لاشوں کی قیادت

از: مدثراحمد، شیموگہ 9986437327

کہتے ہیں کہ یاجوج ماجوج ایک ایسی دیوار کو چاٹ رہے ہیں جو قیامت کے قریب ٹوٹ جائیگی اور یاجوج ماجوج اس دیوار سے باہر آکر عام لوگوں کے درمیان فساد برپا کرینگے۔ اس وقت یہی حالات مسلمانوں کے ہیں جو اپنے اپنے سیاسی آقائوں کے تلوے چاٹ رہے ہیں اور انکے تلوے چاٹو حرکت سے خود لیڈران تو پریشان ہیں ہی ساتھ ہی ساتھ امت مسلمہ کو شبہ ہورہا ہے کہ کیا یہ لوگ کبھی تلوےچاٹ کربھی لیڈربن پائینگے؟ ۔ ہردن نت نئے مسائل مسلمانوں کے سامنے ہیں اورہردن مسلمان مختلف پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں۔ انکی پریشانیوں کو دور کرنے کیلئے نہ تو مسلمانوں کے سیاسی وملی قائدین تیارہیں نہ ہی خود مسلمان اس فکر میں ہیں کہ کسی ایسے شخص کی تائید کی جائےجو مسلمانوں کی قیادت کرے اورانکے مسائل حل کرے۔ جس وقت بابری مسجد کی شہادت ہوئی تھی اس کے بعد ہندوستان کا ایک طبقہ یہ سمجھ رہا تھا کہ اب تو ہندوستان میں خیر نہیں ہے،کیونکہ مسلمانوں کا مقدس مقام اب شہید کردیا گیا ہے۔ لیکن کچھ علاقوں میں فسادات ہوئے پھر حالات معمول پر لوٹ آئے، 2002 میں گجرات میں فسادات ہوئے توسارے ملک میں مسلمانوں کو چھوڑ کر تمام قومیں اس ڈر اور وسوسے میں تھے کہ مسلمان اب انکے دینی بھائیوں کے قتل عام کا بدلالیں گے، لیکن مسلمانوں کے دینی بھائیوں نے جم کر مذمتی بیانات دئے،پھر اسکے بعد معاملات خاموش ہوگئے،کچھ سیاستدانوں نے آکر انہیں تسلی دلائی اورکہا کہ مسلمانوں کے قاتلوں کو بخشا نہیں جائیگا اورمسلمان خوش ہوگئے اور اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوگئے۔ جسٹس سچر کمیٹی نے رپورٹ بنائی کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی حالات دلتوں سے بدتر ہے اورانہیں فوری طور پر سماجی ، تعلیمی اور اقتصادی سہولیات فراہم کی جائے تاکہ وہ دوسرے مذاہب سے بہتر زندگی گذارسکیں، اس سفارش کے بعد ملک بھر میں خوب سیمینار ہوئے، جلسے ہوئے اورجسٹس سچر کی پذیرائی ہوئی، حکومتوں کی واہ واہی ہوئی پھر مسلمان خاموش ہوگئے۔ سفارشات طلب کرنے والی حکومت گئی، بات گئی اورمسلمان خاموش ہوگئے۔ پھر مسلم پرسنل لاء میں مداخلت شروع ہوئی، مسلمان تڑپ اٹھے بل بلا اٹھے ، دعائیں ہونے لگیں ، جلسے ہونے لگے ، احتجاج ہونے لگا ، پھر خاموش ہوگئے۔ مظفر نگر کے فسادات ہوئے، آسام کے فسادات ہوئے تو مسلمانوں کا ایک طبقہ اٹھ کھڑا ہوا ، مظلومین کی مدد کیلئے چادر بچھانے لگے، چندہ ہوا، چندہ پہنچایا گیا ، کچھ لوگوں کو فائدہ ہوا ، کچھ لوگوں کو نقصان ہو اپھر مسلمان خاموش ہوگئے۔ طلاق ثلاثہ پرآواز اٹھی، کشمیر سے لیکر کنیا کماری تک مسلمانوں سے سوال اٹھاکہ اب کیا ہوگا؟۔معاملہ ایوان میں پہنچا ، وہاں قانون منظور ہوا، پھر معاملہ عدالت پہنچا پھر مسلمان خاموش ہوئے۔ گائے کے نام پرمسلمانوں کا قتل عام ہوا تو محمد اخلاق کی بیوی کو کچھ پیسے ملے تو پہلو خان کے یتیموں کو ملنے کیلئے کچھ لوگ گئے، شائستہ انصاری کو لیکر کچھ لوگوں نےرام لیلا میدان میں احتجاج کیا پھر مسلمان خاموش ہوئے۔ اتر پردیش میں مسلمانوں کو انسداد گائوکشی کے نام پر حراساں کیا جانے لگا تو بڑے بڑے لیڈروں نے اس پر آواز اٹھائی، پھر ای ڈی کے چھاپے انکے گھروں پر مارے گئےتو یہ لوگ خاموش ہوگئے، پھرکچھ دن بعد این آرسی ، سی اے اے پر قانون بننے کی پہل ہوئی تو عام مسلمان بل بلااٹھے، قائدین نے موہن بھاگوت سے پس پردہ ملاقات کی اوراس ملاقات کو حکمت کا نام دیا ، تو کچھ قائدین نے یہ حکمت اپنانے کی بات کہی کہ اس معاملے میں عورتوں کو آگے رکھا جائے اورمرد انکے پیچھے رہ کر انکا ساتھ دیں، اورکچھ نے حکمت کی یہ بھی بات کہی کہ دلتوں اور دوسرے اقلیتوں کا سہارا لیا جائے،اسی حکمت میں مسلم قائدین خاموش ہوگئے۔ اب مسلم پرسنل لاء ، خلع، تین شادیاں ، شادی کی عمر، جائیداد جیسے معاملات میں بھی مداخلت ہورہی ہے مسلمان اب بھی خاموش ہیں، اب تو مرکزی حکومت نے باقاعدہ طور پر مسلمانوں کے بجٹ پر قینچی نہیں بلکہ توپ ہی چلا دیاہے۔ اب نہ مرکزی حکومت سے مسلمانوں کیلئے فنڈس مانگے جاسکتے ہیں اورنہ ہی مانگے والا کوئی مرد وہاں موجود ہے۔ اب ریاستوں نے بھی یہی طرز عمل اپنانا شروع کیا ہے۔ہم دیکھ رہیں کہ کس طرح سے ریاستوں نے بجٹ میں تخفیف کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔لیکن ان تمام مدعوں پر کوئی بات کرنے والانہیں ہے۔ سوچئے کہ اسوقت زیر تعلیم طلباء کو حکومتیں تعلیمی قرضہ جات کی ادائیگی نہیں کرتی ہیں تو یہ طلباء کیسے تعلیم حاصل کرینگے ، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ حکومت سے بے خوف ونڈر ہوکر کون بات کریگا؟۔ کیونکہ جس قوم کا بڑا حصہ مردانہ کمزوری میں مبتلاء ہو اور جس قوم میں ہرشخص مردانہ کمزوری دور کرنے کیلئے حلوے بانٹ رہا ہوتو وہ قوم تعلیم وترقی کے میدان میں، حق کی آواز اٹھانے میں کونسے مجاہد پیدا کریگی؟۔ جس قوم کے علماء ودانشوران قوم کے مستقبل کو پتھروں، نگینوں، ہتھیلیوں وموئکلوں کے ذمہ میں چھوڑ دیگی وہ قوم کیسے نڈر وبے باک ہوکر میدان کار میں حق کیلئے آواز اٹھائیگی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری قوم کے وہ لوگ جنہیں ہم نے اپنا قائد اور اپنا لیڈر تسلیم کیا ہے وہ صرف اورصرف اپنی ذات کی بہتری اوراپنے بچوں کے مستقبل کیلئے زندگی گذاری ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک بہت ہی خوبصورت جملہ کہا تھاجس میں امت مسلمہ کا آئینہ دکھ رہا ہے۔ مولانا ابولکلام آزاد نے کہا کہ ” اگر تم صرف اپنےلئے زندہ ہوتو اسکا مطلب یہی ہے کہ تم اپنی قوم کیلئے زندہ لاش ہو”۔ اورحقیقت یہی ہے کہ ہم اس وقت زندہ لاشوں کی قیادت میں زندگیاں گذاررہے ہیں، چند ہی دنوں میں کرناٹک میں بجٹ پیش کیا جانے والاہے، اس بجٹ میں مسلمان قبروں ومزاروں کیلئے نہیں بلکہ کالجوں میں زیر تعلیم طلباء کے اخراجات کیلئے اورفیس کیلئے قرضوں کا مطالبہ کریں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے