اللہ کے محبوب بندوں کی سر زمین ایودھیا

تحریر: شاہ نواز عالم ازہری مصباحی، پرتاپ گڑھ

ہندوستان کے صوبہ اترپردیش میں اجودھیا (ایودھیا) کو ایک مذہبی مقام کی حیثیت سے جانا جاتاہے ۔  اس شہر کو کئی دوسرے ناموں سے بھی جانا جاتاہے جیسے اودھ، اپراجیتا، پسویا، برہمن پوری ، شوسلا، نندنی وغیرہ۔ یہ شہر اترپردیش کے ضلع فیض آباد (سابق)  میں سرجوندی کے کنارے آباد ہے ۔  یہاں مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق حضرت شیث علیہ السلام  کا مزار بھی ہے جو آٹھ نوگز طویل ہے ۔ مورخین کا خیال ہے کہ حضرت شیث علیہ السلام نے ایودھیا کو بسایا اور انکے پرپوتے حضرت ہند بن حام نے اس شہر کو وسعت دی ۔
حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں سیلاب آیا اور وہ اپنے کنبے اور پیروکاروں کے ساتھ ترکی کے علاقے میں پہچادئیے گئے مگر یہ تاریخی شواہد اور قرآن کے ذریعے سے ثابت ہوتاہے کہ حضرت نوح علیہ السلام سیلاب سے قبل ہندوستان کے علاقے ہی میں تبلیغ دین کا کام کررہے تھے ۔ اس طرح شیث علیہ السلام کے خاندان کا ہندوستان کے کسی علاقے میں سکونت پذیرہونا ناقابل یقین نہیں ہے ۔ ایودھیا میں کچھ قبروں کے بارے میں یہ بھی عقیدہ ہے کہ وہ شیث علیہ السلام کے اہل بیت کی ہیں ۔پانچویں دہائی میں دہلی کے ایک صوفی بزرگ عبدالرشید ہما کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ ان کے پاس ایک کتاب تھی جس میں حضرت شیث علیہ السلام کا شجرہ نسب دیا ہواتھا ۔
 اس شجرے میں رام کو انہی کی نسل میں دکھایاگیاتھا۔مگر عبدالرشید ہما کا یہ بھی کہنا تھا کہ رام اسلامی عقائد سے منحرف ہوگئے تھے۔ یہ بھی کہاجاتاہے کہ موجودہ ہریانہ کے علاقے میں چالیس انبیاء آرام فرماہیں ۔ ہریانہ کے ہی میوات علاقے میں نوح نام کا ایک قصبہ آج بھی ہے ۔تنورنام کی جگہ جہاں سے پانی ابلنا شروع ہوا وہ کیرالا کے ملاپورم میں ساحل سمندر پرواقع ہے ۔لہذا، یہ بعید از قیاس نہیں کہ حضرت شیث علیہ السلام کے اہل خاندان ایودھیا کے علاقے میں سکونت پذیر رہے ہوں ۔یہاں آٹھ نو گز کی جو قبریں ہیں وہ انہی نبیوں کی قیاس کی جاتی ہیں اور اس بارے میں روایتیں صدیوں سے سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں ۔حالانکہ مغل دربار کے دانشوران جیسے ابوالفضل اور فیضی ان روایتوں کو درست نہیں مانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آئین اکبری میں ایودھیا میں حضرت نوح علیہ السلام کی قبر مبارک کا ذکر نہیں کیاگیاہے۔ جبکہ یہاں کوتوالی کے عقب میں ایک مقبرہ ہے جس کے متعلق لکھاہواہے کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام کا ہے۔
 مگر شیخ عبدالحق محدث دہلوی جیسے صوفیاء ان روایتوں پر یقین رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیوں نے اس جگہ کو خورد مکہ اور مدینة الاولیاء بھی کہا۔یہاں بے شمار صوفیاء اور اولیاء کے مزارات بھی ہیں ۔ ان میں کچھ کے نام ہیں سید علاء الدین خراسانی ، دولت شاہ قلعہ ، کمال الدین شہید، شاہ اکبر چشتی مودودی ، کالے پہلوان ، نوگزی پیر، حضرت مخدوم بندگی نظام ، عبدالکریم شہید، شمس الدین فریاد رس، گلاب شاہ، رحیم شاہ،شاہ ابراھیم مجذوب ۔ نصیرالدین ، تین درویش، جلال الدین شاہ مسافر شہید، بڑی بی صاحبہ (حضرت چراغ دہلوی کی بڑی بہن )، قاضی عبدالطیف۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے مشہور خلیفہ حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی کا ایودھیا آبائی وطن تھا ۔ انکی پیدائش ہی ایودھیامیں ہوئی۔ یہیں انہوں نے شیخ شمس الدین یحیی اودھی سے قرآن سیکھا ۔حضرت شیخ نصیرالدین کے کئی مریدین بھی یہاں مدفون ہیں جن مین شیخ زین الدین اودھی ، شیخ فتح اللہ اودھی ، اور علامہ کمال الدین اودھی اہم ہیں ۔ ان صوفیوں کا ایودھیا میں قیام اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ صوفیوں کی نگاہ میں یہ شہر انبیاء کا مسکن رہا ہے ۔
ایودھیا میں مسجدوں اور خانقاہوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ یہاں کبھی مسلمانوں کی بڑی آبادی تھی ۔ یہاں 103مساجداور 80 مقبرے ہیں ۔
ایودھیامیں اتنے سارے اولیاء و صوفیاء کے قیام اور اسے اپنی ریاضت کا مرکزبنانے کے پیچھے یہی عقیدہ کارفرما رہاہوگا کہ یہاں  پہ حضرت شیث علیہ السلام اور ان کے خاندان کے دیگر پیغمبران کی قبریں ہیں ۔ اس لئے وہ اس مقام کو مقدس اور متبرک سمجھتے تھے ۔حضرت آدم علیہ السّلام کے بیٹوں کا مختصر واقعہ ۔ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا، تو اللہ تعالیٰ نے اُسے کوّے کے ذریعے بھائی کی لاش کو دفنانے کا طریقہ بتایا، جس پر عمل کرتے ہوئے اُس نے لاش دفنا دی۔ اب اُسے اپنے والد کے غصّے کا خوف تھا۔ اس موقعے پرشیطان نے قابیل کو گھر سے بھاگ جانے کی ترغیب دی، کیوں کہ اُسے یہ خوف لاحق تھا کہ اگر قابیل، حضرت آدم کے پاس رہا، تو کہیں توبہ و استغفار کے بعد دوبارہ راہِ حق پر نہ آ جائے۔ چناں چہ اُس نے قابیل سے کہا’’ اب تجھے تیرے والد زندہ نہیں چھوڑیں گے، تجھے قتل کر ڈالیں گے، تُو یہاں سے بھاگ جا۔‘‘ قابیل کو تو پہلے ہی اس بات کا خوف تھا، لہٰذا وہ یمن فرار ہوگیا، جہاں اُس نے سکونت اختیار کی اور بعدازاں اُس نے شادیاں بھی کیں، جن سے اولادِ کثیر پیدا ہوئی۔ قابیل نے اپنے والد کے دینِ حق سے بغاوت کرکے پہلے آتش پرستی شروع کی، پھر شیطان نے اُسے پتھر سے بُت بنانے کا طریقہ سِکھا دیا، یوں قابیل اور اُس کی اولاد نے ایک اللہ کو چھوڑ کر بُت پرستی شروع کردی۔ دنیا میں قتل و غارت، حسد و فساد اور بُت پرستی کی بنیاد قابیل ہی نے رکھی۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا’’دنیا میں جب بھی کوئی ظلم سے قتل ہوتا ہے، تو اُس کا ایک گناہ، حضرت آدم علیہ السّلام کے بیٹے، قابیل کی گردن پر ضرور ہوتا ہے۔ اس لیے کہ یہ وہ شخص ہے، جس نے ظالمانہ قتل کی ابتدا کی اور یہ ناپاک طریقہ جاری کیا‘‘۔ (مسند احمد)حضرت شیث علیہ السّلام کی وِلادت ۔حضرت آدم علیہ السلام کو جب بیٹے کے قتل کی خبر ملی، تو وہ بہت غم زدہ ہوگئے، کیوں کہ ہابیل نہایت سعادت مند، فرماں بردار، نیک اور شائستہ نوجوان تھا۔ اُس کے ان ہی اوصافِ حمیدہ کی بناء پر حضرت آدم کو اُمید تھی کہ وہ اللہ کے دین کو آگے بڑھانے میں اُن کا معاون و مددگار ثابت ہوگا۔ نیز، بعض روایات کے مطابق، ہابیل کی شہادت کا بنیادی سبب یہی تھا کہ قابیل کو بھی اندازہ ہو چُکا تھا کہ والد کے بعد نبوّت کا تاج نیک سیرت، ہابیل ہی کے سَر سجے گا اور اسی حسد نے اُسے بھائی کے قتل پر اُبھارا۔ ہابیل کے قتل کے بعد، حضرت آدم اور اماں حوّا بہت اداس رہا کرتے اور بیٹے کو یاد کرکے گھنٹوں آنسو بہایا کرتے تھے۔ حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے تھے کہ’’ اے اللہ! مجھے ایسی اولاد عطا فرما، جو تیرے دین کو دنیا میں پھیلانے میں میری معاون و مددگار ہو اور میرے بعد بھی تیرے پیغام کو دنیا میں عام کرے، میری صحیح جانشین ہو اور دنیا میں تیری وحدانیت کی عَلم بردار ہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کی دعائوں کو شرفِ قبولیت بخشا اور ایک نیک ،صالح بیٹے کی بشارت سے مطلع فرمایا، چناں چہ کچھ ہی عرصے بعد حضرت شیث علیہ السّلام پیدا ہوئے۔ حضرت آدم اور امّاں حوّا اُن کی پیدائش پر بےحد خوش تھے۔ یہ حضرت آدم علیہ السّلام کے تیسرے بیٹے تھے اور اُس وقت اُن کی عُمر 130سال تھی۔ امّاں حوّا نے صاحب زادے کا نام ’’شیث ‘‘ رکھا، جس کے معنیٰ’’عطیۂ خداوندی‘‘ کے ہیں، یعنی’’ اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کیا گیا خُوب صورت و خُوب سیرت تحفہ۔‘‘ حضرت شیث علیہ السّلام حُسن و جمال، شکل و صُورت اور عادات و اطوار میں اپنے والد سے بہت زیادہ مشابہ تھے۔ حضرت آدم اور حضرت حوّا کو آپ سے بہت محبّت تھی۔حضرت شیث علیہ السلام کی تعلیم و تربیت۔ حضرت آدم علیہ السّلام اپنے بیٹےحضرت شیث علیہ السّلام کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ۔ آپؑ کو اس بات کا علم ہوچُکا تھا کہ اُن کی اولاد میں سے یہ بچّہ اُن کا جانشین ہوگا، چناں چہ اُنہوں نے شروع ہی سے اُن کی تربیت پر خصوصی توجّہ دی۔ آپ اپنے بیٹے حضرت شیث  کو جنّت کا احوال سناتے، اچھے اور بُرے کی پہچان کرواتے۔ جوں جوں حضرت شیث علیہ السّلام بڑے ہوتے گئے، اُن کی پوشیدہ صلاحیتیں اور والدین کی تعلیم و تربیت رنگ لاتی رہی۔ حضرت آدم نے اُن کو درس و تدریس اور وعظ و تبلیغ کے خُوب صورت اور منفرد طریقے سِکھائے۔ اُنہیں دن و رات کی گھڑیوں کی پہچان کروائی، ان اوقات میں ہونے والی عبادتوں کی تعلیم دی، اس کے علاوہ ’’ طوفانِ نوح ؑ‘‘ کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جو کچھ عرصے بعد آنا تھا۔ حضرت آدم اور حضرت حوّا کو حضرت شیث سے بڑی اُمید تھی، جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اُن کا ایک بیٹا قتل ہوگیا، دوسرا شیطان کا پیروکار بن کر کفر کے راستے پر چل نکلا تھا، اب اللہ کے دین کو آگے پھیلانے اور شیطان کے شر کا مقابلہ کرنے کے لیے حضرت آدم علیہ السّلام کے بعد حضرت شیث علیہ السّلام ہی تھے۔ چناں چہ، جب حضرت آدم علیہ السّلام کی وفات کا وقت قریب آیا، تو اُنہوں نے حضرت شیث علیہ السّلام کو اپنا خلیفہ اور جانشین نام زَد کیا۔ 960برس کی عُمر میں حضرت آدم علیہ السلام کا وصال ہوا۔ حضرت شیث علیہ السّلام نے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق والد، حضرت آدم علیہ السلام کی تدفین کی۔حضرت شیث علیہ السّلام نبوّت کے منصب پر۔اللہ ربّ العزّت نے حضرت شیث علیہ السّلام کو نبوّت کے عظیم منصب پر فائز فرمایا اور اولادِ کثیر سے نوازا۔پھر یہ کہ اُن کی اولاد نہایت فرماں بردار اور نیک بھی تھی، جو اپنے والد کے ساتھ تبلیغِ دین کے کاموں میں مصروف رہتی۔روایت میں ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں پر 100صحیفے نازل کیے اور چار کتابیں۔ ان 100صحیفوں میں سے 50صحیفے حضرت شیث علیہ السّلام پر اُترے‘‘(ابنِ کثیر)۔ گو کہ قرآنِ کریم میں جن 25 انبیائے کرام علیہم السّلام کے اسمائے گرامی مذکور ہیں، اُن میں حضرت شیث علیہ السّلام کا نام شامل نہیں، تاہم احادیثِ مبارکہ میں اُن کے نبی ہونے کا صراحت کے ساتھ ذکر ہے۔حضرت شیث علیہ السّلام نے اپنی پوری زندگی والد کی دی ہوئی تربیت کے تحت اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی میں صَرف کی۔ آخری عُمر میں زیادہ ضعیف ہونے کی وجہ سے گوشہ نشین ہوگئے تھے، لیکن اولاد آپ کے کام کو آگے بڑھاتی رہی۔ حضرت شیث علیہ السّلام اپنے بھائی، قابیل کی اولاد کے کفر و شرک میں مبتلا ہونے اور شیطان کا آلۂ کار بنے رہنے کی وجہ سے بڑے فکرمند رہتے تھے اور اُنہیں راہِ راست پر لانے کی کوششوں میں لگے رہتے تھے، جنہوں نے اپنے باپ، قابیل کی شکل کے بُت بنا کر اس کی پوجا شروع کردی تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ دنیا میں موجود تمام انسان یعنی بنی آدم، حضرت شیث پیغمبر علیہ السلام ہی کی اولاد ہیں، کیوں کہ ہابیل تو محض 20برس کی عُمر میں اپنے بھائی، قابیل کے ہاتھوں شہید کردئیے گئے تھے اور اُنہوں نے کوئی وارث بھی نہیں چھوڑا تھا، جب کہ دوسرے بیٹے، قابیل کی اولاد شیطان کی پیروکار، اللہ کی نافرمان اور کفر پر گامزَن تھی، جسے طوفانِ نوح میں غرق کردیا گیا تھا۔مسلمانوں کی طرح یہودی اور عیسائی بھی حضرت شیث علیہ السّلام کو حضرت آدم و حوّا کا تیسرا بیٹا، نبی اور اُن کا جانشین تسلیم کرتے ہیں، جب کہ وہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ موجودہ تمام انسان حضرت شیث علیہ السّلام کی اولاد ہیں۔حضرت شیث علیہ السّلام کی لوگوں کو نصیحت ۔حضرت شیث علیہ السّلام لوگوں کو نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ’’ سچّا مومن وہ ہے، جو اللہ تعالیٰ کو پہچانتا ہو، نیک اور بَد کو جانتا ہو، بادشاہِ وقت کا حکم بجا لاتا ہو، والدین کے حقوق ادا کرتا اور اُن کی خدمت کرتا ہو، صلۂ رحمی کرتا ہو، غصّے پر قابو رکھتا ہو، محتاجوں اور مسکینوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آتا ہو، گناہوں سے پرہیز کرتا ہو، مصیبت کے وقت صبر کرتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اُس کا شُکر ادا کرتا ہو۔‘‘ (معارج النبوّۃ)حضرت شیث علیہ السّلام کو والد کی نصیحت ۔حضرت آدم علیہ السّلام کے انتقال کا وقت قریب آیا، تو اُنہوں نے بیٹے، حضرت شیث علیہ السّلام کو اپنے قریب بلایا اور نصیحت فرمائی کہ’’ اے میرے سعادت مند برخوردار! تم میرے جانشین بنو گے، چناں چہ تم تقویٰ اختیار کرو اور جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، تو اُس کے ساتھ، اُس کے محبوب، حضرت محمّد مصطفٰی ﷺ کا نام ضرور لیا کرو، کیوں کہ مَیں نے اُن کا نام عرش پر اُس وقت لکھا دیکھا، جب کہ مَیں رُوح اور مٹّی کی درمیانی حالت میں تھا۔ پھر مَیں نے تمام آسمانوں کا چکر لگایا، تو بارگاہِ ربّ العزّت میں آپ ﷺ کی شانِ محبوبیت کا یہ عالم دیکھا کہ نامِ پاک، محمّد(ﷺ) اللہ تعالیٰ کو اتنا پیارا ہے کہ آسمانوں میں کوئی ایسی جگہ نہیں ، جہاں یہ نامِ مبارک نہ لکھا ہو۔ میرے ربّ نے مجھے جنّت میں رکھا، تو مَیں نے جنّت میں کوئی محل، کوئی بالا خانہ، کوئی دریچہ ایسا نہ دیکھا کہ جس پر اسمِ محمّدﷺ تحریر نہ ہو۔ لہٰذا، تم بھی کثرت کے ساتھ اُن کا ذکر کیا کرو، کیوں کہ فرشتے بھی ہر وقت اور ہر آن اُن کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔‘‘ وصال۔ قصص الانبیاء میں علامّہ ابنِ کثیر تحریر فرماتے ہیں کہ’’ جب حضرت شیث علیہ السّلام کی وفات کا وقت قریب آیا، تو اُنہوں نے بھی اپنے فرزند، انوش کو معاملات سپرد کردئیے۔ انوش کے بعد اُس کا ولی عہد، قینن بنا، اس کے بعد قینن کا فرزند، مہلائیل اُن کا جانشین بنا اور ایرانی عجمی لوگ اُنہی کے بارے میں خیال رکھتے تھے کہ یہ سات ولایتوں کے بادشاہ بنے اور یہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے جنگلات کا صفایا کرکے شہروں اور قلعوں کی بنیاد ڈالی اور ُانہوں نے ہی شہرِ بابل اور شہرِ سوس آباد کیے۔ ابلیس اور اس کے لشکریوں، جنّوں وغیرہ کو بھی مار مار کر انسانی آبادی سے بھگا کر ویرانوں اور گھاٹیوں میں دھکیل دیا۔ اُن کا ایک بڑا تاج بھی تھا اور وہ لوگوں کو وعظ بھی فرماتے تھے۔ اُن کی بادشاہی چالیس سال رہی۔ جب وفات کا وقت قریب آیا، تو اُنہوں نے اپنے فرزند ’’اخنوخ‘‘ کو اپنا جانشین مقرّر کیا اور اُنھیں مختلف کاموں کی انجام دہی کے حوالے سے وصیت کی۔ مشہور اقوال کے مطابق یہی اخنوخ، حضرت ادریس علیہ السلام تھے، جنہیں حضرت شیث علیہ السّلام کے بعد اللہ نے نبوّت سے سرفراز فرمایا۔حضرت شیث علیہ السّلام کی وفات 912برس کی عمر میں ہوئ ہے۔اور کچھ معتبر روایتوں کے مطابق آپکا مزار ایودھیا میں ہے۔۔نیز اسکی تصدیق بادشاہ سکندر لودھی کی پیر و مرشد اور دیگر صوفیاءنے بھی اپنے اپنے انداز میں فرمائی ہے۔ موجودہ وقت میں اس مبارک مقام و آستانہ کے سجادہ نشین اولاد مخدوم اودھ جانشین فاضل ملت پیکر اخلاق و محبت  حضرت علامہ سید آصف میاں فردوسی مد ظلہ العالی ہیں ۔جنکی سر پرستی میں ہر سال ٣ اور ٤ رجب المرجب کو آپ کا عرس پاک بڑے تزک و احتشام کے ساتھ انعقاد پذیر ہوتا ہے۔ رب کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولی اپنے محبوب کے صدقے میں ہم سب کو تمام انبیاء کرام بالخصوص حضرت شیث علیہ السلام کے فیضان سے مالا مال فرما۔۔آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسل

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

خانقاہ واحدیہ طیبیہ بلگرام شریف میں علماء، و دانشوران کی آمد

بلگرام شریف/پریس ریلیز/20 جون بروز اتوار 2021 کو خانقاہ عالیہ واحد یہ طیبیہ بلگرام شریف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے