سلطان الہند غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

تحریر: غیاث الدین احمد عارفؔ مصباحیؔ نظامیؔ
خادم التدریس مدرسہ عربیہ سعیدالعلوم ،یکما ڈپو لچھمی پور ،مہراج گنج (یوپی)

ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کے بانی عطائے رسول، سلطان الہند ،خواجہ غریب نواز حضرت سیدنا معین الدین حسن چشتی ،اجمیری ( رحمۃ اللہ علیہ) اللہ رب العزت کے اُن پاک طینت بندوں میں سے ہیں جنھوں نے لوگوں کے دلوں میں عرفانِ خداوندی، خشیتِ ربانی اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چراغ روشن کیا اوراپنی خداداد صلاحیتوں کے ذریعہ کفر و شرک کی تاریکیوں کو اسلام و ایمان کی روشنیاں عطا کیں۔

آپ کے درجہ کمال کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت خواجہ  قطب الدین بختیار کاکی،حضرت  بابا فرید الدین گنج شکر اورحضرت خواجہ  نظام الدین اولیاء علیھم الرحمہ  جیسے عظیم الشان پیرانِ طریقت کے مرشد  ہیں۔ آپ کا سلسلۂ نسب بارہویں  پُشت میں حیدر کرار حضرت سیدنامولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاملتا ہے۔

نام و نسب : حضرت سیدنامعین الدین حسن چشتی، اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا نام  گرامی "معین الدین”ہے۔آپ کے والدین محبت سے ’’ حسن ‘‘کہہ کر پکارتے تھے، آپ حسنی اور حسینی سید ہیں۔ غریبوں کی بندہ پروری کرنے کی وجہ سے خواص و عوام میں آپ کو” غریب نواز” کے لقب سے یاد کیا جانے لگا ۔

آپ کے مشہور القابات

معین الحق، حجۃ الاولیاء، سراج الاولیاء، فخر الکاملین، قطب العارفین، ہند الولی، عطائےرسول، تاج الاولیاء، شاہ سوار ،قاتل کفار، مغيث الفقراء ،معطي الفقراء، سلطان الہند، ولی الہند،  وارث النبی فی الہند ، خواجۂ خواجگان ‏، خواجہ اجمیری‏ ، خواجہ غریب نواز ، امام الطریق ، خواجہ بزرگ ، پیشوائے مشایخ ہند ، شیخ الاسلام، نائب النبی فی الہند۔

والد کی طرف سے سلسلۂ نسب: حضرت خواجہ معین الدین حسن بن غیاث الدین بن کمال الدین بن احمد حسین بن نجم الدین طاہر بن عبدالعزیز بن ابراہیم بن امام علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن محمد باقر بن امام علی زین العابدین بن سیدناامام حسین بن علی مرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین و رحمہم اللہ تعالیٰ۔

والدہ کی طرف سے  سلسلۂ نسب:حضرت بی بی ام الورع موسوم بہ بی بی ماہ نور بنت سید داؤد بن سید عبداللہ حنبلی بن سید یحییٰ زاہد بن سید محمد روحی بن سید داؤد بن سید موسیٰ ثانی بن سید عبد اللہ ثانی بن سید موسیٰ اخوند بن سید عبداللہ بن سید حسن مثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن سیدنا علی مرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین و ررحمہم اللہ تعالیٰ۔(مرأۃ الانساب)

ولادت:

راجح قول کے مطابق آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ِ مبارک۱۴/رجب المرجب  ۵۳۷ ہجری ،مطابق ۱۱۴۲ عیسوی  بروز دوشنبہ بوقت صبح ” سجستان” جسے ’’سیستان‘‘ بھی کہا جاتا ہے ، کے قصبۂ سنجریا سجز  میں ہوئی۔

آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی  ہیں کہ  :” جب معین الدین میرے شکم  میں تھے تو میں اچھے خواب دیکھا کرتی تھی گھر میں خیر و برکت تھی ، دشمن دوست بن گئے تھے۔ اور جب آپ کی ولادت ہوئی تو  اس وقت آپ کی برکت سے سارا مکان انوارِالٰہی سے روشن ہوگیا، مزید فرماتی ہیں  : میں نے دیکھا کہ ولادت کے بعد آپ سجدے میں پڑے ہوئے ہیں اور میرے گھر میں ہر طرف خوشبو ہی خوشبو ہے۔ ( مرأۃ الاسرار)

سنجر یا سجز؟

مقام ولادت کے بارے میں محققین کا اختلاف ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ   اصل لفظ "سنجر” نہیں بلکہ  سجز ( س۔ جْ۔ ز ) ہے ، جس کے ساتھ یاے نسبتی لگانے سے سجزی بنتاہے  –

 مناقب الحبیب (مترجم ، حاجی خواجہ نجم الدین) ، م 1287 ھ ، ص 51 ، دارالاسلام لاہورمیں اِس کی وجہ یہ لکھی  ہے کہ آپ رحمہ اللہ کا تعلق علاقہ ” سجز ” سے تھا ، جو کہ سجستان کامخفف اور سیستان کا معرب ہے –

تھذیب الاسماء واللغات ، امام نووی ، فصل فی اسماءالمواضع ، ج 3 ، ص 159 ، دارالکتب العلمیہ بیروت میں حافظ ابوبکر حازمی کہتے ہیں:سجز ، سجستان کانام ہے ، جس سے منسوب سجزی کہلاتا ہے۔

معجم البلدان ، ج 3 ، ص 189 ، دارصادر بیروت میں )ثقہ مورخ علامہ یاقوت حموی م 626 ھ ، کہتے ہیں :سجز کے سین پر زیر ، جیم ساکن اور آخر میں” ز” ہے.اس سے منسوب سجزی کہلاتاہے۔

لیکن عام طور آپ کے ساتھ "سنجری ” نسبت کا لاحقہ ہی مستعمل ہے اب اصل بستی کا نام کیا ہے اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ 

پرورش وپرداخت  

آپ کے والد بزرگوار حضرت سیدغیاث الدین حسن  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جوایک بڑے جید عالم تھے آپ نے اپنے  بیٹے حضرت معین الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو  ابتدائی تعلیم گھر پر ہی دی ۔حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے صرف نو سال کی عمر میں قرآن مجید مکمل  حفظ فرما لیا اور اس کے بعد آپ کے ہی قصبے  کے  ایک مکتب میں  آپ کا داخلہ ہواجہاں آپ نے ابتدائی طور سے تفسیر، فقہ اور حدیث کی تعلیم پائی ۔

والد گرامی کی وفات

گیارہ برس کی عمر تک حضرت سیدناخواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی پرورش  نہایت ناز و نعم اور لاڈ وپیارکے ماحول میں ہوتی رہی ،لیکن قدرت کی حکمت دیکھیے کہ  جب حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی عمر پندرہ سال کی ہوئی تو آپ کے والد محترم  علیہ الرحمہ کا سایۂ شفقت و محبت سر سے اُٹھ گیا ،یقیناً یہ آپ کی زندگی کا بڑا کربناک لمحہ تھا لیکن چونکہ  آپ کی والدۂ محترمہ حضرت  بی بی ماہ نور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھا بھی اللہ رب العزت کی محبوب بندی تھیں انھوں نے اس مشکل گھڑی میں اپنے دل پر صبر کاپتھر باندھ کر آپ کی تربیت کاملہ کا بیڑہ اُٹھا لیااور فرمایا کہ:”بیٹا !تمہارے والد کا  خواب تھا کہ ان کا بیٹا علم و فضل میں کمال حاصل کرے۔ اس لیے تمہیں اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کے حصول کے لیے ہی صرف کر دینی چاہئیں“والدہ محترمہ  کی تسلیوں سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  کی طبیعت سنبھل گئی اور پوری محنت ولگن کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہوگئے۔

والدہ محترمہ کی رحلت

ابھی  آپ نے اپنے آپ کو سنبھالا ہی تھا کہ مصیبت کا دوسرا پہاڑ ٹوٹ پڑا،بہ مشکل  ایک سال ہی گزرا ہو گا کہ آپ کی والدہ حضرت بی بی نور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھا  بھی خالق حقیقی سے جاملیں۔ اب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  اس دنیا میں اکیلے رہ گئے۔اس مشکل ترین آزمائش کی گھڑی میں آپ نے صبر وشکر کا دامن تھاما اوراللہ کی رضا پر راضی ہوتے ہوئے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا۔

 آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو والدِ محترم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سےترکہ میں ایک باغ اور ایک پن چکی ملی تھی۔جس کو آپ نے اسے اپنا ذریعہ معاش بنانے کا فیصلہ کیا ، خود ہی باغ کی دیکھ بھال کرتے ،درختوں کو پانی دیتے اور اس سے متعلق تمام ضروریات کو بدست خود انجام دیتے۔یوں ہی آپ نے  پن چکی کا سارا نظام بھی اپنے ہاتھوں میں لے لیا ،زندگی انتہائی  خوش حالی اور آسودگی سے  بسر ہورہی تھی۔لیکن خدائے کارساز کو تو کچھ اور ہی منظور تھا ،رب ذوالجلال والاکرام نے تو آپ کوانسانوں کی تعلیم و تربیت اور کائنات کےصلاح وفلاح کے لیےمنتخب فرمالیا تھا۔

دنیا سے کنارہ کشی

 اس کا ظہور کچھ اس طرح ہوا کہ ایک دن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے باغ میں درختوں کو پانی دے رہے تھے کہ مجذوبِ وقت حضرت ابراہیم قندوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ باغ میں تشریف لائے۔ جب حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  کی نظر اُن پر پڑی تو ادب و احترام کے ساتھ ان کے قریب گئے، ہاتھوں کو بوسہ دیا اور بڑی تعظیم وتکریم کے ساتھ ایک  درخت کے نیچے آپ کو بٹھا دیا اور ضیافت کے لیے تازہ انگور کا ایک خوشہ سامنے لاکر رکھ دیا پھر  خود دوزانو ہوکر بیٹھ گئے۔ مجذوب وقت حضرت ابراہیم قندوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انگور کھائے اور خوش ہوکر بغل سے روٹی (یا کھلی ) کا ایک ٹکڑا نکالا اور اپنے منہ میں ڈالا دانتوں سے چبا کر حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے منہ میں ڈال دیا ۔ اس ٹکڑے کا حلق سے نیچے اترنا ہی تھا کہ آپ کی دنیا ہی بدل گئی۔ آپ کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے کائنات کی ہر شے بے معنی ہے،دنیا سے نفر ت اور بے زاری پیدا ہوگئی اسی وقت آپ نے سارے امور سے کنارہ کشی اختیار کرلی، باغ، پن چکی اور دوسرے ساز و سامان کو بیچ ڈالا، ساری قیمت فقیروں اور مسکینوں میں بانٹ دی اور طالبِ حق بن کر وطن کو چھوڑ دیااور راہ حق میں نکل پڑے۔(تلخیص از مرأۃ الاسرار،ص593)

اعلیٰ تعلیم کے لیے رخت سفر

اس واقعے کے رونما ہونے کے بعد آپ کے دل کی دنیا یکسر بدل چکی تھی ،اب مرحلہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کا تھا کیوں کہ بغیر علوم شریعت ، طریقت میں کامل مہارت ممکن نہ تھی سو آپ نے اپنے   وطن سے نکل کر سمر قند و بخارا کا رُخ کیا جو کہ اس وقت پورے عالمِ اسلام میں علم و فن کے مراکز کی حیثیت سے مشہور تھے جہاں عظیم علمی ودینی درس گاہیں تھیں جن میں منفرد و ممتاز اور جید اساتذۂ کرام درس و تدریس کے ذریعہ علم وہنر کے گوہر لُٹا رہے تھے ۔

اس سفر میں پہلے آپ "ثمر قند” پہنچے اوروہاں اس دور کے نامور عالم دین مولانا شرف الدین  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے زانوئے تلمذتہ کیا۔ استاد محترم کی توجہ سے بہت سے علوم پر دسترس حاصل کیا۔ ثمر قند میں آپ نے حصول علم کیلئے پانچ برس گزارے پھرحضرت مولانا شرف الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  سے اجازت لےکر آپ نے بخارا کا رخ کیا جو اس وقت علوم و فنون کا دوسرا بڑا مرکز تھا۔ بخارا میں آپ کی ملاقات اپنے دور کے مستند ومعتمد اور شہرہ آفاق عالم حضرت مولانا حسام الدین بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ سے ہو ئی۔ جہاں آپ نے 5 برس تک ان کی شاگردی میں قرآن و حدیث فقہ، منطق اور جملہ علوم سے قلب و ذہن کو سیراب کیا۔

پیر کامل کی بارگاہ میں حاضری

 علومِ شریعت کی تکمیل  کے بعد آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ  اب علوم طریقت ومعرفت کا حصول کرنا چاہیے اس عظیم مقصد کے پیش نظر آپ نے  اپنے مقدس سفر کا آغاز کیا، بغداد، مکہ اورمدینہ کی سیر و سیاحت اور زیارت کی سعادتیں حاصل کرتے ہوئےرہنمائےطریقت کی تلاش و جستجو میں جانبِ مشرق کا رُخ کیا اورعلاقۂ نیشاپور کے قصبہ” ہارون” پہنچے جہاں ہادیِ طریقت ومعرفت حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ ،طریقت ومعرفت کے متلاشیوں کے لیے منبع ومرکز تھی۔ خانقاہِ عثمانی میں پہنچ کر آپ رحمۃ اللہ علیہ کومحسوس ہوا کہ یہی ہمارا مرکز دل ہے اور یہیں ہمیں قلبی طمانیت وسکون میسر آسکتا ہے ،آپ نے  مرشدِ کامل حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں اپنا قلبی عریضہ پیش کیا جسے انھوں نے فوراً قبول فرما لیا اور اپنی خانقاہ کے طالبین معرفت وطریقت میں شامل فرماکر  حلقۂ ارادت میں شامل فرمالیا ۔

حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نےاس واقعے کو یوں بیان کیا ہے:

"ایسی صحبت میں جس میں بڑے بڑے معظم و محترم مشائخِ کبار جمع تھے میں ادب سے حاضر ہوا اور روے نیاز زمین پر رکھ دیا ، حضرت مرشد نے فرمایا: دورکعت نماز ادا کر ، میں نے فوراً تکمیل کی۔ رو بہ قبلہ بیٹھ ، میں ادب سے قبلہ کی طرف منہ کرکے بیٹھ گیا، پھر ارشاد ہوا سورۂ بقرہ پڑھ ، میں نے خلوص و عقیدت سے پوری سورت پڑھی ، تب فرمایا : ساٹھ بار کلمۂ سبحان اللہ کہو، میں نے اس کی بھی تعمیل کی ، ان مدارج کے بعد حضرت مرشد قبلہ خود کھڑے ہوئے اور میرا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لیا آسمان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھا اور فرمایا میں نے تجھے خدا تک پہنچا دیا ان جملہ امور کے بعد حضرت مرشد قبلہ نے ایک خاص وضع کی ترکی ٹوپی جو کلاہِ چارتَرکی کہلاتی ہے میرے سر پر رکھی ، اپنا خاص کمبل مجھے اوڑھادیا اور فرمایا بیٹھ، میں فوراً بیٹھ گیا ، اب ارشاد ہوا ہزار بار سورۂ اخلاص پڑھ میں اس کو بھی ختم کرچکا تو فرمایا ہمارے مشائخ کے طبقات میں بس یہی ایک شب و روز کا مجاہدہ ہے لہٰذا جا اور کامل ایک شب و روز کا مجاہدہ کر، اس حکم کے بہ موجب میں نے پورا دن اور رات عبادتِ الٰہی اور نماز و طاعت میں بسر کی دوسرے دن حاضر ہوکے ، روے نیاز زمین پر رکھا تو ارشاد ہوا بیٹھ جا، میں بیٹھ گیا، پھر ارشاد ہو ا اوپر دیکھ میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو دریافت فرمایا کہاں تک دیکھتا ہے ، عرض کیا عرشِ معلا تک ، تب ارشاد ہوا نیچے دیکھ میں نے آنکھیں زمین کی طرف پھیری تو پھر وہی سوال کیا کہاں تک دیکھتا ہے عرض کیا تحت الثریٰ تک حکم ہوا پھر ہزار بار سورۂ اخلاص پڑھ اور جب اس حکم کی بھی تعمیل ہو چکی تو ارشاد ہو اکہ آسمان کی طرف دیکھ اور بتا کہاں تک دیکھتا ہے؟ میں نے دیکھ کر عرض کیا حجابِ عظمت تک ، اب فرمایا آنکھیں بند کر ، میں نے بند کرلی ، ارشاد فرمایا ا ب کھول دے میں نے کھول دی تب حضرت نے اپنی دونوں انگلیاں میری نظر کے سامنے کی اور پوچھا کیا دیکھتا ہے ؟ عرض کیا اٹھارہ ہزار عالم دیکھ رہا ہوں ، جب میری زبان سے یہ کلمہ سنا تو ارشاد فرمایا بس تیرا کام پورا ہوگیا پھر ایک اینٹ کی طرف دیکھ کر فرمایا اسے اٹھا میں نے اٹھایا تو اس کے نیچے سے کچھ دینار نکلے ، فرمایا انھیں لے جاکر درویشوں میں خیرات کر۔ چناں چہ میں نے ایسا ہی کیا۔ ‘‘(انیس الارواح ، ملفوظاتِ خواجہ ،صفحہ ۱/ ۲)

خلافت و جانشینی

سیرت نگاروں کے مطابق یہ واقعہ  562ھ کا ہے جب آپ حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔حضرت  خواجہ غریب نواز  علیہ الرحمہ بیس سال تک خدمتِ مرشد میں مصروف رہے‘ یہاں تک کہ سفر میں پیرو مرشد کا بستر اور سامان سر پر اُٹھا کر لے جاتے اور خدمت مرشد کا حق ادا کرتے ، حالاں کہ بیعت ہونے کے فورًا بعد ہی پیرو مرشد کی زبان مبارک نے آپ کو  یہ مژدہ جاں فزا سنادیا تھا کہ:” معین الدین تمہارا کام پورا ہوگیا”۔

حضرت پیر ومرشد  خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ کواپنے خداداد علم کے ذریعہ معلوم ہوچکا تھا کہ حضرت معین الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اللہ رب العزت نے دین متین کا بڑا کام لینا ہے اس لیے انھوں نے ۵۸۲ھ / ۱۱۸۶ء میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  کو خرقہ خلافت واجازت  سے سرفراز فرماکر اپنا نائب اور جانشین بنا دیا اور  جو تبرکات سلسلے کے بزرگوں سے ملے تھے سب کے سب  عطا کر دئیے اور فرمایا’’معین الدین محبوبِ خدا ہے اور مجھے اس کی خلافت پر ناز ہے۔ ‘‘(مرأۃ الاسرار و اقتباس الانوار ملخصاً)

 سیر الاقطاب اور اقتباس الانوار میں درج ہے کہ ایک مرتبہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  اپنے پیرو مرشد حضرت خواجہ عثمانی ہارونی علیہ الرحمہ کے ساتھ مکہ مکرمہ گئے تو میزاب رحمت  کے نیچے کھڑے ہو کر حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ نے اپنے مرید صادق کے لئے دُعا فرمائی۔ غیب سے آواز آئی” معین الدین میرا دوست ہے۔ میں نے اِسے اپنے مقبول اور برگزیدہ بندوں میں شامل کیا۔ پھر سرورِ کائنات حضور سیّدنا رسول اللہ  ﷺ کے روضہ اَنور پر حاضر ہوئے اور اپنے مرید کو سلام کرنے کے لئے کہا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سلام کیا تو روضہ منورہ سے جواب آیا۔ وَعَلَیْکَ السَّلَامُ یَا قَطْبَ الْمَشَائِخِ ۔

سیر الاقطاب و مونس الارواح کے حوالے سے حضرت سیّد صباح الدین عبدالرحمن نے  لکھا ہے کہ اسی وقت بارگاہِ رسالت ﷺسے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ہندوستان جانے کی بشارت ملی اورانیس الغریبین ،شفیع المذنبین حضور سیّدنا رسول اللہﷺ نے آپ علیہ الرحمہ کو ہندوستان عطا فرمایا۔ اِسی لئے آپ کو نائب النبی فی الہند اور عطائے رسول کہا جاتا ہے۔ زیارت حرمین شریفین سے یہ بشارت عظمیٰ حاصل کرنے کے بعد دونوں بزرگ بغداد شریف تشریف لائے۔اس کے بعد پیرو مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ خود  معتکف ہو گئے اور حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کو اپنے خواجگان کی نعمت حوالے کر کے سفر کے لئے رُخصت فرمایا۔  

ہندوستان میں آمد

 حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نےاپنے مرشدِ کامل کی اجازت ملنےکےبعد اپنی سیاحت دینی کا آغاز کیا، علما و صلحا اور صوفیہ و مشائخ کی زیارتوں سے بہرور ہوئے خاص کر حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ رحمۃ اللہ علیہ ،حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اور  حضرت شیخ ضیاء الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت کی اور ان سے معرفت و ولایت کے علوم و فنون حاصل کیے۔

جب حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اصفہان پہنچے تو یہاں حضرت شیخ محمود اصفہانی سے ملاقات فرمائی ، ان دنوں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اصفہان میں موجود تھے۔ جب آپ نے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے چہرۂ زیبا کی زیارت کی تو بہت متاثر ہوئے اور آپ پر نثار ہوکر مریدوں میں شامل ہوگئے آپ نے حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اتنی خدمت کی کہ بعد میں وہی آپ کے جانشین ہوئے۔ اصفہان سے چلے توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۵۸۳ھ / ۱۱۸۷ء میں مکۂ مکرمہ پہنچے اور زیارت و طوافِ خانۂ کعبہ سے شرفیابی حاصل فرمائی۔ ایک روز حرم شریف کے اندر ذکرِ الٰہی میں مصروف تھے کہ غیب سے آپ نے ایک آواز سنی کہ:

"اے معین الدین ! ہم تجھ سے خوش ہیں، تجھے بخش دیا جو کچھ چاہے مانگ ، تاکہ عطا کروں”۔ جب آپ نے  یہ ندائے غیبی  سنی تو بے حد خوش ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں سجدۂ شکر بجالایااور عاجزی سے عرض کیا کہ :

"اے میرے کریم مولیٰ! معین الدین کے مریدوں کو بخش دے۔ آواز آئی کہ” اے معین الدین تو ہماری مِلک ہے جو تیرے مرید اور تیرے سلسلہ میں مرید ہوں گے انھیں بخش دوں گا”۔

حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے مزید کچھ دن مکہ شریف  میں قیام کیا اور حج کے بعد دربار رسالت مآب ﷺ کی جانب روانہ ہوئے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزارِ پاک کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ اسی قیام مدینہ مبارکہ کے درمیان  ایک دن  جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم  میں اپنی عقیدت ومحبت کا نذرانہ پیش فرمارہے تھے کہ آپ کو بارگاہ سرور کائنات ﷺ سے  ہندوستان کی ولایت و قطبیت کی بشارت حاصل ہوئی اور ارشاد ہوا۔

 ” اے معین الدین تو میرے دین کا معین ہے میں نے تجھے ہندوستان کی ولایت عطا کی وہاں کفر کی ظلمت پھیلی ہوئی ہے تو اجمیر جا تیرے وجود سے کفر کا اندھیرا دور ہوگا اور اسلام کا نور ہر سو پھیلے گا۔” ( سیر الاقطاب ص ۱۲۴)

یہ ایمان افروز بشارت سنی تو آپ پر وجد انی کیفیت طاری ہوگئی۔ جب اس کیفیت سے باہر آئے تو دل میں ایک خیال گزرا کہ آخر  اجمیر کہاں ہے؟ یہی سوچتے ہوئے آپ کو نیند آگئی ، نصیبہ  اوج پر ہوگیا  ،سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں تشریف لائے اورآپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب ہی  کی حالت میں مشرق و مغرب تک سارے عالم کو دکھا دیا، دنیا کے تمام شہر اور قصبے آپ کی نظروں میں تھے یہاں تک کہ آپ نے اجمیر ، اجمیر کا قلعہ اور پہاڑیاں بھی ملاحظہ فرما لیں۔ حضور انور ،شافع محشرصلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو ایک انار عطا کرکے ارشاد فرمایا کہ:

 ہم تجھ کو خدا کے سپرد کرتے ہیں۔ نیند سے بیدار ہونے کے بعد آپ نے چالیس اولیا کے ہمراہ ہندوستان (اجمیر ) کا قصد کیا۔( مونس الارواح ص ۳۰)

اجمیرمعلی میں تشریف آوری: اکثر سوانح نگاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ  ۵۸۷ھ / ۱۱۹۱ء میں اجمیر شریف پہنچے۔ جہاں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے  حُسن اخلاق، پاکیزہ  سیرت و کردار اورکرامتوں کے سبب بہت جلداہلِ اجمیرآپ کی  روحانی عظمتوں  کےقائل ہوگئے  اور  جوق در جوق دائرۂ اسلام میں داخل  ہونے لگے۔

تاریخ وصال : ہندوستان کی سرزمین پر عطاے رسول حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیر ی رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً ۴۵ سال گذارےاور اس عرصے میں آپ کی برکت سے لاکھوں افراد دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے اور انھوں نے اپنی قسمت کی تاریکی کو اُجالے میں تبدیل کرلیا اور پھر حکم خداوندی کے مطابق آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ۶ رجب المرجب ۶۳۳ھ بہ مطابق ۱۶ مارچ ۱۲۳۶ء بروز پیر کی رات اس دارِ فانی کو الوداع کہہ دیا۔

ھٰذا حبیبُ اللہ ماتَ فِی حُب اللہ”۔

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دنیا سے تشریف لےجانے کا واقعہ بھی بڑا انوکھا تھا بیان کیا جاتا ہے کہ نماز عشا ادا کرنے  کے بعد اپنے حجرۂ مبارک میں اپنے خادموں کو یہ ہدایت فرماتے ہوئے تشریف لے گئے کہ کوئی حجرے میں داخل نہ ہو۔ صبح صادق کے وقت جب نمازِ فجر کے لیےدروازے پر دستک دی گئی،کوئی آوازنہیں آئی  توخادموں نےباادب ہوکر دروازے کوکھولا تومعلوم ہوا کہ خواجہ خواجگاں  اپنے مالکِ حقیقی کی بارگاہ میں تشریف لے جاچکے ہیں اور آپ کی مبارک  پیشانی پر قدرت کی طرف سے  عبارت لکھی ہوئی ہے: ” ھٰذا حبیبُ ماتَ فِی حُب اللہ”۔

 آپ کی نمازِ جنازہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صاحب زادے حضرت خواجہ فخر الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی اور آپ کا جسمِ مبارک اسی مبارک  حجرے میں دفن کیا گیا جہاں آپ حیات میں قیام فرمایا کرتے تھے۔

ازواج  : آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ۵۹۰ھ / ۱۱۹۴ء میں بی بی امۃ اللہ سے پہلا نکاح فرمایا۔ اور ۶۲۰ھ / ۱۲۲۳ء میں سید وجیہ الدین مشہدی کی دخترِ نیک اختر بی بی عصمۃ اللہ سے دوسرا نکاح فرمایا۔

اولاد و امجاد: (۱) خواجہ فخر الدین چشتی اجمیری (وفات ۵ شعبان المعظم ۶۶۱ھ) (۲) خواجہ ضیاء الدین ابو سعید (۳) خواجہ حسام الدین (۴)حافظہ بی بی جمال (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھم)۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دین کی تبلیغ میں سلطان الہند کا داعیانہ پہلو

تحریر: سبطین رضا مصباحیکشن گنج بہارریسرچ اسکالر البرکات انسی ٹیوٹ علی گڑھ اسلام کی تبلیغ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے