عالم با عمل، طبیب القلوب، مسیحاے وقت اور رشد و ہدایت کے مینار تھے غریب نواز

تحریر: شہادت حسین فیضی، کوڈرما جھارکھنڈ

حضرت خواجہ معین الدین چشتی سنجری سیستانی رحمة الله عليه 534ھ بمطابق 1139 عیسوی کو پیدا ہوے۔ چار سال کی عمر میں گھر پہ ہی ابتدائی تعلیم شروع کی۔ 10 سال کی عمر میں مدرسہ نیشاپور میں داخلہ لیا۔ ابھی پانچ سال ہی تعلیم حاصل کر پائے تھے کہ نیشاپور میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ اسی درمیان ان کے والد گرامی حضرت سید غیاث الدین رحمة الله عليه جو اس وقت بغداد میں تھے 549ھ میں وصال فرماگئے۔ ان کا مزار بغداد میں دروازۂ شام کے قریب ہے۔ نیشاپور کی تباہی سے تو پریشان تھے ہی کہ والد گرامی کے وصال کی خبر ملی۔ اس سے گھبرا کر وہ نیشا پور چھوڑ کر اپنی والدہ ماجدہ کے پاس آگئے۔ اور پھر 550ھ میں ان کی والدہ کا بھی وصال ہوگیا۔ اس کے بعد آپ ورثہ میں ملی پن چکی اور باغ کے دیکھ بھال میں مصروف ہوگئے۔ خاندانی تعلیم و تربیت سے آراستہ و پیراستہ سترہ (17) سالہ طالب علم حالات سے مجبور ہوکر کاشتکاری اور باغبانی میں مصروف تھا،کہ ایک دن اچانک ان کے پاس حضرت ابراہیم قندوزی رحمة الله عليه تشریف لائے۔ حضرت خواجہ غریب نواز نے نہایت ہی ادب و احترام کے ساتھ انہیں بٹھایااور پانی وانگور کا خوشہ پیش کیا۔انھوں نے اسے تناول فرما نے کے بعد اپنی زنبیل سے کھجور نکالا، منہ سے لگایا اور پھر خواجہ غریب نواز کو کھانے کے لیے دیا۔ جسے کھانے کے بعد ان کے اندر ایک انقلاب برپا ہوا اور وہ پن چکی اور باغ فروخت کر کے حصول علم کے لیے پہلے 552ھ میں نیشاپور اورپھر 554ھ میں بخارا پہنچے جہاں حضرت حسام الدین بخاری رحمة اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوے۔اور تعلیم کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا۔ فارسی ان کی مادری زبان تھی اور عربی خاندانی زبان۔ اس لیے انہیں عربی و فارسی زبان و ادب میں تو ملکہ تھا ہی تفسیر قرآن وحدیث اور فقہ میں بھی جلد ہی کمال حاصل کرلیا۔ انھوں نے اس زمانے کے چوٹی کے علماء، فقہاء، محدثین اور مفسرین کی بارگاہ میں حاضر ہوکر شرف تلمذ حاصل کیا۔ اور بالآخر 557 ھ میں حضرت عثمان ہارونی کی بارگاہ میں حاضر ہوکر خود سپرد ہوگئے۔ اور مسلسل تقریبا 20 سال تک ان کی خدمت میں رہ کر شریعت و طریقت سیکھتے رہے۔ اور اپنے مرشد کی نگرانی میں عملی تربیت حاصل کیا۔ اس درمیان انھوں نے اپنے مرشد کی اجازت سے صرف دوسفر کیے، جس میں پہلا 561ھ میں حضرت غوث اعظم کی قدم بوسی سے مستفیض ہوئے۔
اس طرح جب ان کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہوگئی تب وہ ایک عالم باعمل بنے۔ جس کے بارے میں قرآن مقدس میں ہےکہ بے شک بندوں میں سے وہ لوگ اللہ تعالی سے زیادہ ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں(الفاطر:آية٢٨)
قرآن و حدیث میں علماء کرام کی بہت سی فضیلتیں بیان ہوئی ہیں اور یہ سب فضیلتیں ان علماء کرام کے لیے ہیں جنھوں نے قرآن و حدیث کا علم حاصل کیا اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزاری۔
ورنہ علم بدون عمل کا کوئی فائدہ نہیں:
علم چنداں کہ بیشتر خوانی
چوں عمل در تو نیست نادانی
ایسے بے عمل عالموں کے لیے قرآن مقدس میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔
امام بیہقی شعب الإيمان میں روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ لوگوں پہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ حقیقی اسلام (لوگوں میں) باقی نہیں ہوگا مگر صرف اس کا نام ہوگا۔ اور قرآن میں سے بھی کچھ باقی نہیں رہے گا( یعنی مقصد قرآن جو سمجھنا اور عمل کرنا تھا) بلکہ صرف اس کا رسم الخط باقی رہے گا۔( یعنی رسم الخط دیکھ کر صرف پڑھنا ہے، نہ سمجھنا ہے اور نہ ہی عمل کرنا ہے)۔ مسجد یں آباد ہوں گی،مگر ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے سب سے زیادہ برے لوگ ہوں گے۔ انہیں سے فتنے اٹھیں گے اور انہیں کی طرف لوٹیں گے۔(شعب الإيمان:ج ٣، ص ٣١٧)
اور ابن عدی نے الکامل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے۔ "السنة فيهم بدعة والبدعة فيهم سنة” یعنی "سنت کو بدعت کی طرح لوگ چھوڑیں گے اور بدعت پر سنت کی طرح اصرار کے ساتھ عمل کریں گے”۔(الکامل:ج٤،ص٢٢٧)
آج اس کی مثالیں ہماری زندگی میں عام ہیں۔
الفاظ کی کچھ تبدیلی کے ساتھ کچھ اور ائمۂ حدیث نے اس کی روایت کی ہے جبکہ کچھ محدثین نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔ تاہم مفہوم کے اعتبار سے یہ حدیث موجودہ زمانے کے اکثر علمائے کرام پر منطبق ہوتی ہے کہ ان کی زندگی زہد و تقوی سے خالی ہیں۔ ان کے زبان و قلم سے فتنہ و فساد ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اور وہ سنتوں کے تارک ہیں اور بدعتوں پہ ان کا اصرار ہوتا ہے۔
دیلمی نے اپنی مسند میں اور ابن حجر عسقلانی نے مسند الفردوس میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔
"يأتی علی الناس زمان ھمهم بطونھم، شرفھم متاعھم، قبلتھم نساؤھم، ودینھم دراھمهم”
ترجمہ:”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب ان کی زندگی کا اہم مقصد شکم پروری ہوگا۔ ان کے نزدیک شرف وبزرگی دنیا کی دولت ہوگی۔ ان کی بیویاں ان کی آقا ہوں گی۔ اور ان کا مذہب درہم و دینار ہوں گے”.
ہمارے اندر یہ بیماریاں آچکی ہیں۔ إلاماشاء الله! اللہ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلائے۔آمین!
قرآن مقدس اور احادیث کریمہ میں جن علماء و محدثین اور فقہاء کے تعلق سے فضیلتیں بیان ہوئی ہیں اور جن کے بلندی درجات کے تذکرے ہیں غریب نواز ان میں سے ایک ہیں۔ آپ دین و سنت کے سچے عالم ہیں جنھوں نے کم و بیش 53 سال کی عمر تک شریعت و طریقت کو سیکھا۔ اپنے مرشد کامل اور علمائے حق سے علم‌ وعمل اور تربیت حاصل کی۔ مشکلات پر صبر اور آسانیوں پر شکر خدا کو اپنا شیوہ بنایا۔اور جب ان تمام امتحانات اور ابتلاء و آزمائش میں کامیاب ہوئے تو اللہ نے آپ کو ہند کی ولایت کبری دے کر 587ھ مطابق 1192ء کو سرزمین ہند کے ایک قصبہ اجمیر میں بھیجا۔ اجمیرآنے کے بعد انہوں نے کم و بیش 30 سال تک اپنے مرشد حضرت عثمان ہارونی اور غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی اور دیگر مشائخ سے جو کچھ سیکھا تھا اسے بروئے کار لا کر دین و سنت کی تبلیغ شروع کی۔ اس شان کے ساتھ کہ جو بھی ان کے قریب آتا حسن اخلاق سے متأثر ہوکر آپ کا سچا مرید بن جاتا اور آپ مشکاة نبوت سے اس کے دل کی تاریک دنیا روشن کردیتے۔
بے شک حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کی زندگی کا ہر لمحہ ہمارے لیے بہترین مشعل راہ ہے۔ ضرورت تھی کہ ان کے نام سے منعقد محفلوں, جلسوں اور کانفرنسوں میں ان کی سیرت اور اخلاق کریمہ بیان کرکے اپنے لیے نمونہ بناتے اور قوم و ملت کو اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتے اور دنیا و آخرت کی کامیابی وکامرانی کی راہیں تلاش کرتے۔لیکن ہم نے ان کی کرامتیں بیان کرکے انہیں ایک مافوق الفطرت اور سمجھ میں نہ آنے والی شخصیت بنا کر پیش کیاہے۔ نتیجتا وہ ہمارے لیے مانگنے کا ذریعہ بن گئے ہیں جبکہ وہ ہمارے لیے سیکھنے اور عمل کرکے اللہ تعالی تک پہنچنے کا ذریعہ تھے۔
ان کی حیات طیبہ کا ہر گوشہ ہمارے لیے فلاح و نجات کا نمونہ ہے۔ اور اللہ و رسول کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
آپ کا نام نامی اسم گرامی معین الدین سنجری ہے۔ لیکن ساری دنیا انہیں غریب نواز کہتی ہے۔ کیونکہ پوری زندگی انھوں نے غریبوں کی مدد کی ہے، ان سے محبت کی ہے اور محتاجوں، مسکینوں اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کی ہے۔آپ خلق خدا کی مدد کرنے کو اللہ تعالی کی خوشنودی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
ایک مشہور واقعہ:- ان کی عالمانہ شان یہ تھی کہ وہ زبان سے دین و سنت کی تعلیم دیتے تھے اور آنکھوں سے نور معرفت کا جام پلاتے تھے۔ اور دست کرم‌سے متعلقین کے دنیاوی مصائب وآلام کا ازالہ بھی فرماتے تھے۔ آپ کے در پہ آنے والا شادوکام ہو کر ہی واپس جاتا۔ زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ ایک غریب کسان آپ کی خدمت میں آیا اور عرض گزار ہوا کہ حضور میری کاشتکاری کی زمین کو یہاں کا زمیندار مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے۔ مجھے اپنی اس زمین کے لیے سلطان شمس الدین التمش سے نوشتہ چاہیے ورنہ میں تباہ و برباد ہو جاؤں گا۔
حضرت غریب نواز نے فرمایا ٹھیک ہے آپ میرے ساتھ دلی چلیں إنشاءالله! بادشاہ سلامت سے آپ کی زمین کا نوشتہ دلوا دوں گا۔ اور پھر اجمیر سے دلی کے لیے 617ھ مطابق 1221ء کو روانہ ہوے۔ راستے میں رشد و ہدایت کے چراغ جلاتے گئے۔ یہ بات کہی جاتی ہے کہ روشن ضمیر علماء کرام جس راستے سے گزرتے ہیں وہ راستہ خوشبوؤں سے معطر ہو جاتا ہے۔ اس کا صحیح مفہوم اگر سمجھنا ہے تو ایک روشن ضمیر عالم دین حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے اس سفر کو دیکھیں کہ جس علاقے سے گزرتے وہاں کے لوگوں کو کھانے کی دعوت دیتے، بھوکوں کو کھانا کھلاتے، پھر محبت سے قریب بٹھاتے اور سینے سے لگا کر ان کے اندر انسانی عظمت و بزرگی کا شعور بیدار کرتے۔ اور یہ بتاتے کہ ہم ایک آدم اور حوا کی اولاد ہیں۔ ہم میں نہ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹاہے۔ ہم سب برابر ہیں۔ کھانا کھانے کے بعد جب لوگ ان باتوں کو سنتے تو دریافت کرتے کہ بابا آپ کون ہیں؟ جوابا عرض کرتے کہ میں مسلمان ہوں اور میرا مذہب اسلام ہے جس نے دنیا کے تمام لوگوں کو برابری کا حق دیا ہے۔ یہ سن کر وہ اسلام کے قبول کرنے میں دیر نہیں کرتے تھے۔
بیان کیا جاتا ہے کہ ایک گاؤں میں اسی طرح کی ایک دینی نشست تھی سامنے سے ایک بھنگی سر پہ غلاظت لیے جا رہا تھا۔ آپ نے ان کو بلایا تو وہ خوفزدہ ہوکر پیچھے ہٹنے لگا۔ کیونکہ وہ برہمنواد کا زمانہ تھا۔ جس میں اس طرح کے کام کرنے والوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا۔اور ان کے نشان قدم کو بھی ناپاک سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے برہمنوں کی جانب سے انہیں حکم تھا کہ وہ اپنی کمر میں پیچھے کی طرف ایک جھاڑو باندھ کر چلیں تاکہ جھاڑو اس کے نشان قدم کو مٹاتا جائے۔ بہرحال غریب نواز نے اس کو ایک شناسا کو بھیج کر بلوایا۔ وہ شخص اپنے کام سے فارغ ہو کر غسل وغیرہ کرکے حاضر خدمت ہوا۔ غریب نواز نے ان کا استقبال کیا۔ سینے سے لگا کر اپنے قریب بٹھایا اور ساتھ میں کھانا کھلایا۔ لوگوں کا بیان ہے کہ اس حسن سلوک کے بعد لقمہ اس کے منہ میں پہلے گیا یا اسلام اس کے دل میں پہلے پہنچا، یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا۔ اسے کہتے ہیں دین و سنت کی تبلیغ اور ایسے ہوتے تھے ہمارے مبلغین اسلام۔ حضرت خواجہ غریب نواز جیسے علمائے کرام اور قائدین ملت کی قربانیوں سے ہی چہار دانگ عالم میں اسلام پہنچا ہے۔ عظمت رفتہ کی واپسی کے لیے پھر دنیا کو ایسے ہی باکردار اور با عظمت لوگوں کی ضرورت ہے۔
اصح قول کے مطابق 6 رجب 633ھ مطابق 1236ء کو حضرت کا وصال ہوا۔ جس حجرے میں وصال ہوا تھا وہیں مرقد انور ہے۔ غریب نواز کا عرس چھٹی شریف کے نام سے پورے برصغیر ایشیاءمیں ادب و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ لیکن اصل عرس یہ ہے کہ ہم ان کے مشن کو عام کریں اور ان کی سیرت طیبہ کے تذکرہ سے ہم اپنے سماج و معاشرہ کے اصلاح کی کوشش کریں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دین کی تبلیغ میں سلطان الہند کا داعیانہ پہلو

تحریر: سبطین رضا مصباحیکشن گنج بہارریسرچ اسکالر البرکات انسی ٹیوٹ علی گڑھ اسلام کی تبلیغ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے