تعلیمات غریب نواز کا مختصر تجزیہ

تحریر :محمد اورنگ زیب مصباحی
گڑھوا جھارکھنڈ (رکن :مجلس علمائے جھارکھنڈ)

اللہ رب العزت کا بندوں پر فضل و احسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے ہر زمانے میں کسی نہ کسی کو ضرور بھیجتا ہے اولین زمانہ میں انبیاء کرام لوگوں کو سیدھی راہ پر لانے کے لیے بھیجے جاتے تھے مگر چونکہ ہادی عالم رحمۃ اللعالمین حضور مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر نبوت کا دروازہ بند ہو گیا ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اس لیے رب کائنات اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے مجددین، اولیاء،علماء،صلحاء اور متقین کو بھیجتا ہے تاکہ وہ صراط مستقیم سے بھٹکے ہوؤں کو سیدھے راہ پر چلائیں اور انہوں نے اس کارخیر کو بخوبی انجام دیا اور ابھی بھی دے رہے ہیں اور قیامت تک انجام دیں گے۔ انہیں مخصوص و محبوب بندوں میں سے ایک نام حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین حسن اجمیری کا بھی ہے ، جنہوں نے دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ اپنے پاکیزہ کردار کے ذریعے اخوت و بھائی چارہ ، باہمی رواداری، ضبط نفس کا پیغام بھی دیا، وہ مخلوق خدا کی تربیت کی ذمہ داری کو بھی بخوبی نبھایا ، ہندوستان میں 80% فیصد مسلمان حضرت خواجہ غریب نواز نواز کی دعوت و ارشاد اور پاکیزہ اعمال کا ہی نتیجہ ہیں۔
مختصر حالات زندگی
حضرت خواجہ غریب نواز کی ولادت 536ھ مطابق 1141ء سجستان یا سیستان (موجودہ ایران) میں ہوئی، 15 سال کی عمر میں ہی آپ کے سر سے والد محترم کا سایہ اٹھ گیا ، ترکہ میں ایک باغ ملا جس کی نگرانی آپ کیا کرتے تھے اچانک ایک مجذوب صفت بزرگ ابراہیم قندوزی باغ میں آئے آپ نے انتہائی عقیدت سے ان کی دست بوسی کی اور آپ کی خدمت میں انگور کا خوشہ پیش کیا اور دو زانو بیٹھ گئے لیکن انہوں نے انگور نہیں کھایا البتہ ایک کھلی کے ٹکڑے کو دانتوں سے چبا کر خواجہ غریب نواز کے منہ میں ڈال دیا ، کھلی کا کھانا تھا کہ حضرت کا دل نور الہی سے منور ہو گیا (سیر العارفین)
اس کے بعد ہی آپ نے دنیا کو خیر آباد کہہ کر طلب خدا کی راہ لی پہلے بخارا و سمرقند جا کر علم ظاہر(فقہ ، تفسیر ، حدیث اور تواریخ) سے سرفراز ہوئے پھر اس کی تکمیل کے بعد علم باطن کی طرف متوجہ ہوئے اور شیخ عثمان ہارونی کی بارگاہ میں اس کی بھی تکمیل کی ، اسی طلب میں حضرت غوث اعظم شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی کی بارگاہ میں 57 روز یا پانچ مہینہ رہے اور وہاں رہ کر کسب فیض کیا (عطائے رسول سید خواجہ غریب نواز صفحہ 5 ,6 ,7)
آپ کے اخلاق حسنہ
آپ اخلاق و کردار میں نبی آخر الزماں کے اخلاق حسنہ کے نمونہ تھے، عفو و درگزر میں آپ مثالی تھے چنانچہ ایک مرتبہ ایک قاتل آپ کی بارگاہ میں قتل کے ارادے سے آیا ، آپ نے فراست ایمانی سے اسے پہچان لیا اور خوب عزت و مدارت سے بیٹھایا، خیریت دریافت کیا اور کہا کہ جس ارادہ سے آئے ہو کر گزرو گھبرانے کی ضرورت نہیں، اتنا سب دیکھ کر اس کا حال یہ ہوگیا جیسے کاٹو تو خون نہیں، بدن لرزہبراندام چھری سامنے رکھ کر عرض کیا کہ یہ میرا ارادہ نہیں تھا دشمنوں نے مجھے لالچ دے کر بھیجا تھا اب میں شرمندہ ہوں، آپ نے اسے معاف کر دیا نتیجہ وہ شخص مسلمان ہوگیا۔
سلسلہ چشتیہ کا ارتقاء ہندوستان میں
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ہندوستان میں سلطان الاولیاء اور سلسلہ چشتیہ کے بانی ہیں، یہ سلسلہ خراسان کے ایک مشہور شہر چشت سے منسوب ہے، اللہ کے محبوب بندوں نے اس شہر کو تزکیہ نفس اور اصلاح باطن کا مرکز بنایا جس کے باعث یہ سلسلہ شہر کی جانب نسبت کرتے ہوئے چشتیہ کہلانے لگا ، ہندوستان کا رخ کرنے والے سب سے پہلے چشتی بزرگ حضرت خواجہ ابو محمد چشتی تھے لیکن اس سرزمین پر اس سلسلہ کو پروان چڑھانے اور پھیلانے کا سہرا خواجہ معین الدین ہی کے سر ہے کہ آج اجمیر اسلامی تعلیمات کی آماجگاہ بن گیا۔
آپ کی تعلیمات
خواجہ پاک کا مشن اسلام کے پیغام کو عام کرنا ، ہدایت کے نور کو پھیلا کر کفر و شرک کی تاریکی کو مٹانا تھا اور آپ اس مشن میں درس ایمانی ، طرز عمل، زہدوتقوی ، اتباع سنت اور اپنے حیران کن کرامات کے ذریعے بخوبی کامیاب ہوئے۔
آپ کی تعلیمات ہی کا نتیجہ تھا جو ہندوستان میں مختلف مسلم بادشاہوں کو فتح و نصرت حاصل ہوئی اور ہندوستان میں مسلمان عروج پر فائز ہوئے تھے مگر آپ کی تعلیمات سے جیسے جیسے مسلمان دور ہوتے گئے اور عیاشیوں میں مست ہوتے گئے، اغیار ہم پر غالب ہوتے گئے اور ہم میں اختلاف کا شعلہ بھڑکا کر انگریز ہم پر غالب آئے اور اسی اختلاف کا فائدہ اٹھا کر آزادی کے بعد مشرکین اپنی کامیابی کی جانب گامزن ہیں، ہمیں ضرورت ہے کہ خواجہ غریب نواز کی تعلیمات کو عام کریں اور بڑے منصب پر جو کم پڑھے لکھے بھولے بھالے بیٹھے ہیں ان میں علم کا نور پھونک کر ہندوستان میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی نئی کرن پیدا کریں، کامیابی کا واحد راستہ یہی نظر آتی ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دین کی تبلیغ میں سلطان الہند کا داعیانہ پہلو

تحریر: سبطین رضا مصباحیکشن گنج بہارریسرچ اسکالر البرکات انسی ٹیوٹ علی گڑھ اسلام کی تبلیغ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے