کرامات حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ

از: محمد زاہد رضا، دھنباد
متعلم: جامعہ اشرفیہ، مبارک پور
(رکن: مجلس علماے جھار کھنڈ)

خواجہ خواجگان سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سنجری رحمتہ اللہ علیہ کا سب سے بڑا کارنامہ اور سب سے بڑی کرامت ہند میں مذہب اسلام کو پھیلانا اور مذہب اسلام کو فروغ دینا ہے۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی آمد سے قبل ہند میں معبودان باطلہ کی پوجا کی جاتی تھی، جبر و استبداد کا ڈنکا بج رہا تھا، حق تلفی، قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا، سیدھے سادھے انسانوں کو مادیت کے جال میں پھنسا کر ان کو گمراہ کیا جاتا تھا، کمزور لاچار اور بے بس لوگوں پر کوہ الم توڑے جارہے تھے، ایسے نازک اور پرفتن ماحول میں سلطان الہند عطاے رسول حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہاں تشریف لائے اور انوار و توحید و رسالت سے منور کر کے باطل پرستی کا قلع قمع کیا، اور شجر اسلام کو ہریالی بخش کر یہاں کے لوگوں کو جینے کا سلیقہ بھی بتا دیا۔
ذیل میں خواجہ صاحب علیہ الرحمہ کی کرامات یکے بعد دیگرے ذکر کیے جارہے ہیں۔
پہلے میں کرامت کی تعریف کردیتا ہوں تاکہ تحریر پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی ہو۔
کرامت کی تعریف۔ صدر الشریعۃ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد اعظمی رحمتہ اللہ علیہ بہار شریعت میں کرامت کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ولی سے جو خلاف عادت بات صادر ہو اس کو کرامت کہتے ہیں۔(بہار شریعت، 1،ص، 58) نیز کرامت کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کرامت اولیاء حق ہے، اس کا منکر گمراہ ہے۔(بہار شریعت،1،ص، 269)
کرامات
حاکم سبزوار کی توبہ۔ سفر ہند کے دوران جب حضرت سیدنا خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کا گزر علاقہ سبزوار(موجودہ صوبہ خراسان رضوی ایران) سے ہوا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے وہاں ایک باغ میں قیام فرمایا، جس کے وسط میں ایک خوش نما حوض تھا۔یہ باغ حاکم سبز وار کا تھا، جو بہت ہی ظالم و جابر شخص تھا، اس کا معمول تھا کہ وہ اپنے اس باغ میں آکر شراب پیتا اور نشے میں خوب شور و غول مچایا کرتا تھا۔جب حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نوافل ادا کرنے کے لیے اس باغ میں موجود حوض سے وضو کرنے لگے تو محافظوں نے اپنے حاکم کی سخت گیری کا حال بتایا اور درخواست کی کہ یہاں سے تشریف لے جائیں، کہ کہیں حاکم آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچادے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میرا حافظ و ناصر ہے۔ اسی دوران حاکم باغ میں داخل ہوا اور سیدھا حوض کی طرف آیا، جب اس نے اپنی عیش و عشرت کی جگہ پر ایک اجنبی درویش کو دیکھا تو غصہ سے آگ بگولا ہوگیا اور اس سے پہلے وہ کچھ کہتا، آپ نے ایک نظر ڈالی اور اس کی کایا پلٹ دی، حاکم آپ رحمتہ اللہ علیہ کی جلال کی تاب نہ لاسکا اور بے ہوش کر زمین پر گر پڑا۔ خادموں نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، جوں ہی ہوش آیا فوراً آپ رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں پر گر کر برے عقیدوں اور گناہوں سے تائب ہو گیا اور آپ کے دست مبارک پر بیعت ہوگیا۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی انفرادی کوشش سے حاکم سبزوار نے ظلم اور زور زبر دستی سے جمع کی ہوئی ساری دولت اصل مالکوں کو لوٹا دی اور حضرت خواجہ کی صحبت میں رہنے لگا۔
حضرت خواجہ صاحب نے کچھ ہی عرصے میں اسے فیوض باطنی سے مالا مال کر کے خلافت عطا کی اور وہاں سے رخصت ہوگئے۔(اللہ کے خاص بندے عبدہ،ص،511)
بے گناہ مقتول کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ ایک مرتبہ کسی حاکم نے ایک شخص کو بے گناہ سولی پر چڑھوا دیا، مقتول کی ماں روتے ہوئے حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں فریاد لیے حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ حاکم نے میرے لڑکے کو ناحق پھانسی پر چڑھا دیا ہے خدا کے لیے میری مدد کیجیے۔ خواجہ صاحب اس وقت وضو کر رہے تھے، فریاد سن کر اپنا عصا مبارک ہاتھ میں لیا اور اس عورت کے ساتھ اس کے مقتول بیٹے کی طرف روانہ ہوگئے، مریدین بھی ساتھ چل دیے کہ دیکھیں آج پردہ غیب سے کیا واقعہ رونما ہوتا ہے۔جب آپ اس مقتول کے پاس پہنچے تو کچھ دیر تک خاموش کھڑے اس کی لاش دیکھتے رہے اور پھر عصا کے ذریعے اس کی گردن کو چھو کر ارشاد فرمایا کہ اے مظلوم! اگر واقعی تجھے بے قصور مارا گیا ہے تو اللہ کے حکم سے زندہ ہوجا۔زبان مبارک سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ مردہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور آپ کے قدموں میں آکر گر گیا، آپ نے اسے اپنی ماں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی اور پھر اپنے مریدوں سے فرمایا کہ "بندہ مومن کا اپنے رب سے اتنا تعلق تو ضرور ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی درخواست کرے تو وہ قبول ہوجائے”۔(سیر الاقطاب، ص،142)
ہر رات طواف خانہ کعبہ۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کا کوئی مرید یا اہل محبت، اگر حج یا عمرے کی سعادت پاتا اور طواف کعبہ کے لیے حاضر ہوتا تو دیکھتا کہ خواجہ صاحب طواف کعبہ میں مشغول ہیں، اُدھر اہل خانہ اور دیگر احباب یہ سمجھتے کہ آپ اپنے حجرے میں موجود ہیں، بالآخر ایک دن یہ راز کھل ہی گیا کہ آپ بیت اللہ شریف میں حاضر ہوکر ساری رات طواف کعبہ میں مشغول رہتے ہیں اور صبح کو اجمیر شریف واپس باجماعت نماز فجر ادا کرتے ہیں۔( اقتباس الانوار،ص، 373)
مشت خاک کی کرامت۔ کرامت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے یہ قصہ بھی مشہور ہے کہ جوں جوں ہند میں اسلام پھیلتا گیا، مخالفین اسلام کے دلوں میں آتش غیظ وغضب بھڑکتی گئی۔کچھ لوگوں نے ناپاک ارادے سے خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی اس وقت آپ نماز میں مشغول تھے۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد جب خادموں نے اطلاع دی تو خواجہ صاحب اٹھے اور مٹھی بھر مٹی اٹھا کر اس پر آیتہ الکرسی دم کی اور دشمنوں کی طرف پھینک دی، وہ مٹی جس جس پر پڑی اس کا جسم خشک ہوگیا اور وہ بےحس ہو کر رہ گیا۔یہ دیکھ کر سب لوگ وہاں سے بھاگ گئے۔
جب دشمنان اسلام نے دیکھا کہ حضرت خواجہ صاحب کا مقابلہ ممکن نہیں تو انھوں نے لڑائی ترک کردی۔( اقتباس الانوار، ص، 362،363)
پرتھوی راج چوہان کی گرفتاری۔ اجمیر کے راجہ پرتھوی راج چوہان نے سلطنت کے بل بوتے پر جب مسلمانوں کو تکلیفیں دینا شروع کیں، تو اس کے کفر سے باز نہ آنے اور مسلمانوں پر بلا وجہ ظلم و ستم ڈھانے کی وجہ سے ایک مرتبہ حضرت خواجہ صاحب نے جلال میں آکر اس کے بارے میں فرمایا کہ اگر یہ باز نہیں آیا تو زندہ حالت میں لشکر اسلام کے حوالے کر دیا جائے گا اور پھر یہی ہوا، چناں چہ سلطان شہاب الدین غوری نے ایک خواب میں اپنے آپ کو خواجہ صاحب کے سامنے پایا اور آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے شہاب الدین! اللہ تعالیٰ نے تجھے ہند کی بادشاہت عطا فرمادی ہے، لہذا یہاں آکر اس ظالم راجہ کو کیفر کردار تک پہنچا۔
جب سلطان شہاب الدین نے بیدار ہوکر اپنے دربار کے معزز لوگوں کے سامنے یہ خواب بیان کیا، تو سب نے اسے ہند کی فتح یابی کی مبارک بادی پیش کی، چناں چہ وہ اپنی فوج کے ساتھ ہند کی طرف روانہ ہوا اور اجمیر پہنچ کر اس نے راجہ کے ساتھ جنگیں لڑیں، جن کے نتیجے میں راجہ کو بالآخر عبرتناک شکست ہوئی اور خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے فرمان کے مطابق اسے زندہ گرفتار کر کے سلطان غوری کے سامنے پیش کر دیا گیا۔(سیر الاقطاب، ص، 148)
آگ کا گلزار ہوجانا۔ ایک مرتبہ کچھ غیر مسلم حضرت خواجہ صاحب کے پاس ملاقات کے غرض سے آئے، جب آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ان پر نگاہ ڈالی تو وہ لوگ آپ کی ہیبت کی وجہ سے کانپنے لگے اور ان کے چہرے پیلے پڑ گئے، آپ رحمتہ اللہ علیہ نے انھیں غیر اللہ کی عبادت سے باز آنے اور اللہ رب العزت کی عبادت کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: کہ جب تک خدا تعالیٰ کی عبادت نہ کرو گے دوزخ کی آگ سے چھٹکارا نہ پاؤ گے، قریب ہی آگ بھی روشن تھی، لہذا ان لوگوں نے کہا! اے خواجہ! آپ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، اگر یہ آگ آپ کو نہ جلائے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:اللہ کے حکم سے یہ آگ معین الدین کو تو کیا اس کی جوتی کو بھی نہیں جلائے گی، یہ کہہ کو آپ نے اپنی جوتیاں آگ میں ڈال دیں اور فرمایا: اے آگ! معین الدین کی جوتیوں کی حفاظت کرنا، یہ کہنا تھا کہ اسی وقت آگ ٹھنڈی ہوگئی اور وہاں موجود تمام لوگوں نے یہ غیبی آواز سنی کہ "آگ کی کیا مجال جو میرے دوست کے جوتے کو جلا سکے” یہ ایمان افروز منظر دیکھ کر وہ سب کے سب غیر مسلم کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوگئے اور آپ کی خدمت میں رہ کر اولیاے کاملین بن گئے۔(اقتباس الانوار، ص، 354)
سیکنڑوں راجپوت مسلمان ہوگئے۔ حاکم دہلی کھانڈے راؤ کے حکم کی تعمیل کے لیے پولیس کا ایک دستہ حضرت خواجہ صاحب کے پاس آیا اور آپ سے بات کی اور حالات دریافت کیے گئے۔وہ پولیس افسر اور اس کے سپاہی آپ کے اخلاق و مواعظ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ فوراَ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے اور آپ کے جانثار بن گئے۔ان لوگوں کے مسلمان ہوجانے سے دوسرے لوگوں میں بھی رغبت پیدا ہوئی اور یوں رفتہ رفتہ چند دنوں میں سیکنڑوں راجپوت مسلمان ہوگئے۔
حضرت خواجہ صاحب کی بزرگی اور کرامات کا چرچہ سن کر ضرورت مندوں کا تانتا بندھ گیا۔ دہلی میں اسلام کی شمع روشن ہوگئی اور پروانوں کا ہجوم جمع ہونے لگا اور تھوڑے ہی دنوں میں ہنادک کی خاصی بڑی تعداد مسلمان ہوگئی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے خلیفہ اعظم قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کو تبلیغ و ہدایت کے لیے دہلی میں ہی رکھ دیے اور خود اجمیر کی جانب روانہ ہوگئے۔
ہندو گوالا مسلمان ہوگیا۔ جس وقت حضرت خواجہ غریب نوز رحمتہ اللہ علیہ نے انا ساگر کے کنارے ایک سایہ دار پیڑ کے نیچے قیام فرمایا وہاں ایک گوالا راجہ کی گائیں چرا رہا تھا۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے گوالے سے فرمایا ہمیں دودھ پلاؤ۔گوالے نے کہا یہ راجہ کے گائیوں کی بچھیاں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی دودھ نہیں دیتی ہے۔ حضرت خواجہ صاحب نے ایک بچھیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جاؤ اس بچھیا کا دودھ لے آؤ، گوالا حیرانگی کے عالم میں اس بچھیا کے پاس گیا اور بچھیا کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا اور دیکھتے ہی دیکھتے بچھیا کے تھن دودھ سے بھر گئے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کی کرامت سے اس بچھیا نے اتنا دودھ دیا کہ آپ اور آپ کے رفقاء نے سیر ہوکر دودھ پیا، آپ کی یہ کرامت دیکھ کر وہ ہندو گوالا مسلمان ہوگیا۔
بچہ ماں کے پیٹ میں بول پڑا۔ ایک مرتبہ خواجہ قطب الدین رحمتہ اللہ علیہ بادشاہ وقت سلطان التمش شمس الدین کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے مصروف سیر و گشت تھے، بعض امراء اور داعیان سلطنت بھی ہمراہ تھے۔
ایک بدکار عورت نے بادشاہ کے حضور فریاد کی، کہ "حضور میرا نکاح کروا دیں ورنہ میں عذاب خداوندی میں گرفتار ہوجاؤں گی”
سلطان شمس الدین التمش نے کہا:” تو کس سے نکاح کرنا چاہتی ہے”۔ اس عورت نے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا” اس مرد کے ساتھ اور یہ قطب الاقطاب بنے پھرتے ہیں اور(نعوذ باللہ) انھوں نے میرے ساتھ حرام کاری کی ہے۔ (پھر پیٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا) یہ انہی کا بچہ ہے”۔
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کو یہ بیہودہ بات سن کر شرم و ندامت سے پسینہ آگیا، بادشاہ اور امراء ششدر رہ گئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اجمیر کی طرف منھ کر کے فرمایا: "یا پیر و مرشد! میری مدد فرمائیے”۔
حضرت خواجہ قطب الدین کا فرمانا تھا کہ فوراً سامنے حضرت خواجہ صاحب تشریف لاتے ہوئے دکھائی دیے۔
خواجہ صاحب نے پوچھا: کہ بیٹا کیا بات ہے کہ تونے مجھے یاد کیا؟ خواجہ قطب الدین رحمتہ اللہ علیہ نے سارا واقعہ بیان کر دیا، خواجہ صاحب نے اس عورت کی پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، "اے بچے! سچ سچ بتا کہ تیری ماں نے جو الزام قطب الدین پر لگایا ہے وہ صحیح ہے یا غلط؟ماں کے پیٹ سے پچہ فوراً بول پڑا، "حضور یہ الزام سراسر غلط ہے، یہ عورت نہایت فاسق اور بدکار ہے”۔اس عورت نے جب بچے کی بات سنی تو اپنی غلط بیانی کا اعتراف کیا اور اس کی معافی مانگ لی۔
اس کے علاوہ اور بہت سے کرامات ہیں جنھیں اس مختصر سی تحریر میں ذکر نہیں کیا جاسکتا۔
اپیل۔ ہم سب کو چاہیے کہ اجمیر پولیس کی طرف سے کوڈ19 کے تحت جو گائیڈ لائن جاری کیا گیا ہے اس پر عمل پیرا ہوں، اور گھر میں رہ کر ہی فاتحہ خوانی کر کے خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے نام پر ایصال ثواب کریں،تاکہ گودی میڈیا کو شور شرابہ اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا موقع نہ ملے۔
میں بارگاہ الہٰی میں دعا گوں ہوں کہ اے میرے مولیٰ ہم سب کو حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق و رفیق عطا فرما۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دین کی تبلیغ میں سلطان الہند کا داعیانہ پہلو

تحریر: سبطین رضا مصباحیکشن گنج بہارریسرچ اسکالر البرکات انسی ٹیوٹ علی گڑھ اسلام کی تبلیغ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے