حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللّٰہ علیہ: شخصیت،افکار و تعلیمات

ازقلم: جمال احمد صدیقی اشرفی القادری شل پھاٹا، ممبرا

سرزمینِ ہند میں جہاں ہزارہا برس سے معبودانِ باطلہ کی پرستش کی جاتی تھی ۔ اس سرزمین کی ہواؤں اور فضاؤں نے اسم بارئ تعالیٰ ونام مصطفیٰ علی صاحبہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے اپنی سماعت کو بہرہ ور نہ کیا تھا ۔ جہاں ظلم واستبداد ۔ حق تلفی ۔ اور قتل وغارت گری کو عزت وشان تصور کیا جاتا تھا ۔ امام الاولیاء ۔ قدوۃ الاصفیاء ۔ غواص بحرِ معرفت ۔ سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ نے فرمان نبوی پر یہاں تشریف لاکر اس سرزمین کو انوار توحید ورسالت سے منور کیا ۔ باطل پرستی کا قلع قمع فرماکر ذرہ ذرہ کو معرفت آگاہ وحق شناس بنادیا ۔ شجر اسلام کا بیج بونے کیلئے آپ کو پرخطر حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔ آپ اور آپ کے مریدین کی مختصر جماعت کے سوا سارے دیارِ ہند میں باطل پرستوں کا شور وغلبہ تھا ۔
اس اجنبی ماحول میں آپ نے مخالفت کی ہواؤں کا جبلِ استقامت بن کر مقابلہ کیا ۔ آج کے پرفتن دور میں تعلیماتِ اسلامیہ عام کرنے اور اشاعتِ دین کے لئے نصیحت وموعظت کا اسلوب اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اسلام کا پیامِ باہم محبت والفت کا فروغ اور امن وسلامتی کی اشاعت ہے ۔ ہمیں اسلاف کرام وصالحین عظام کے اسلوبِ تبليغ کو اپنانا چاہئے ۔ خواجۂ ہند حضور سید غریب نواز رحمۃ اللّٰہ علیہ جنہوں نے ہندوستان میں شمعِ اسلام کو روشن کیا اور اسلام کے پیغام کو عام کیا جب ہندوستان تشریف لائے تو اپنے ساتھ لشکرِ جرار ۔ تیروتلوار لے کر نہیں آئے بلکہ اخلاقِ احمد مختار ﷺ ۔ بلند کردار اور اسلامی اقدار لےکر آئے ۔ حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللّٰہ علیہ آیاتِ قرآنیہ ۔ احادیثِ نبویہ اور بزرگانِ دین کے اقوال واعمال کا ذکر فرماکر لوگوں کی اصلاح فرماتے ۔ حاضرین اپنی اپنی استعداد کے مطابق مستفیض ہوتے ۔ آپ کی مبارک مجالس میں شریعت وطریقت اور حقیقت ومعرفت کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا جاتا اور فرائض وسنت کی ادائیگی ۔ ریاضت ومجاہدہ ۔ پاکیزگی وخلوص ۔ طہارت ونفاست ۔ صدق وصفا ۔ خوفِ خدا ۔ اور مخلوقِ خدا کی خدمت کی تعلیم دی جاتی ۔
ولادتِ باسعادت ! خواجۂ خواجگاں سلطان الہند حضرت خواجہ سید معین الدین حسن سنجری غریب نواز رحمۃ اللّٰہ علیہ نہایت عبادت گزار ۔ دیندار اور پرہیزگار گھرانے میں ایران کے صوبہ سجستان میں واقع قریہ سنجر میں 14 رجب المرجب 537ھ ماہِ اپریل 1143ء بروز دوشنبہ صبحِ صادق کے وقت تولد ہوئے ۔ ( معین الارواح صفحہ 36 )
والدِ گرامی کا اسم مبارک حضرت سید غیاث الدین حسن الحسینی رحمۃ اللّٰہ علیہ ہے ۔ آپ اپنے والد گرامی کے واسطہ سے حسینی ہیں ۔ اور بذریعہ والدہ محترمہ رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہما حسنی سادات سے ہیں ۔ سلسلہ پدری بارہ واسطوں اور سلسلہ مادری گیارہ واسطوں سے حضرت مولائے کائنات سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ سے جاملتا ہے ۔ ( از اقتباس الانوار ص 346 )
علومِ ظاہری میں کمال : حضرتِ سیدنا خواجہ غریب
نواز رحمۃ اللّٰہ علیہ پندرہ سال کی عمر مبارک کو پہنچے کہ والد ماجد کا وصالِ پرملال ہوگیا ۔ دوسرا قول پندرہ سال سے کم عمر کا بھی ہے ۔ دوسال بعد والدہ ماجدہ کا بھی وصالِ پرملال ہوگیا ۔ ترکہ میں ایک باغ تھا ۔ آپ عبادت واذکار میں مشغول رہتے ہوئے باغبانی کیا کرتے ۔ لیکن جب آپ کو حضرتِ ابراہیم قندوزی رحمۃ اللہ علیہ سے نعمت ملی تو آپ کو مزید طلبِ علم وکمال کا اشتیاق ہوا ۔ اور آپ علومِ ظاہری میں کمال حاصل کرنے کے لئے نیشاپور تشریف لے گئے اور اعلیٰ علوم حاصل کرکے ایسے باکمال ہوگئے کہ وقت کے مشہور عالم آپ کی خدمت میں اپنے اشکالات وسوالات پیش کرتے اور آپ انہیں اشکالات کے حل بتلاتے اور سوالات کے تشفی بخش جوابات دیتے ۔ ( از مراة الاسرار ۔ طبقہ 17 صفحہ 593 )
طلب حق کے لئے سفر : حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللّٰہ علیہ کو والدِ گرامی سے وراثت میں جو باغ ملا تھا آپ نے اسے فروخت کردیا اور اس سے حاصل والی رقم کو راہِ خدا میں خرچ کرکے علم وعرفان کی پیاس بجھانے کیلئے رختِ سفر باندھا ۔ مختلف شہروں میں مدت تک قیام کیا ۔ سمرقند ۔ بخارا ۔ عرب وعراق کا سفر کرتے ہوئے سنجان پہنچے جہاں آپ نے خواجہ نجم الدین کبریٰ رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کی ۔ پھر بغداد میں حضرت ابونجیب ضیاء الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اور ہمدان میں خواجہ ابو یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ محافل گرم رہیں ۔ تلاشِ حق وطلب معرفت نے آپ کو قصبہ ہارون میں حضرت خواجہ سید عثمان ہارونی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے در تک پہنچا دیا ۔ ابتداء میں ڈھائی سال تک مسلسل پیرطریقت کی صحبت اختیار کرکے ریاضت ومجاہدہ کےبعد مرتبہ کمال کو پہنچے ۔ ( مشکوٰۃ النبوۃ جلد 4 ۔ صفحہ 100 ) بعد ازاں بیس سال سفر وحضر ۔ جلوت وخلوت میں آپ نے اپنے پیرومرشد کی خدمت انجام دی ۔ جب آپ کی عمر شریف 52 سال ہوئی تو حضرت خواجہ سید عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ بلا طلب خرقہ خلافت عطا فرمایا ۔ ( مشکوٰۃ النبوۃ ج 4 ۔ صفحہ 101 )
اکتسابِ فیض کا یہ سلسلہ جاری رہا اور آپ نے اپنے بحرِ معرفت کو مزید موجزن کرنے کے لئے بارگاہِ غوثیت سے باریاب ہوئے ۔ چنانچہ حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ ہندوستان تشریف لانے سے پہلے پانچ ماہ سات دن حضور سیدنا غوث اعظم دستگیر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہ کر اکتسابِ فیض کیا ۔ ( مراةالاسرارصفحہ 594 )
دربارِ نبوی سے قطب المشائخ کا لقب : خواجۂ خواجگاں ۔ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیرومرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کے ہمراہ حج بیت اللہ اور زیارتِ روضۂ اطہر کے لئے حرمین شریفین کا سفر کیا ۔ مکہ معظمہ تشریف لائے اور حضرت کے حق میں دعا کی ۔ غیب سے آواز آئی کہ ہم نے معین الدین حسن سنجری کو قبول کیا ۔ وہاں سے روانہ ہوکر مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور جب حضور نبی کریم ﷺ کے روضۂ مبارک پر پہنچے تو حضرت پیرومرشد نے آپ سے فرمایا کہ سلام عرض کرو ! سرکار غریب نواز نے سلام عرض کیا ۔ روضۂ مبارک سے آواز آئی وعلیکم السلام یاقطب المشائخ ۔ اےبروبحر کے قطب تم پر بھی ہمارا سلام ہو ۔ اس بشارت پر پیرومرشد نے ارشاد فرمایا کہ آپ کا معاملہ درجہ کمال کا پہنچا ۔( حیات خواجہ غریب نواز صفحہ 20 / 21 )
صاحبِ خزینةالاصفیا تحریر فرماتے ہیں کہ جب حضرت خواجہ غریب نواز قدس اللّٰہ سرہ اپنے پیرروشن ضمیر سے اجازت حاصل کرکے رخصت ہوئے ۔ اور اطراف عالم میں سفر فرماتے ہوئے دردمندوں کی چارہ سازی ۔ تشنگانِ علوم ومعرفت کی سیرابی فرماتے رہے ۔ جہاں آپ کی شہرت ہوجاتی وہاں سے چھپ کر چلے جاتے ۔ اس طرح تھوڑے دنوں میں آپ کعبہ شریف تشریف لے گئے اور وہاں سے مدینہ منورہ میں حاضر ہوکر روضۂ مقدسہ کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔ ایک دن جب آپ روضۂ مقدسہ حاضر ہوئے اس وقت آپ کا عجب حال تھا نالاں وگریاں صلوٰۃ وسلام پڑھتے ہوئے نہایت مودب دست بستہ کھڑے تھے ۔ کہ روضۂ مقدسہ سے ندا آئی اے قطب المشائخ قریب آیئے ۔ آپ بحالتِ وجد اندر حاضر ہوئے اور جمال جہاں آرائے سرورِ کائنات ۔ فخرموجودات ۔ رحمۃ للعالمین ۔ محبوبِ خدا ۔ احمد مجتبیٰ ۔ محمد مصطفیٰ ﷺ سے مشرف ہوئے ۔ ارشاد ہوا کہ معین الدین ! آپ خاص ہمارے معین ہیں آپ پر لازم ہے کہ ہندوستان کی طرف جائیں اور وہاں ایک شہر اجمیر ہے آپ کے سبب سے وہاں پر اسلام کی شمع روشن ہوگی ۔ آپ نے عرض کیا کہ ارشادِ عالی کی تعمیل کے لئے بسروچشم حاضر ہوں مگر ہندوستان واجمیر سے ناواقف ہوں ۔ کس طرف جاؤں ؟ چنانچہ حضور سرورِ عالم رسول مکرّم ﷺ نے ہندوستان اور شہر اجمیر کی طرف رہنمائی فرمائی ۔ حضورِ اکرم ﷺ کے حسبِ ارشاد آپ نے اقلیمِ ہند کی طرف چالیس مریدین ووابستگان کےساتھ مراجعت فرمائی ۔ ( حیاتِ خواجہ غریب نواز ص 29 )
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ہندوستان میں آمد سے قبل مسلمان یہاں دو راہوں سے داخل ہوئے ۔ دوسری صدی ہجری کے آغاز میں کاروانِ امن کے سترہ سالہ سپہ سالار حضرت محمد بن قاسم ثقفی کی قیادت میں ایک لشکرِ جرار سندھ پر جوابی کارروائی کے لئے حملہ آور ہوا ۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ سیلون کے حکمران کی جانب سے بھیجے گئے تحائف کو سندھ والوں نے لوٹ لیا تھا ۔ پھر تین سو سال بعد تقریباً 1000ء میں سلطان محمود غزنوی نے کاروانِ امن کا رخ ہندوستان کی طرف کیا ۔ اس طرح دیارِ ہند میں اسلام کی آمد ہوچکی تھی ۔ مگر محدود ومختصر آبادی اس دین سے واقف نہ تھی ۔ ( ملخص ازمسلمانوں کے عظیم فرمانروا صفحہ 190 )
ارضِ ہند کی دوسری جانب جنوبی ساحلی علاقہ میں خلفاء راشدین کے دور سے ہی صحابہ کرام وتابعین عظام کا ورود مسعود ازراہِ تجارت ہوتا رہا ۔ ان حضرات کی آمد سے ساحلی علاقہ میں یقیناً اذانیں بلند ہوتی رہیں اور وحدانیت کے پرستاروں کا ازدہام بھی ہونے لگا ۔ سلطان الہند غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کو حق تعالیٰ نے اس عظیم کارنامہ کے لئے منتخب فرمایا کہ آپ کی قوتِ روحانی وجہد مسلسل سے ملک کے دشت ودریا اور قرب وجوانب میں ایمان واسلام کی بہار چھاگئی ۔ حضور سیدنا غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی تشریف آوری سے پہلے دیارِ ہند میں اسلام آیا ضرور تھا ۔ مگر خاطر خواہ پھیلا نہیں تھا اور آپ کی وجودِ مسعود کی برکت سے دیارِ ہند میں ہرطرف اسلام کا اجالا پھیل گیا ۔ سلطان الہند کا ہندوستان میں ورود ۔ تاریخِ ہند پر لکھی گئی مستند وقابل اعتبار کتابوں سے ثابت ہے کہ دیارِ ہند میں یہ اسلامی بہار ۔ اللّٰہ اکبر کی گونج ۔ شعائر اسلام کی تابندگی ۔ ایمان والوں کے قلوب میں روشن شمعوں کی نورانیت ۔ حق کی خاطر مرمٹنے کا جزبہ ۔ امن وسلامتی کی فضائیں ۔ راحت وسکون کی ہوائیں ۔ شائستہ تہذیب اور پاکیزہ تمدن کے گلستان ۔ انسانیت کی حیثیت سے بین الاقوامی محبتوں کے چمنستان ۔ غرض کہ ہرطرح کی خیر وخوبی خواجۂ خواجگاں فخر ہندوستان حضور غریب نواز قدس سرہ کی ذاتِ پاک کی برکتوں کا خلاصہ ہے اور آپ ہی کی تعلیمات کی مرہونِ منت ہے ۔ آپ کی گفتار سے لاکھوں قلوب زندہ ہوئے اور آپ کے کردار سے سرزمینِ ہند کے گوشہ گوشہ میں خوش اخلاقی وراست بازی کے سبزے لہرائے ۔
چنانچہ حضرت سلطان الہند رحمۃ اللہ علیہ غزنی سے لاہور تشریف لائے اور وہاں آپ نے حضرت خواجہ علی ہجویری داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر انوار کی زیارت کی اور دہلی کا رخ کیا ۔ اس وقت دہلی پر پرتھوی راج چوہان کا پایۂ تخت تھا ۔ پھر اس کا دارالسلطنت اجمیر بنایا گیا ۔
جب حضرتِ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی ہندوستان آمد ہوئی ۔ آپ کی استقامت کا امتحان شروع ہوگیا ۔ جب پرتھوی راج نے اپنے علاقہ میں اسلام کی روشنی دیکھی تو تاب نہ لاسکا اور اپنی کوتاہ پھونکوں سے شمعِ اسلام کو بجھانے کی ناپاک کوشش کرنے لگا ۔ وہ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے وابستگان کو ہندوستان سے رخصت کرنے کے لئے ہرطرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے لگا ۔ مصائب ومشکلات میں الجھانے کی کوشش کی ۔ جہاں کہیں آپ تشریف فرما ہوئے وہاں سے چلے جانے کے لئے زحمت دیجاتی ۔ ستم کی انتہا یہ تھی کہ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے جانثاروں کے لئے پانی پر پابندی لگادی گئی ۔ اجمیر کے تالاب اناساگر پر سپاہیوں کا پہرا لگادیا گیا ۔ گویا وہ بادشاہ آپ کے ساتھ انسانیت سوز حرکتیں کرنے کے درپے ہوگیا ۔ بلکہ اس سے بھی کم تر سلوک کرنے لگا ۔ اس کے باوجود بھی آپ کی ثابت قدمی میں رمق برابر فرق نہ آیا ۔ آپ اشاعتِ دینِ متین کے لئے مکمّل کمربستہ رہے اور کبھی اپنے پائے استقلال کو ڈگمگانے نہیں دیا ۔
ایک مرتبہ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خادم اناساگر سے وضو کے لیے پانی لینے گئے تو وہاں خلافِ معمول راجہ کے سپاہی پہرہ دے رہے تھے ۔ جب خادم نے گھڑے میں پانی بھرنا چاہا تو سپاہیوں نے سختی سے منع کردیا اور کہا ۔ کہ اب تم اس پانی کو نہیں چھوسکتے ہو ۔ تالاب کے پانی کو گندہ مت کرو ۔ خادم نےکہا کہ پانی تو جانوروں پر بھی بند نہیں کیا جاتا ۔ ہم تو انسان ہیں ۔ اس پر سپاہیوں نے کہا کہ تم حیوانوں سے بھی بدتر ہو ۔
خادم نے آکر جب سرکار غریب نواز کو سارا ماجرا سنایا تو آپ نے فرمایا کہ سپاہیوں سے کہو کہ اس مرتبہ ایک گھڑا پانی لینے دو ۔ پھر ہم اپنا کوئی اور انتظام کرلیں گے ۔ آپ کے حکم پر جب خادم دوبارہ تالاب پر پانی لینے گیا تو سپاہیوں نے تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ آج گھڑا بھرلو ۔ اس کے بعد تمہیں یہاں سے پانی لینے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ چنانچہ خادم نے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے حکم کے مطابق وہ گھڑا بھر لیا ۔
راجپوت سپاہیوں کے ساتھ ساتھ مسلمان خادم پر بھی حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے ۔ وہ یہ دیکھ کر تعجّب میں پڑگئے کہ اناساگر تالاب کا سارا پانی ایک چھوٹے سے برتن میں سمٹ کر آگیا ۔ جس تالاب کے پانی پر سپاہی تکبّر کررہے تھے وہ پانی سے خالی ہو چکا تھا ۔ اس قوم کے نزدیک یہ جادوگری کا ایک عظیم الشان مظاہرہ تھا ۔ یہ دیکھ کر راجپوت سپاہی وہاں سے خوفزدہ ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ آپ کے خادم بھی حضرت کے خدمت میں واپس آئے اور آپ کو سارا واقعہ سنایا ۔ پورے شہر اجمیر میں ہنگامہ برپا تھا ۔ اناساگر تالاب کے خشک ہونے کی خبر سب کے لئے حیران کن تھی ۔ پرتھوی راج مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو ہرصورت میں روکنا چاہتا تھا ۔ مشیروں نے اسے مشورہ دیا کہ اس مسلمان فقیر کا مقابلہ ہندو جادوگر ہی کرسکتے ہیں ۔ لیکن اس سے پہلے شہر اجمیر کے چند معززین اناساگر تالاب کی سابقہ پوزیشن بحال کرنے کی استدعا لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اگر تالاب کا پانی اسی طرح خشک رہا تو بہت سارے انسان پانی کے بغیر مرجائیں گے ۔ چنانچہ آپ نے اسلام کی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا : یہ تو حق کے نافرمانوں کیلئے ایک چھوٹی سی جھلک ہے ۔ ورنہ ہمارا مذہب تو کسی کتے کو بھی پیاس سے تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا ۔ یہ فرماکر آپ نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ برتن کا پانی تالاب میں واپس ڈال دیا جائے ۔ جب گھڑے کا پانی آپ کے حکم سے تالاب میں ڈالا گیا تو لوگ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ تالاب ایک بار پھر پانی سے لبالب اور بھرا ہوا ہے ۔ بت پرستوں اور پرتھوی راج کے لئے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی جانب سے یہ ایک بہت بڑا پیغام تھا ۔ جسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے بجائے وہ سرکشی پر اتر آیا ۔ اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف سازشیں رچنے لگا ۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کی خدمت میں رہنے والے درویشوں پر زیادتیاں کرنے لگا ۔ پھر جب سارباں آئے اور حضرت خواجہ صاحب کو وہاں بیٹھے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہاں سے اٹھو ۔ یہاں راجہ کے اونٹ بیٹھتے ہیں لیکن اس کی بات کی طرف کسی نے توجہ نہ کی ۔ جب اس نے شدّت اختیار کی تو حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ۔ اچھا ہم جاتے ہیں ۔ تمہارے اونٹ یہاں بیٹھیں ۔ یہ کہہ کر آپ وہاں سے اٹھے اور جھیل اناساگر کے کنارہ پر آکر قیام فرمایا ۔ یہ بہت ہی صاف وستھرا اور خوبصورت منظر تھا جو حضرت خواجۂ خواجگاں رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو بہت پسند آیا ۔ آپ وہاں بیٹھ کر عبادت میں مشغول ہوگئے ۔ جب راجہ کے اونٹ وہاں جا کر بیٹھے تو حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت سے وہ ایسے بیٹھے کہ اٹھ نہیں سکتے تھے ۔ ساربانوں نے یہ ماجرا جاکر راجہ کے سامنے بیان کیا ۔ راجہ نےکہا اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ تم اس درویش کے پاس جاکر معافی مانگو ۔ ساربانوں نے جب حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر معافی طلب کی تو آپ نے فرمایا ۔ تمہارے اونٹ اٹھ کھڑے ہیں ۔ جب ساربان وہاں گئے تو دیکھا کہ اونٹ کھڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے راجہ کے پاس جاکر واقعہ بیان کیا تو وہ خوفزدہ وحیرت زدہ ہوا ۔ (الاقتباس الانوار ص 362 )
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اجیپال سے فرمایا ۔ جو کچھ مانگتے ہو مانگو ! انہوں نے عرض کیا کہ حضور جو مراتب سالکین کو طویل مجاہدات سے حاصل ہوتے ہیں مجھے عنایت فرمادیں ۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے جب ان کی آہ وزاری دیکھی تو ان کی درخواست قبول فرمائی اور اپنا سر نیچے کئے ہوئے مراقب ہوگئے ۔ کچھ دیر کے بعد سراٹھاکر ان کی طرف نگاہ فرمائی اور باطنی توجہ سے نوازا ۔ جس کی وجہ سے ان کے سامنے ظاہری دنیا گم ہوگئی اور اس نے عالمِ باطن میں اپنے آپ کو حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ پایا ۔ ( اقتباس الانوار صفحہ 366 )
خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے تعلیمات اسلامیہ کی ترویج واشاعت نہایت ہی خوش اسلوبی سے انجام دی ۔ آپ کے صدق وصفا کو دیکھ کر لوگ صداقت شعار وباصفا ہوئے ۔ آپ کے حلم وبردباری ۔ جودوسخاوت اور دیگر اخلاقِ عالیہ سے متاثر ہوکر لوگ عمدہ اخلاق کے حامل اور پاکیزہ صفات کے پیکر ہوگئے ۔ محض دہلی سے اجمیر تک سفر کے دوران نوےلاکھ 9000000 افراد مشرف بہ اسلام ہوئے ۔
ایک شخص آپ کی خدمت میں ارادت مند بنکر بغل میں خنجر چھپا کر حاضر ہوا اس کی نیت آپ کو نقصان پہنچانے کی تھی ۔ آپ نے فراست باطنی سے اس کا ارادہ جان لیا اور مسکراکر فرمایا ۔ درویش درویشوں کے پاس صفائی قلب کے لئے حاضر ہوتے ہیں نہ کہ ظلم کرنے کے لئے ۔ تم جس نیت سے آئے ہو وہ کام کرلو ۔ یہ سن کر اس شخص نے فوراً اپنی آستین سے ہتھیار نکال کر پھیک دیا اور توبہ کرکے آپ کا مرید صادق ہوگیا ۔ اور اسی وقت مسلمان ہوگیا ۔ یہ کرامت دیکھتے ہی بہت سے افراد مسلمان ہوگئے ۔ ( مراةالاسرار ص 596 )
آپ نے اپنے خلفاء کو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اشاعتِ اسلام کی ذمّہ داری دیکر روانہ فرمایا ۔ چنانچہ چند سالوں میں دیارِ ہند کے ہرگوشہ میں اسلام کا پیام عام ہوگیا ۔ اس سنہرے انقلاب سے متعلق سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الہٰی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرت سید محمد بن مبارک کرمانی رحمۃ اللہ علیہ ۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے اشاعتِ اسلام سے متعلق ارشاد فرماتے ہیں ۔ آپ کی اور کرامت یہ ہے کہ ہندوستان کی مملکت میں مشرق کے آخری سرے تک ہرطرف کفر وبت پرستی کا دور دورہ تھا ۔ لوگ دین اور شرائع دین سے غافل تھے ۔ خدا اور رسولِ خدا سے بےخبر تھے ۔ اہلِ یقین کے اس آفتاب عالمتاب کے قدوم میمنت لزوم سے اس سرزمین میں کفر کی تاریکیاں چھٹ گئیں اور ہرسو اسلام کا اجالا پھیل گیا ۔ آپ واقعتاً دین کے معین ہیں ۔ اس سرزمین میں جو شخص بھی مسلمان ہوا اور لوگ آئندہ مسلمان ہوتے رہیں گے تاقیامت ان کا ثواب شیخ الاسلام خواجہ معین الدین حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ کو پہنچتا رہے گا ۔ ( سیرالاولیاء 57 )
محبوبان الہٰی کی ظاہری وباطنی نگاہ سے حجابات اٹھا دیئے جاتے ہیں ۔ یہ حضرات ان امور کا مشاہدہ کرلیتے ہیں جو آئندہ زمانہ میں واقع ہونگے ۔ اور زمانۂ ماضی بھی ان سے پوشیدہ نہیں رہتا ۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نورِ فراست وباطنی نگاہ سے مشاہدہ فرما کر کئی ایک مستقبل کے واقعات کا ذکر فرمایا ۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ حضرت اوحدالدین کرمانی اور حضرت شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہما کے ساتھ تشریف فرما تھے ۔ شمس الدین التمش نامی ایک جوان لڑکا سامنے سے گزرا ۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اسے دیکھ کر فرمایا ۔ یہ لڑکا دہلی کا بادشاہ ہوگا ۔ میں نے لوحِ محفوظ میں دیکھا ہے کہ یہ لڑکا اس وقت تک اس دنیائے فانی سے رخصت نہیں ہوگا جب تک کہ وہ دہلی کا بادشاہ نہ بن جائے ۔ جس طرح حضرت نے بشارت دی تھی اسی طرح وہ بادشاہ بنا ۔ (اقتباس الانوار ۔ 377 )
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ بغداد میں قیام پزیر تھے ۔ وہاں سات آتش پرست شدید ریاضت ومجاہدہ میں مصروف تھے ۔ ایک دن وہ سات افراد حضرت خواجہ صاحب کی زیارت کے لئے آئے ۔ جب حضرت نے ان پر نگاہ ڈالی تو ان کے چہرے ہیبت سے زرد ہوگئے اور ہاتھ پاؤں میں لرزہ طاری ہوگیا ۔ اس حالت میں وہ سب حضرت کے قدموں میں آگرے ۔ آپ نے فرمایا ۔ اے دینِ حق سے دور رہنے والو ! تمہیں شرم نہیں آتی ؟ غیر خدا کی پرستش کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا ۔ ہم آگ کی اس لئے پوجا کرتے ہیں کہ کل قیامت میں ہمیں نہ جلائے ۔ آپ نے فرمایا ۔ جب تک خدائے تعالی کی عبادت نہیں کروگے آگ سے خلاصی ونجات نصیب نہ ہوگی ۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ کو آگ نہ جلائے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے ۔ آپ نے فرمایا ۔ اللّٰہ ۔ اللّٰہ ۔ آگ معین الدین کا جوتا بھی نہیں جلا سکتی ۔ وہاں آگ جل رہی تھی ۔ آپ نے اپنا جوتا آگ میں ڈال دیا اور فرمایا ۔ اے آگ ! معین الدین کے جوتے کو مت جلانا ۔ یہ کہنا ہی تھا کہ آگ ٹھنڈی ہوگئی ۔ اسی وقت غیب سے آواز آئی اور سب حاضرین نے اسے سنا کہ آتش کی کیا مجال کہ میرے دوست کا جوتا جلا سکے ۔ آتش پرستوں نے جب یہ حال دیکھا تو فوراً اسلام سے مشرف ہوگئے اور حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں رہ کر اولیاء کاملین بن گئے ۔ ( اقتباس الانوار ۔ 354 ) اخلاق وعادات ۔ تعلیمات وملفوظات ۔ فیاضی ودریادلی ۔ حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی عطاوبخشش اور فیاضی ودریا دلی کی یہ کیفیت تھی کہ کبھی کوئی سائل آپ کے در سے محروم نہ جاتا ۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ میں ایک عرصہ تک آپ کی خدمت اقدس میں حاضر رہا ۔ اس دوران کبھی کسی سائل یا فقیر کو آپ کے در سے خالی ہاتھ جاتے نہیں دیکھا ۔
آپ کے لنگر خانہ میں روزانہ اتنا کھانا تیار کیا جاتا تھا کہ شہر کے تمام غرباء ومساکین خوب سیر ہوکر کھاتے ۔ خادم حاضر بارگاہ ہوکر جب یومیہ خرچ کا مطالبہ کرتا تو آپ مصلے کا ایک گوشہ اٹھا کر فرماتے جس قدر آج کے خرچ کے لئے ضرورت ہو لے لو ۔ وہ مطلوبہ مقدار میں لےلیتا اور حسبِ معمول کھانا پکواکرغریبوں اور مسکینوں کے درمیان تقسیم کردیا کرتا ۔ اس کے علاوہ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے دربار سے درویشوں کا وظیفہ بھی مقرر تھا ۔ (سیرتِ خواجہ غریب نواز ۔ ص 264 )
حضرتِ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اپنے پڑوسیوں کے حقوق کا بڑا خیال رکھتے تھے ۔ ان کی خبر گیری فرمایا کرتے تھے ۔ اگر کسی پڑوسی کا انتقال ہوجاتا تو اس کے جنازہ کے ساتھ ضرور تشریف لے جاتے ۔ جب اس کو دفن کرنے کے بعد لوگ واپس ہوجاتے تو آپ تنہا اس کی قبر کے پاس تشریف فرما ہوکر اس کے حق میں مغفرت ونجات کی دعا فرماتے ۔ اس کے پسماندگان کو صبر کی تلقین کرتے اور انہیں تسلی وتشفی دیا کرتے ۔ (راحت القلوب بحوالہ معین الارواح ص 188 )
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ پر خوفِ خدا کا اس قدر غلبہ تھا کہ آپ ہمیشہ خشیت الہٰی سے کانپتے اور گریہ وزاری کرتے رہتے تھے ۔ آپ اس معاملہ میں فرمایا کرتے کہ ۔ اے لوگو ! اگر تم کو زیرِ خاک سوئے ہوئے لوگوں کا ذرا سا بھی حال معلوم ہوجائے تو تم مارے خوف ودہشت کے کھڑے کھڑے پگھل جاؤ اور نمک کی طرح پانی ہوجاؤ ۔
بزمِ صوفیہ میں حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہ کی محبت رسول ﷺ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے کہ حضرتِ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ تمام عمر عشقِ الہٰی میں وارفتہ وبےخود رہنے کے ساتھ محبتِ رسول ﷺ کے نشےمیں بھی سرشار رہے ۔ آپ اپنے ملفوظات میں رسول اکرم ﷺ کا ذکر مبارک بہت والہانہ انداز میں فرماتے تھے اور اکثر حدیثِ نبوی علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام بیان فرما کر رونے لگتے تھے ۔ ایک جگہ ملفوظات میں آپ نے فرمایا کہ افسوس ہے اس شخص پر جو قیامت کے دن حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں شرمندہ ہوگا ۔ اس کی جگہ کہاں ہوگی جو بارگاہِ رسالتمآب ﷺ میں شرمندہ ہوگا اور وہ کہاں جائے گا ۔ یہ فرمانے کےبعد ہائے ہائے کہہ کر روپڑے ۔ آپ کو رسولِ پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس درجہ عشق تھا کہ جب سرکارِ دوعالم ﷺ کا ذکر کرتے یا سنتے تو آپ کی آنکھیں پرنم ہوجاتیں ۔ اسی محبتِ رسول وعشق مصطفیٰ کا صلہ تھا کہ آپ کی شخصیت آفاقی ۔ شہرت ومقبولیت کی حامل ہوگئی اور پورے عالم میں آپ کا نام نامی اسم گرامی نہایت قدرومنزلت اور کمالِ احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے ۔ اور آج بھی آپ مخلوقِ خدا کے دلوں پر حکومت کررہے ہیں ۔ اور آپ کے آستانے پر شب وروز بلا تفریق مذہب وملت مسلم ۔ غیر مسلم اپنے اور بے گانے سبھی نذرانہ عقیدت اور ہدیۂ محبت پیش کرتے ہیں اور آپ کے فیض بخش دربار سے اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتیں اور دولتیں پاتے ہیں ۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے شریعت کے تمام ارکان اور ان کے جزئیات بالخصوص نماز کی پابندی پر بڑا زور دیا ۔ آپ فرماتے ہیں ۔ نماز دین کا رکن ہے ۔ اگر ستون کھڑا ہے تو گھر بھی کھڑا رہے گا اور جب ستون گرجائےگا تو گھر بھی سلامت نہیں رہے گا ۔ جس نے نماز میں لاپرواہی کی اس نے اپنے دین اور ایمان کو خراب کیا ۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے نزدیک اہلِ سلوک کے لئے ہرقسم کے صوری ومعنوی اخلاق ومحاسن سے مزیّن ہونا ضروری ہے ۔ کیونکہ آپ کے نزدیک تصوف نہ علم ہے اور نہ اسم بلکہ مشائخ کے مخصوص اخلاق کا نام ہے ۔ جو ہرلحاظ سے مکمل ہونا چاہئے ۔ صوری حیثیت سے ان اخلاق کی تکميل یہ ہے کہ سالک اپنے کردار میں شریعت کا پابند ہو ۔ جب اس سے کوئی بات خلافِ شرع سرزد نہ ہوگی تب وہ دوسرے مقام پر پہنچے گا ۔ جس کا نام طریقت ہے ۔ اور جب اس میں ثابت قدم رہے گا تو معرفت کا درجہ حاصل کرے گا ۔ اور جب اس میں پورا اترے گا تو حقیقت کا مرتبہ پائے گا اس کے بعد وہ جو کچھ طلب کرے گا اس کو ملے گا ۔
نماز کی اہمیت کو آشکار کرتے ہوئے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ۔ میرا گزر شام کے قریب ایک شہر سے ہوا ۔ اس شہر کے باہر ایک غار تھا ۔ جس میں ایک بزرگ سکونت پزیر تھے ۔ خوفِ خدا اور خشیت الہٰی سے ان کے بدن کا گوشت پوست سب پگھل گیا تھا ۔ پورے جسم پر صرف ہڈیاں ہی رہ گئی تھیں ۔ ایک مصلیٰ پر تشریف فرما تھے ۔ میں ادب سے قریب جاکر بیٹھ گیا ۔ اس بزرگ نے دریافت فرمایا ۔ کہاں سے آئے ہو ؟ میں نے جواب دیا ۔ بغداد سے حاضر ہوا ہوں ۔ انھوں نے فرمایا ۔ خوب آئے ۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ درویشوں کی خدمت کرتے رہو تاکہ تم کو ذوقِ درویشی حاصل ہو ۔ مجھے اس غار میں رہتے ہوئے کئی برس گزر گئے ۔ پوری دنیا سے علحیدگی اختیار کرکے اس غار میں چھپا بیٹھا ہوں ۔ ایک بات سے ایسا ڈرتا ہوں کہ رات دن روتے گزر جاتے ہیں ۔ میں نے پوچھا کہ حضرت وہ کون سی بات ہے ؟ انہوں نے فرمایا ۔ نماز ہے ۔ جس وقت نماز ادا کرتا ہوں مجھے خوف ہوتا ہے کہ کہیں کوئی فروگزاشت نہ ہوگئی ہو اور میری ساری محنت اکارت ہوکر یہی نماز موجبِ عتاب خداوندی نہ ہوجائے ۔ ( دلیل العارفین دوم بحوالہ بزمِ صوفیہ صفحہ 76 )
جس طرح حدیثِ پاک میں نماز کو مؤمنوں کی معراج بتایا گیا ہے اسی کی روشنی میں حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ۔ جب مومن نماز پڑھے تو اس طرح کہ گویا انوار وتجلیات کا مشاہدہ کررہا ہے ۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نماز کے ساتھ روزہ اور حج کی بھی بڑی تاکید فرمایا کرتے اور آپ خود صائم الدہر ( ہمیشہ روزہ دار ) رہے اور آپ نے خانہ کعبہ کی زیارت بھی بکثرت کی ہے ۔ ( سیرت خواجہ غریب نواز صفحہ 263 تا 274)
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا مشن دینِ حق کی روشنی پھیلانا اور گم گشتہ راہِ ہدایت افراد کو صراطِ مستقیم کی دعوت دینا ۔ طالبان معرفت کو سلوک وتصوف کے منازل طے کرانا ۔ دلوں کے زنگ دور کرنا اور تزکیہ نفس کی تلقین فرمانا تھا ۔ چنانچہ آپ کی مجالس رشدوہدایت ۔ تعلیم وتلقین ۔ تربیت اخلاق ۔ اور تہذیب نفس کی درسگاہ ہوا کرتی تھیں ۔ خاص خاص موقعوں پر حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے جو ملفوظات وہدایات فرمائیں آپ کے خلیفہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے دلیل العارفین میں بعض مجلسوں کے ارشادات کو جمع فرمایا ۔ یہ کتاب آج بھی رشدوہدایت کا سرچشمہ ہے ۔
حضرت خواجۂ خواجگاں سیدنا غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی مساعی جمیلہ اور استقامت کی برکت سے ظلمت کدہ کفر ۔ انوارِ توحید ورسالت سے جگمگانے لگا ۔ آپ نے تمام مخلوقِ خدا پر شفقت ومحبت ۔ رافت ورحمت کے پھول برسائے ۔ آپ محبتِ خدا اور رسول کا درس دیتے رہے ۔ جب سفرِ آخرت کا وقت آیا تو چند اولیاء اللہ نے حضور اکرم نورِ مجسم ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ ارشاد فرمارہے ہیں ۔ اللّٰہ کے دوست معین الدین چشتی آرہے ہیں ۔ ہم ان کے استقبال کیلئے آئے ہیں ۔ وصال کے وقت آپ کی جبین اقدس پر نورانی تحریر جگمگا رہی تھی ۔ حبیب اللّٰہ مات فی حب اللّٰہ ۔ یہ اللّٰہ کے محبوب ہیں جو محبتِ الہٰی میں وصال کرگئے ۔
آپ کی ذاتِ مبارکہ سے بلا لحاظ مذہب وملت سبھی اکتسابِ فیوض وبرکات کیا کرتے ہیں ۔ آپ کا وصال مبارک 6 رجب المرجب 627ھ مطابق 21 مئی 1230ء بروز دوشنبہ ہوا ۔
فنا کے بعد بھی باقی ہے شانِ رہبری تیری ۔
خدا کی رحمتیں ہوں اے امیر کارواں تم پر

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دین کی تبلیغ میں سلطان الہند کا داعیانہ پہلو

تحریر: سبطین رضا مصباحیکشن گنج بہارریسرچ اسکالر البرکات انسی ٹیوٹ علی گڑھ اسلام کی تبلیغ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے