اللہ کے باغی مسلمان

تحریر: شمشیر عالم مظاہری۔دربھنگوی
امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا۔ ویشالی بہار

قارئینِ کرام!
اللہ کی زمین فسق و فجور سے بھر چکی ہے ہر سو گناہوں کا ایک طوفان ہے جو تھمنے کا نام نہیں لیتا بالخصوص بے پردگی و بے حیائی اور فحاشی وعریانی کا سیلاب تو تمام بند توڑ چکا ہے طرفہ یہ کے برائی کا احساس تک دلوں سے محو ہو چکا ہے بہت سے گناہوں کو آج ہم مسلمان ہونے کے باوجود بھی گناہ ہی نہیں سمجھتے حالانکہ وہ شریعت کی نگاہ میں بہت بڑے گناہ ہیں بڑے بھاری جرم ہیں ۔ آج گناہوں کی نحوست سے مسلمان کے دل پر ایسا زنگ چڑھ گیا ہے کہ اسے خیر و شر کی تمیز باقی نہیں رہی شر کو خیر سمجھ بیٹھا ہے آج نئی اندھیری سے متاثر مسلمانوں کا مغرب زدہ طبقہ خاص طور سے اس شیطانی فریب میں مبتلا ہے چند گناہوں کی فہرست گناتا ہوں ان گناہوں میں سے کسی گناہ پر بھی آج ٹوکئے تو لکھے پڑھے جہلاء غلطی تسلیم کرنے کی بجائے جھٹ سے اس گناہ کے فوائد گنانا شروع کر دیں گے اور یہ کہ اس کے چھوڑنے میں کتنے نقصانات ہیں گویا یہ لوگ گناہ نہیں نیکی کر رہے تھے جس میں آپ نے رکاوٹ ڈال دی ہے ۔
یہ شیطانی تلقین کا اثر ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
مفہوم ۔ اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کو تعلیم کررہے ہیں ۔

(1) ڈاڑھی منڈانا یا کاٹ کر مٹھی سے کم کرنا قطعی حرام ہے ۔اللہ تبارک و تعالی نے مرد و عورت دو الگ الگ صنفیں بنائی ہیں اور ان میں جہاں اعضاء کی ساخت میں فرق رکھا ہے وہیں ان کے درمیان امتیاز کی ایک واضح علامت ڈاڑھی کو قرار دیا ہے قدرتی طور پر مردوں کے چہرے پر داڑھی نکلتی ہے اور عورتوں کے نہیں نکلتی یہ ایسا واضح فرق ہے جس سے پہلی ہی نظر میں مرد و عورت میں امتیاز ہوجاتا ہے اب جو شخص ڈاڑھی منڈاتا ہے وہ مرد ہونے کے باوجود عورتوں سے مشابہت اختیار کرتا ہے اور اس طرح کی مشابہت پر احادیث میں سخت لعنت وارد ہوئی ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں اور مردوں سے تشبہ کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے (بخاری)
ڈاڑھی نہ رکھنے میں ایک تو عورتوں کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ ایک مسلمان مرد کے لیے یہی خرابی کیا کم تھی۔ مزید اس پر حضور صلی اللہ وسلم نے ڈاڑھی نہ رکھنے کو مشرکین اور مجوسیوں کی علامت قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو تاکید کے ساتھ ڈاڑھی رکھ کر ان کی مخالفت کا حکم فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ مشرکین کی مخالفت کرو داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھوں کو خوب کترواؤ (بخاری شریف)
ایک دوسری حدیث میں ہے
مونچھیں کترواؤ اور داڑھیاں چھوڑو مجوسیوں کی مخالفت کرو (مسلم)
افسوس مونچھیں بڑھ رہی ہیں اور ڈاڑھی کا نشان باقی نہیں لیکن اس کا نقصان کتنا ہے اور کن کن امراض سے سامنا ہوتا ہے اس ضمن میں ایک خصوصی رپورٹ درج ذیل ہے۔ کیول فادر ایک پرتگالی سائنسدان ہے اس کی تحقیق کے مطابق انسانی ہونٹوں میں بڑے حساس اور تیز گلینڈز ہوتے ہیں جس کا بالواسطہ دماغ سے تعلق ہے اور یہی گلینڈز مرد اور عورت کے انفرادی تعلق میں رجحان بڑھاتے ہیں اوپر کے ہونٹ کے گلینڈ میں ایسے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جن کے لئے بیرونی اثرات اور پانی بہت ضروری ہے جب کہ یہ کام اگر مونچھیں ہوں تو نہیں ہوتا کیوں کہ جب مونچھیں نہ ہوں تو اوپر کے ہونٹ پر پانی بھی لگے گا اور بیرونی ہوائی اثرات سے بھی وہ متاثر ہوگا ورنہ مونچھیں پانی اور ہوا کو روکے رکھتی ہیں اگر ان گلینڈز کو پانی اور ہوا نہ لگے تو اس سے دائمی نزلہ مسوڑوں کا ورم اور اعصابی کھچاؤ پیدا ہوجاتے ہیں مزید یہ کہ اگر مونچھیں بڑی ہوں تو جراثیم ان میں اٹک جاتے ہیں اور یہی جراثیم اس وقت اندر چلے جاتے ہیں جب ہم غذا کھاتے ہیں۔ نچلے ہونٹ کی کیفیت اوپر کے ہونٹ سے بالکل برعکس ہے اسی لئے اسلام میں مونچھیں ترشوانے اور داڑھی بڑھانے کا حکم ہے (ھائجین اینڈ ہیومن) بہر حال ڈاڑھی منڈانا اور کترانا (جب کہ ایک مشت سے کم ہو) باجماع امت حرام ہے صحابہ وتابعین ائمہ مجتہدین ودیگر اسلاف میں سے کوئی بھی اس کے جواز کا قائل نہیں۔ اور ڈاڑھی منڈانے اور کترانے والا فاسق اور گناہگار ہے ۔
(2) عورتوں کا شریعت کے مطابق پردہ نہ کرنا آج کل بالکل بے پردگی بے حیائی اور ننگے پن کے باوجود لوگ بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے یہاں تو پردہ ہے یہ بھی شیطان کی تلقین ہے کہ بے حیائی بدمعاشی جی بھر کے کرتے رہو اللہ تعالی کی بغاوت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھو مگر ساتھ ہی ساتھ زبان کی حد تک یہ بھی رٹ لگاتے رہو کہ ہمارا خاندان تو شرفاء کا خاندان ہے ہماری خواتین حیا دار اور باپردہ خواتین ہیں ہمارے یہاں کسی قسم کی برائی کا کوئی گزر نہیں ۔
بےپردہ عورتیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ بعد کے زمانے میں ایسی عورتیں پیدا ہوں گی جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی اس کے تین مطلب ہو سکتے ہیں (1) لباس پہن کر ننگی ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ لباس بالکل ناقص ہو کہ کپڑا پہننے کے باوجود بازو کھلے ہوئے ہوں اور نیچے سے پنڈلیاں کھلی ہوئی ہوں جیسا کہ آج کل لڑکیوں کے اسکول کے لباس ہیں نہایت غیرت اور شرم کی بات ہے کہ ایسا ناقص لباس اپنی پیاری لڑکیوں کو پہنا کر لوگ فخر کرتے ہیں اور اسی طرح ساڑی بلاؤز پہن لیتی ہیں جس سے بازو کھلے ہوئے رہتے ہیں گردن سینہ پیٹھ پیٹ بازو یہ سب کھلے رہتے ہیں غرضیکہ بدن کا اکثر حصہ کھلا رہتا ہے کیسی بے شرمی کی بات ہے ایسی ننگی حالت میں غیروں کے سامنے بھی آجاتی ہیں ۔
(2) دوسرا مطلب یہ ہے کہ کپڑا اتنا باریک اور ہلکا پہنا جائے کہ اندر سے بدن نظر آجائے تو بظاہر لباس پہنے ہوئے ہے مگر حقیقت میں کی ننگی ہے ۔ (3) تیسرا مطلب یہ ہے کہ لباس اتنا ٹائٹ اور تنگ بنایا جائے کہ اس کے پہننے کے بعد اس کے اوپر سے بدن کی پوری بناوٹ نظر آنے لگے یہ بھی لباس پہننے کے باوجود ننگے ہونے کے درجہ میں ہے اللہ تعالی تمام مسلم عورتوں کی ان تینوں قسم کے لباس سے حفاظت فرمائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح ننگا لباس پہن کر اور مزید مٹک مٹک کر چلیں گی جس سے غیر محرم مرد عورتوں کی طرف نگاہ اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے ایسی ایک عورت کی وجہ سے۔ دسوں،بیسوں،سینکڑوں مرد معصیت اور گناہ کبیرہ میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورتیں ننگے سر راستوں اور سڑکوں پر اس طرح چلیں گی کہ ان کے سر عمدہ ترین اونٹنیوں کے کوہان کی طرح ہلتے رہیں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسی عورتیں جنت میں ہرگز داخل نہیں ہو سکتیں اور جنت کی بو تو جنت سے پانچ سو سال کی مسافت تک پہنچتی ہے اور ایسی عورتوں کو جنت کی بو تک نصیب نہ ہوگی ۔
اسلام نےعورتوں کو عزت راحت اور سکون دیا جتنی عزت اسلام اور اسلامی حدود اور قوانین نے دی ہے اتنا شاید کسی مذہب نے دیا ہو اسلام نے عورت کو گھر داری میں عزت دی ہے اور جب بھی یہی عورت گھر داری چھوڑ کر باغیانہ مزاج اپنائے گی ذلت اور خواری اس کا مقدر بن جائے گا۔ اس کی عزت خاک و پا میں مل جائے گی پھر یہ معاشرہ کا کھلونا بن جائے گی ۔
(3) مردوں کا شلوار پائجامہ لنگی نیچے لٹکا کر ٹخنے ڈھانکنا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مرد بھی ٹخنے ڈھانکے گا سیدھا جہنم میں جائے گا (بخاری)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے کپڑے کو تکبر کے ساتھ نیچے گھسیٹے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کو رحمت کی نگاہ سے دیکھیں گے بھی نہیں (صحیح بخاری) دوسری حدیث میں حضور صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ مرد کی زیر جامہ کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ حصہ جہنم میں جائے گا اس سے معلوم ہوا کہ مردوں کے لیے ٹخنوں سے نیچے پائجامہ شلوار پتلون وغیرہ پہننا جائز نہیں اور اس پر حضور صلی اللہ وسلم نے دو وعیدیں بیان فرمائیں ایک یہ کہ ٹخنوں سے نیچے جتنا حصہ ہو گا وہ جہنم میں جائے گا، دوسرا یہ کہ قیامت کے دن اللہ تعالی ایسے شخص کی طرف رحمت کی نگاہ سے دیکھے گا بھی نہیں، اب دیکھئے کہ ٹخنوں سے اوپر زیر جامہ پہننا ایک معمولی بات ہے اگر ایک انچ اوپر شلوار پہن لی تو اس سے کیا آفت اور مصیبت آجائے گی کون سا آسمان ٹوٹ پڑے گا لیکن اللہ تعالی کی ناراضگی سے بچ جاؤ گے اور اللہ تعالی کی نظر رحمت حاصل ہوگی اور یہ ایسا گناہ بے لذت ہے کہ جس میں پوری کی پوری قوم مبتلا ہے کسی کو فکر ہی نہیں ۔
(4) تصویر بنانا بنوانا بلاضرورت اپنے پاس رکھنا یا اسے دیکھنا ۔ایک (فتنئہ تصویر) سے بلا مبالغہ سینکڑوں فتنے منہ کھولے کھڑے ہیں اور قوم کو نگل جانے کی تاک میں ہیں جہاں تک بین الاقوامی قوانین کی مجبوری کی وجہ سے تصویر بنانا ناگزیر ہو وہاں تک تو ہم معذور قرار دیئے جاسکتے ہیں اور یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اس پر مواخذہ نہیں ہو گا لیکن ہمارے یہاں تو تصویر کے فتنے نے وہ قیامت برپا کی ہے کہ الامان و الحفیظ ایسا لگتا ہے کہ اس کی حرمت و قباحت ہی دلوں سے نکل گئی ہے اور ( نعوذ باللہ) اس کو تقدس و احترام کا درجہ حاصل ہے۔صحیح بخاری و مسلم میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر حاضری میں چھوٹا سا بچھونا خرید لیا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو دروازے پر کھڑے رہے اندر تشریف نہیں لائے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور پر ناگواری کے آثار محسوس کیے میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں مجھ سے کیا گناہ ہوا ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ گدا کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ میں نے آپ کے لئے خریدا ہے کہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس سے تکیہ لگائیں رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ ان تصویروں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب ہوگا ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو تصویریں بنائی تھیں ان میں جان بھی ڈالو اور ارشاد فرمایا کہ جس گھر میں تصویر ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے (مشکوٰۃ) صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ ہر تصویر بنانے والا جہنم میں ہوگا اس نے جتنی تصویریں بنائی تھیں ہر ایک کے بدلے میں ایک روح پیدا کی جائے گی جو اسے دوزخ میں عذاب دے گی۔
(5) گانا خود گانا، یا گانا سننا، اس کے بارے میں حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ۔الغناء رقیۃ الزنا (الکشف الا لہی جلد ٢)کہ گانا زنا کا منتر ہے جو گانا گائے گا سنے گا شیطان اس کے گلے میں پھندہ ڈال کر سیدھا جہنم میں پھینک دے گا گانا صرف ایک گناہ نہیں بہت سے گناہوں کا سر چشمہ ہے یہ بھی یاد رکھیے کہ تصویر اور گانے پر جو جو لعنتیں برستی ہیں، ٹی وی، بھی ان کا پورا پورا مصداق ہے۔ حضرت نافع رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے ساتھ سفر میں جارہے تھے تو انہوں نے مزمار ( گانے بجانے کے آلہ) کی آواز سنی تو اپنے دونوں کانوں میں انگلیاں دے لیں اور اس جگہ سے دور ہٹ گئے تاکہ آواز نہ سن سکیں اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب ایسی آواز سنتے تھے تو یہی عمل فرمایا کرتے تھے۔(شعب الایمان)
شریعتِ اسلامی نے جس شدت سے مسلمانوں کو گانے بجانے میں انہماک سے روکا ہے افسوس ہے کہ آج اسی کثرت کے ساتھ اس عظیم معصیت میں ابتلاء عام ہو گیا ہے اب درودیوار سے گانے بجانے کی آوازیں آتی ہیں کام کرنے والے کاریگر گانوں کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ بغیر اس آواز کے ان کا دل ہی کام میں نہیں لگتا گھروں سے قرآن کریم کی آوازوں کے بجائے دن رات میوزک اور ڈیک کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور پھر اس پر بس نہیں کہ آدمی خود ہی سن کر گناہگار ہو بلکہ تیز ترین آواز میں اسے بجا کر سارے محلہ والوں کو گناہ گار بنانے کی کوشش کی جاتی ہے آج ہمارے نوجوانوں کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ چیز ٹیپ ریکارڈر اور گانے بجانے اور فلم کی اسٹوریوں کے کیسٹ ہیں جنہیں دن رات بجا کر اوقات کو ضائع اور اخلاق و عادات کو تباہ کیا جاتا ہے ۔فحاشیوں کا پٹارا، ٹیلی ویژن، وی،سی، آر اور کیبل، ٹی وی کے وسائل عام ہو گئے ہیں ان کے ذریعہ ہمارے کان گناہوں میں پوری طرح ملوث ہو چکے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی گانے والی عورت کی طرف کان لگائے گا قیامت کے دن ایسے لوگوں کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا (کنز العمال)
جس مجلس میں مزامیر، موسیقی، اور دیگر لہو ولعب کی چیزیں اور محرمات کا ارتکاب ہو رہاہو، ایسی مجلس میں بیٹھنا ہی جائز نہیں اگرچہ اس کی جانب توجہ اور دھیان نہ کیا جائے ۔
(6) سود کی لعنت، سود لینا دینا بینک انشورنس کی ملازمت اختیار کرنایا کسی بھی درجہ میں سود خوروں سے تعاون کرنا سودی ا داروں کو فائدہ پہنچانا قرآن و حدیث کی رو سے موجب لعنت ہے مگر مسلمانوں کا حال دیکھ لیجئے انہیں کتنی پرواہ اس وعید کی؟ اللہ رب العزت کا فرمان ہے اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سود کا جو حصہ بھی رہ گیا ہو اس کو چھوڑ دو اگر تمہارے اندر ایمان ہے اگر تم سود کو نہیں چھوڑو گے یعنی سود کے معاملات کرتے رہو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو۔(سورہ بقرہ)قرآن کریم میں اس طرح کی سخت وعید کسی اور عمل پر وارد نہیں ہے اس سے سودی آمدنی کے منحوس ہونے کا بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔نیز احادیث شریفہ میں بھی کثرت کے ساتھ سود کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سود کا ایک درہم جسے آدمی جان بوجھ کر کھائے اس کا وبال اور گناہ 36 مرتبہ منہ کالا کرنے سے بدترین جرم ہے (رواہ احمد، الترغیب) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے سود کھانے والے کھلانے والے سودی معاملہ کو لکھنے والے اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ یہ سب ( گناہ میں) برابر ہیں (مسلم، مظاہر حق) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں سود کے ستر اجزاء ہیں جن میں سب سے ہلکا درجہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے ( نعوذ باللہ) منہ کالا کرے (مظاہرحق)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں معراج کی رات میں میرا گزر ایسی جماعت پر ہوا جن کے پیٹ کمروں کے مانند تھے جن میں سانپ ( ( لوٹ رہے) تھے جو باہر سے نظر آ رہے تھے میں نے پوچھا کہ اے جبرئیل یہ کون لوگ ہیں تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ سود کھانے والے لوگ ہیں (الترغیب والترہیب) اسی طرح کی اور روایات بھی ذخیرۂ احادیث میں موجود ہیں جن کو پڑھ کر کسی بھی صاحب ایمان کو ہرگز ہرگز یہ جرات نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنی آمدنی میں سود کا ایک لقمہ بھی شامل کرے لیکن برا ہو مال کی ہوس اور دولت کی حرص کا کہ آج ہم اسلام کا دعوی کرنے کے باوجود سودی کاروبار سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتے اور مال کی کثرت کے شدید شوق میں حلال و حرام کی تمیز ختم کر دیتے ہیں ۔
(7) غیبت کرنا اور سننا یہ دونوں سخت ترین گناہ ہیں۔زبان کے ذریعہ سے جو گناہ سے صدور میں آتے ہیں اور جن کے ذریعہ کھلم کھلا اللہ رب العزت کے ساتھ بے شرمی اور بے حیائی کا ثبوت دیا جاتا ہے ان میں ایک گھناؤنا جرم غیبت کا ہے یہ وبا آج چائے کے ہوٹلوں سے لے کر سفید پوش حاملین جبہ ؤ دستار کی مبارک مجلسوں تک پھیلی ہوئی ہے مجلس کی گرمی آج غیبتوں کے دم سے ہوتی ہے
اور سلسلہ گفتگو دراز کرنے کے لیے عموماً غیبت ہی کا سہارا لیا جاتا ہے اب یہ مرض اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اس کی برائی اور گناہ ہونے کا احساس تک دل سے نکلتا جا رہا ہے یہ صورتحال افسوسناک ہی نہیں اندیشہ ناک بھی ہے ۔
غیبت کیا ہے ؟
جب غیبت پر کسی کو ٹوکا جاتا ہے تو وہ فوراً جواب دیتا ہے کہ کیا ہوا میں تو حقیقت حال بیان کر رہا ہوں گویا کہ یہ حقیقت بیان کرنا جائز ہے حالانکہ یہ خام خیالی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کیا تمہیں معلوم ہے غیبت کیا ہے صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے بھائی کے بارے میں ان باتوں کا ذکر کرنا جو اسے ناپسند ہوں (غیبت ہے) ایک شخص نے سوال کیا کہ اگر میرے بھائی کے اندر وہ صفات ہوں جو میں نے کہی ہیں ( تو کیا پھر بھی غیبت ہوگی) تو آپ صلی اللہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ اگر وہ برائی تیرے ساتھی میں پائی جائے تبھی تو وہ غیبت ہوگی اور اگر وہ بات اس کے اندر نہ ہو تو تو نے اس پر بہتان باندھا ہے ( جو غیبت سے بھی بڑا گناہ ہے)
اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اپنے فرمانبردار بندوں میں شامل فرماۓ اور شریعتِ مطہرہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے