حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ: احوال و ارشادات

از قلم: محمد اشفاق عالم نوری فیضی
رکن: مجلس علمائے اسلام مغربی بنگال شمالی کولکاتا نارائن پورزونل کمیٹی کولکاتا۔136
رابطہ نمبر۔9007124164

سلطان الہند، محبت اور انسانیت کے علمبردار حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ذات پاک سے خصوصاً ہندوستان میں ایک ایسی شمع روشن ہوئی جو ان کی وفات کے صدیوں بعد بھی رواں دواں ہے اور اپنی پرنور روشنی سے دنیا کو منور کر رہی ہے ۔ بارہویں صدی میں جو غریب نواز اپنے چالیس ساتھیوں اور چند سروسامان خاک نشینوں کے ساتھ اجمیر شریف تشریف لائے تو صداقت کے ایسے چراغ روشن کیے جو صدیاں گزر جانے کے بعد بھی پوری آب و تاب کے ساتھ فروزاں ہے۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک درویشانہ تھا وہ ہر جبرو تشدد کے خلاف تھے۔ وہ ہندو مسلمان ، عیسائی پارسی سے کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے ملا کرتے تھے جو حلقئہ بگوش اسلام نہیں ہوئے تھے ان سے بھی خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ محبت اور رواداری کا سلوک کرتے تھے ان کا مقصد جہاں اسلامی تعلیمات کی روشنی کو گھر گھر پہنچانا تھا وہیں وہ ہندو اور مسلمانوں کے بیچ اتحاد، محبت، ہمدردی اور خلوص کی خدمات پیدا کرتے تھے۔
خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو بخوبی سمجھا تھا اور یہی وجہ ہے کہ آپ نے مختلف مذاہب کے درمیان نفرت کی دیوار قائم کرنے کی بھی کوشش نہیں کی بلکہ زندگی کی آخری سانس تک اھل ہند کو امن واخوت اور انسانیت کا پیغام دیتے رہے یہی وجہ ہے کہ آج ان کی وفات کو 809 سال گزرنے جارہا ہے ہم جب بھی ان کی تعلیمات اور ارشادات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں ان کے وجود کی مہک محسوس ہوتی ہے۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اس رمز سے بخوبی واقف تھے کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے وہ صرف رب المسلمین نہیں ہے اس لئے انہوں نے اپنے دل کے دروازے ہر فرد و بشر کے لئے کھول رکھے تھے ، انہیں اس سے غرض نہیں تھی کہ حکومت کس کی ہے ان کا مؤثر انداز گفتگو اور نرم و شریں لہجہ سب کو اپنا گرویدہ بنا لیتا تھا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ موجودہ حالات میں اتحاد کی ایک مثال ہیں بلا تفریق مذہب و ملت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے آستانہ پر ہر فرد و بشر حاضر ہو کر دعا کرتا ہے اور منتیں مانگتاہے ان کا آستانہ مبارک قومی اتحاد کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے ۔ صوفی سنتوں میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا نام صفحہ اول پر ہے۔ ان کا یہ پیغام کہ راستے دو الگ الگ ہیں مگر منزل تو ایک ہے۔ دنیا میں قومی یکجہتی کا نادر پیغام ہے ۔ اس پیغام کے ذریعہ ہر قوم کے لوگوں میں اخوت و محبت اور انسانیت کا ایک اٹوٹ رشتہ پیدا ہوا ہے جس کی روشنی سے پورے ہندوستان کے عوام مستفید ہو رہے ہیں اس لئے تو حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کو ” خواجہ غریب نواز ” کے لقب سے نوازا گیا ہے وہ غریبوں کے مسیحا بن کر ہندوستان آئے اور لوگوں کو فیض پہنچایا۔

آپ کے عبادات:
خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ دن رات عبادت الٰہی میں مشغول رہتے تھے ان کی بہت سادہ زندگی تھی ۔ آپ ہمیشہ باوضو رہتے تھےاور 70 ستر سال تک نماز عشاء کے وضو سے نمازِ فجر ادا فرمائی۔ آپ ساتویں روز پانچ مثقال سوکھی روٹی صرف پانی میں بھگو کر اس سے روزہ افطار کرتےتھے۔آپ نے کبھی پیٹ بھر کھانا نہیں کھایا۔کہا جاتا ہے کہ آپ نے زندگی بھر صرف ایک ہی لباس پہنا، جب کبھی وہ کہیں سے پھٹ جاتا تو اس میں پیوند لگا لیا کرتے تھے۔پیوند لگانے کی وجہ سے وہ اتنا وزنی ہوگیا تھا کہ جب انکی وفات پر اسے تولا گیا تو اسکا وزن ساڑھے باون سیر تھا۔ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی میں کل 51/حج پیدل چل کر کئے ۔آپ 24 گھنٹے میں دوبار قرآن پاک پڑھ لیا کرتے تھے۔

آپ کے ارشادات:
خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور ان کی تعلیمات ہی ایسی تھیں کہ ہر فرد و بشر ان سے متاثر ہوتا تھا ان کا ہر لفظ معنی رکھتا تھا ان کے اقوال زریں ہوا کر تے تھے وہ فرمایا کرتے تھے۔

  1. اللہ ربّ العزت کا مہربان وہی انسان ہوتا ہے جس کے دل میں دریائے جیسی سخاوت آفتاب جیسی مہربانی اور زمین جیسی خاطر داری کو۔
  2. عالم وہ ہے جس کی نظر قسمت کو پرکھ سکتی ہو۔
  3. علم وہ ہے جو آفتاب کی طرح طلوع ہو اور پھر کل عالم کواپنی روشنی سے منور کرے۔
  4. زندگی کا سب سے اہم لمحہ وہ ہے جب انسان اپنی خواہشات پر قابو پا لیتا ہے۔
  5. دنیا میں دو باتوں سے بڑھ کر کوئی بات نہیں پہلی عالموں کی صحبت اور دوسری بڑوں کی عزت۔
  6. اچھے لوگوں کی صحبت اچھائی کی وجہ سے اچھی ہے اور برے لوگوں کی صحبت برائی کی وجہ سے بری ہے۔
  7. عبادت اور ریاضت میں سب سے بڑا کام عاجزی ہے۔
  8. اگر دوست کی دوستی میں ساری دنیا کو چھوڑ دیا جائے تب بھی وہ کم ہے۔
  9. عالم کا دل سچائی کا گہوارہ ہوتا ہے۔

آپکے کشف و کرامات:
آپ مریدوں کے ساتھ سیر و سیاحت کے لیے جنگل سے گزرے وہاں ایک جماعت آتش پرستی میں مشغول تھی اور انکا مجاہدہ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ وہ 6-6 ماہ تک بغیر آب و دانہ کے رہ جاتے تھےکہ اس کی وجہ سے مخلوق خدا گمراہ ہورہی تھی۔ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے انکی حالت دیکھ کر ان سے پوچھا کہ تم لوگ خدا کو چھوڑ کر آگ کی پوجا کیوں کرتے ہو؟ کہا اس لئے کہ دوزخ کی آگ مجھے نہ جلاے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ طریقہ تو آگ سے بچا نہیں سکتا فرمایا اتنے دنوں سے تم آگ کو پوجتے چلے آرہے ہوذرا اس میں ہاتھ ڈال کر تو دیکھو ان لوگوں نے کہا کہ بے شک آگ جلا ڈالے گی اور کہا کہ یہ کیسے یقین ہو کہ خدا کی پوجا کرنے والوں کو آگ نہیں جلائے گی۔ آپ ہی ہاتھ ڈال کر دکھائیں آپ نے فوراً اپنی جوتیوں کو آگ میں ڈال دیا اور آگ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اے آگ یہ جوتی خدا کے مقبول بندے کی ہے اس کو ذرابھی آنچ نہ آئے۔جوتی کا آگ میں پہچانا تھا کہ آگ فوراً ٹھنڈی ہوگئ اور جوتی صحیح سلامت رہی یہ دیکھ کر تمام آتش پرستوں نے کلمہ پڑھ لیا اور حلقہ ارادت میں داخل ہو گئے۔ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ،شیخ شہاب الدین سہروردی،اور شیخ احمد الدین ایک جگہ رونق افروز تھے ایک نو عمر لڑکا تیر اور کمان لیکر نکلا حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ بچہ دھلی کا بادشاہ ہوگا۔چنانچہ یہ بچہ سلطان التمش شمس الدین کے نام سے دہلی کے تخت پر بیٹھا اور انھوں نے 26/سال تک حکومت کی یہ خواجہ غریب نواز کی نظر تھی جو آئندہ واقعات کا مشاہدہ کرتی تھی ایک عورت گریاوزاری کرتی ہوئی آپ کے پاس آئی اور بلک بلک کر کہنے لگی کہ شہر کے حاکم نے بلاوجہ میرے بچے کو قتل کرا دیا ہے آپ فوراً عصا لے کر اس مقام پر گئے آپ کے ساتھ خدام بھی تھے آپ تھوڑی دیر تک اس بچے کی لاش کے سامنے کھڑے رہے اور پھر اللہ ربّ العزت سے دعا فرمائی کہ اگر بچہ بے قصور قتل کیا گیا ہے تو اس بچے کی والدہ پر رحم فرما ۔ اللہ ربّ العزت نے آپکی دعاء کو شرف قبولیت بخشا اور بچے کو زندہ فرما دیا۔ جو لوگ اجمیر اور اطراف اجمیر سے حج بیت اللہ شریف کے لیے جاتے ہیں واپس آکر متفقہ طور پر بیان کرتے کہ ہم نے خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کو کعبہ کا طواف فرماتے دیکھا ہے حالانکہ اجمیر شریف آنے کے بعد آپ کو حج بیت اللہ کا موقع ملا نہیں ۔
آپ انا ساگر کے پاس تشریف فرما تھے کہ ایک چرواہا گاے کے چند بچھڑوں کو چراتا ہوا اس طرف آ نکلا آپ نے فرمایا بیٹا تھوڑا سا دودھ پلاؤ چرواہے نے مذاق سمجھا اور کہا کہ باباجی! یہ تو ابھی بچھڑے ہیں ان کے پاس دودھ کہاں؟ آپ نے مسکرا کر ایک بچھیا کی طرف اشارہ فرمایا کہ میں اس کا دودھ پیوں گا چرواہا حیران ہوکر بچھیا کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کا تھن دودھ سے بھر گیا ہے اس نے برتن بھر دودھ نکالا جس کو پی کر چالیس آدمی شکم سیر ہو گئے اور وہ چرواہا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے قدموں پر گر پڑا اور حلقہ ارادت میں داخل ہو گیا جبھی تو کسی نے ان بزرگوں کے تعلق سے کہا ہے کہ ؀
نہ تخت و تاج میں نہ لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مرد قلندر کی اک نگاہ میں ہے
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ انکو
ید بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں۔
اس طرح کی کرامتیں آپکی زندگی میں بے شمار ظاہر ہوئیں اگر ان تمام کرامتوں کو جمع کیا جائے تو ایک طویل مضمون بن جائے گا۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی میں دو کتابیں ” انیس الارواح ، گنج الاسرار” لکھیں ان کتابوں میں خواجہ غریب نواز کے اعلی فلسفہ کی عکاسی ہوتی ہے دنیا میں ان کتابوں کو بہت اعلیٰ مقام حاصل ہے الحمد للہ آپ عمدہ شاعر بھی تھے انکا کلام "دیوان معین ” کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔ آپ کی تبلیغ اور ہدایات کا طریقہ کار اعلی تھا۔وہ ہر آنے والے انسان کو کہا کرتے تھے کہ ” تمام چیزیں خدا کی مخلوق ہیں اور مخلوق خدا کی خدمت کرنا خدا کے نزدیک بلند درجہ کا کام ہے۔خدا کےنزدیک وہی عزت دار ہے جو لوگوں میں سب سے زیادہ نیک ہو، کسی کو محظ ذات پات،رنگ روپ
یا کسی پیشہ کی وجہ سے دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں انسانیت کا احترام اور ہر مذہب و ملت کے بزرگوں کی عزت کرنا اعلی درجے کا اخلاق ہے ۔مذہب انسانیت کی اصلاح اور فلاح کا طریقہ ہے کہ اسکی تعلیمات کو سیکھے اور اس پر عمل کرے ۔
انہوں نے ارشاد فرمایا۔” جس طرح خدا کی نعمت سبھی کے لیے ہے ،زمین سبھی کو پناہ دیتی ہے، آفتاب سبھی کو روشنی دیتا ہے،مہتاب اور سیارے سبھی کے لیے ہیں ہوا سبھی کو پہنچتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی محبت تمام مخلوق کے لیے ہے جو اس سے محبت کرتا ہے خدا اس سے محبت کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی ہدایات کا وہ تمام لوگ بھی احترام کرتے ہیں جو مختلف مذاہب کو مانتے ہیں۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کی روشنی سے آج پورا ہندوستان منور ہے ۔وہ ایک ایسی شایان شان ہستی تھے جن پر انسانیت کو فخر ہے۔ انکے دربار میں آج بھی کیا ہندو، کیا مسلمان، کیا سکھ ، کیا عیسائی، ہر مذہب و ملت کے ماننے والوں کا تانتا لگا رہتا ہے ہر دن انکے آستانہ مبارک پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ عقیدت کے پھول چڑھانے آتے ہیں۔
عرس مبارک کے موقع پر خواجہ غریب نواز کی درگاہ پر لاکھوں کی تعداد میں زائرین حاضری دیتے ہیں۔غریب نواز کے نورانی آستانے میں کچھ بات ہی ایسی ہے وہاں دل کو سکون ملتا ہے وہاں روحانیت سے فیض یاب ہو کر انسان انسان بن جاتاہے۔ آپ کی تعلیمات میں فکری الہی، تلاوت قرآن پاک ، عشق رسول ﷺ ، زیارتِ کعبہ، والدین کی خدمت اور تعظیم، محبت بزرگان دین اور علماے کرام اور خدمت پیر و مرشد کو خاص بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ آپ نے اہل دنیا کو دنیا کی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ احکام الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا سلیقہ بھی سکھایا۔
رجب المرجب 633ھ کوئی عشاء کی نماز کے بعد حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی اپنے آستانے میں اے اور دروازہ بند کرکے عبادت الہی میں مشغول ہو گئے۔ رات گئے تک ان کی آواز آتی رہی مگر رات کے آخری پہر میں اچانک انکی آواز بند ہو گئی۔ دن نکل آیا مگر دروازہ نہیں کھلا تب ان کے شاگرد دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ فرشتہ صفت شخصیت عالم خاموشی میں گہری نیند سوچکی ہے اور ان کی روح دنیائے فانی سے حق کی جانب لوٹ چکی ہے۔اس عظیم ترین ہستی کی یاد میں ان کی وفات پر اس مقام میں اجمیر شریف میں ایک درگاہ بنادی گئی ہے جس پر ہر دن میلہ لگا رہتا ہے اور عقیدت مندان خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ آجاؤ حاضر ہو کر اپنی مرادیں برلاتے ہیں۔اللہ رب العزت سبھی عقیدت مندوں کو خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے تعلیمات و ارشادات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے اور ان کے فیوض و برکات سے مالا مال فرماے۔آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دین کی تبلیغ میں سلطان الہند کا داعیانہ پہلو

تحریر: سبطین رضا مصباحیکشن گنج بہارریسرچ اسکالر البرکات انسی ٹیوٹ علی گڑھ اسلام کی تبلیغ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے