ضروریات دین: سوالات وجوابات (قسط اول)

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

ضروریات دین سے متعلق بعض اہل علم کے چند سوالات ہیں۔قسط وار مضامین میں ان سوالوں کے جواب رقم کئے جارہے ہیں۔ مشمولات ومندرجات سے متعلق کوئی سوال ہوتو مجھے واٹس ایپ پر لکھ کر بھیجیں۔ان شاء اللہ تعالیٰ وضاحت کی جائے گی۔

واضح رہے کہ ظنیات میں بعض قول راجح،بعض مرجو ح، بعض صحیح اور بعض اصح،بعض مفتیٰ بہ،بعض غیرمفتیٰ بہ،اور بعض تفردات وعلمی مباحث ہیں۔قطعیات میں ایک قول حق ہے،اس کے علاوہ سب باطل۔ قطعی بالمعنی الاخص یعنی ضروریات دین کے خلاف جو قول ہو،وہ کفریہ ہے۔ قطعی بالمعنی الاعم یعنی ضروریات اہل سنت کے خلاف جو قول ہو،وہ ضلالت وگمرہی ہے۔

مفتی ومناظر کی لغزش کے سبب اگر قطعیات میں دوقول نظر آئیں تو ایک حق اور دوسرا قول باطل ہوگا۔ان باطل اقوال سے نہ استدلال کیا جا سکتا ہے،نہ ان کو عقیدہ بنایا جاسکتا ہے۔ مفتی ومناظرکو لغزش کی اطلاع ہوتے ہی رجوع کرنے کا حکم ہے،اور اپنے قول باطل کے بطلان کا اقرار کرنے کا حکم ہے۔عدم اطلاع کے سبب کسی کا رجوع ثابت نہ ہو تو وہ معذور ہوں گے اور ان کا قول باطل ہوگا۔ان شاء اللہ تعالیٰ اس سے متعلق قسط وارمضامین آئیں گے۔

باطل فرقوں کے قائدین شکم مادرسے گمراہ ومرتدنہ تھے،بلکہ قطعیات میں خلاف حق قول صادر ہوا،پھر لغزش پر اطلاع کے باوجود رجوع نہ کیا،بلکہ اصرار کیا،تب حکم شرعی عائد ہوا۔

ضروریات دین میں اپنی باطل تاویل کے سبب غلط راہ اختیار کرنے والے مرتدقرار پائے اورضروریات اہل سنت میں اپنی باطل تاویل کے سبب غلط راہ اختیار کرنے والے گمراہ قرار پائے۔اللہ تعالیٰ ہم تمام کی حفاظت فر مائے (آمین)

اشخاص اربعہ کوکافرماننا ضروری دینی:

سوال اول:مسلک دیوبند کے اشخاص اربعہ کو کافر ماننا ضروریات دین میں سے ہے یا نہیں؟

جواب:ہر کافر کلامی کوکافرماننا ضروریات دین میں سے ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ متکلمین صرف ضروریات دین کے انکار پر کفرکلامی کا حکم دیتے ہیں،ضروریات اہل سنت کے انکار پر نہیں۔

کافرکلامی کو کافر نہ ماننے پر متکلمین کفر کا حکم دیتے ہیں۔اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ کافر کلامی کو کافر ماننا ضروریات دین سے ہے،ورنہ متکلمین انکارپرحکم کفر عائد نہیں فرماتے۔

جب اشخاص اربعہ کافر کلامی ہیں تو لامحالہ ان چاروں کو کافر ماننا ضروریات دین میں سے ہوگا۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے اشخاص اربعہ اور قادیانی سے متعلق فرمایا ہے کہ ان کوکافرماننا ضروریات دین میں سے ہے۔

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے ایک سوال کے جواب میں رقم فرمایا:

”جوان کے خیالا ت وحالات پر مطلع ہوکر انہیں عالم جانے،یا قابل امامت مانے، ان کے پیچھے نماز پڑھے،وہ بھی انہیں کی طرح کافر ومرتد ہے کہ: من شک فی کفرہ فقد کفر۔

اس کے لیے حسام الحر مین کی وہ عبارتیں کہ سوال سوم میں مذکور ہوئیں،کافی ہیں۔ یوں ہی جو ان احکام ضروریات اسلام کو کہے:یہ مولوی کے جھگڑے ہیں،وہ بھی کافر ہے“۔(فتاویٰ رضویہ جلد ششم ص109-رضا اکیڈمی ممبئ)

توضیح: سوال سوم میں نقل کردہ حسام الحر مین کی عبارتوں میں افراد خمسہ (قادیانی،نانوتوی،گنگوہی،انبیٹھوی وتھانوی)کے کافر ہونے کا حکم مذکور ہے،اور یہ حکم مذکور ہے کہ جوان کے کفرمیں شک کرے،وہ بھی کافر ہے۔انہیں احکام کو اما م احمد رضا قادری نے ضروریات اسلام قرار دیا اور فرمایا کہ جو ان ضروریات دین کے بارے میں کہے کہ یہ مولویوں کے جھگڑے ہیں، وہ بھی کافر ہے،کیوں کہ اس نے ضروری دینی کی بے ادبی کی اوراس کا انکار بھی کیا،پس وہ ضروری دینی کے انکار اور اس ضروری دینی کے استخفاف کے سبب کافر ہے۔

واضح رہے کہ کوئی ایسا ضروری دینی نہیں ہے کہ جاہل کے لیے ضروری دینی ہو،اور عالم کے لیے ضروری دینی نہ ہو۔

نیز یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ جب ضروری دینی کا قطعی علم ہوجائے،تب انکار کرنے پر متکلمین حکم کفر عائد کرتے ہیں۔اس حکم میں عالم وجاہل برابر ہیں۔

لاعلمی کی حالت میں کسی عالم نے کسی ضروری دینی کا انکار کردیا تو متکلمین کے یہاں حکم کفر عائد نہیں ہوگا۔

منقولہ بالا فتویٰ میں حسام الحر مین کی ان عبارتوں میں مذکور احکام کو ضروریات دین میں شمار کیا گیا ہے،جو عبارتیں سوال سوم میں منقول ہوئیں۔ان عبارتوں میں قادیانی، نانوتوی،گنگوہی،انبیٹھوی اور تھانوی کو کافر بتایا گیا ہے۔اس سے واضح ہے کہ ان لوگوں کو کافر ماننا ضروریات دین میں سے ہے،کیوں کہ یہ پانچوں کافر کلامی ہیں اور کافر کلامی کوکافرماننا ضروریات دین میں سے ہے۔

سوال سوم میں حسام الحر مین کی تین عبارتیں مذکورہیں،جن کاذکر امام اہل سنت قدس سرہ العزیزنے فرمایاہے۔وہ عبارتیں مندرجہ ذیل ہیں۔

(۱)(ان ھٰؤلاء الفرق الواقعین فی السؤال غلام احمد القادیانی ورشید احمد و من تبعہ کخلیل الانبھتی واشرف علی وغیرھم لاشبھۃ فی کفرھم بلامجال-بل لاشبھۃ فی من شک،بل فی من توقف فی کفرھم بحال من الاحوال)(فتاویٰ رضویہ:جلدششم:ص 104-رضا اکیڈمی ممبئ)

ترجمہ:بے شک یہ طائفے جن کا تذکرہ سوال میں واقع ہے، غلام احمد قادیانی اور رشید احمد اور جو اس کے پیرو ہوں،جیسے خلیل احمد انبیٹھی اور اشرف علی وغیرہ،ان کے کفر میں کوئی شبہہ نہیں اورنہ شک کی مجال،بلکہ جو ان کے کفرمیں شک کرے،بلکہ کسی طرح کسی حال میں انھیں کافر کہنے میں توقف کرے،اس کے کفر میں بھی شبہہ نہیں۔

(۲)(اظھرفضائحہم القبیحۃ فی المعتمد المستند فلم یبق من نتائجہم الفاسدۃ الا وزیفہا فلیکن منک التمسک بتلک العجالۃ السنیۃ تظفر فی بیان الرد علیہم بکل واضحۃ دامغۃ جلیلۃ -لا سیما المتصدی لحل رایۃ ہذہ الفرقۃ المارقۃ التی تدعی بالوہابیۃ-ومنہم مدعی النبوۃ غلام احمد القادیانی والمارق الاخر المنقص لشان الالوھیۃ والرسالۃ قاسم النانوتوی ورشید احمد الکنکوھی وخلیل احمد الانبھتی واشرف علی التانوی، ومن حذاحذ وھم-انتہی بقدر الضرورۃ)(فتاویٰ رضویہ:جلدششم:ص105-رضا اکیڈمی ممبئ)

ترجمہ:مصنف نے اپنی کتاب المعتمد المستند میں اس گروہ کی بری رسوائیاں ظاہر کیں،پس ان کے فاسد عقیدوں سے ایک بھی بغیر پوچ لچر کئے نہ چھوڑا تو اے مخاطب!تجھ پر لازم ہے کہ اسی روشن رسالہ کا دامن پکڑلے جسے مصنف نے بزدوی لکھ دیا تو ان گروہوں کے رد میں ہر ظاہر وروشن وسرکوب دلیل پائے گا، خصوصا جو اس گروہ خارج ازدین کے باندھے ہوئے نشان کھول دینے کا قصد کرے،وہ گروہ خارج از دین وہ ہے،جسے وہابیہ کہاجاتاہے اور ان میں مدعی نبوت غلام احمد قادیانی ہے، اور دین سے دوسرا نکلنے والا شان الوہیت ورسالت گھٹانے والا قاسم نانوتوی اور رشید احمد گنگوہی اور خلیل احمد انبیٹھی اور اشرف علی تھانوی اور جو ان کی چال چلا۔انتہی بقدر الضرورۃ۔

(۳)(وبالجملۃ ھٰؤلاء الطوائف کلہم کفار مرتدون خارجون عن الاسلام باجماع المسلمین-وقد قال فی البزازیۃ والدرر والغرر والفتاوٰی الخیریۃ ومجمع الانہر والدرالمختار وغیرہا من معتمدات الاسفار فی مثل ھؤلاء الکفار:من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر-اھ-وقال فی الشفاء الشریف:ونکفر من لم یکفر من دان بغیر ملۃ الاسلام من الملل اووقف فیہم اوشک-اھ-وقال فی بحرالرائق وغیرہ:من حسن کلام اھل الاھواء او قال معنوی اوکلام لہ معنی صحیح ان کان ذٰلک کفرا من القائل،کفرا لمحسن-اھ- وقال الامام ابن حجرفی الاعلام فی فصل الکفر المتفق علیہ بین ائمتنا الاعلام:من تلفظ الکفر یکفر وکل من استحسنہ او رضی بہ یکفر-اھ)(فتاویٰ رضویہ:جلدششم:ص105-رضا اکیڈمی ممبئ)

ترجمہ: خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ طائفے سب کے سب(اسماعیلیہ،نذیریہ،امیریہ،قاسمیہ،مرزائیہ،رشیدیہ،اشرفیہ)مرتد ہیں، باجماع امت اسلام سے خارج ہیں، اور بے شک بزازیہ اور دررو غرر اور فتاویٰ خیریہ اور مجمع الانہر اوردرمختار وغیرہا معتمد کتابوں میں ایسے کافروں کے حق میں فرمایا کہ جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے خود کافرہے،اورشفا شریف میں فرمایا:ہم اسے کافر کہتے ہیں جو ایسے کو کافرنہ کہے جس نے ملت اسلام کے سوا کسی ملت کا اعتقاد کیا، یاان کے بارے میں توقف کرے،یا شک لائے،اور بحرالرائق وغیرہ میں فرمایا: جو بددینوں کی بات کی تحسین کرے،یا کہے:کچھ معنی رکھتی ہے، یا اس کلام کے کوئی صحیح معنی ہیں،اگر اس کہنے والے کی وہ بات کفر تھی تو یہ جو اس کی تحسین کرتاہے،یہ بھی کافر ہوجائے گا،اورامام ابن حجر نے کتاب الاعلام کی اس فصل میں جس میں وہ باتیں گنائی ہیں، جن کے کفر ہونے پر ہمارے ائمہ اعلام کا اتفاق ہے،فرمایا: جو کفر کی بات کہے،وہ کافر ہے، اور جو اس بات کو اچھا بتائے، یا اس پر راضی ہو، وہ بھی کافر ہے:انتہی۔

توضیح: امام اہل سنت قدس سرہ القوی نے حسام الحر مین میں مذکورہ احکام کو ضروریات دین بتایا ہے۔ اب ان عبارتوں میں افراد خمسہ کے کافر ہونے کا ذکر ہے، پس معلوم ہوا کہ افراد خمسہ کو کافر ماننا ضروریات دین سے ہے،کیوں کہ کافر کلامی کو کافر ماننا ضروریات دین میں سے ہے۔اسی طرح جو یہ کہے کہ یہ مولویوں کے جھگڑے ہیں،یعنی ان افراد خمسہ کوکافر ومرتدکہنا علما کا آپسی جھگڑاہے تو اس نے ایک ایسے حکم شرعی کی توہین کی جوضروریات دین میں سے ہے،نیز اس جملے سے اس حکم شرعی کا انکار بھی ثابت ہوا جو حکم شرعی ضروریات دین میں سے ہے،اسی لیے ایسے قائل کوبھی کافر قرار دیا گیا ہے۔

قسط دوم اور سوال دوم:

قسط دوم میں سوال دوم کا جواب ہے۔ سوال دوم یہ ہے کہ کافرکلامی کوکافرماننا ضروریات دین میں سے ہے،یا نہیں؟

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

قطعیات میں ایک قول حق:دیگر اقوال باطل

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ قسط اول میں بیان کیا گیا کہ قطعیات میں اجتہاد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے