غیبت معاشرے کا ناسور ہے

تحریر: احمد رضا مصباحی
بسواری ، کڑا، ضلع کوشامبی
خطیب و امام سنی نعیمیہ جامع مسجد سلون، راۓ بریلی

غیبت ایک نہایت ہی بری اور مفسد وبا ہے , جو کہ ہمارے معاشرے ، خاندان حتی کہ ہر گھر کے لیے ایک ناسور بن چکی ہے، جس کا منفی اثر ہمارے صحت مند و تندرست جسم اور سبز و شاداب زندگی پر بھی پڑھ رہا ہے۔ اور یہ ہمارے معاشرے میں اس قدر عام ہو چکی ہے کہ ہماری محفلیں اور مجلسیں اس گناه بے لزت سے آباد ہیں۔ اس وبائی مرض نے نہ صرف دکانوں، ہوٹلوں اور پنچایت گاہوں بلکہ ہماری عصری درس گاہوں کے مسند نشینوں اور دینی دانش گاہوں کے مقدس مسندوں اور خانہاۓ خدا کی پاکیزہ صفوں پر بیٹھنے والوں کو بھی اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے۔

قرآن و حدیث میں اس کی سخت ترین وعیدیں وارد ہیں ، تاہم اس کی شدید سزا و انجام کی ہولناکیوں کو بھی قرآن ع حدیث میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

غیبت کی لغوی واصطلاحی تعریف :
غیبت کا لغوی معنی ہے :(١) کسی کی عدم موجودگی میں اس کی بد گوئی،(٢)پیٹھ پیچھے برائی کرنا۔

اور غیبت کا اصطلاحی معنی ہے۔ کسی کے پیٹھ پیچھے اس کی ایسی بات کا تذکرہ کرنا ، جو اس کے اندر ہے اور یہ بیان کرنا اس کو ناگوار گزرے تو اس کو غیبت کہتے ہیں۔
اور اگر وہ بات اس کے اندر نہیں ہے تو اس کو بہتان کہتے۔ حدیث شریف میں آتا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام سے فرماتے ہیں :کیا تمہیں معلوم ہے غیبت کیا چیز ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بھائی کا اس طرح تذکرہ کرنا جس کو وہ ناپسند کرتا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر وہ بات اس کے اندر ہو؟ (تو کیا تب بھی وہ غیبت ہے ؟آپ نے فرمایا اگر وہ بات اس کے اندر ہے تبھی تو غیبت ہے اور اگر اس کے اندر وہ بات نہیں ہے جو تم کہتے ہو تو وہ بہتان ہے۔( رواہ مسلم رياض الصالحين: صفحہ 336 )

غیبت قران و حدیث کی روشنی میں :
اللہ تبارک و تعالی سورہ حجرات میں فرماتا ہے : (ترجمہ ) اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (سورہ حجرات آیت 12 ، پارہ 26)۔
میرے محترم قارئین حضرات؛
اس آیت کریمہ میں قرآن نے کس انوکھے انداز سے لوگوں کو غیبت یعنی چغلی سے منع فرمایا ہے ، اور اس سے دور رہنے کا درس دیا ہے ۔ اگر غیبت کی سزاؤں کے بارے میں کوئی خوش طبیعت انسان پڑھ لے یا سن لے، تو ہرگز وہ غیبت کے دروازے نہیں جائے گا ۔ قرآن نے فرمایا : کوئی ہے جو انسانی گوشت کھانا پسند کرے گا؟!!! اور ایسا گوشت جو مردے کا ہو ؟!!! مزید یہ کہ وہ اس کا بھائی ہو ؟!!! یعنی ہم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ اپنے مردار بھائی کا گوشت کھاۓ۔ گوشت کھانا تو درکنار اپنے بھائی کی موت بھی کوئی پسند نہیں کرتا ۔ تو جس طرح ہم اپنے بھائی کے گوشت اور موت کو ناپسند کرتے ہیں اور اس سے دور بھاگتے ہیں، اسی طرح ہم کو اپنے کسی مسلمان بھائی کی غیبت و چغلی سے بھی بچنا چاہیے اور اس سے دور رہنا چاہئے ، اور کسی کی عزت و حرمت کو پامال بھی نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہم مسلمانوں کو زیب تک نہیں دیتا کہ ہم اپنے بھائی کی غیبت و عیب جوئی کے در سے گزریں ۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہم کو غیبت جیسی مہلک بیماری سے محفوظ فرمائے۔
غیبت کی حدیث شریف میں بڑی مذمت آئی ہے ۔ 1- سنن ابو داؤد شریف میں ہے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں آج ایسی قوم کے پاس سے گزرا جو اپنے چہروں اور سینوں کو تانبے کے ناخن سے نوچ رہے تھے۔ میں نے حضرت جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزت کو خراب کرتے تھے (ریاض الصالحین صفحہ 337)۔
2- مسلم شریف میں ہے کہ ہر مسلمان کا ہر مسلمان پر اس کا خون اس کی عزت اس کا مال حرام ہے ( ریاض الصالحین صفحہ 327)۔
3- مشکوۃ شریف میں ہےحضرت ابو سعید خدری و حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول نے فرمایا : غیبت زنا سے زیادہ سخت ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) غیبت زنا سے زیادہ سخت کیسے ہے ؟!!! تو آپ نے فرمایا : آدمی زنا کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ سے توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے اور بخش دیتا ہے، لیکن غیبت کرنے والے کو اللہ تبارک و تعالیٰ اس وقت تک معاف نہیں فرماتا جب تک کہ جس کی غیبت کی ہے اس سے معاف نہ کروالے (نوادر الحدیث/ عبد المصطفیٰ اعظمی)۔

غیبت کب جائز ہے :
امام نووی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ان الغيبة تباح لغرض صحيح شرعي لا يمكن الوصول إليه إلا بها ، هو سته اسباب (رياض الصالحين). ترجمہ؛
فرماتے ہیں کسی شرعی اور صحیح مقصد کے لئے غیبت مباح ہے کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو اور وہ چھ اسباب ہیں۔
اول : کسی مظلوم کا حاکم کے سامنے ظالم کے ظالمانہ عیوب کو بیان کرنا تا کہ وہ اس کی فریاد رسی کر سکے ۔
دوم : کسی شخص کو برائی سے روکنے کے لیے کسی صاحب اقتدار و سلطنت کے سامنے اس کی برائیوں کو بیان کرنا تاکہ وہ اپنے اقدار اور دبدبہ سے اس کو برائی کرنے سے روک سکے ۔
سوم : طالب فتوی کا مفتی کے سامنے طلب فتوی کے لیے کسی کی برائی کو بیان کرنا۔
چہارم : مسلمانوں کو نقصان سے بچانے کے لیے کسی کے عیوب بیان کرنا مثلاً جھوٹے راویوں و جھوٹے گواہوں اور بد مذہب مصنفین و خطبا کے جھوٹے پن اور بد مذہبی کو بیان کرنا تاکہ لوگ ان سے محفوظ رہ سکیں ۔ اور جیسے شادی بیاہ میں مشورہ طلب کرنے والے کو فریق ثانی کے عیوب بیان کرنا اور خریدار سے بچنے والے کے عیوب بیان کرنا تاکہ وہ نقصان سے محفوظ رہیں۔
پنجم : فاسق معلن ، فاجر و بدعتی کے فسق و فجور اور بدعت کو بیان کرنا ۔
چھٹا : کسی شخص کی شناخت کرانے کے لیے اس کے عیب کو بیان کرنا مثلا لنگڑے کے لنگڑا پن کو ذکر کرنا ، کوئی نابینا ہے اس کے تعارف میں اس کے اندھے پن کو ذکر کرنا وغیرہ جیسے کہ محدثین راویوں کی شناخت کروانے کے لیے اعرج ، اعمی وغیرہ ذکر کیا کرتے ہیں۔

غیبت کا حکم :
کسی مسلمان بھائی کی غیبت کرنا معصیت سمجھ کر گناہ کبیرہ ہے اور اس کا انجام بہت سخت ہے۔ اگر کوئی غیبت کرے اس کو حلال سمجھ کر یہ کفر ہے، جس کا ٹھکانہ آخرت میں ہمیشہ جہنم ہے ۔ لہذا اگر کسی نے کسی مسلمان بھائی کی غیبت کی ہےاور وہ اس سے باخبر ہے، تو اس سے معاف کرائے اور اللہ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرے اور اگر اس کو اس کی غیبت کا علم نہیں ہے تو توبہ و استغفار کرے اور اس کے لیے نیک دعائیں کرے۔ اور اس مرض مفسد و مہلک کے حوالے سے معاشرے میں بھی عوام کو آگاہ کرے، تاکہ ہم خود اور ہمارا معاشرہ بھی اس سے محفوظ رہ سکے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ ضروری نہیں ہے

ساجد محمود شیخ، میرا روڈ مکرمی!مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے ایک بار پھر سخت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے