مولانا قاری محمد یوسف عزیزی کے والد گرامی الحاج عبدالمجید مرحوم نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک

بلرام پور: ہماری آواز (نامہ نگار) 14 فروری
ملک کے نامور قاری اور منتظم مولاناقاری محمد یوسف عزیزی بانی وناظم اعلیٰ جامعتہ القراء مؤسس و سربراہ اور آل انڈیا قرا کونسل جمیعیۃقراء الھند وصدر مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کے والد محترم الحاج عبدالمجیدمرحوم نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک ہوگئے۔موصوف کے انتقال کی خبر عام ہونے سے دینی وملی حلقوں میں رنج کاغم کاموحول قائم۔موصوف نے تقریبا113 برس کی عمر میں اپنے آبائی وطن موضع شنکر پور رانی جوت بلرام پور میں داعی اجل کولبیک کہا۔اللہ تعالی نے انھیں عمر سے نواز ا اور ان کے خانوادے سے علم دین کی خوب خوب خدمت وترقی ہوئی۔ موصوف کی تدفین گزشتہ کل بعد نماز ظہر آبائی موضع میں ہوئی۔جنازہ ان کے صاحبزادے قاری محمد یوسف عزیزی پڑھائی۔وہ ایک انتہائی دیندار،مخیرمزاج شخص تھے۔پوری عمر قرآنی تعلیمات کو فروغ دینے میں بسر ہوئی۔ان کے انتقال سے علاقہ اودھ لکھنؤ،بلرام پور،گونڈہ،بہرائچ،کرنیل گنج،اور ریاست کے کونے کونے میں رنج وغم کاماحول پایا جارہاہے۔قاری یوسف صاحب نے احباب سے دعا وایصال ثواب کی خصوصی درخواست کی ہے۔
مولانا قاری محمد یوسف عزیزی کسی کے محتاج تعارف نہیں، ان کے سیکڑوں تلامذہ ملک اور بیرون ممالک میں قرآن حکیم کی تعلیم دینے مصروف ہیں، موصوف نے کلام اللہ کو سکھانے میں جو اہم رول ادا کیا ہے، وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے، ان کی دینی و تعلیمی سرگرمیاں مشعل راہ ہیں۔موصوف کے والد مرحوم عبدالمجید صاحب ولد امانت علی کیولادت 1908 میں شنکر پور رانی جوت ضلع بلرام پور یوپی میں ہوئی۔ وہ ابتدا سے ہی تقوی وپرہیز گاری کے عادی تھے،صوم وصلاۃ کی پابندی ان کا خاصہ تھا۔انھوں نے مولانا قاری محمد یوسف عزیزی کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی اور انھیں زیور تعلیم سے آراستہ کر کے جو ہر قابل بنادیا۔خصوصاقرآن کی بہترین تعلیم سے مرصع کرکے کتاب اللہ کی تعلیم اور اس کی توسیع و اشاعت کا جذبہ پیدا کیا۔
مرحوم کی ذات اپنے خاندان کے لیے ایک گھنے سایہ داردرخت کی مانند تھی جس کے نیچے 102 نفوس بیٹے، بیٹیوں،نواسوں،نواسیوں اور پوتے پڑ پوتے اور پرپوتیوں کہکشاں زندگی گزار رہی ہے۔ ان میں 53 رجال 49 مستورات اور 8 عالم حافظ و قاری ہیں جو دینی و ملی خدمات میں لگے ہوئے ہیں۔موحوم کے عظیم المرتبت صاحبزادے مولانا قاری محمد یوسف عزیزی محتاج تعارف نہیں ہیں جو لکھنؤ میں قرآن کریم کی تعلیم اور فن قرآت سبعہ و عشرہ تجوید کی تعلیم میں مصروف ہیں وہ جامعتہ القرا مؤسس و سربراہ اور آل انڈیا قرا کونسل جمیعیۃقراء الھند و مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا دونوں کے صدر ہیں ان کے ادارہ سے تقریبا 1300 قرا حفص سبعہ و عشرہ فارغ ہو کر دنیا کے مختلف ممالک میں کتاب اللہ اور سنت رسول کی تعلیم دینے میں مصروف ہیں -اللھم زدفزدو طول اللہ عمرہ

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

خانقاہ فیض الرسول براؤں شریف میں عرس خواجہ غریب نواز

سدھارتھ نگر/ ادارہ وخانقاہ فیض الرسول براؤں شریف میں سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے