خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ: اپنی حیات کے آئینے میں

از: عبدالقدوس مصباحی
دارالعلوم فیض رضا، شاہین نگر، حیدرآباد
رابطہ نمبر: 7860225070

نام و نسب:
معین الدین بن غیاث الدین بن کمال الدین بن احمد حسین بن نجم الدین طاہر بن عبدالعزیز بن ابراہیم بن امام علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن علی مرتضیٰ۔ [رضی اللہ تعالیٰ عنہم]

معروف القاب:
سلطان الہند، وارث النبی، عطاے رسول، خواجہ غریب نواز۔

آپ نجیب الطرفین حسنی و حسینی سید زادے ہیں، بارہویں پشت پر آپ کا شجرۂ نسب حضرت علی -کرم اللہ تعالیٰ وجھہ الکریم- سے جا ملتا ہے۔

ولادت:
آپ ۵۳۷ھ؍١١٤٢ء میں سجستان یا سیستان کے معروف علاقے سِجزی میں پیدا ہوئے، والدین کے زیر سایہ خراسان میں دینی وعلمی ماحول میں پروان چڑھے، آپ کے والدین کریمین حد درجہ متقی وپرہیزگار تھے، ان کی خصوصی تربیت نے بچپن ہی سے آپ کو لہو ولعب اور غیر مناسب عادات واطوار سے دور رکھا۔

حالات حمل بیان کرتے ہوئے آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ:
"جب معین الدین میرے شکم میں تھے تو میں اچھے اچھے خواب دیکھا کرتی، گھر میں خوب خیر وبرکت کا نزول ہوتا تھا، دشمن، دوست بن گئے تھے، ولادت کے وقت سارا مکان انوار الہی سے روشن تھا۔”

والدین کریمین:
آپ کے والد گرامی سید غیاث الدین حسن جن کا شمار علاقے کے رؤسا میں ہوتا تھا، جلیل القدر عالم دین، حد درجہ متقی، پرہیز گار اور نیکو کار تھے، آپ کی والدہ ماجدہ بی بی ام الورع موسوم بہ بی بی ماہ نور بھی نہایت ہی متقی اور پرہیزگار تھیں، اکثر اوقات عبادت وریاضت میں مشغول رہا کرتی تھیں، جب آپ کی عمر پندرہ برس کی ہوئی تو آپ کے والد گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا، وراثت میں ایک باغ اور ایک پن چکی ملی، آپ نے اسی کو ذریعۂ معاش بنایا، خود ہی باغ کی نگہبانی کرتے اور درختوں کی آبیاری کرتے۔

دنیا سے بے رغبتی اور حصول علم دین کے لیے سفر:
ایک دن حضرت خواجہ غریب نواز -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- باغ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک مجذوب بزرگ حضرت ابراہیم قندوزی باغ میں تشریف لائے، حضرت خواجہ نے ان کو سلام کیا، دست بوسی کی اور نہایت عزت واحترام کے ساتھ ایک درخت کے نیچے بٹھایا، انگور کا ایک خوشہ پیش کیا اور باادب دو زانو ہو کر ان کے سامنے بیٹھ گئے، حضرت ابراہیم نے اپنے بغل سے کھلی نکالی اور چبا کر حضرت خواجہ کے منہ میں ڈال دی، اسے کھاتے ہی حضرت خواجہ کے دل کی کیفیت بدل گئی اور دل، دنیا اور دنیا والوں کی محبت سے بیزار ہو گیا، چناں چہ حضرت خواجہ نے باغ اور اپنا سارا سامان فروخت کرکے اس کی ساری رقم رشتہ داروں اور غریبوں میں تقسیم کر دیا اور طلب حق کی راہ میں روانہ ہوگئے، آپ سمرقند تشریف لائے اور حضرت سیدنا شرف الدین -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- کی بارگاہ میں حاضر ہو کر تعلیمی سلسلہ شروع کیا، پہلے قرآن کریم حفظ کیا، پھر انھیں سے دیگر علوم حاصل کی، لیکن علمی تشنگی نہیں بجھی؛ اس لیے بخارا تشریف لائے اور مشہور عالم دین حضرت مولانا حسام الدین -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- کی بارگاہ میں زانوے تلمذ تہ کیا اور چند عرصے میں تمام دینی علوم کی تکمیل فرمائی۔

حضرت خواجہ عثمان ہارونی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے بیعت:
ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد آپ نے مرشد کامل کی تلاش میں بخارا سے حجاز مقدس کا رخت سفر باندھا، راستے میں جب نیشاپور کے نواحی علاقے ہارون سے آپ کا گزر ہوا اور مرد قلندر حضرت خواجہ عثمان ہارونی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- کا شہرہ سنا تو بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ کے دست حق پر بیعت ہوئے۔

مجاہدہ:
حلقۂ ارادت میں داخل ہونے کے بعد ڈھائی سال تک حضرت خواجہ نے تزکیۂ باطن کے لیے سخت مجاہدہ کیا، آپ کے مجاہدات کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- فرماتے ہیں:
"خواجۂ بزرگ نے بڑے بڑے مجاہدات کیے، آپ سات دن کے بعد پانچ مثقال کے برابر روٹی پانی میں بھگو کر تناول فرماتے، آپ کا لباس دو چادریں تھیں، جس میں کئی کئی پیوند لگے رہتے، پیوند لگانے کے لیے جس قسم کا کپڑا مل جاتا؛ اسے چادر میں سی لیا کرتے۔”

سیر و سیاحت:
شیخ طریقت ومرشد کامل کے دست حق پرست پر بیعت ہونے کے بعد حضرت خواجہ کو اپنے مرشد طریقت سے اس قدر عقیدت و محبت ہو گئی کہ سایہ کی طرح مرشد گرامی کی بافیض صحبت کو لازم کر لیا، جہاں بھی مرشد گرامی تشریف لے جاتے؛ حضرت خواجہ آپ کا بستر خواب، توشہ اور دیگر ضروری اشیا سر پر لادے ہوئے ہم راہ چلتے، کامل بیس سال مرشد گرامی کی خدمت میں گزارے، سیر وسیاحت کے دوران سیستان، دمشق، اوش، بدخشاں، بغداد، مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور دیگر شہروں میں تشریف لے گئے اور وہاں کے صلحاے کرام، صوفیاے عظام اور مشایخ کرام سے روحانی فیوض وبرکات حاصل کیے۔ سنجان میں حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ کوہ جودی پر غوث اعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- کی زیارت سے مستفیض ہوئے، پانچ ماہ سات دن ایک حجرے میں مقیم رہ کر علوم باطنی کی تحصیل فرماتے رہے، وہاں سے غوث پاک کے ہم راہ جیلان وبغداد کی سیر فرمائی، جہاں شیخ ضیاء الدین اور شیخ شہاب الدین سہروردی سے صحبت رہی۔ ہمدان میں محبوب سبحانی خواجہ وحد الدین کرمانی اور خواجہ یوسف ہمدانی سے ملاقات رہی۔ حرمین شریفین میں مرشد کامل حضرت خواجہ عثمان ہارونی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- نے کعبۃ اللہ شریف میں میزاب رحمت کے سایے تلے اپنے پیارے مرید حضرت خواجہ کے لیے دعا فرمائی، اور ان کا ہاتھ پکڑ کر اللہ رب العزت کے حوالے کیا، غیب سے ندا آئی:
"ہم نے معین الدین کو قبول کیا۔”
مرشد گرامی یہ آواز سن کر بہت مسرور ہوئے، اور بارگاہ الہی میں شکر ادا کیا۔ حج سے فراغت کے بعد مدینۃ الرسول -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم- تشریف لائے تو حضرت خواجہ نے آقا کریم -ﷺ- کی بارگاہ میں سلام نیاز پیش کیا، جواب ملا:
"وعلیک السلام اے سمندر اور جنگلوں کے قطب المشائخ۔”
جب یہ آواز آئی تو حضرت خواجہ نے فرمایا:
"کام مکمل ہو گیا۔”

خرقۂ خلافت وجانشینی:
جب روحانیت کے مرشد کامل نے حضرت خواجہ کو تلاش حق کے تمام مراحل طے کرا دیے تو بغداد میں آپ کو خرقۂ خلافت اور جانشینی سے سرفراز کیا، اور وہ تبرکات مصطفوی جو خانوادۂ چشت میں سلسلہ بہ سلسلہ چلے آ رہے تھے؛ حضرت خواجہ کو عطا کیا۔
حضرت خواجہ فرماتے ہیں:
مرشد کامل، شیخ طریقت، حضرت خواجہ عثمان ہارونی نے فرمایا:
"اے معین الدین! میں نے یہ سب کام تیری تکمیل کے لیے کیا ہے، تجھ کو اس پر عمل کرنا لازم ہے، فرزند خلف وہی ہے جو اپنے ہوش گوش میں اپنے پیر کے ارشادات کو جگہ دے، اپنے شجرے میں ان کو لکھے اور انجام کو پہنچائے؛ تاکہ کل قیامت کے دن شرمندگی نہ ہو۔”
اس ارشاد کے بعد عصاے مبارک، خرقہ، نعلین اور مصلیٰ عنایت فرمایا، پھر ارشاد فرمایا:
"یہ تبرکات ہمارے پیر طریقت -قدس سرہ- کی یاد ہیں جو آقا کریم -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم- سے ہم تک پہنچے ہیں اور ہم نے تجھے دیے ہیں، ان کو اسی طرح اپنے پاس رکھنا جس طرح ہم نے رکھا، جس کو مرد پانا؛ اسی کو ہماری یہ یادگار دینا، خلق سے طمع نہ رکھنا، آبادی سے دور، مخلوق سے کنارہ کش رہنا اور کسی سے کچھ طلب نہ کرنا۔”
یہ ارشاد فرمانے کے بعد پیر و مرشد نے حضرت خواجہ کو اپنے سینے سے لگایا، سر اور آنکھ کو بوسہ دیا اور فرمایا:
"تجھ کو خدا کے سپرد کیا، پھر عالم تحیر میں مشغول ہو گئے۔”

حضرت خواجہ اپنے مرشد گرامی کی بارگاہ میں اس قدر مقبول تھے کہ ایک مرتبہ مرشد گرامی نے فرمایا:
"میرا معین الدین اللہ -عزوجل- کا محبوب ہے، مجھے اپنے مرید پر فخر ہے۔”

ہندوستان کا سفر:
ظاہری و باطنی علوم حاصل کرنے کے بعد آپ اپنے آبائی وطن واپس تشریف لائے، ایک دن قسمت کا ستارہ چمکا، حرمین طیبین کی حاضری نصیب ہوئی، آپ مکہ معظمہ تشریف لائے، کعبہ شریف کی زیارت سے شادکام ہوئے، آپ کا معمول تھا کہ قیام مکہ کے دوران طواف کعبہ اور عبادت الہی میں مشغول رہتے، ایک دن آپ یاد الہی میں مصروف تھے کہ غیب سے آواز آئی:
"اے معین الدین! ہم تجھ سے خوش ہیں، تجھے بخش دیا، جو چاہے مانگ؛ تاکہ عطا کروں۔”
یہ سن کر آپ حد درجہ خوش ہوئے اور عاجزانہ سر نیاز زمین پر رکھ دیا اور بارگاہ رب العزت میں عرض کیا:
"اے اللہ! معین الدین کے مریدان سلسلہ کو بخش دے۔”
آواز آئی:
"اے معین الدین! تو ہماری ملک ہے، جو تیرے مرید اور تیرے سلسلہ میں قیامت تک مرید ہوں گے؛ انھیں بخش دوں گا۔”

حج سے فراغت کے بعد مدینہ طیبہ تشریف لائے، مدینہ میں آپ اکثر عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے، یہاں تک کہ وہ ساعت سعید آ ہی گئی جب آقا کریم -ﷺ- کی بارگاہ سے یہ مژدۂ جاں فزا ملا:
"اے معین الدین! تو میرے دین کا معین ہے، میں نے تجھے ہندوستان کی ولایت عطا کی، وہاں کفر وظلمت پھیلی ہوئی ہے، تو اجمیر جا، تیرے وجود سے ظلمت کفر دور ہوگی اور اسلام رونق پذیر ہوگا۔”
پھر خواب میں شرق سے غرب تک سارے عالم کو دکھا دیا گیا، تمام بلاد و امصار آپ کی نگاہوں کے سامنے ہو گئے، اجمیر، وہاں کا قلعہ اور پہاڑیاں نظر آئیں، سرکار نے ایک انار عطا کرکے فرمایا:
"ہم تجھ کو خدا کے سپرد کرتے ہیں۔”
اس بشارت کے بعد حضرت خواجہ ہندوستان کے لیے روانہ ہوئے، پہلے بغداد تشریف لائے، جہاں وقت کے مشایخ عظام سے صحبتیں رہیں۔ بغداد ہی میں ایک دن سلطان شمس الدین التمش کے حوالے سے آپ نے فرمایا:
"یہ لڑکا جب تک دہلی کا بادشاہ نہیں ہوگا؛ خدا اسے دنیا سے نہیں اٹھا ئے گا۔”
پھر وہاں سے چشت، خرقان، کرمان، استرآباد، بخارا، تبریز، اصفہان اور ہرات ہوتے ہوئے سبزہ وار پہنچے، یہاں کا حاکم یادگار محمد تعصب پرست شیعہ تھا جو ترش مزاجی اور بداخلاقی میں مشہور تھا، حضرت خواجہ نے اس پر نگاہ کرم ڈالی، جس کے سبب وہ اپنے امرا کے ساتھ بدعقیدگی سے تائب ہوا اور آپ کے دست حق پر بیعت بھی ہوا، چند ایام حضرت خواجہ کی خدمت میں رہ کر علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کرلی، حضرت خواجہ نے اسے اپنا خرقہ عطا فرمایا۔
پھر وہاں سے بلخ ہوتے ہوئے سمرقند تشریف لائے، جہاں خواجہ ابواللیث سمرقندی کے مکان کے قریب ایک مسجد تعمیر ہو رہی تھی، ایک شخص کو سمت قبلہ پر اعتراض تھا، وہ لوگوں سے بحث ومباحثہ میں مصروف تھا، کسی صورت ماننے کو تیار نہ تھا، حضرت خواجہ نے بھی سمجھایا مگر وہ نہ مانا تو آپ نے اس کا منہ کعبہ کی طرف کرکے کہا:
"سامنے دیکھ، کیا نظر آ رہا ہے؟”
اس نے کہا:
"خانہ کعبہ نظر آ رہا ہے۔”
حضرت خواجہ کی ادنیٰ توجہ سے سمرقند سے مکہ تک تمام حجابات اٹھ گئے اور ایک بیدار بخت نے کعبہ شریف کی زیارت کر لی۔
وہاں سے غزنی، لاہور اور سمانا ہوتے ہوئے دہلی تشریف لائے اور راج محل کے سامنے قیام فرمایا، جہاں آپ کے اخلاق حسنہ اور سادہ و مؤثر نصیحتوں سے متاثر ہوکر کھانڈے راو کے کچھ آدمی اور بہت سے راج پوت اسلام میں داخل ہوئے، پھر آپ خلق خدا کی ہدایت کے لیے اپنے خلیفہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- کو دہلی میں چھوڑ کر اجمیر کے لیے روانہ ہو گئے، اور ۵۸۷ھ؍۱۱۹۱ء میں اجمیر پہنچے، اس وقت یہاں کا راجہ پرتھوی راج چوہان تھا، جسے راے پتھورا بھی کہا جاتا تھا۔
جب حضرت خواجہ کی اجمیر میں آمد ہوئی تو ہندوستان کا عجب حال تھا، ہر طرف کفر و شرک کا دور دورا تھا، ہندوستان کے سرکش اور مغرور لوگ اکثر خدائی کا دعویٰ کرتے تھے اور خداے بزرگ و برتر کے شریک بنتے، پتھروں، درختوں، جانوروں، چوپایوں اور گائے کے گوبر تک کو پوجتے تھے، کفر کی ان تاریکیوں میں ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے تھے۔
حضرت خواجہ نے جب اجمیر کی سنگلاخ وادیوں میں چشمۂ رشد وہدایت جاری کرنا چاہا اور ہزاروں سالہ پرانی مشرکانہ مذہبیت اور جاہلانہ تصورات کے بت ٹوٹنے لگے اور آپ کی باطل شکن کرامتوں کا ظہور ہونے لگا تو پرتھوری راج کو اپنے ایوان سلطنت کی بنیادیں متزلزل نظر آنے لگیں، اس نے حق کی آواز دبانے اور روحانی کرشموں کا چراغ گل کرنے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں سوچا لیکن اس کی ساری تدبیریں تار عنکبوت کی نذر ہو گئیں، جب پرتھوی راج کی ماں کو حضرت کی آمد، اونٹوں کے بیٹھے رہ جانے، اناساگر کے خشک ہو جانے اور جے پال کے شعبدوں کی ناکامی کا حال معلوم ہوا تو اس نے پرتھوی راج سے کہا:
"یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں، میں نے بارہ سال پہلے کہا تھا، اب تم اس سے ہرگز مباحثہ و مجادلہ نہ کرنا؛ اس لیے کہ تمھارے لیے کوئی مقابلہ سود مند نہ ہوگا، تم اس کی تعظیم و توقیر کرنا۔”
حضرت خواجہ کے باطنی تصرفات اور مؤثر کرامات نے باشندگان اجمیر کو کافی متاثر کیا، عوام و خواص کی کثیر تعداد شرک وبت پرستی سے تائب ہو کر اسلام سے مشرف ہوئی، دن بہ دن حضرت کے ارادت مندوں کا حلقہ وسیع ہونے لگا، حضرت نے انا ساگر کی قیام گاہ ترک فرمائی اور اپنے خدام کے ساتھ شہر اجمیر میں اس مقام پر سکونت اختیار کی جہاں اس وقت درگاہ شریف ہے۔

خلفا:
حضرت خواجہ کے صاف وشفاف چشمۂ شیریں سے اکتساب فیض کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے، چند معروف خلفا کے اسماے گرامی درج ذیل ہیں:
[١] خواجہ قطب الدین بختیار کاکی۔
[٢] خواجہ فخر الدین چشتی۔
[٣]خواجہ حمیدالدین ناگوری۔
[٤] خواجہ وجیہ الدین ہرات۔
[٥] خواجہ برہان الدین اجمیر۔
[٦] خواجہ احمد اجمیر۔
[٧] خواجہ عبداللہ جوگی جےپال۔
[٨] خواجہ صدرالدین کرمانی۔
[٩] خواجہ شیخ علی سنجری۔
[١٠] خواجہ یادگار سبزواری۔

تصانیف:
عام طور پر حضرت خواجہ ایک روحانی مقتدیٰ اور صاحب کشف و کرامت ولی، بحر معرفت کے شناور اور مبلغ و مصلح کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، حالاں کہ آپ کی ذات علم ظاہر وباطن کا حسین سنگم تھی، علوم ومعارف اور زہد وتقویٰ کے بلند مرتبہ پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ علوم اسلامیہ میں بھی کمال رکھتے تھے، آپ صاحب طرز مصنف اور بلند پایہ شاعر بھی تھے، جس پر آپ کی تصانیف شاہد ہیں، مگر افسوس کہ مرور زمانہ نے آپ کے رشحات قلم کے بہت بڑے ذخیرے پر پردہ ڈال دیا ہے، لیکن جو ذخیرے زمانے سے محفوظ ہیں؛ وہ علم تصوف وسلوک کا گنجینہ ہیں، جن سے آپ کی علمی وتصنیفی ذوق کا اندازہ ہوتا ہے، ذیل میں چند تصانیف کا ذکر کیا جاتا ہے:
[١] انیس الارواح:
یہ کتاب فارسی زبان میں ہے، جس میں حضرت خواجہ نے اپنے پیر ومرشد کے ارشادات گرامی تحریر فرمائے ہیں، یہ کتاب تربیت اخلاق اور علم معرفت کے باب میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
[٢] کشف الاسرار:
یہ بھی فارسی زبان میں تصوف کے موضوع پر ایک ذخیرہ ہے۔
[٣] کنزالاسرار:
یہ کتاب آپ نے اپنے پیر ومرشد کے حکم پر قیام دہلی کے دروان سلطان شمس الدین التمش کی تعلیم وتلقین اور تہذیب اخلاق کے لیے تالیف فرمائی، یہ کتاب رموز معرفت اور تعلیم اخلاق کا گراں قدر خزانہ ہے۔
[٤] رسالہ تصوف منظوم:
یہ کتاب فارسی نظم میں ہے۔
[٥] دیوان معین:
یہ کتاب حمد ونعت اور مناجات ومنظومات پر مشتمل ہے۔

ارشادات:
آپ کی مجالس رشد وہدایت، تعلیم وتلقین، تربیت اخلاق اور تہذیب نفس کی درس گاہ ہوا کرتی تھیں، خاص خاص موقعوں پر حضرت خواجہ نے جو ہدایات فرمائیں؛ انھیں آپ کے خلیفہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی -رضی اللہ تعالیٰ عنہ- نے دلیل العارفین میں یکجا فرمایا، یہ کتاب آج بھی رشد وہدایت کا سرچشمہ ہے، یہاں آپ کے چند ارشادات کو ذکر کیا جا رہا ہے:
[١] قبرستان میں عمدہ کھانا کھانا یا پانی پینا گناہ کبیرہ ہے، جو عمدہ کھائے؛ وہ ملعون اور منافق ہے؛ کیوں کہ قبرستان مقام عبرت ہے، نہ کہ جائے حرص و ہوا۔
[٢] اس سے بڑھ کر کوئی گناہ کبیرہ نہیں کہ مسلمان بھائی کو بلا وجہ ستایا جائے، اس سے خدا اور رسول دونوں ناراض ہوتے ہیں۔
[٣] جب اللہ کا نام سنے، یا کلام اللہ سنے اور اس کا دل نرم نہ ہو اور ہیبت الہی سے اس کا اعتقاد وایمان زیادہ نہ ہو تو گناہ کبیرہ ہے۔
[٤] پانچ چیزوں کو دیکھنا عبادت ہے:
اول: والدین کے چہرے کو دیکھنا۔
دوم: کلام مجید کا دیکھنا۔
سوم: کسی بزرگ عالم کا چہرہ عزت واحترام سے دیکھنا۔
چہارم: خانہ کعبہ کے دروازے کی زیارت کرنا اور کعبہ شریف کو دیکھنا۔
پنجم: اپنے پیر ومرشد کے چہرے کی طرف دیکھنا اور خدمت میں مصروف رہنا۔
[٥] کون سی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت میں نہیں ہے، مرد کو چاہیے کہ احکام الہی بجا لانے میں کمی نہ کرے، پھر جو چاہےگا؛ مل جائےگا۔
[٦] جو بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے؛ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اور جہنم کے درمیان سات پردے حائل کر دےگا۔

[٧] جس نے خود کو پہچان لیا اور خلق سے دور نہ بھاگا تو سمجھ لو کہ اس میں کوئی نعمت نہیں۔
[٨] نیکوں کی صحبت، نیک کام سے بہتر ہے اور بروں کی صحبت، کار بد سے بہتر ہے۔
[٩] دینا میں سب سے بہتر تین اشخاص ہیں:
اول: وہ عالم جو اپنے علم سے بات کہے۔
دوم: جو حرص نہ رکھے۔
سوم: وہ عارف جو ہمیشہ دوست کی تعریف وتوصیف کرے۔
[١٠] محبت میں صادق وہ ہے جو خویش واقربا سے قطع تعلق کرکے اللہ ورسول سے تعلق پیدا کرے، محب وہ شخص ہے جو کلام الہی کے حکم پر چلے اور حب الہی میں صادق ہو۔
[١١] گناہ تم کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا مسلمان بھائی کو رسوا کرنا۔
[١٢] اگر قیامت کے دن کوئی چیز بہشت میں پہنچائےگی تو وہ ہے زہد، نہ کہ علم۔

اوصاف:
حضرت خواجہ کو والدین کریمین کا صدقہ ملا تھا، آپ بھی والدین کی طرح نہایت متقی، پرہیزگار اور نیکو کار تھے، پوری رات عبادت الہی میں مصروف رہتے، یہاں تک کہ عشا کے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتے، قرآن کریم سے اس قدر عقیدت تھی کہ دن میں دو قرآن پاک مکمل فرما لیا کرتے، خوف خدا اس قدر غالب تھا کہ آپ ہمیشہ کانپتے رہتے، خلق خدا کو خوف خدا کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرماتے:
"اگر تم زیر خاک سوئے ہوئے لوگوں کا حال جان لو تو مارے خوف کے کھڑے کھڑے پگھل جاؤ۔”
سادگی کا عالم یہ تھا کہ لباس مبارک صرف دو چادریں تھیں، جن میں کئی کئی پیوند لگے ہوتے، آپ پڑوسیوں کا بہت خیال رکھتے، ان کی خبر گیری فرماتے، اگر کسی کا انتقال ہوجاتا تو اس کے جنازے میں ضرور تشریف لے جاتے، آپ کے حلم وبردباری، عفو ودرگزر، جود وسخا اور دیگر اخلاق حسنہ سے متاثر ہو کر لوگ عمدہ اخلاق اور پاکیزہ صفات کے پیکر بنے اور آپ کے دست پاک پر تقریباً نوے لاکھ غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔

اولاد وامجاد:
حضرت خواجہ نے دو شادیاں کیں۔
پہلی شادی ۵۹۰ھ میں ایک راجہ کی لڑکی سے کی، جسے آپ کے مرید حاکم قلعہ بہٹلی نے ایک جہاد میں گرفتار کیا اور اسے آپ کی بارگاہ میں پیش کیا، آپ نے قبول فرمایا، اس نے اسلام قبول کیا، آپ نے اس کا نام امۃ اللہ رکھا۔
دوسری شادی ٦٢٠ھ میں سید وجیہ الدین مشہدی کی بیٹی بی بی عصمت اللہ سے کیا۔
ان دونوں بیویوں سے ایک صاحب زادی اور تین فرزند پیدا ہوئے، جن کے اسماے گرامی یہ ہیں:
[١] سید ضیاء الدین۔
[٢] سید فخر الدین۔
[٣] حافظہ بی بی جمال۔

وفات:
٦/ رجب المرجب ٦٣٣ھ/ ١٦/ مارچ ١٢٣٦ء دوشنبہ کی رات عشا کی نماز کے بعد کمرے میں تشریف لے گئے، دروازہ اندر سے بند کر لیا، خدام کو تاکید فرمائی کہ یہاں کوئی نہ آئے، خدام پوری رات حجرہ کے دروازہ پر حاضر رہے، ساری رات عالم وجد میں پاؤں پٹکنے کی آواز سنتے رہے، آخر شب یہ آواز آنی بند ہو گئی، جب صبح صادق ہوئی اور نماز فجر کے لیے خادموں نے دستک دی اور دروازہ نہیں کھلا تو خدام نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ آفتاب ولایت کا تابندہ ستارہ غروب ہو چکا ہے، اور روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی ہے، اور آپ کی پیشانی مبارک پر یہ غیبی تحریر ثبت ہے:
"هذا حبيب الله؛ مات في حب الله.”
حضرت کی وفات اہل اجمیر کے لیے عظیم سانحہ تھی، ہزاروں ارادت مند بہ چشم نم جنازہ میں شریک ہوئے، خواجہ فخر الدین نے نماز جنازہ پڑھائی اور اسی حجرہ میں دفن کیا گیا۔

ابر رحمت ان کی مرقد پہ گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

نوٹ:
اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتابوں سے مدد لی گئی ہے:
[١] مرآۃ الاسرار از حضرت شیخ عبدالرحمن چشتی قدس سرہ۔
[٢] سلطان الہند خواجہ غریب نواز از ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی۔
[٣] ہند اور پاکستان کے اولیا از مفتی شوکت علی فہمی۔
[٤] فیضان خواجہ غریب نواز از دعوت اسلامی۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دین کی تبلیغ میں سلطان الہند کا داعیانہ پہلو

تحریر: سبطین رضا مصباحیکشن گنج بہارریسرچ اسکالر البرکات انسی ٹیوٹ علی گڑھ اسلام کی تبلیغ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے