حضرت مولانا ہارون الرشید صاحب قاسمی کا انتقال،جمال پور کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک

دربھنگہ: 14 فروری، ہماری آواز(نامہ نگار) مشہور بزرگ عالم دین حضرت مولانا ہارون الرشید صاحب قاسمی سابق پر نسپل مدرسہ رحمانیہ سوپول بیرول دربھنگہ وشیخ الحدیث جامعہ نورالعلوم گٹھامن، پالنپور،گجرات و بانی وناظم مدرسہ رحمانیہ نسواں جمالپور دربھنگہ آج علی الصبح تین بجے مختصر علالت کے بعد مالک حقیقی سے جا ملے، وہ دو مہینے سے مستقل بیمار تھے، ان دنوں ان کا علاج دربھنگہ کے وویکا نند ہاسپٹل میں چل رہا تھا، ان کی عمر تقریباً 85 سال تھی،مولانا کے جنازہ کی نماز بعد نماز ظہر ان کے آبائی وطن جمالپور دربھنگہ میں ادا کی گئی، نماز جنازہ مشہور بزرگ شخصیت حضرت ماسٹر الحاج محمد قاسم صاحب نے پڑھائی،جنازہ کی نماز میں بڑی تعداد میں علمائے کرام، اور علمی وسماجی شخصیتوں نے شرکت کی،اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ان میں مولانا عبدالرب قاسمی، مولانا سعداللہ صدیقی،مولانا ومفتی اشتیاق احمد قاسمی، مولانا شمیم قاسمی،مولانا نسیم احمد ندوی، مولانا مفتی توحید مظاہری، مولانا مجاہد الاسلام قاسمی،مولانا اسعد قاسمی،مولانا احمد اللہ ندوی، مولانا نعمت اللہ قاسمی، مولانا نورالسلام ندوی،مولانا وجیہ الرحمن رحمانی، مولانا احتشام الحق، مولانا عبد الحفیظ، مولانا محمود الحسن، مفتی عاصم، رحمانی،عبدالسلام، پروفیسر شمس عالم، وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں،
حضرت مولانا ہارون الرشید صاحب ایک قد آور عالم دین، کامیاب مدرس، شیریں بیان مقرر،بہترین ادیب کی حیثیت سے ملک کے طول عرض میں مشہور تھے، انہوں نے ابتدائی تعلیم مولانا مقبول احمد سے اسی گاؤں میں حاصل کی، ثانوی تعلیم مدرسہ امدادیہ لہریا سرائے دربھنگہ میں حاصل کی، پھر جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد چلے گئے اور وہاں چند سالوں تک اکتساب علم کے بعد دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، 1960 میں دیوبند سے فصیلت کی سند حاصل کی، فراغت کے بعد حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃاللہ آپ کو جامعہ رحمانی خانقاہ رحمانی مونگیر لے گئے، اور آپ نےچند سالوں تک وہاں درس وتدریس کی مسند سجائ، اس کے بعد مدرسہ امدادیہ لہریا سرائے دربھنگہ میں بحیثیت استاد تشریف لائے، یہاں بھی چند سالوں تک تدریس کے فرائض انجام دیئے، 1970 میں مدرسہ رحمانیہ سوپول بیرول دربھنگہ میں علیا درجات کے استاد بحال ہوئے، یہاں آپ نے عربی کی ابتدائی کتابوں سے لیکر بخاری شریف تک کی معیاری کتابیں پڑھائ، ساتھ ہی آپ مدرسہ رحمانیہ سوپول کے پرنسپل کے عہدہ پر فائز ہوئے،
مدرسہ رحمانیہ سوپول سے سبکدوش ہونے کے بعد چند سالوں تک آپ مدرسہ چشمہ فیض ململ کے طلبہ و طالبات کو مستفید کیا، یہاں بھی آپ نے جامعہ فاطمہ الزہراء ململ میں بخاری شریف کا درس دیا اس کے بعد آپ جامعہ نورالعلوم گٹھامن پالنپور گجرات شیخ الحدیث بن کر تشریف لے گئے، ادھر گزشتہ دوسالو ں سے گھر پر ہی تھے،
1415 ہجری کو انہوں نے اپنے گاؤں جمالپور میں لڑکیوں کی بنیادی تعلیم کا ایک معیاری ادارہ مدرسہ رحمانیہ نسواں جمالپور دربھنگہ قائم کیا،جو الحمد اللہ کامیابی کے ساتھ آگے کی جانب رواں ہے،
مولانا ہارون الرشید صاحب اردو وفارسی کے نکتہ رس ادیب، عربی زبان کے ماہر تھے، قرآن وحدیث اور فقہ اسلامی پر گہری نظر رکھنے والے زبردست عالم دین تھے،ان کے انتقال سے علم وداب کی دنیا میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے،مولانا کے وارثان میں اہلیہ سات بیٹیاں اور ایک بیٹا مولانا سفیان احمد ہیں،
مولانا خاص مزاج وانداز کے بڑے عالم دین تھے، بڑے متواضع، جفاکش، اور مہمان نواز تھے،پوری زندگی درس حدیث اور علم دین کی نشر واشاعت میں گزاری، شب بیدار اور تہجد گزار تھے،بزرگوں اور اسلاف کی روایتوں کے زندہ یادگار تھے،ان کا انتقال ملک وملت کا خصوصاً اس علاقہ کا بڑا خسارہ ہے،اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین و وارثین کو صبر و استقامت عطا فرمائے، آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نوجوان صحافی عارف اقبال ”کلدیپ نیر“ ایوارڈ سے سرفراز

مالی گھاٹ/بہار: 26/ مارچ (عبد الرحیم برہولیاوی)ای ٹی وی بھارت اردو سے وابستہ جواں سال …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے