عدل اور انصاف کیا مسلمانوں کے درمیان موجود ہے؟

تحریر: حسیب الحق
عالم گنج مین روڈپٹنہ۔9308088077

ایک دن اچانک میرے سب سے چھوٹے بیٹے کا فون آیا،پاپا میرے لئے ایک اچھا سا بیلٹ لیتے آئیے گا،پھر مجھ کو یاد آیا میرے دوسرے بیٹے نے بھی چند دن پہلے ایک بیلٹ لانے کے لئے کہا تھا،لیکن میرے ذہن سے نکل گیا تھا،لیکن چھوٹے بیٹے کے فون نے مجھ کو بیلٹ لینے پر مجبور کیا،خیر میں بیلٹ لینے کے لئے دوکان پر گیا۔دوکان دار نے کئی طرح کا بیلٹ مجھ کو دکھایا،میرے ساتھ ایک ساتھی بھی تھے،مجھ کو اپنے دونوں بیٹوں کے لئے بیلٹ لینا تھا،میرے ساتھی نے کہا کہ لیدر والا بیلٹ بہت مجبوت اورسالوں تک چلنے والا ہوتا ہے۔لیدر والا بیلٹ قیمتی تھا،دوسرا بیلٹ اس کے آدھے سے بھی کم قیمت کاتھا،میں نے سونچا ایک بیٹے کے لئے لیدر والا بیلٹ خرید لیں،دوسرے بیٹے کے لئے کم دام والا بیلٹ خریدے۔لیکن اچانک میرے دل میں یہ خیال آیا،کہ ہر جمعہ کے خطبہ میں یہ آیت تلاوت کی جاتی ہے،
بے شک اللہ تعالیٰ عدل اور احسان کا حکم کرتاہے ،اور قرابت داروں کو دینے کا،اور فحش اور منکر اور بغاوت سے منع فرماتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو(آیت ۔89،پارہ۔14)
ہمارے استاذ اور بڑے بھائی سید شاہ ڈاکٹر مظفر بلخی ندوی (صاحب سجادہ خانقاہ فردوسیہ رائے پورہ فتوحہ،مسکن عالم گنج مین روڈ پٹنہ)مجھ کو عربی زبان کی تعلیم دی اور معروف طریقے سے قرآن پڑھنا سکھایا،اب جو کوئی امام صاحب قرآن کریم کی آیات تلاوت کرتے ہیں اس کے معنی اور مطالب سمجھ میں آجاتے ہیں۔ہر جمعہ کو خطیب اس آیت پر آتا ہے،ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان، اللہ پاک خود حکم دیتا ہے عدل کرو،یہ فعل امر ہے۔جوحکم کو واجب کرتا ہے۔عدل کیا ہے،عام طور پر لوگ اس کے معنی برابری کے لیتے ہیں،لیکن عدل میں کئی چیزیں پنہاں ہیں۔جیسے ناپنے کا باٹ،کپڑا ناپنے کامیڑ،عدل میں کلمہ طیبہ بھی ہے،عدل بیبیوں کے مابین بھی ہے،عدل یہ بھی ہے کہ چور کا ہاتھ کانٹا جائے،زانی کو سنگسار کیا جائے،عدل یہ بھی ہے کہ سچی گواہی دی جائے،عدل یہ ہے کہ ہم اپنے ماں باپ سے حسن سلوک کریں،عدل یہ بھی ہے کہ جس جس نے ہمارے ساتھ حسن سلوک کیا ان سبھوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے،آنکھ اور جسم کے ساتھ عدل یہ ہے کہ انہیں آرام بھی دیا جائے،ان تمام عدول میں سب سے اوّل عدل کے حق دار ہماری اولادیں ہیں۔جس دین میں اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل کا حکم ہے(مزید مطالعہ سورہ المائدہ۔آیت۔2 ملاحظہ فرمائیں)وہ دین اپنے اولاد کے ساتھ عدل وانصاف کے لئے کس قدر سخت ہوگا۔اپنے اولاد کے عدل کے متعلق حدیث شریف میں یہ حکم وارد ہے۔انصاف کرو اپنے اولاد کے درمیان حبہ کے بارے میں(اعدلو بین الاولادکم فی الحبۃ۔باب الحبۃ للولد،الحدیث ۔اوکما قال ﷺ)
اس حدیث میں بھی فعل امر ہے۔اپنے بعض لڑکوں کو کوئی چیز حبہ کیا جائے تو وہ جائز نہیں ہوگا۔ایسے حبہ پر گواہ ہونا بھی ظلم ہے۔حدیث شریف میں منقول ہے کہ !میرے والد نے مجھے ایک عطیہ دیا توعمرہ ؓبنت رواہ(نعمان کی والدہ) نے کہاجب تک آپ رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ نہ بنائیں گے میں راضی نہیں ہوسکتی،چناچہ حضرت نعمان ؓ کے والد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے،انہوں نے عرض کیامیں نے ایک بیٹے کو عطیہ دیا ہے،میں اس پر آپ ﷺ کو گواہ بنالوں،آپ ﷺ نے دریافت فرمایا،کیا اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کودیا ہے؟انہوں نے کہا نہیں!اس پر آپ ﷺ نے فرمایاکہ اللہ سے ڈرو،اپنی اولاد کے درمیان انصاف قائم رکھو،چناچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لیا(اوکما قال ﷺحدیث نمبر۔2587،بروایت سیدنا نعمان ابن بشیر ؓ)معلوم ہوا اولاد کے لئے حبہ یا عطیہ کے سلسلے میںانصاف ہے۔جو دیا جائے گا سب کوبرابر دیا جائے گا،ورنہ وہ فعل ،ظلم ہوگا۔ابن حبان طبرانی کی روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا،میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا(اوکما قال ﷺ)
اما م احمد ابن حنبلؒ کا یہی قول ہے کہ اولاد میں عدل واجب ہے۔ایک کو دوسرے سے زیادہ دینا حرام ہے۔بعض مالکیہ کے نذدیک ایسا حبہ ہی باطل ہے۔امام احمد ؒفرماتے ہیں کہ اس پر رجوع واجب ہے۔جمہور کا قول یہ ہے کہ حبہ کرنے سب اولاد کے درمیان انصاف واجب ہے۔ان احادیث اور قرآن پاک کے احکامات سے بات واضح ہوتی ہے کہ اولاد کے درمیان عدل واجب ہے۔اب سوال یہ ہے کہ عدل کے نظام پر عمل کہاں سے شروع کیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح سے دعوت اور تبلیغ کا کام گھر سے شروع کیا جاتا ہے،اسی طرح گھر ہی سے یہ عمل شروع کیا جائے گا۔سب سے قبل اگر آپ کے پاس دو بی بی ہے،تو دونوں بی بی کے درمیان انصاف کیا جائے گا۔خرچ میں برابری،عورتوں کے پاس وقت دینے میں برابری،زمین ،جائداد ،سونا ،چاندی ،حتیٰ کہ محبت میں بھی برابری۔پھر اس کے بعد اوالاد کے درمیان میں عدل اور انصاف،اسکول کی پڑھائی میں برابری،اگر آپ نے کسی بیٹے کے پڑھائی کے سلسلے میں 50 لاکھ خرچ کیا ہے تو دوسرے بیٹے کو بھی 50 لاکھ دینا ہوگا۔سوناچاندی دینے میں برابری،پیسہ دینے میں برابری،جوتا اور موزا میں بھی برابری،یہاں تک کہ پیار اور محبت میں بھی برابری واجب ہے۔کسی اولاد کو25 ہزار کا Mobile دلا دیا تو کسی کو صرف 1500 یا 2000 کا ہی۔یہ بھی نا انصافی ہے۔ جو انسان اپنی اولاد میں انصاف سے کام نہیں لے سکتاایسے ماں باپ قرآن و حدیث کی روشنی میں ظالم ہیں(سورہ المائدہ۔آیت۔45)
عدل کی ضد ظلم ہے،جہاں عدل نہیں ہوگا وہاں ظلم ہوگا۔اب آپ اپنے معاشرے کا جائزہ لیجئے،شائد ہی کسی گھر میں اسلام کے عدل کا نظام عملاََقائم ہوگا۔صرف تقریریں اور تحریریں ہے۔آپ ذرا غور کریں ،جو انسان اپنے بیٹوں،بیٹیوں میں عدل اور انصاف قائم نہیں کر سکتا تو ایسا انسان جب جج بنے گا تو کیسے انصاف کرے گا؟اگر ایسا انسان پولس بنے گا تو کیسے انصاف کرے گا؟ایسا انسان امیر،مفتی،قاضی ،خانقاہ کا پیربنے گا تو کیسے انصاف کرے گا؟ایسا آدمی وزیر یا وزیر اعظم بنے گا تو کیسے انصاف کرے گا؟ایسا آدمی اگر کسی مدرسے یا مسجد کاخازن ہوگا تو پھر وہ امانت کی رکھوالی کیسے کرے گا؟
میں ایک ایسی مسجد کے سیکریٹری حاجی اور نمازی کو جانتا ہوں،جن کا بیٹا ان کو گالی دیتا ہے۔بیٹابھی حاجی ہے۔بیٹے کا کہنا ہے کہ میرے والد نے انصاف سے کام نہیں لیا۔پٹنہ شہر کے ایک مشہور عالم صاحب تھے ،جو اپنے ایک بیٹے کو کپوت اور دوسرے بیٹے کو سپوت کہتے تھے۔جو بیٹا نالائق تھا وہ عالم صاحب کا چہیتا تھا۔عدل اور ظلم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔جیسے دن اور رات ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔دن ہے تو اجالا ہے رات ہے تو تاریکی ہے۔عدل ہے تو محبت ہے،بھائی چارہ ہے ،غم خواری ہے،اخوت،الفت،اتحاد،اتفاق،فتح،نصرت،اقبال مندی ،سعادت مندی،دانش مندی،ہے۔ظلم ہے تو نفرت، عداوت ،کبر وغرور،رعونت،فرعونیت،تفرقہ،شریعت کی پامالی،لوگوں کا مال غصب کرلینا،لوگوں کی عزتوں کو پامال کرنا،لوگوں کا ناحق خون کرنا ہے۔
جس گھر کا باپ عادل ہوگا ،اس کے گھروں میں محبت، اخوت ،اتحاد اور بھائی چارہ ہوگا،جس گھر میں باپ ہی نا انصافی کرنے والا ظالم ہوگا،وہاں نفرت،عداوت،شکایت،بدگوئی،گالی گلوچ ہی ہوگا۔جس گھر میں بھی آپس میں عداوت و دشمنی ہوتی ہے اس کے ذمے دار والد ہی ہوتے ہیں۔چونکہ اس نے قرآن وحدیث کی باتوں کو پس پشت ڈال دیا۔
اللہ تعالیٰ قرآن پاک میںارشاد فرماتا ہے ،جو قرآن کے احکامات کی نافرمانی کرتا ہے وہی ظالم ہے۔ظالم کون لوگ ہیں؟ کیا صرف کافر ہی ہیں یا ہم مسلمان بھی؟
جو حکم شریعت اسلامیہ کا واضح الفاظ میں کتاب اللہ میں نازل ہوا ہے،جو کوئی شریعت اسلام کے احکام کو نا مانے وہ ظالم ہے۔ظلم کا بھی ایک پیمانہ ہے۔جیسے کسی نے اپنے بھائی کو ایک تھپر ناحق مارا،یہ ایک ظلم ہوا،اب یہ کہ ایک انسان نے کسی کا ہاتھ پیر توڑدیا،یا آنکھ پھوڑ دیا ،یا کسی کامال لوٹ لیا،یا کسی نے ایک سیب چرالیا ،کیا یہ سب ظلم برابر ہے۔ایک تھپر ناحق مارنا چھوٹا ظلم ہے۔لیکن قتل ناحق کرنا،ظلم عظیم ہے۔ اولاد اپنا ہی عکس ہوتا ہے۔جو انسان اپنے ہی عکس اولاد کے ساتھ ظلم کرے،وہ دنیامیں کس کے ساتھ عدل کرے گا۔اب آپ تصور کریں،جب آپ اپنے بچے کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں،تو اولاد پر کیا گزرتی ہوگی۔کبھی آپ بھی کسی کے اولاد رہے ہوں گے،جب آپ کے والد نے آپ کے بھائی کواس کے پسند کا کپڑا یا دوسری چیز دیا ہو،اور آپ کو وہ چیز نہیں ملی ہو،اسی وقت احساس ہوتا ہے۔میرے والد مجھ سے زیادہ میرے بھائی کو چاہتے ہیں۔دل میں مایوسی ہوتی ہے۔یہ تمنا ہوتی ہے کہ کاش میرے والد ویسا ہی کپڑامجھ کو بھی دلا دیتے،تو کتنی خوشی ہوتی۔یہ احساسِ مایوسی بتا رہی ہے کہ اس کے ساتھ عدل نہیں ہوا ہے۔یہ تو ایک معمولی چیز ہے۔اگر آپ نے دوکان میں ،مکان میں،سونے میں ،چاندی میں،پیسے میںبھی کسی اولاد کو زیادہ دیا اور کسی کو کم دیا،تو آپ نے اپنے ہی اوپر ظلم کیا۔کیوں کہ آپ نے اپنے گھر میں ظلم اور ناانصافی کی ابتدا کردی۔جب باپ ہی عدل نہیں کرے گا تو اولادمیں انصاف کہاں سے آئے گا؟اس نا انصافی کی وجہ سے خاندان میں ،بغض،عداوت،نفرت اور کینا شروع ہوجاتا ہے۔آپ نے دیکھا ہوگا،بھائی کا بھائی سے بات چیت بند ہے،بہن بھائی کو دیکھنا نہیں چاہتی،اس ناانصافی کی وجہ سے باپ کی زندگی ہی میں بھائیوں میں مارپیٹ شروع ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ معاملات قتل وغارت گیری تک پہنچ جاتے ہیں۔آنے والے دنوں میں یہ ہوتا ہے کہ جس بیٹے کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے،وہ باپ سے الگ ہو جاتاہے۔جورہ جاتا ہے،وہ ناجائز طریقے سے مال لینے کی وجہ سے بے مروت اور بے حس ہوجاتاہے۔اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ اپنی بی بی کے نرغے میں چلاجاتا ہے۔پھر باپ کی جو ذلت وخواری اور پستی ہوتی ہے،ہر کوئی واقف ہے۔یہ صرف ناانصافی کی وجہ سے ہوتی ہے۔فیصلہ آ پ کو یعنی والد کو کرنا ہے۔آپ اپنے پیچھے کیسی نسل چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں؟ظلم وستم قتل وغارت گری پر مبنی فرزند یا عدل اور راہ حق پر قائم اور دائم اولادیں؟
سورہ یوسف کا آپ نے اگر مطالعہ کیا ہوگا،توتمام بیٹوں کے درمیان سیدنا یعقوب علیہ السلام نے انصاف قائم کیا،لیکن سیدنا یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو یہ احساس ہو ا کہ میرے ابا یوسفؑ کو ہم لوگوں سے زیادہ چاہتے ہیں۔یہی وجہ عداوت بنی۔ سیدنا یعقوب ؑ نے سارے معاملات میں برابری کی لیکن آپ ؑ سیدنا یوسفؑ کو نبی ؑ ہونے کی بنا پر زیادہ چاہتے تھے،صرف اس تفرقۂ محبت کی بنیاد پر سیدنا یوسفؑ کے بھائیوں نے اپنے دانستہ قتل کی کوشش کی۔
محبت ایسی شئے ہے جو فطری ہوتی ہے۔جیسے ہمارے نبی ﷺ کو اماں عائشہ صدیقہ ؓ سے زیادہ محبت تھی،اس کے لئے آپ ﷺ نے اللہ سے استغفار کیا(جیسا کی سیرت کے کتب میں درج ہے،لیکن ہماری کسی بھی اماں کو اس پر اعتراض نہیں تھا،معاذاللہ صد بار معاذ اللہ،یہ مثال صرف سمجھانے کے لئے ہے)اس لئے والدن کو اولاد سے محبت کے معاملے میں بھی انصاف سے کام لینا چاہئیے۔چنانچہ مال ،زمین ،مکان اور دوکان ،سونا اور چاندی،اولاد کے درمیان عدل وانصاف کے بنا تقسیم، بڑے سے بڑے فتنے کو پیدا کرتی ہے،جس کا اختتام ایک دوسرے کے قتل پر ہوتا ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

زندگی کا سفر

تحریر: ابوالمتبسِّم ایاز احمد عطاری، پاکستان بچہ پیدا ہوتا ہے ابتداء ماں کی گود میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے