مدہوشی) میں تھے، جب حالت صحو (ہوش) میں آئے، پوچھا، کیا آج میں نے قسم کھائی ہے؟ کہا گیا، ہاں۔ فرمایا چوں کہ آج سچی قسم کھانے پر میرے نفس نے جرأت کی ہے۔ کل جھوٹی قسم کی جرأت کرے گا۔ اس لیے بہتر ہے کہ جب تک زندہ رہوں بات ہی نہ کروں۔ اس کے بعد چالیس سال تک زندہ رہے، لیکن کسی سے کلام نہ کیا کہ یہ اس سچی قسم کا کفارہ تھا جو انہوں نے ایک مرتبہ کھائی۔ اس کے بعد کسی نے پوچھا کہ اگر ان کو ضرورت پڑتی تو کیا کرتے تھے۔ فرمایا: اشاروں سے کام لیتے تھے۔ (دلیل العارفین مجلس سوم)
اس سے جھوٹی قسم کھانے والے سبق لیں جو بلا تکلف جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور خدا کا کچھ بھی خوف نہیں کرتے!۔
اس کے علاوہ اور بھی واقعات ہیں جنہیں اختصار کے پیش نظر ترک کیا جا رہا ہے۔ ان کے علاوہ حضور سیدنا خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ زیر زمین آرام فرما بزرگوں کی زیارت سے بھی مشرف ہوتے رہے۔ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری (مصنف کشف المحجوب) کے آستانے پر لاہور شریف حاضری دی۔ شیخ ابویوسف ہمدانی (م: ۵۳۵ھ) حضرت شیخ ابوالحسن خرقانی م: ۴۲۵ھ) اور حضرت شیخ عبداللہ انصاری (م: ۴۸۱ھ) کے مزارات پر حاضری دی، مراقبہ کیا، فیوض و برکات حاصل کیے۔ سیر العارفین میں لکھا ہے جب حضرت شیخ عبداللہ انصاری کے مزار پر شب بیداری کرتے تو عشا کے وضو سے فجر کی نماز ادا فرماتے۔
یہ واقعات اور ارشادات ان عقیدت مندانِ خواجہ غریب نواز کے لیے درسِ عبرت ہیں جو صرف خواجہ کا دم بھرتے ہیں مگر عمل کے میدان میں کورے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوبوں اور مقبولوں کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کے احوال و اقوال سے عبرت لینے کی توفیق دے، آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دین کی تبلیغ میں سلطان الہند کا داعیانہ پہلو

تحریر: سبطین رضا مصباحیکشن گنج بہارریسرچ اسکالر البرکات انسی ٹیوٹ علی گڑھ اسلام کی تبلیغ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے