خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی دینی خدمات

ازقلم: محمد نیاز حنفی
متعلم جامعہ حنفیہ رضویہ مانک پور شریف کنڈہ پرتاپ گڑھ یو۔پی۔

         سَرزمینِ ہِندمیں جہاں عرصۂ دراز سے کفر و شرک کا دَوْر دَوْرَہ  تھا ، اور ظُلْم و جَوْر کی فَضا قائم  تھی اور لوگ اَخلاق و کِردار کی  پستی کا شِکار تھے۔ اِس خطّے کے لوگوں کو نورِ  ہدایت سے روشناس کروانے ، ظُلْم وسِتَم سے نجات دلانے اور لوگوں کے عقائد و اَعمال کی اِصلاح کرنے والے بُزرگانِ دین  میں حضرت خواجہ مُعینُ الدِّین سیّد حَسَن چشتی اَجمیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا اِسمِ گرامی بہت نُمایاں ہے۔ آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی وِلادت537ھ بمطابق 1142ء کو  سِجِسْتان یا سِیْسْتان کے علاقے سَنْجَر میں ایک پاکیزہ اور علمی گھرانے میں ہوئی۔ (اقتباس الانوار ، ص345 ، ملخصاً)آپ کا اسمِ گرامی حسن ہے  اور آپ نَجِیبُ  الطَّرَفَیْن سیِّد ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کےمشہور اَلقابات میں مُعینُ الدّین ، غریب نواز ، سلطانُ الہِنْد اور عطائے رسول  شامل ہیں۔ (معین الہند حضرت خواجہ  معین الدین  اجمیری ، ص18 ملخصاً) حُصُولِ عِلْم کے لئے آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے شام ، بغداد اور کِرمان  وغیرہ کا سفر بھی اِختیار فرمایا نیز کثیر بزرگانِ دین سے اِکْتِسابِ فیض کیاجن میں آپ کے پیر و مُرشِد حضرت خواجہ عثمان ہارْوَنی اور پیرانِ پیرحُضُور غوثِ پاک حضرت شیخ  سیِّدعبدالقادِرجیلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہما کے اَسماء قابلِ ذِکْر ہیں۔ زیارتِ حَرَمَیْن کے دوران بارگاہِ رِسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے آپ کو ہند کی وِلایت عطا ہوئی اور وہاں دین کی خدمت  بجا لانے کا حکم ملا۔ (سیر الاقطاب ، ص142 ، ملخصاً) چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سرزمینِ ہِند تشریف لائے اور اَجمیر شریف (راجِستھان) کو اپنا مُسْتَقِل مسکن بناتے ہوئے دینِ اسلام  کی تَرْوِیج و اِشَاعَت کا  آغاز فرمایا۔ خواجہ غریب نواز  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی دینی خدمات میں سب سے اَہَم کارنامہ یہ ہے کہ آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے   اپنے اَخْلاق ، کِرْدَار اور گُفْتَار سے اس خطّے میں  اسلام کا بول بالا فرمایا ۔ لاکھوں لوگ آپ کی نگاہِ فیض سے متاثّر ہو کر کفر کی اندھیریوں سے نکل  کر اسلام کے نور میں داخل ہو گئے ، یہاں تک کہ  جادوگر سادھو رام ، سادو اَجے پال اور حاکم سبزوار جیسے  ظالم و سَرْکَش بھی آپ کے حلقۂ اِرادت(مریدوں) میں شامل ہو گئے۔ (معین الہند حضرت  خواجہ معین الدین  اجمیری ، ص56ملخصاً) ہِندمیں خواجہ غریب نواز  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی آمد ایک زبردست  اسلامی ، روحانی اور سماجی اِنقلاب کا پَیْش خَیْمَہ ثابت ہوئی۔ خواجہ غریب نواز ہی کے طُفیل ہِند میں سِلسِلۂ چِشتیہ کا آغازہوا۔ (تاریخ مشائخ چشت ، ص136) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اِصلاح  و تبلیغ  کے  ذریعے تَلَامِذَہ و خُلَفَا کی  ایسی جماعت تیار کی جس  نےبَرِّ عظیم(پاک وہند) کے کونے کونے میں خدمتِ دین کا  عظیم فَرِیْضہ سَرْ اَنْجَام دیا۔ دِہلی میں آپ کے خلیفہ حضرت شیخ  قُطْبُ الدِّین بَخْتیار کاکی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَا قِی   نے اور ناگور میں قاضی حمیدُ الدِّین ناگوری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے خدمتِ دین کے فرائض سَر اَنْجَام  دئیے۔ (تاریخ مشائخ  چشت ، ص139 تا 142ملخصاً)خواجہ غریب نواز  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے اس مِشَنْ کو عُرُوْج تک پہنچانے میں  آپ کے خُلَفَا کے خُلَفَانے بھی بھر پور حصّہ ملایا ، حضرت بابا فرید  گَنْجِ شَکَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے پاکپتن کو ، شیخ جمالُ الدِّین ہَانْسْوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ہَانْسی کو  اور شیخ نِظامُ الدِّین اَوْلِیا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے دِہلی کو مرکز بنا کر اِصلاح وتبلیغ کی خدمت سَرْ اَنْجَام دی۔ (تاریخ مشائخ  چشت ، ص 147 تا 156 ملخصاً) خواجہ غریب نواز  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے تحریر و تصنیف  کے ذریعے بھی اِشاعتِ دین اور   مخلوقِ خدا کی اِصلاح  کا فریضہ سر اَنجام دیا۔ آپ کی تصانیف میں اَنِیْسُ الاَرْوَاح ، کَشْفُ الاَسْرَار ، گَنْجُ الاَسْرَار اور دیوانِ مُعِیْن  کا تذکرہ ملتا ہے۔ (معین الہند حضرت  خواجہ معین الدین  اجمیری ، ص103ملخصاً) خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نےتقریباً45 سال سر زمینِ ہِند پر دینِ اِسْلام کی  خدمت سَرْاَنْجَام دی اور ہِند کےظُلْمت کَدے میں اسلام کا اُجالا پھیلایا۔ آپ کا وِصال 6رجب627ھ کو اَجمیرشریف(راجِستھان ، ہند) میں ہوااور یہیں مزارشریف بنا۔ آج برِّ عظیم پاک و ہِند میں ایمان واسلام کی جو بہار نظر آرہی ہے اِس  میں حضرت خواجہ غریب نواز  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی  سعی بے مثال کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دین کی تبلیغ میں سلطان الہند کا داعیانہ پہلو

تحریر: سبطین رضا مصباحیکشن گنج بہارریسرچ اسکالر البرکات انسی ٹیوٹ علی گڑھ اسلام کی تبلیغ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے