مدارس اسلامیہ امن و انسانیت کا گہوارہ

تحریر: محمد طفیل ندوی
جنرل سکریٹری : امام الہند فاؤنڈیشن، ممبئی

مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی حسنی ندوی ؒنے فرمایاتھا مدرسہ کیاہے ؟ مدرسہ سب سے بڑی کارگاہ ہےجہا ں آدم گری اورمردم سازی کاکام ہوتاہےجہاں دین کے داعی اوراسلام کےسپاہی تیارہوتےہیں مدرسہ عالم اسلام کابجلی گھر ’’پاورہائوس‘‘ہے جہاں سےاسلامی آبادی بلکہ انسانی آبادی میں بجلی تقسیم ہوتی ہے، مدرسہ وہ کارخانہ ہے جہاں قلب ونگاہ اورذہن ودماغ ڈھلتے ہیں ،مدرسہ وہ مقام ہے جہاں سےپوری کائنات کا احتساب ہوتاہے اورپوری انسایت کی نگرانی کی جاتی ہے جہاں کافرمان پورے عالم پرنافذہے عالم کافرمان اس پرنافذنہیں مدرسہ کاتعلق کسی تقویم کسی تمدن کسی کلچر زبان وادب سےنہیں کہ اس کی قدامت کاشبہ اوراس کے زوال کاخطرہ ہو اس کاتعلق براہ راست نبوت محمدی سےہےجوعالم گیربھی ہے اورزندئہ جاویدبھی اس کاتعلق اس انسانیت سےہے جوہردم جواں ہے،اس زندگی سےہے جوہمہ وقت رواں دواں ہے مدرسہ درحقیقت قدیم وجدید کی بحثوں سےبالاترہےوہ توایسی جگہ ہے جہاں نبوت محمدی کی ابدیت اورزندگی کانمواورحرکت دونوں پائےجاتےہیں ۔مدارس دینیہ کانظام ووقار سنجیدگی اورعدل ومساوات کابہترین نمونہ ہے اگریہ نقوش ہماری ہم عصر ی یونیورسیٹیاں اپنالیں توطلباء کی جانب سے ہونیوالے احتجاجات اوراس کے نقصانات میں ہونیوالے ہرجوں سے محفوظ رہناآسان ہوجائےگا مدارس اسلامیہ کااخلاقی نظام اخلاق ومروت کے مظاہرہ کی دعوت دیتاہے سچ یہ ہےکہ طلبائے علوم دینیہ کاحسن سلوک اورطرزمعاشرت اتنابلنداورارفع ہے ہم سماوی رفعتوں سےتعبیرکرسکتےہیں آج ضرورت ہےکہ دینی مدارس کےان نقوش کواپنایاجائے جوہمارےاسلاف واکابرکارہاہے کیوں کہ مدارس اسلامیہ کی خشت اول امن کے گارےسے تیارہوتی ہے اوراس کے مقاصدواہداف میں سلامتی اورتحفظ کاسایہ فگن ہوتاہے اس واقعیت کےباوجود یہ پروپیگنڈہ کہ مدارس اسلامیہ دہشت گردی کے اڈےاورانتہاپسندی کےمراکزہیں پوری دنیامیں جس مدرسہ کی بنیادسب سے پہلےپڑی تھی وہ رحمۃ للعالمین کی زیرسرپرستی میں صفہ کےنام سے قائم ہوا تھا رحم جس کاکام ،سلامتی جس کااعلان اورتحفظ جس کانظام تھا اسی روشنی سے جلاپانیوالے ہزاروں مدارس دینیہ گذرے دورسے لےکر آج تک اسی اساس پرقائم ہیں ہندوستان میں دینی مدارس بھی اسی نظام امن کےپیامبر اورمحافظ ہیں ،دینی مدارس کی بنیاد ہی امن وسلامتی کے عنوان سےبنتی ہے اوراس کی تشکیل بھی خیرخواہی کے صدائے عام سے ہوتی ہے۔دینی مدارس سراپاامن وسلامتی ہیں اس کاکردار ماضی میں بھی صاف ستھرا اورروشن تھا آج بھی اورآئندہ بھی رہےگا درحقیقت دینی مدارس ایک ایسامشعل ہیں جس کی روشنی میں امن کاشہر قائم کیا جاسکتاہےاورپرامن معاشرےکی تکمیل ہوسکتی ہے آج اس کی ضرورت ہے اوراس وقت اس ضرورت کوضروراورلازم سمجھاجائے ملک کے موجودہ حالات کے تناظرمیں ملک میں قومی یکجہتی اورامن ومحبت کی فضاء کوعام کرنےمیں مدارس اسلامیہ کلیدی کرداراداکرسکتاہے ہندوستانی مدارس نے ملک کی آزادی کی تحریک اوراس وقت ہندوستانی عوام کے درمیان یکجہتی کے ماحول بگاڑنے والوں کیخلاف مہم میں کلیدی کرداراداکیاتھا اورآج بھی جب ملک میں نفرت کاماحول قائم ہورہاہے ،اخوت ومساوات اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کےماحول کونقصان پہنچانے کی کوششیںکی جارہی ہے تو مدارس اسلامیہ ان حالات میں کلیدی کرداراداکرسکتاہے برادران وطن کیساتھ مل کر ملک میں امن وامان اورمحبت وبھائی چارہ کاماحول قائم کریںفرقہ پرست قوتیں مدارس اسلامیہ کوبدنام کرنےکیلئے مہم چلارہی ہیں ایسے حالات میں مدارس کے ذمہ داران کومحتاط رہنےکی ضرورت ہےاسلام ایک آفاقی دین اورملکوتی مذہب ہے اس کی تعلیمات میں روح انسانیت کی ان تمام مشکلات کامداواموجودہےجواسےدنیاوی امورمیں مختلف موڑپر محسوس ہوتی ہے لیکن اسے کیسے حاصل کیاجائے؟ان پریشانیوں کو خود اللہ کے رسول ﷺ نے مقام صفہ کےقیام اوروہاں جمع ہوکرصحابہ کرا م ؓکی تعلیم وتربیت کے ذریعے دورکردیا اورامت کوگویایہ سبق دیا کہ اگرتمہیں دین اسلام کی بقااوراس کی صحیح واصل شکل میں اشاعت مطلوب ہے اوراس کے ذریعے اپنی دینی وتعلیمی حالت کوسنوارناچاہتےہوتوتم بھی مقام صفہ کی طرح دینی درسگاہیں قائم کرکے اپنے اوراپنی نسلوں کوتعلیمات اسلامیہ سے روشنا س کرائو اورعلم کی شمع روشن کرکے جہالت کاخاتمہ کردواس کے نتیجےمیں مسلمانوں نے اس مشن کوآگےبڑھایا اورمدارس اسلامیہ کےقیا م کو کسی نہ کسی شکل میں لازمی سمجھ کر اس پلیٹ فارم کے ذریعےامت مسلمہ کی تمام دینی ،اسلامی اورمعاشرتی ضرورتوں کوپوراکرنے اوران کی علمی تشنگی کودورکرنےکی بھرپورکوشش کی ،جس کالازمی اثریہ ہواکہ آج مدارس اسلامیہ اپنی مرکزی حیثیت کی بناپر حیات اسلامی کاجزولاینفک ثابت ہورہےہیںتو اسلامی مدارس حفاظت دین کے قلعےاورعلوم اسلامیہ کے سرچشمےہیں ان کابنیادی مقصد ایسےافرادتیارکرناہے جوایک طرف اسلامی علوم کےماہر دینی کردارکے حامل اورفکری اعتبارسے صراط مستقیم پرگامزن ہوں دوسری طرف وہ مسلمانوں کی دینی واجتماعی قیادت کی صلاحیت سے بہرہ ورہو ں ان میں تہذیب وثقافت،غیرت وحمیت،ایمان داری ،وفاشعاری اوران تمام اخلاقی ومعاشرتی قدروں کی تعلیم وتربیت ہواوراسی سے دنیامیں بسنےوالےہر ایک امن پسندشخص کوآراستہ ہوناچاہیے ۔شاعر مشرق علامہ اقبال ؒمرحوم علماء اور دینی مدارس کی اہمیت سے متعلق جوکچھ کہاہے یقینا وہ قابل غورہے۔ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدارس میں پڑھنے دو۔ اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس میں ہوا ۔مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نام و نشان نہیں ملتا۔جانتے ہو کیا ہو گا ؟ جو کچھ ہو گا میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔ اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں سے محروم ہو گئے تو بالکل اسی طرح ہو گا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے با وجو د آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈ رات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیرؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا ، ہندوستا ن میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانو ں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔
دینی مدارس جہاں اسلام کے قلعے ، ہدایت کے سر چشمے، دین کی پنا ہ گا ہیں ، اور اشا عت دین کا بہت بڑ ا ذریعہ ہیں وہیں یہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقی طور پر "این جی اوزبھی ہیں۔ جو لاکھوں طلبہ و طالبا ت کو بلا معاوضہ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو رہائش و خوراک اور مفت طبی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔ان دینی مدارس نے ہر دور میں تمام ترمصائب و مشکلات ، پابندیوں اور مخالفتوں کے باوجود کسی نہ کسی صورت اور شکل میں اپنا وجود اور مقام برقرار رکھتے ہوئے اسلام کے تحفظ اور اس کی بقاء میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انگریزوں نے برصغیر میں اپنے تسلّط اور قبضہ کیلئے دینی اقدار اور شعائر اسلام مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اس کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی دینی مدارس اور اس میں پڑھنے پڑھانے والے خرقہ پوش اور بوریا نشین طالبان علوم نبوت اور علماء کرام ہی تھےدینی مدارس اور علماء ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں، امن کے گہوارے اور اشاعت دین کا ذریعہ ہیں۔ان کا دہشت گردی تخریب کاری سے کوئی تعلق نہیں ہے مغرب کا پروپگنڈہ ان کے بارے میں بے بنیاد ہےان دینی مدارس اور علماء کی وجہ سے آج نسل نو کا ایمان محفوظ ہےدینی مدارس کے طلبہ وحدت کی نشانی اور اتحاد و یکجہتی کا عملی ثبوت ہیںیہ مختلف قوموں، صوبوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے کے باوجوددینی مدرسہ کی ایک ہی چھت کے نیچے نورانی اور پاکیزہ ماحول میں اکھٹے رہتے ہیںایک ہی برتن میں کھاتے اور پڑھتے ہوئے نظر آئیں گے۔مدارس کی ضرورت اہمیت اورافادیت ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے ،مدارس کی ہمہ جہت خدمات پر جن حضرات کی گہری نظرہے اورتاریخ کاایماندار انہ اورمنصفانہ تجزیہ کرنےکی صلاحیت رکھتےہیں وہ اس حقیقت سےبخوبی واقف ہیں ،اسلام کےآفاقی پیغام سےملک وملت کوروشناس کرانےکافریضہ یہی مدارس انجام دیتےہیں مدارس ہی کافیض ہے کہ مسلم سماج کارشتہ اسلامی اقدار وروایات اورتہذیب وثقافت سے استوارہے وطن عزیزمیں اسلام کےتحفظ وبقااورقیام امن کےسلسلےمیں مدارس کی خدمات ناقابل فراموش ہے مدارس مسلمانوں کے ثقافتی قلعےکےمحافظ، اسلام کی بقائےحیات کیلئے شہ رگ اورپاورہائوس کی حیثیت رکھتےہیں مسلم معاشرےکی مذہبی واخلاقی اقدارانہیں کےرہین منت ہیں ان کاماضی بھی تابناک ہے اورحال ومستقبل بھی اسلامی امیدوں کی آجگاہ ہے جس طرح ایک انسان اپنی زندگی کی بقا کے لیے خوراک اور پوشاک کو ضروری خیال کرتا ہے، اسی طرح ایک حقیقی مسلمان اپنی اسلامی شناخت، تہذیبی خصوصیات اور معاشرتی امتیازات سے وابستگی اور اپنے ملی وجود کی حفاظت کو اس سے کہیں بڑھ کر اہمیت دیتا ہے، وہ کسی دام پر اپنے ملی تشخص او راپنے امتیازات وشعائر سے دستبردارنہیں ہوسکتاچونکہ خوراک سے پیٹ اور پوشاک سے جسم کی حفاظت توہوسکتی ہےلیکن ایک حقیقی مسلمان کے پاس اس کے پیٹ او رجسم کے ان تقاضوں اور ان مادی ضرورتوں کے علاوہ بھی ایک اہم چیز اور بھی ہے، وہ ہے اس کاد ین اور ایمان ۔
مسلمان بھوکا تو رہ سکتا ہےلیکن وہ اپنی تہذیبی خصوصیات سے دستبردار نہیں ہوسکتا، اگروہ اس دین میں رہے گا تو اپنی ان تمام خصوصیات کے ساتھ ،آج پوری دنیامیں مسلمانوں کو بحیثیت ایک ملت کے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، آج ہمارا دشمن ہمارے ملی وجود اور تہذیبی خصوصیات کو چن چن کر ختم کرنے پر تلا ہوا ہے، اگر آج اسلام اپنی تمام خصوصیات وامتیازات کے ساتھ نظر آرہا ہے، تو وہ انھیں مدارسِ عربیہ کے زیر احسا نشہر شہر گلی گلی قریہ قریہ چھوٹی بڑی کچی پکی جو مساجد آباد نظر آرہی ہیںمختلف تحریکوں کی شکل میں مسلمانوں کی اخلاقی واعتمادی اور معاشی اصلاح کا جو جال ہرسمت بچھا ہوا ہےیا کسی بھی جگہ دین کا شعلہ یا اس کی تھوڑی سی رمق اور چنگاری سلگتی ہوئی نظر آرہی ہے وہ انھیں مدارس کا فیض اثر ہے، اگر ان مدارس کا وجود نہ ہوتا تو آج ہم موجود ہوتے لیکن بحیثیت مسلم نہیںبلکہ ان حیوان نما انسان کے ان تمام درندہ صفت خصوصیات کیساتھ۔روسی انقلاب کا واقعہہم کو یاد ہوگااندلس کی بربادی کا قصہ بھی ہم نے سنا ہوگاکہ کس طرح اندلس جیسے اسلامی ملک کی تباہی و بربادی ہوئی کہ ستر ۷۰سال تک قرآن پڑھنا تو درکنار اگر کوئی نبی کا نام بتا دیتا تو پھانسی، کوئی سلام کردیتا تو پھانسی، کوئی نماز پڑھتا ہوا دکھائی دیتا تو پھانسی، چھوٹے بچوں کو اللہ اور اس کےمحبوب رسولﷺ اور قرآن و حدیث کا نام تک نہیں بتا سکتے تھے شوہرکو بیوی اور بیوی کو شوہر پر اعتماد نہیں تھا، گھروں میں شراب کا ٹیبل ،ننگی و عریاں تصاویر کا ہونا ضروری تھا، داڑھی رکھنا جرم عظیم تھا عورتوں کے لئے پردہ کرنا حرام تھا ،کسی بھی دینی کتاب کا رکھنا تختہ مشق بن جانے کا سبب تھا ،مساجد ویران، مدارس خراب ،مکاتب بند، کتب خانے نذرآتش، قرآن کی بے حرمتی، شرفاء کو ذلیل ،فضلاء کو رسوا، علماء کا قتل عام حتیٰ کہ زبردستی عیسائی رنگ میں رنگ کر ایمان و اسلام کا آخری قطرۂ خون تک نچوڑ لیا گیا تھا، قرطبہ کی وسیع و عریض مسجد جوہزاروں ستونوں پر قائم و دائم ہے برسوں سے اذان و نام خدا سے نا آشنا قلعۃ الحمراء والاخویتن ویران ، محلوں کے عربی نام کو بگاڑ کر انگریزی نام رکھ دیئے گئے،صحابۂ کرام اور خدا مستوں کے سجدے کا نشان اور ان کی یادیں سب مٹادی گئیں ۔ مگر !قرآن و حدیث آج بھی اسی آن بان و شان سے زندہ و جاوید ہے ۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ علماء نے دین کی حفاظت کے لئے نہ جانے کیسی کیسی صعوبتیں برداشت کیں ، ان اسلام دشمن لوگوں سے بچ بچا کر اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے تہہ خانے میں روئی کا سائونڈ پروف مکان بناکر مدارس قائم کئے، اور مسلمانوں کے نونہالوں کوقرآن و حدیث سے روشناس کرانے کے لئے تن من دھن کی بازی لگاکر دنیا والوں کو باور کرادیا کہ
نقش توحید کا ہر دل میں بٹھایا ہم نے
زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے
اگر آپ نہیں چاہتےاور ہرگز نہیں چاہ سکتے کہ اندلس جیسا معاملہ یہاں بھی ہواور خدا کرے کہ ایسا ہرگز ہرگز نہ ہو تو خدارا ان مدرسوں کو غنیمت جانیں اور اپنے عزیزجان اورذہین و فطین اور زیر ک و ہوشیار معصوم نو نہالوں کو مدارس میں داخل کروائیں اور اِن خرقہ پوشوں کی قدر دانی کریں ہممدارس اسلامیہ کا شجرۂ نسب جاننےکی کوشش کریں ،تاکہ مدارس پر کچھ بھی اظہارِ خیال سے پہلے ان کی بلند ی شان کو بھی سامنے رکھیں، پھر کچھ بولیں مدارس کی اہمیت وضرورت اور مسلم معاشرے پر ان کے احسانِ عظیم کا تذکرہ کرتے ہوئے، علامہ سید سلیمان ندویؒ رقم طراز ہیں”ہم کو یہ صاف کہنا ہے کہ عربی مدرسوں کی جتنی ضرورت آج ہے، کل جب ہندوستان کی دوسری شکل ہوگی اس سے بڑھ کر ہوگی، یہ ہندوستان میں اسلام کی بنیاد اور مرکز ہوں گے، لوگ آج کی طرح کل بھی عہدوں اور ملازمتوں کے پھیر اور اربابِ اقتدار کی چاپلوسی میں لگے ہوں گے اور یہی دیوانے آج کی طرح کل بھی ہوشیار رہیں گےاس لیے یہ مدارس جہاں بھی ہوں، جیسے بھی ہوں، ان کا سنبھالنا، اور چلانا مسلمانوں کا سب سے بڑا فریضہ ہے، اگر ان عربی مدرسوں کا کوئی دوسراہ فائدہ نہیں تو یہی کیا کم ہے کہ یہ غریب طبقوں میں مفت تعلیم کا ذریعہ ہیں، اور ان سے فائدہ اٹھا کر ہمارا غریب طبقہ کچھ اور اونچا ہوتا ہے اور اس کی اگلی نسل کچھ اور اونچی ہوتی ہے، اور یہی سلسلہ جاری رہتا ہے، غور کی نظر اس نکتہ کو پوری طرح کھول دے گی ۔حکیم الامت حضرت مولانا تھانویؒان مدارس کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں اس وقت مدارسِ علوم دینیہ کا وجود مسلمانوں کیلئے ایسی بڑی نعمت ہے کہ اس سے بڑھ کرتصورر نہیںکیاجاسکتا، دنیا میں اگر اسلام کے بقاء کی کوئی صورت ہے تو یہ مدارس ہیں۔حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ یوں فرماتے ہیںیہی مدارس تھے جنہوں نے مسلمانوں کے ایک طبقہ کو خواہ ان کی تعداد جتنی بھی کم ہے، اعتقادی واخلاقی گندگیوں سے پاک رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔مدارس دینیہ کا مقصد اصلی یہ ہے کہ ایک مسلمان ایمانی عقائد اور اسلامی شعائر کے ساتھ زندہ رہے ، اسلامی تہذیب و تمدن کے ساتھ زندگی گذارنے اسلاف اور بزرگوں کے کارنامے اس کیلئے مشعل راہ ہوں،چونکہ مدارس اسلامیہ مردم سازی اور رجال سازی کے کارخانے ہیں ، اسلئے اس کی افادیت اور ضرورت ہر ایک کیلئے یکساں ہے ،مدارس آپ کی تعلیمی ، تعمیری ، تربیتی ، سیاسی ، سماجی ہر ضرورت کو بلا تفریق علاقہ و رنگ و نسب پورا کرتے ہیں، اور پوری امت کیلئے بلکہ دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کے لئے لائحہ عمل تیار کرتے ہیں اور پوری ہمدردی دل سوزی اور خیر خواہی کے ساتھ ان تمام امور کو انجام دیتے ہیں ۔
اِسی دریا سے اٹھی ہے وہ موجِ تند جولاں بھی
نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہہ و بالا
مدارسِ اسلامیہ آپ کی پاک روحوں کو غذا پہنچاتے ہیں، کیونکہ جس طرح جسم کی پرورش کیلئے غذا کی ضرورت ہے اور حق تعالیٰ شانہ نے مٹی سے غذا پہنچانے کا انتظام کیا ہے کہ وہی اس کا مادہ ہے اسی طرح روح جو کہ عالم بالاسے آئی ہے ، اس لئے اس کی غذا بھی عالم بالاسے ہی ہونی چاہئے، روح کی غذا توحید و سنت کا اتباع ،قرآن کریم کی تلاوت ، ذکراللہ کا اہتمام ، روزِ جزاء کا استحضار ، گناہوں سے استغفار ہے۔ جو آپ کو مدارس اسلامیہ کے چپے چپے کونے کونے میں نظر آئے گی ۔حضرت اقدس مولاناسیدمحمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم صدر ’’آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ ‘‘ مدارس کے سلسلے میں فرماتے ہیں ہمارے مدارس جو ہیں انسان کی اصلاح کیلئے ،انسان کی تربیت کیلئےہیں،انسان کو صحیح انسان بنانے کیلئے ہیں،انسان کو اپنے پروردگار سے وابستہ کرنے کیلئےہیںکہ انسان یہ دیکھے کہ ہمارے پرور دگار نے ہمیں کیا حکم دیا ہے، مدارس اسلامیہ رحمت الٰہی کو کھینچنے والے مقناطیس ہیں، یہ مدارس دینیہ شیرین پانی کے بہتے ہوئے چشمے ہیں جتنا چاہو سیراب ہو جائو۔اور اپنی قسمت کو چمکالو۔۔ غور کیجئے کہ گذشتہ ڈیڑھ دو سو سال میں اسلام کے خلاف اس ملک میں جتنی یورشیں ہوئی ہیں ، ان کا مقابلہ کس نے کیا ہے ؟ جب ملک کی گلی کوچوں میں عیسائی مناد لوگوں کو دعوت ارتداد دے رہے تھے تو کس نے شہر شہر اور قریہ قریہ ان کا تعاقب کیا ؟جب آریہ سماجی تحریک اُٹھی اور اس نے افلاس زدہ جاہل و ناخواندہ مسلمانوں کو ہندو مذہب کی طرف لوٹنے کی دعوت دی تو کون لوگ تھے جو اس فتنہ کے مقابلہ میں سینہ سپر ہوئے ؟جب پنجاب سے انگریزوں کی شہ پر مرزا غلام احمد قادیانی نے ختم نبوت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو کون لوگ اس فتنۂ کبریٰ کے خلاف اُٹھے اور ہر سطح پر اس فتنہ کی بیخ کنی کا فریضہ انجام دیا ؟ جب کچھ لوگوں نے مستشرقین سے متاثر ہوکر حدیث نبوی کے حجت و دلیل ہونے کا انکار کیا تاکہ شریعت کا طوق اپنے گلے سے نکال پھینکا جاسکے تو کن لوگوں نے ان جھوٹے بازی گروں کی قلعی کھولی ؟اسلام کے خلاف مسلمان نوجوانوں کو کمیونزم کا نشہ پلایا گیا تو یہ کون لوگ تھے جنھوں نے پوری معقولیت کے ساتھ اس طوفان کا راستہ روکا ؟ اور جب مسلمانوں کے بچے کھچے شرعی قوانین کو بھی منسوخ کرنے کی سازشیں رچی جانے لگیں تو کن لوگوں نے تحفظ شریعت کی تحریک چلائی اور ان کالی گھٹاؤں کو اپنا رُخ بدلنے پر مجبور کیا ؟ یہ سب ان ہی بے نوا فقیروں اور ناسمجھ مسلمانوں کی تنقیدوں کا ہدف بننے والے طالبان علوم نبوت اورعلمائےکرام کا کارنامہ ہے ، سیاسی قائدین نے سیاسی فائدے اُٹھائے اور موقع و حال کے مطابق اپنے ضمیر کی تجارت بھی کی ، دانشور کہلانے والے حکومت کے اونچے عہدوں پر فائز المرام ہوکر اعلیٰ تنخواہیں وصول کرتے رہے اور جہاں حکومت نے ضرورت محسوس کی ان کی زبان سے اپنی باتیں کہلوائیں اور انھوں نے بھی بے تکلف حق نمک ادا کیا لیکن یہی دینی مدارس ہیں ، جنھوں نے مادی نقصانات کے باوجود اپنے کاز پر استقامت کی راہ اختیار کی ۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پہلی درس گاہ کو معیاری بنائیے

ازقلم: شیبا کوثر (آرہ، بہار) کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں درس گاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے