کسان عام شہریوں کی لڑائی لڑ رہے ہیں، نئے قانون کے مطابق ’بندھوا کسان‘ ہی نہیں، بلکہ ’بندھوا کھیت‘ کی نئی اصطلاح بھی سامنے آرہی ہے

تحریر: ڈاکٹر غلام زرقانی، امریکا

دوماہ پہلے ’’کسان آندولن‘‘ نے ہندوستان کے دار الخلافہ دہلی کے باہر دستک دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کی بنام ’تحفظ حقوق کسان ‘ معرض وجود میں آنے والی تمام تر چھوٹی بڑی تنظیمیں اس احتجاجی تحریک میں شامل ہوتی گئیں اور اب یہ ایک انقلابی صورت اختیار کرگئی ہے، جو نہ توحکومت کی لالی پاپ سے قابومیں آرہی ہے اور نہ ہی پس پردہ توڑ پھوڑ کی پالیسی سے تھمنے کا نام لے رہی ہے۔
اچھا، پھر اسے کچھ اس طرح دنیا کے سامنے پیش کیا جارہاہے کہ جیسے یہ کسانوں کی لڑائی ہے ، جو وہ اپنے مفاد کے تحفظ کے لیے لڑ رہے ہیں ، جب کہ آپ متنازعہ کسان بل کے مشتملات پر غور کریں تومحسوس ہوگا کہ یہ بل کسانوں کے لیے تونقصاندہ ہے ہی ، اس سے کہیں زیادہ ہلاکت خیز توعام شہریوں کے لیے ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک خاکہ ذہن کے سامنے رکھیے ۔
حالیہ کسان بل قانون کے مطابق بڑے تاجر وں کے ساتھ مقامی کسان معاہدہ کریں گے کہ وہ اپنی زمین پر فلاں فصل اگائیں ، جنھیں وہ باہمی طے شدہ قیمت پر خرید لیں گے، تاہم زر ضمانت کے طورپر کھاد، بیج اور دوسری سہولتیں انھیں مہیا کرائیں گے۔ جو لوگ تجارت پیشہ افراد کی ذہنیت سے واقف ہیں ، وہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ یہ لوگ کسانوں سے نہایت ہی کم قیمت پر پیداوار خریدیں گے اور بازار میں پرکشش پیکنگ کے ساتھ اونچے نرخوں میں فروخت کریں گے۔ اب چونکہ ہر چہار جوانب پیداوار اسی قیمت پر فروخت ہورہی ہوگی، اس لیے عام شہری مجبور ہوں گے کہ وہ گراں قیمت پر پیداوار خریدیں ۔خیال رہے کہ یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے ، بلکہ یورپ وامریکہ کی طر ز پر بنائے گئے خوبصورت اسٹوروں میں بکنے والی سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں معلوم کرکے بہ آسانی موازنہ کیا جاسکتاہے کہ آج بھی جس قیمت پر سڑک کے کنارے لگے ہوئے اسٹال میں کوئی چیز فروخت ہورہی ہے ، وہی چیزبڑے اسٹوروں میں چارپانچ گنا زیادہ نرخ پر بک رہی ہے۔ اس طرح سچی بات یہ ہے کہ متنازعہ کسان بل سے عام شہری بڑے پیمانے پر متاثر ہوں گے ۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ دہلی کے نزدیک جو کسان مہینوں سے موسم کی سختیاں جھیل رہے ہیں ،وہ صرف اپنے لیے نہیں ہے ،بلکہ ہندوستان کے ہر شہری کے مفاد میں ہے ۔
اچھا ، یہ تورہی ایک بات، اب ذرا کان قریب کیجیے ۔یہ امر تو دواوردوچار کی طرح واضح ہے کہ متنازعہ بل کسان کے مفاد میں نہیں ہے ، ورنہ وہ احتجاج ہی کیوں کرتے َ، بلکہ یہ بل درحقیقت’ اپنے دوست تاجروں‘ کے فائدے کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔ سن رہے ہیں کہ اس قانون کے آئینے میں بڑے تاجرپچیس سالوں کے لیے پورے پورے گاؤں کی زراعتی زمین کے لیے وہاں کے کسانوں سے معاہدہ کریں گے۔ ظاہرہے کہ معاہدہ نامہ پر دستخط ثبت کرلینے کے بعد قانونی طورپر کسان اس پر عمل کرنے کے پابند ہوجائیں گے۔دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ کسان اپنی زمین کے مالک ہوں گے ضرور ، لیکن اپنی مرضی سے اپنے کھیت میں کچھ کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے ۔ یعنی پہلے ہم نے ’بندھوامزور‘ کی اصطلاح سنی تھی ، اب نئے قانون کے مطابق نہ صرف ’بندھوا کسان ‘ بلکہ ’بندھوا کھیت‘ کے نام سے عالم لغات میں ایک نئی اصطلاح کی شمولیت بھی ہوجائے گی۔افسوس صد افسوس کہ برطانوی سامراجیت کے بعد زمینداری نظام کے خاتمے پر ہم فخر کرتے تھے ، لیکن اب وہی غلامانہ نظام ایک نئے اسلوب میں کسانوں کے دروازوں پر دستک دے رہاہے اور ارباب اقتدار سواارب شہریوں کو جھوٹی تسلی دے کر سلانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں ۔
مجھے توایسا محسوس ہوتاہے کہ اس قانون کے اجرا کے بعد دھیرے دھیرے حکومت کی طرف سے کسانوں کو ملنے والی تھوڑی بہت سہولتیں بھی ختم ہوجائیں گی۔ اور یہ بات قرین قیاس بھی ہے کہ جب بڑے سرمایہ دارطے شدہ معاہدہ کے مطابق کسانوں کو فصلیں اگانے کے لیے بیج اور کھاد بھی دیں گے اور انھیں جدید مشینیں بھی مہیا کرائیں گے ،تواب کسان کس منہ سے حکومت سے کم شرح سود پر قرض کا مطالبہ کریں گے اور کیوں انھیں سرکار ی امداد بہم پہنچائی جائے گی؟ حکومت توصاف لفظوں میں کہہ دے گی کہ جب پیداوار سے متعلق ساری سہولتیں سرمایہ دار مہیا کرارہے ہیں ، توانھیں مزید کس چیز کے لیے مدد دی جائے؟ اس طرح قانون کا سہارا لے کر انھیں اور ان کے جملہ مسائل بڑے سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں منتقل کردیے جائیں گے۔ اور یہ دور جدید کی ’ترقی یافتہ زمینداری‘ سے تعبیر کیے جانے کے زیادہ لائق ہے۔
اے کاش ، مسند اقتدار کے مزے لینے والے یہ ادراک کرسکتے کہ انواع واقسام کے کھانے اور قسم قسم کے پھل پھروٹ آسانی سے ہمارے دسترخوانوں تک نہیں پہنچ گئے ، بلکہ اس کے لیے کسانوں نے مہینوں سخت محنت کی ہےاور شبانہ روز خون پسینے بہائے ہیں ،تب کہیں جاکے ہمارے شکم کی آسودگی ممکن ہوسکی ہے ۔اس پر مستزاد یہ کہ بسااوقات کم بارش اور کبھی موسم کی برہمی کی وجہ سے تیار فصلیں نظروں کے سامنے تباہ ہوجاتی ہیں اور کسان کف افسوس ملتے رہ جاتے ہیں ۔ہوسکے تومحسوس کرنے کی کوشش کیجیے کہ مہینوں کی سخت محنت ومشقت کے بعدپیداوار کے ذریعہ حاصل شدہ رقوم سے کیسے کیسے خواب کی تکمیل کے لیے امیدیں وابستہ کی گئی ہوں گی، لیکن سب کچھ لٹ جانے کے بعد دل پر گزرنے والی کیفیات کا اندازہ کون لگاسکتاہے ؟ ارباب اقتدار کو شاید نہیں معلوم کہ جملہ سائنسی ایجادات ، عیش وعشرت کے نت نئے سامان اور بڑی سے بڑی دنیاوی سہولتوں کے بغیر بھی انسان زندہ رہ سکتاہے ، لیکن بغیر کھائے پئے چند دنوں تک بھی زندگی ساتھ نہیں دے سکتی ۔ یعنی پوری قوم کی تمام تر تگ ودوبھی کسانوں کی قربانیوں کے مساوی نہیں ہوسکتی۔
صاحبو! کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ کسان خاندانوں میں زیور تعلیم سے آراستہ ہونے والے بچے بچیاں اپنے آبائی پیشہ زراعت سے دورہورہے ہیں ۔ ایسی حالت میں حکومت کو تویہ چاہیے کہ جس قدر کسان زراعت سے وابستہ ہیں ، انھیں زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کریں اور ان کی عزت وتکریم کریں ، تاکہ وہ توکم از کم اس پیشہ سے وابستہ رہیں،لیکن افسوس صد افسوس کہ ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جارہاہے ۔ کیسی عجیب بات ہے کہ قوانین کسانوں کے مفاد کے پیش نظر نہیں ، بلکہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کی منہ بھرائی کے شوق میں بنایا جارہاہے اور انھیں سختی سے نافذکرنے کی کوشش ہورہی ہے ۔اگر کسانوں کے ساتھ ہماراسلوک یہی رہا، توکچھ عجب نہیں کہ بڑے پیمانے پر کسان پیشہ زراعت سے ہی دل برداشتہ ہوجائیں اور قلت غذا کی لہر ملک کے لیے تباہی کا پیش خیمہ بن جائے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے