موقع اور محل کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے قیادت کرنا، اکیسویں صدی کی اہم ضرورت ہے

تحریر: آبیناز جان علی
موریشس

۳ فروری ۱۲۰۲ء؁ کو ہونوریس ایجوکیشنل نیٹ ورک بیل ٹیر موریشس میں ایک ماسٹر کلاس کا انعقاد ہوا جس میں تقریباً پچیس لوگوں نے شرکت کی۔ اَن لرننگ لیب کی منیجنگ ڈائریکٹر محترمہ پریا بومی رگھو نے نہایت منفرد انداز میں سامعین کو اپنی معلومات سے محظوظ کیا۔ ماسٹر کلاس شام ساڑھے چھ بجے شروع ہوئی۔
اکیسویں صدی میں قائد کے کردارمیں مزید وسعت آئی ہے۔ آج کی پیشہ ورانہ دنیا زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔ اس لئے قیادت کے معاملے میں بھی اضافہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے نتیجہ میں ایک ادارے کے تمام اراکین میں ایسے اقدار رونما ہوجائیں گے جس سے ایک ادارہ نئے عروج تک پہنچ سکتا ہے اور آخرکار معاشرہ کو بھی اس سے فائدہ ہوگا۔
اعداد و شمارکے مطابق ۴۵ فی صد منیجراپنی قیادت میں صرف ایک طرح کا رویہ اپناتے ہیں۔ ۴۳ فی صد منیجر مجموعی طور پر قیادت کے دو مختلف طرز استعمال کرتے ہیں۔ ۱۱ فی صد تین طرح کے اسلوب اختیار کرتے ہیں اور صرف ۱ فی صد منیجر چار قسم کے اسلوب استعمال کرتے ہیں۔ ایک خراب قائد سے کمپنی کو کروڑوں کا نقصان ہوسکتا ہے۔ کام کا معیارزوال پذیر ہوتاہے۔ اگر قیادت بہتر طریقے سے کی جائے تو ۹ سے ۲۳ فی صد لوگ کمپنی چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ ایک کمپنی میں ملازمت کی دلچسپی برقرار رکھنے میں مالک کا ۰۷ فی صد ہاتھ ہے اور ملازم کا تیس فی صد ہاتھ ہے۔
جہاں تک قیادت کا تعلق ہے سب کے ساتھ ایک ہی طریقۂ کار اپنایا نہیں جاسکتا۔ مختلف موقع اور صورتِ حال کے مطابق قائد کو اپنے آپ کو بدلناہوگا۔ دوسروں کی ضرورت کے مطابق ان کی رہنمائی کی جانی چاہئے۔ تمام ملازمین کی صلاحیتیں یا کام کرنے کا جذبہ برابر نہیں ہے۔ کچھ لوگوں کو رہنمائی کی زیادہ ضرورت ہے اور کچھ لوگوں کو کم۔ کچھ لوگوں کو سہارے کی زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
موقع اور محل دیکھ کر رہنمائی کرنے سے زیادہ ترقی ہوتی ہے، کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ لوگ کام میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور مسائل کا جلدی حل نکالا جاسکتا ہے۔ جب قائد حالات کے مطالبات کو سمجھتے ہوئے لوگوں کی ضروریات پورا کرتا ہے توکام میں زیادہ کشش پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح ذاتی نشونما میں اضافہ ہوتا ہے اور کمپنی کا ماحول سازگار رہتا ہے۔
موقع کی نزاکت کومدِ نظر رکھتے ہوئے ایک قائد کمپنی کے اغراض ومقاصد طے کرتا ہے۔ وہ طے کرتا ہے کہ کام کو پورا ہونے میں کتنی مدت لگ سکتی ہے۔ کام کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ کام مکمل ہونے پرکون سانتیجہ برآمد کرنے کی امید ہے۔ قائد کو دیکھنا ہے کہ کیا اس کے ملازم کام کو پایئہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اتاولے ہیں۔ کیاطے شدہ نصب العین کوحقیقی جامہ پہنایا جاسکتا ہے۔ کیا وہ اغراض و مقاصد کمپنی کے مقاصد سے میل کھاتے ہیں؟ کامیابی کو کس طرح ناپا جاسکتا ہے؟
ملازم کو معمول سے ہٹ کر ایسے ماحول میں رکھنا ضروری ہے جس سے ان کی تربیت ہو۔ یہ بھی یاد رہے کہ ان کے لئے اچانک سب کچھ بدلنا بھی اچھا نہیں رہے گا۔ مالک کو دیکھنا ہے کہ کون سا ملازم کس کام میں اپنے ہنر کو بروئے کار لانے کی دلچسپی دکھا رہا ہے۔ کیاتمام ملازمین کام کی نوعیت کو سمجھتے ہیں اور اسے یاد رکھنے اور استعمال کرنے کے قابل ہیں۔ اس طرح کارکردگی اور نشونما کے مطابق عمدہ گفتگو سے مدد مل سکتی ہے۔
ایک کمپنی میں طرح طرح کے ملازم ہیں۔ کچھ نوآموز ہیں جو کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں لیکن انہیں طریقۂ کار پر مہارت یا تجربہ نہیں ہے۔ ایسے میں قائد کو ان میں صلاحیت پیدا کرنے میں مدد کرنی ہوگی اور ان کی رہنمائی کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ ایسے بھی ملازم ہیں جو کم صلاحیت رکھتے ہیں اور کام کرنے کا جذبہ بھی نہیں رکھتے۔ قائد کوایسے لوگوں میں نئی جان پھونکنے کی ضرورت ہے۔ ان سے روبرو ہوکر ان کے نظریہ اور توقعات سے واقفیت حاصل کریں۔ انہیں صبر و تحمل سے قائد کا نقطۂ نظر معلوم کرناہے۔ قائد کو ان کو سمجھنے کے بعد ان کو وہ دکھانا ہے جو وہ ابھی نہیں دیکھ پارہے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ملازم نہایت لائق فائق ہیں لیکن وہ کبھی کام سے دل لگاتے ہیں اور کبھی دل برداشتہ ہوجاتے ہیں۔ اس زمرے میں ملازم میں خود اعتمادی کی شمع کو پھر سے جلانے کی ضرورت ہے۔ قائد کا سہارا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے ملازم ہیں جن میں عمدہ صلاحیت موجود ہے اور وہ دل لگا کر کام کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کام کی ذمہ داری دی جاسکتی ہے کیونکہ وہ کمپنی کے اقدار میں چار چاند لگاتے ہیں۔ ان کو کبھی کبھی ہدایت کی ضرورت پڑے گی۔ ایسے خود مختار لوگوں کی صلاحیت سے مالک کو خوف زدہ نہیں ہونا ہے بلکہ خوش ہونا ہے کہ اس کی کمپنی میں لوگ خیر و خوبی سے کام کر رہے ہیں۔
ملازم کے کردار کو سمجھتے ہوئے ان کو مناسب رہنمائی دی جاسکتی ہے۔ مناسب تربیت اور رہنمائی سے کمپنی دوسرے معیار کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے۔ اگر قائد اپنے ملازم کو آگے جانے میں حوصلہ افزائی اور سہارا نہیں دے گا تو کمپنی کو اس کا خمیازہ بھرنا پڑے گا۔ منافع کم ہوگا۔ جب ملازم خودمختار ہوجاتے ہیں تو ترقی قدم چومتی ہے۔
سوال جواب کے دور ان پریا صاحبہ نے بتایا کہ جب کام کرنے کا دل نہ کرے تو غیر حاضر ہونا بہتر ہے۔ زندگی کے ہر لمحہ کو کھل کر جینا ضروری ہے۔ اگر ملازم اپنے قائدکے مطالبات سمجھنے سے قاصر ہے توبات چیت کے دوران قائدسے پوچھا جائے کہ مجھے فلاں کام کرنے میں مدد چاہئے۔ مجھے کیا کرنا ہے؟ اگر قائد پھر بھی بدلنے کو تیار نہیں تو کمپنی بدلنے کا وقت آگیا ہے۔ آپ کی شخصیت اس کمپنی کے لئے مناسب نہیں۔
ماسٹر کلاس ساڑھے سات بجے ختم ہوئی اور ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مسلم سیاسی پارٹی:مفید یا مضر ایک تجزیہ (قسط دوم)

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمیمدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی مسلم پارٹیوں کے ساتھ سیکولر پارٹیوں اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے