نوجوان صلاحیتوں کا استعمال : مضمرات اور طریقہ کار

تحریر:عین الحق امینی قاسمی

سماج کے لئے دینداری ایسی بنیاد ہے ،جس کی تہہ میں انفرادی واجتماعی زندگی سے وابستہ ہر خیر پیوست ہے ،جس سماج کی اٹھان خیر کی بنیادوں پر ہوگی ،اس کے افراد بھی خیر وفلاح کے فروغ کے لئے آمادہ نظر آئیں گے ،فکر ونظر میں وسعت ،قلب وجگر میں توسع اور دینی غیرت و حمیت کی پاسداری جیسی عالی صفتوں کو ذاتی زندگی میں بھی ضرور جگہ دیتے ہوئے مل جائیں گے۔دراصل آوارگی ،بدخلقی ،خود غرضی اور ان جیسی سماج خور بیماریاں بھی زیادہ تر اُن افراد میں ہی نظر آئیں گی ،جہاں دین کی بوباس نہ ہو ،جہاں دینی قدروں کے لئے کو ئی جگہ نہ ہو اور جہاں دینداری کو قدامت پسندی اور دقیانوسی سے تعبیر کیا جاتا ہو۔اسی لئے کہا جا تا ہے کہ سماج کے افراد میں اگر سمجھنے بوجھنے کے ساتھ غور کرنے کی بھی صلاحیت ہے ،تو محنت کے بعد اُس فرد فرید سے دینی وسماجی فلاح کے لئے بہت کچھ کام لیا جاسکتا ہے۔
سماجی تانے بانے کو مستحکم اور مفید تر بنانے میں یوں تمام ہی طبقے کے افراد کی ضرورت ہوا کرتی ہے ،مگر بطور خاص نوجوان طبقہ ،کسی بھی سماج کا ایک بہت ہی مضبوط حصہ کے طور پر مانا جاتا ہے ،جس میں ماضی کے ناکردہ گناہوں اور غلطیوں کو سمجھنے کی بھی بھر پور صلاحیت ہوتی ہے اور مسقبل کے حوالے سے بھی ان میں غیر معمولی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں ،وہ خود بھی حال و مستقبل کو سنوارنے کے متمنی ہوتے ہیں اور عام لوگون کو بھی اُن کے اندر امید کی ایک روشن کرن کے طور پر ” سہارا "نظر آتا ہے۔
عموما دیکھا جاتا ہے کہ نوجوانوں میں جرئت وعزیمت پر عمل کرنے کی صلاحیت بہ نسبت زیادہ ہوتی ہے ،برے وقت میں سماج کے لئے سہارا بننے کا مزاج ، سسکتی بلکتی انسانیت کے لئے ڈھال بن جانے کا عزم اور ہر وہ کام جہاں پر ہم اور آپ ہمت کھوبیٹھنے کے درپہ ہوں گے ،وہاں سے کام کو نئی راہ دینے کے ہنر کے ساتھ سامنے آنے کی تڑپ اور ان کا مخلصانہ جذبہ نہ صرف قابل رحم ودعا ،بلکہ قابل تقلید وعمل ہوتا ہے،سماج کے گرد آپ نظر اٹھا کر دیکھیں گے تو بیمار کو اسپتال تک لے جا نے سے لے کر،دینی ودنیاوی تقریبات کی انجام دہی میں پیش پیش ،یہ نوجوان ہی ملیں گے ، سماجی راہ میں کسی بھی” سنگ گراں "کو راہ سے ہٹانے میں آپ کو ان نوجوانوں کی مدد ،بہر حال ہوگی ، کمیٹی چاہے مسجد کی ہو یا مدرسوں کی ،اگر دوچند سلجھے ہوئے نوجوانوں نے کاندھا دیدیا ،تو سمجھ لیجئے نیا پار ہے ،سماجی زندگی کے ہر موڑ پہ ہمیں ضرورت ہے ان کے حوصلوں کی ،ان کے بلند افکار وخیالات کی ،جسمانی توانائی کی اور سماج کے مستقبل کو سنوارنے کی ۔ اس طرح سے دینی وسماجی فلاح کے لئے اُن کی مثبت صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی اشد ضرورت ہے ،تاکہ یہ نوجوان خود بھی زندگی اور زندگی کے وسائل وایجادات سے مکمل اکتساب کریں اور دوسروں کے لئے بھی مفید ونفع بخش بن کر بلند کرداری کے حوالے سے جگ میں روشن نام کرسکیں۔
جس سماج کا نوجوان ،اپنے سماج کے تئیں حساسیت اور ذمہ داری محسوس کرے گا ، وہ سماج اعلی اخلاقی قدروں کا حامل بھی ہوگا اور سماجی گندگیوں سے بھی اپنی نسلوں کو دور رکھنے کی تعلیم دے گا۔نوجوان ،قوم کا معمار بھی ہوتا ہے اور ملک ووطن کا کھیونہار بھی ،نوجوان اپنے سے بڑوں کی تربیت اور ان کی تہذیبی روایات کا امین ہی نہیں ،بلکہ پورے سماجی ڈھانچے کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے ،اسی لئے کہا جاتا ہے کہ نوجوانوں کا طرز عمل ،قوم کی اخلاقی حالت کا پتہ دیتا ہے۔ابھی گذشتہ برس آپ نے دیکھا کہ سی اے اے کے معاملے میں اِن نوجوانوں نے حب الوطنی کا جو کردار پیش کیا، وہ صرف تاریخ کا حصہ ہی نہیں ،بلکہ عالمی برادری کو بھی جس طرح سے حق اور سچ کی طرف متوجہ کیا ،اس نے نوجوانوں کی عالی قیادت کو ایک بار پھر آئڈیل بنادیا ہے۔
آخرجامعہ کے اُن نوجوانوں میں انسانی غیرت و حمیت اور وطن میں دبے کچلے لٹے پٹے عام باشندوں کے تعلق سے لٹتی اُجرتی شہریت کے تئیں حکومت ہند کی دوغلی پالیسی پر جو بے چینی پیدا ہوئی ،جس کے نتیجے میں انہوں نے خود کو موت کے حوالے کرکے برباد ہونا توضروری سمجھا ،مگر آنے والی نسلوں کی بربادی کو اپنے جیتے جی گوارانہیں کیا اور اُس موقع پر کیا نوجوان لڑکے اور کیا لڑکیاں ،سبھوں نے سینہ سپر ہوکر ظالم حکومت کو جوآئینہ دیکھا نے کا کام کیا، اُس کے پیچھے وہی تربیت کار فرما تھی ،جس تربیت کے سانچے میں جامعہ کے بانیین میں مولانامحمد علی جوہر ڈَھلے تھے ،بی اماں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر تم ظالم انگریزوں سے معافی مانگ لیتے تو میں تم دونوں کا کبھی دودھ معاف نہیں کرتی۔ماں کی تربیت کے نتیجے میں دنیا نے دیکھا کہ مولانا محمد علی جوہر پر جو دین کا رنگ چڑھا تو اس نے لندن کے ایک بیرسٹر کو” مولانا ” بھی بنادیا اور پھر اُس روشن دماغ نے جو درسگاہ قائم کی تھی،اُس کے نوجوان بچے بچیوں نے حکومت کی ناک میں نکیل ڈال کر ملک کے کروڑوں انصاف پسند شہریوں کو نہ صرف اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کی جرئت بخشی ،بلکہ فرعون وقت کے شہریت ترمیمی کالے قانون کو سر عام ” غلط“ کہنے کا حوصلہ بھی عطا کیا۔
ایسی صورت حال میں اگر ہم اپنی محنت کی ترتیب بنا کر نوجوان لڑکے لڑکیوں کی سرپرستی شروع کردیں ،محلے وائز اگر ان کی کاونسلنگ کر ایک لسٹ تیار کرلیں اور” سہ ماہی کورس” کے عنوان سے اُن کو جوڑ کر ہفتے میں ایک دن لڑکوں کے ایک گھنٹے کا کلاس ،جب کہ دوسرے کسی دن محلے کی بالغ لڑکیوں کا ایک گھنٹے کا کلاس ہوجا یا کرے ، تو اس سے نوجوانوں میں دینی بیداری بھی آئے گی اور وہ ہم سے دور ہونے کے بجائے قریب بھی ہوں گے ۔اِ سی طرح سے "کورس ” کی ترتیب کے وقت یہ ضرور پیش نظر رکھا جا ئے کہ "دینی مسائل کی جانکاری ” کے عنوان سے الگ” سہ ماہی دینی کورس ” اور”فکری واخلاقی تربیت” کے عنوان سے الگ” سہ ماہی تربیتی کورس "بنایا جائے اور اگر ضرورت محسوس کریں تو "تحفظ اردو "کے لئے بھی سہ ماہی ایک مختصر نصاب مرتب کر ،عملی سطح پر سیکھنے سیکھانے کا دور شروع کیا جائے ،یہ کل 9/مہینے ہوئے ،جب کہ ایک تین مہینے کا کورس” ٹریننگ ” کے طور پر رکھ کر مکمل ایک سال اس زاوئیے سے نوجوان لڑکے لڑکیوں پر بھی محنت کی جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ دینی وسماجی فلاح کے لئے ماحول سازی میں بڑی حد تک اُن سے مدد مل سکے گی۔
چار سے پانچ فیصد ہی ہمارے بچے مدرسوں میں ہیں ،باقی پنچانوے فیصد میں بھی دین کی فکر کون کرے گا ،اُن پنچانوے فیصدی بچے ،بچیاں اورنوجوان جو کسی وجہ سے ہمارے مدرسے نہیں آرہے ہیں ،اُن کے بارے میں بھی سوچنا اور لائحہ عمل تیار کرنا،کیا ہماری ذمہ داری نہیں ہے ؟مدرسوں کا اپنا ایک نظام ہوتا ہے ،اس کا اپنا ایک سودمند مفید سلسلہ ہے ،جہاں لاکھوں نہیں ،کروڑوں اربوں کا خرچہ ہے اور یہ سارے اخراجات ملت کی طرف سے مختلف مدوں سے تعاون کی شکل میں پورے ہوتے ہیں ،اگر ہر ضلع کے صرف بلاک سطح پر مرکزی دینی ادارے ، نوجوانوں کی یک سالہ تعلیمی و تربیتی ترقی کی فکر کرلیں اور اپنے سالانہ اخراجات میں اس کو بھی شامل کرلیں ،تو ہمیں نہیں لگتا کہ یہ کام مشکل ہوگا ،یا یہ پنچانوے فیصد بچے ہمارے دینی اثرات سے محروم رہیں گے۔بڑے اداروں کی بات ہم اس لئے کررہے ہیں کہ اُن کے پاس ذی استعداد اساتذہ دستیاب ہوتے ہیں ، وہ اگر چاہیں تو اپنے مدرسوں کے مقررہ نظام میں خلل ڈالے بغیر ایک استاذ سے ایک حلقہ کے لئے ہفتے میں ایک دن استعمال کر پنچانوے فیصد بچوں کی دینی وتعلیمی تربیت کا کام لے سکتے ہیں۔
بہت سی باتیں مکتب کے زمانے میں بچوں کو نہ سیکھنے کی ہوتی ہیں اورنہ سکھانے کی ،ایسی صورت میں شعور و آگہی کا یہ وقت بہت مناسب ہے ،جس میں ہم انہیں ذاتی زندگی سے لے کر قومی وملی سطح تک کی باتیں سکھاسکتے ہیں ،اس کے لئے ضروری ہے کہ کنواں خود پیاسے کی فکر کرے۔یہ مشاہدہ ہے کہ ہمارے بہت سے نوجوان بچے بچیاں دین کو رسماً جان رہے ہیں ،اُسے قطعا سمجھ نہیں رہے ہیں ،یہاں تک قرآن پاک کو وہ محض ایک کتاب کی حیثیت سے جان رہے ،اُسے آفاقی وانقلابی اورکتاب ہدایت یا خدا کا آخری کلام کے طور پر سمجھنے کے لئے وہ آمادہ نہیں ہیں ،وہ خود کو اس بات پر مطمئن نہیں پاتے کہ کامیابی اور نجات کا واحد ذریعہ صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہے اور اس کائنات میں نوجوان سمیت ہر شخص اس کتاب پر عمل کئے بغیر حقیقی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا !نوجوانوں میں جب کتاب اللہ کے حوالے سے سوچنے سمجھنے کا یہ معیار ہوگا ،تو دین کے دیگر ارکان کے سلسلے میں وہ کتنے سنجیدہ ہوں گے اور کیوں کر وہ دینی امور سے خود کو جوڑنے میں سعادت مند پائیں گے ؟
اس لئے اس بات کی اشدضرورت ہے کہ نوجوانوں میں اللہ نے جو خوبیاں رکھی ہیں ،اس سے فائدہ اٹھائیں ،نوجوانوں کے مسائل ودشواریوں کو قرآن وحدیث کی روشنی میں حل کیا جائے اور تعلیم وتربیت کے پورے مرحلے میں کبھی بھی ان کی ذاتی زندگی پر منفی زاوئیے سے انگلی رکھنے کے بجائے ،ہمیشہ مثبت اور عمومی لب ولہجے کا استعمال ہو ،تاکہ وہ خود اپنے اندر داعیانہ ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے اقامت دین کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا اپنا فرض منصبی خیال کریں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دنیا حیاتیاتی جنگ کی زد میں

عمیر محمد خانریسرچ سکالررابط: 9970306300 جنگ و جدل ایسے وسیلے ہیں جس کی بدولت قوموں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے