آہ! علوم و معارف کے بحر بیکراں رخصت ہوگئے

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی
خادم تدریس: جامعہ نعمانیہ، ویکوٹہ، آندھرا پردیش

آج بعد نماز فجر جیسے ہی اپنے موبائل اون کیا، مسکال کے میسیج پر نگاہ پڑی، حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم "جمال پور” (استاذ:مدرسہ رحمانیہ، سوپول، دربھنگہ، بہار) نے یاد فرمایا تھا، دل کو دھچکا لگا کہ کہیں حضرت مولانا ہارون رشید صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ کے بارے میں کوئی خبر تو نہیں ہے، کیونکہ ان دنوں حضرت کی طبیعت علیل چل رہی ہے، دو چار دن قبل ہی معلوم ہوا تھا کہ حضرت مولانا ہارون رشید صاحب قاسمی دامت برکاتہم کی طبیعت ناساز ہے،فوراً بھائی مولانا سفیان صاحب کو کال کیا ،موصوف نے ریسو نہیں کیا تو مولانا نعمت اللہ صاحب کو یاد فرمایا انہوں نے ریسو کیا علیک سلیک ہوئی،حضرت مولانا رح کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے کہا کہ بابو! آب مولانا بہت کمزور ہو چکے ہیں،کھانا پینا بھی بند کرچکے ہیں،بات چیت بھی نہیں کرتے ہیں، میں نے کہا کہ ڈاکٹر کے پاس لے جائیں، دربھنگہ یا پٹنہ، انہوں نے کہا کہ ہم لوگ تو تیار ہیں لیکن حضرت جانے کے لئے تیار نہیں ہیں، تاہم یہاں بھی ڈاکٹر کے زیر نگرانی علاج جاری ہے، آپ مولانا کی صحت یابی کے لئے دعا کریں، اور قاری محمد نوراللہ رحمانی صاحب (امام و خطیب: مسجد پنک اپارٹمنٹ،سات بنگلہ،اندھیری ویسٹ،ممبئی)کو بھی اطلاع کردیں۔
آہ! آج جب مولانا نعمت اللہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم کو کال کیا تو وہی خبر سنا جس کا خدشہ تھا، کہ مولانا ہارون رشید صاحب رح دار فانی سے دار باقی کوچ کر گئے:
انا لله وانا اليه راجعون اللهم اغفر له وارحمه وادخله في فسيح جناتك ياارحم الراحمين-
یہ خبر سن کر دل رنجور ہے، ذہن و دماغ پر ایک بوجھ ہے، آنکھیں اشکبار ہیں، حزن و ملال سے کچھ کرنے کی طبیعت نہیں ہورہی ہے، جسم نڈھال سا معلوم ہورہا ہے، اپنے آپ کو ایسا احساس ہورہا ہے کہ ہمارے گھر کے کوئی معزز شخص ہم سے جدا ہوگئے ہیں۔
حضرت مولانا ہارون رشید صاحب رح کے زیر سرپرستی تقریبا چھ ماہ بحکم حضرت الاستاذ ڈاکٹر مفتی اشتیاق احمد صاحب قاسمی دامت برکاتہم (استاذ:دارالعلوم دیوبند) فدوی کو خدمت دین کا موقع ملا ہے، وہ مدرسہ کے مہتمم تھے اور بندہ ایک ادنی استاذ، لیکن وہ ہمارے لئے ایک مشفق والد کی حیثیت سے تھے، چھ ماہ کے درمیان کبھی بھی کسی معاملہ میں اف تک نہیں کہا، بلکہ میری تدریسی دور وہیں سے شروع ہوا اس وجہ سے انہوں نے مجھے بہت کچھ سکھایا،ان کے احسانات بندہ ناچیز پر بے شمار ہیں، اللہ تعالی ان کو اس کا اجر جزیل عطا فرمائے (آمین)
میں نے حضرت رح کو بہت قریب سے دیکھا ہے، حسن اتفاق کہ سن 2015/میں حضرت گھر ہی تھے۔ میں نے حضرت والا کو بے مثال پایا، وہ علوم و معارف کے بحر بیکراں تھے،ان کی ساری زندگی درس و تدریس میں ہی گذری، وہ کامیاب مدرس اور کہنہ مشق قلم کار تھے، اس کے ساتھ ساتھ وہ اچھا منتظم بھی تھے۔
ایک زمانہ تک انہوں نے بحکم امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رح (سابق جنرل سیکرٹری:آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ سے ہفتہ وار” نقیب ” میں لکھا، وہ تمام مضامین کتابی شکل میں چھپ چکی ہے۔
وہ اردو و فارسی زبان و بیان کے ادیب کامل تھے، اسی کے ساتھ ساتھ آپ عربی زبان پر بھی مہارت تامہ رکھتے تھے۔
آپ رح جس طرح لکھنے میں طاق تھے اسی طرح قوت گفتار کے بھی شہسوار تھے، آپ جب زبان کھولتے تو سامعین پر سکتہ طاری ہوجاتا، آپ رح اہل علم کے خوب قدردان تھے، ہم ان کی خصوصیتوں کے بارے میں تضمین کے ساتھ یہی کہہ سکتے ہیں:
ان سا جانباز زمانے میں نہ پاؤں گےکہیں
لاکھ ڈھونڈوں گے چراغ رخ زیبا لے کر
آپ رح کی تاریخ پیدائش 1/یکم جنوری 1939/ءہے، ابتدائی تعلیم آپ نے اپنی بستی میں اپنے چچا مولانا مقبول صاحب رح سے حاصل کی، اس کے بعد علاقہ کے سب سے مشہور ادارہ "مدرسہ رحمانیہ، سوپول،دربھنگہ (بہار) میں داخلہ لیا، جہاں بعد میں آپ رح استاذ حدیث وپرنسپل بھی ہوئے ، اس کی چہار دیواری میں تقریبا چار سال رہے۔
یہاں سے مدرسہ امدادیہ دربھنگہ گئے، یہ مدرسہ امدادیہ کا عروج کا زمانہ تھا، پھر آپ مدرسہ شاہی مرادآباد تشریف لے گئے، ایک سال یہاں رہے، کچھ دن مدرسہ امدادیہ مرادآباد میں بھی پڑھے لیکن وہاں کی تعلیم آپ کو راس نہیں آئی اس لئے دوبارہ مدرسہ شاہی میں آئے، ایک سال گذارنے کے بعد دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور سن 1380/ھ مطابق 1961/میں آپ نے سند فضلیت حاصل کی۔
جس سال آپ رح شریک دورۂ حدیث شریف تھے اس سال مادر علمی دارالعلوم دیوبند میں کل طلبہ کی تعداد 1353، اور دورۂ حدیث شریف میں 187/ طلبہ تھے۔
آپ کے چند رفقاء درس یہ ہیں۔
(1) حضرت مفتی کفیل الرحمن نشاط قاسمی رح (سابق نائب مفتی، دارالعلوم دیوبند)
(2) حضرت مولانا محمد تسلیم صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ (سابق صدر مدرس:مدرسہ فرقانیہ، بگھیلا گھاٹ، دربھنگہ، بہار)
(3) حضرت مفتی مظفر عالم قاسمی دامت برکاتہم (سابق استاذ:انجمن اسلام، ممبئی)
حضرت رح فراغت کے بعد دوماہ” نول گڈھ ” صوبہ راجستھان میں ایک مدرسہ میں رہے، یہاں ابتدائی تعلیم تھی بلکہ ناظرہ حفظ کی تعلیم تھی، طبیعت بحال نہیں ہوئی، آپ رح نے اس موقع پر ملک کے دو مقتدر بزرگوں کے نام خط لکھا ایک حضرت حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمی رح (مہتمم دارالعلوم دیوبند) اور دوسرا خط امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رح۔
دونوں بزرگوں نے آپ کے خط کاجواب لکھا ، پہلے جواب امیر شریعت رح نے لکھا تھا اس لئے آپ ان کے حکم پر مدرسہ رحمانیہ مونگیر تشریف لے گئے اور ڈھائی سال وہیں تدریس سے منسلک رہے، اس زمانہ میں حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم (امیر شریعت، بہار اوڑیسہ و جھارکھنڈ، و جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) مونگیر میں زیر تعلیم تھے، اور اسی زمانہ میں حضرت قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ (سابق صدر:آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) بھی مدرس تھے۔
مونگیر کے بعد آپ رح بحکم حضرت امیر شریعت رابع رح چند ماہ مدرسہ رحمانیہ، یکہتہ مدھوبنی، بہار میں بھی تدریس کے فریضہ انجام دئیے۔
لیکن یہاں طبیعت بحال نہیں ہوئی، تو پھر اپنے مادر علمی مدرسہ امدادیہ، لہریاسراۓ، دربھنگہ تشریف لائے اور تقریباً چھ سال یہاں درس وتدریس کی مسند سجائی، اس کے بعد مدرسہ رحمانیہ سوپول بحیثیت علیا استاذ تشریف لائے، اور یہاں آپ نے کئی احادیث کی کتابیں بھی پڑھائیں،نیز یہاں آپ پرنسپل بھی ہوئے، یہ بھی آپ کا مادر علمی ہے۔
مدرسہ رحمانیہ سوپول سے سبکدوش ہونے کے بعد”ململ ” مدھوبنی میں واقع جامعہ فاطمہ الزہراء للبنات کے ذمہ داروں نے آپ کو بحیثیت "شیخ الحدیث” ململ مدعو کیا اور آپ تشریف لے گئے، چند سال یہاں رہے، اس کے بعد گجرات آنند کے ایک ادارہ میں بحیثیت شیخ الحدیث تشریف لے گئے، پھر آپ کے رفیق درس حضرت مولانا موسی ماکروڈ رح(سابق مہتمم مرکز اسلامی، انکلیشور، بھروچ گجرات) نے اپنے ادارہ میں آپ کو بحیثیت شیخ ثانی آنے کی دعوت دی اور آپ نے قبول فرمایا۔
ضعف بڑھنے کی وجہ سے آپ رح یہاں سے اپنے وطن آگئے، گھر ہی رہ رہے تھے، لیکن جن کی پوری زندگی تدریس میں گذری ہو وہ بغیر تدریس کیسے رہ سکتے ہیں، اسی اثنا حضرت مولانا عمر پالن پوری رح کی بستی "گھٹامن” کے مدرسہ، مدرسہ نورالعلوم میں شیخ الحدیث کی ضرورت تھی، ادارہ کے ذمہ دار نے استاذ محترم حضرت مفتی سعید احمد پالن پوری قدس سرہٗ (سابق شیخ الحدیث:دارالعلوم دیوبند) سے رابطہ کیا انہوں نے حضرت مولانا ہارون رشید صاحب قاسمی رح سے وہاں جانے کی درخواست کی اور آپ رح وہاں تشریف لے گئے، اور ابھی وہیں شیخ الحدیث کے عہدہ پر فائز تھے کہ اللہ کے پیارے ہوگئے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ضلع مئو کے پانچ باحیات مصنفین کتب کثیره

: محمد سلیم انصاری ادروی ضلع مئو ویسے تو رقبے کے حساب سے کافی چھوٹا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے