حسد ایک نفسیاتی مرض

ازقلم: قمر رضا
نورچك عرف نوچا سیتا مڑھی۔ بہار

ومن شر حاسد اذا حسد
اور حسد کرنے والے کے شر سے بچے جب وہ حسد کرنے
حسد کا مطلب کسی دوسرے کی خوش حالی پر جلنا اور آرزو کرنا کہ اس کی نعمت اور خوشحالی دور ہوکر اسے مل جائے ؛
و من شر حاسد اذا حسد ( الفلق 5)
اس آیت مبارکہ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حاسد کے شر سے پناہ مانگو ؛ بلکہ اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ
حاسد کے شر سے پناہ مانگو جب وہ حسد کرنے لگے ؛
کیونکہ جب تک اس کا حسد ظاہر نہیں ہوتا تب تک وہ ایک قلبی و فکری بیماری ہے جس کا تعلق حاسد کی ذات سے ہے اور یہ درجہ محسوس کے حق میں نقصان دہ نہیں ہے

قرآن کریم میں مختلف مقامات پر آیات وارد ہوئی ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے حسد کا ذکر کیا ہے ان آیات سے حسد کا معنیٰ اور زیادہ واضح ہو جائے گا

حسد امن عند انفسھم۔ ( البقرۃ 109)
اپنے قلوب میں حسد کی وجہ سے
ام یحسدون الناس علی ما اتھم اللہ من فضلہ۔( النساء 52)
کیا وہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا کیا ہے
فسیقولون بل تحسدوننا۔ ( الفتح 15 )
پس عنقریب وہ کہینگے بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو
مذکورہ بالا آیات میں حسد کی بات کی گئی ہے جو دلوں تک محدود رہتا ہے اور کینہ و بغض کی شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے

لیکن سورہ فلق میں اذا حسد کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ جب وہ حسد کا علمی مظاہرہ کرنے لگے۔
حسد کی مذمت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف احادیث مروی ہیں
مثلا
حدیث شریف ۔ کسی شخص کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتا
( سنن نسائی ۲۹۱۲)
تمہاری طرف پچھلی قوموں کی برائیاں حسد اور بغض سرایت کرائیں گی جو مونڈ ڈالیں گی میں نہیں کہتا کہ یہ بالوں کو مونڈ دینگی بلکہ یہ دین کو مونڈ دینگی۔ سنن ترمذی 251

آج ہم دیکھتے ہیں کہ علماء اور دیندار لوگوں میں ایک دوسرے کے لئے حسد پایا جاتا ہے حالانکہ اپنے علم دین کی وجہ سے اُن کے اخلاق اعلیٰ اور ظرف کشادہ ہونے چاہیے اُنہیں ایک دوسرے کی نیکیوں پر رشک کرنا چاہیے اور نیکیوں میں مسابقت کا جزبہ پیدا کرنا چاہیے نہ کہ ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنے کا

علمائے حق آج بھی ایک دوسرے سے حسد نہیں کرتے کیونکہ ان کا مقصد جب الٰہی و رضائے الٰہی کا حصول ہوتا ہے اس لیے وہ کسی کو اپنے سے آگے بڑھ تا دیکھے تو خوش ہوتے ہیں ، اس کی جڑیں کھو کھلی کرنے کے بجاے دستِ بازو بن جاتے ہیں
انسان کا ایمان و دین اس کے تقویٰ، اخلاص و کردار سے جانا جاتا ہے اور حاسد میں یہ خوبیاں نہیں ہوتیں
کیونکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے
اس وقت تک لوگ خیر سے رہینگے جب تک ایک دوسرے سے حسد نہ کریں گے ( الترغیب والترہیب۵۴۷/۳)
حسد سے محفوظ رہنے کی تدابیر

اگر کوئی آپ سے جلن و حسد کرے تو۔۔
اللہ پر مکمل اعتماد رکھیں اور گھبراہٹ کا مظاہر ہ نہ کریں۔ عقیدہ اہل سنت والجماعت پر ثابت قدم رہیں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جب تک اللہ نہ چاہے گا کوئی آپ سے کچھ نہیں چھین سکتا
اللھم لا مانع لما ءاعطیت ولا معطی لما منعت صحیح بخاری۔ 4415
ترجمہ یا اللہ ۔ اس چیز کو کوئی نہیں روک سکتا جو تو دے اور کوئی نہیں اس کو دے سکتا جسے تو روکے لے
دو آدمی قابل تعریف ہیں ایک وہ جس کو اللہ نے قرآن مجید دیا ہو اور وہ راتوں کو بھی اس کی تلاوت کرتا ہو اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ روز و شب راہ خدا میں خرچ کرتا ہو (صحیح بخا ری 525)
امام جعفر صادق فرماتے ہیں حاسد کی حالت یہ ہوتی ہیں کہ وہ محسود ( یعنی جس سے حسد کرتا ہے) اس کو نقصان پہچانے سے پہلے اپنے آپ کو نقصان پہچا لیتا ہے
اللہ رب العزت ہمیں اس نا سور سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے