منقبت: سیدنا خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ والرضوان

نتیجۂ فکر: محمد زاہد رضا بنارسی
دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج، بھدوہی یو۔پی۔ انڈیا

لمحہ لمحہ رحمتی ہے خواجہ کے اجمیر میں
ہر سو برکت بٹ رہی ہے خواجہ کے اجمیر میں

جلوۂ مولیٰ علی ہے خواجہ کے اجمیر میں
مصطفٰے کی روشنی ہے خواجہ کے اجمیر میں

مانگنے والوں کی صف میں بھیک لینے کے لیے
تاجداری بھی کھڑی ہے خواجہ کے اجمیر میں

نرگس وبیلاچمیلی مشک وعنبر کی نہیں
خوشبوئے آلِ نبی ہے خواجہ کے اجمیر میں

ایک کاسے میں انا ساگر کی وسعت بھر گئی
یہ کرامت بھی ہوئی ہے خواجہ کے اجمیر میں

مرنے کی خواہش کو لے کر آئے تھے ہم پر یہاں
زندگی ہی زندگی ہے خواجہ کے اجمیر میں

لے کے اپنی آرزوئیں ان کے روضے کے قریب
سر خمیدہ سروری ہے خواجہ کے اجمیر میں

جس کی خوشبو سے معطر اولیائے ہندہیں
وہ گلابِ فاطمی ہے خواجہ کے اجمیر میں

آسماں کے چاند تارے جھک کے کرتے ہیں سلام
ایسی نوری ہر گلی ہے خواجہ کے اجمیرمیں

آؤ اے "زاہد” اگر ہے شوق نظّارہ تمہیں
دلکشی ہی دلکشی ہے خواجہ کے اجمیر میں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نعت رسول: طائرِ مدینہ تو! لے کے دردِ دل جاتا

مرشدی تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے ایک مصرع پر طبع آزمائی کی کوشش نتیجۂ فکر: …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے