خواتین کا سب سےعمدہ زیور علم ہے

ازقلم: ارم فاطمہ امجدی بنت مولانا غلام جیلانی قادری
خانقاہ قادریہ راہ سلوک، قادری نگرسوتیہارا، سیتامڑھی(بہار)

ہرانسان کوانسانی ضروریات میں سب سےزیادہ ضروری اورحقوق میں سب سے بہترحق تعلیم ہےخواہ وہ انسان امیرہویاغریب،مردہویاعورت۔چوں کہ تعلیم ہی کےذریعہ انسان جانورسےممتاز اور اشرف المخلوقات جیسےعظیم تاج سےنوازاگیا۔تعلیم دنیاکی واحدایسی چیزہےکہ جس کو بانٹنےسےکم نہیں بلکہ مزیداضافہ ہوتاہے۔
اس لیےاسلام تعلیم وتعلم اورتربیت پر خصوصی نظر رکھتا ہے، حتی کہ اسلام حصول علم کو فرض قرار دیتا ہےکیوں کہ علم ایسی نعمت ہے جس کے ذریعہ انسان بلند مقام پر فائز ہوتا ہے، علم ہی کی بنیاد پر اللہ رب العزت نے حضرت ادم علیہ السلام کو فرشتوں پر فضیلت بخشی۔
لہذا یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جس طرح اسلامی تعلیمات کا مخاطب مرد ہے، اسی طرح اسلامی تعلیمات کی مخاطب عورت بھی ہے،جس طرح اسلامی فرائض وواجبات کا مکلف مردہے،اسی طرح اسلامی فرائض وواجبات کی مکلف عورت بھی ہے، قیامت میں جزاوسزا جیسے مردوں کے لیے ہے، ویسے ہی عورتوں کےلیے بھی ہے ، اسلامی نظام جیسے مردوں کے لیے ہے ویسے ہی عورتوں کے لیے بھی ہے، جنت و جہنم کا انجام جیسا مردوں کے لیے ہے، ویسا ہی عورتوں کے لیے ہے، اور جب بات یہاں تک آگئ کہ مردوں کے لیے تعلیم کا ہونا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو نار جہنم سے بچا سکے، حق کو پہچان سکے، انبیا کو، صحابہ کو، اولیاکو، شریعت کو، طریقت کو حتٰی کہ پورے دستور دین کوجان سکےاور خود کو نار جہنم سے بچانےکےلائق بناسکے، توبلاشبہ یہ عورتوں کےلیےبھی ضروری اورلازم ہے۔
تعلیم کاحق شریعت نےمرد و عورت دونوں کو دیا ہےجیساکہ اللہ رب العزت نے قران پاک میں ارشاد فرمایا:”علم الا نسان مالم یعلم”
ترجمہ: انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
قرآن مجید میں اللّہ رب العزت نے ” علّم الانسان ” ارشاد فرمایا” علّم الرجال ” نہیں فرمایا، اگر علّم الرجال فرمادیتا تو مردوں کے لیے حق تعلیم خاص ہوجاتا لیکن میرے رب نے علم الانسان فرمایا۔اور علم الانسان سے معلوم ہوا کہ تعلیم صرف مردوں کا حق نہیں ہے بلکہ ہر کسی کا حق ہے، ہر مرد، عورت، بچہ، بوڑھا،جوان، گاؤں میں رہنے والے،شہر میں رہنے والے،غریب،امیرہر کسی کا حق ہے۔
اسی طرح فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے:” طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ”
علم دین کا حاصل کرنا ہر مسلمان مردو عورت پر فرض ہے۔
لیکن آج کچھ حضرات لڑکیوں کو دولت تعلیم سے آراستہ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتےہیں تو اب یہاں پہ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیانسوانیت اور تعلیم کا کوئی رشتہ نہیں ہے؟
توعقل وشعور کےدروازہ پردستک دینےکےبعدجواب یہی ملتا ہے کہ ایک لڑکا اگر تعلیم یافتہ ہوجائے تو ایک گھر سدھر سکتا ہے، اور اگر ایک لڑکی تعلیم یافتہ ہوجائے تو دو خاندان سدھر سکتےہیں۔
لہذاجہاں مردوں کے لیے اتنا علم اور اتنی دینی تعلیمات بے حد ضروری ہےجن سے وہ دین پر صحیح طور سے عمل پیرا ہوسکیں، وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ عورتوں کے لیے دینی تعلیم وتر بیت سے آگاہ ہونا اور دینی تعلیم کے زیور سے مزین ہونا آئندہ کی دائمی حیات کے لیے ناگزیر ہےاور اسی دینی تعلیم و تربیت کو روبہ عمل لاکر کے معاشرہ خواتین میں بیداری لانےاور اجتماعی شعور کو ترقی دینے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے، چوں کہ عورت جوکہ کئ رنگ وروپ میں ڈھلی ہوتی ہے، کبھی وہ رحمت کی شکل میں بیٹی کی روپ لیے ہوتی ہے، کبھی پیاری بہن کی شکل میں بھائیوں کی لاڈھلی بنی ہوتی ہے، کبھی کسی کی شریک حیات ہوتی ہے، تو کبھی ماں کی شکل میں سایہ داردرخت کےمانندہوتی ہےاس لیے اس کی ذمہ داری کچھ زیادہ ہی بڑھ جاتی ہے۔
اسلام سے قبل عورتوں کو تعلیم کی طرف توجہ نہیں دلائی جاتی تھی؛ اس لیےہمارےپیارےآقا علیہ التحیۃ والثنانے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ دلائی اور ارشادفرمایا:
جو شخص اپنی بیٹی کی خوب اچھی طرح تعلیم و تربیت کرے اور اس پر دل کھول کر خرچ کرے تو ( بیٹی) اس کے لیے نجات کا ذریعہ ہوگی۔ ( معجم الکبیر للطبرانی (74401)
ایک بیٹی رحمت اسی وقت بن سکتی ہے جب کہ اس کا قلب اسلامی تعلیمات کی روشنی سےمنور ہو، فاطمی کردارو گفتار کی پیکر ہو، ایک عورت مرد کے لیےشریک حیات کی شکل میں روح حیات اور تسکین خاطر کا سبب اسی وقت بن سکتی ہےجب کہ اس کا دل سیرت خدیجۃ الکبری سے سرشار ہو، وہ ایک مشفق اور ہر درد کا درماں، مصائب کی گرم ہواؤں میں نسیم صبح کی صورت میں” ماں” اسی وقت ثابت ہوسکتی ہے جب کہ اس کی گود بچے کے لیے پہلا اسلامی مکتب ثابت ہو،
اس لیے اسلامی تعلیمات کے روشن ستاروں سے نسبت رکھنا بے حد ضروری ہے۔
آج دینی تعلیم کی ضرورت جتنی مردوں کو ہے، اس سے کہیں زیادہ عورتوں کو ہے، عورت کا قلب اگر دینی تعلیمات سے منور ہو، تو اس چراغ سے کئ چراغ روشن ہوسکتے ہیں، وہ دیندار بیوی ثابت ہوسکتی ہے وہ ہر دل عزیز بہو بن سکتی ہے، وہ اپنے بچوں کی معلمہ اول ہوسکتی ہے، وہ شوہر کے مرجھائے اور افسردہ چہرے پر گل افشانی کرسکتی ہے، میخانے کو مسجد اور بت خانے کو عبادت خانہ بناسکتی ہے،
الغرض دینی تعلیم یافتہ عورت وہ سب کچھ بہت آسانی سے کرسکتی ہے جو اسلام چاہتا ہے۔
تو معلوم ہوا کہ تعلیم و تربیت نہ صرف موجودہ دور کی ضرورت ہے بلکہ یہ زمانہ اول ہی سے ہماری ضرورت رہی ہے اس لیے لازم ہوتا ہے کہ والدین اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ اپنی بچیوں کو علم دین حاصل کرائیں تاکہ ان کی پچیاں شریعت کے حدود میں رہ کر زندگی گزارے۔
اولاد کے لیے اس کے والدین کی طرف سے سب سے بہترین تحفہ علم دین ہے۔
اللہ تعالی سے دعا ہےکہ ہم خواتین کوعلم دین حاصل کرنے، اس پرعمل پیراہونےاورشریعت کی پاسداری کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔
آمین یارب العٰلمین بجاہ رحمۃ للعٰلمین ۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تعلیم سے ہی بدلے گی قوم کی تصویر

تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحینوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یو پی 9839171719 انسان کو دیگر مخلوقات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے