ویلنٹائن ڈے: جنسی بے راہ روی اور حیا سوزی کا تہوار

تحریر: نعیم الدین فیضی برکاتی
اعزازی ایڈیٹر:
ہماری آواز ( اردو، ہندی) مہراج گنج
پرنسپل: دارالعلوم برکات غریب نواز، کٹنی ایم۔پی۔

جب انسان دین سے دوری اختیار کرلیتا ہے اور مغربی کلچر کے دام فریب میں آکر اپنی تہذیب واقدارکوپس پشت ڈال دیتا ہے۔تو پھروہ نفسانی وجسمانی شہوات میں اندھا ہو کرگناہوں کے ایسے قعر عمیق میں گر جاتا ہے جہاں سے نکلنا اس کے لیے نہایت ہی دشوار ہوتا ہے۔نتیجۃً اس شخص کے اندر سے حلال وحرام اورجائز وناجائز کے درمیان تمیز کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔کچھ ایسی ہی صورتحال 14فروری کو دیکھنے کو ملتی ہے،جس کو نادان لوگ ویلنٹائن ڈے یعنی یوم محبت یا یوم عاشقاں کے نام سے مناتے ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کا تاریخی پس منظر
بتایا جاتا ہے کہ ایک پادری جس کا نام ویلنٹائن تھا،تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ کلاڈیس ثانی کے زیر حکومت رہتا تھا۔کسی نافرمانی کی بناء پر بادشاہ نے پادری کو جیل میں ڈال دیا۔پادری اور جیلر کی لڑکی کے درمیان عشق ہو گیا ۔حتی کہ معشوقہ نے اپنا مذہب چھوڑ کر پادری کا مذہب نصرانیت اختیار کر لیا۔اب لڑکی روزانہ ایک سرخ گلاب لے کر پادری سے ملنے آتی تھی۔بادشاہ کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے کا حکم دے دیا۔جب پادری کو یہ بات معلوم ہوئی کہ اس کے پھانسی کا حکم ہو چکا ہے تو اس نے آخری لمحات زندگی اپنی معشوقہ کے ساتھ گزارنے کا ارادہ کیا اور اس کے لیے ایک کارڈ اس نے اپنی معشوقہ کے نام بھیجاجس پر یہ تحریر تھا۔مخلص ویلنٹائن ڈے کی طرف سے۔بالآخر14فروری کو اس پادری کوپھانسی دے دی گئی۔اس کے بعد ہی سے ہر سال اس محبت کے دن کو جو دراصل جنسی بے راہ روی اور حیا سوزی کا دن ہے،اس پادری کے نام کی مناسبت سے ویلنٹائن ڈے کے طور پر منایاجانے لگا ۔
یہ ایک بد ترین رسم ہے جو غیروں کی طرف سے ایک سازش کے تحت عام کیا جارہا ہے۔جس میں میڈیا کا کلیدی رول ہے۔اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مگر اس کو اس طرح سے رائج اور متعارف کرایا جارہا ہے کہ مسلمان بچے اور بچیاںاس کے لپیٹ میں آتے جا رہے ہیں۔اس تہوار کے ذریعہ یہ تصور دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کسی کی خواہش اور پیش کش کو ٹھکرانا نہیں چاہیے۔اس گمراہ کن تصور کی وجہ سے بہت سارے لڑکے اور لڑکیاں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی عزت وعصمت کو تار تار کر رہے ہیںاور سماج ومعاشرے میں بے حیائی اور جنسی بے راہ روی کو فروغ دے رہے ہیں۔
اس تہوار کے منانے کا یہ انداز ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے پر دگی اور بے حیائی کے ساتھ میل جول کرتے ہیں ،تحفے تحائف سے لے کر فحاشی وعریانی کی ہر قسم کا کا مظاہرہ کھلے عام یاچھپے چوری جس کا جتنا بس چلتا ہے،کر گزرتا ہے۔چونکہ مشرقی اقدار کے حامل ممالک میں کھلی چھوٹ نہ ہو نے کی وجہ سے نوجوان جو ڑوں کو محفوظ مقامات کی تلاش ہوتی ہے۔اسی مقصد کی تکمیل کے لیے اس دن ہوٹلز بکنگ عام دنوں کے مقابلے بڑھ جاتی ہے۔شراب کا بے تحاشہ کاروبار ہوتا ہے۔ساحل سمندر پر بے پر دگی اور بے حیائی کا ایک نیا سمندر دکھا ئی دیتا ہے۔بد نگاہی سے لے کر زنا اور داعی زنا جیسے نہ جانے کتنے ناجائز تعلقات کو مضبوط رکھنے کے لیے تحائف کا تبادلہ اور آگے زنا تک کی نوبتیں ،یہ سب وہ خرافات ہیں جو اس روز عصیاں زور شور سے جاری رہتی ہیں۔
انتہائی افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ اس بے حیائی اور فحاشی کے دن کو غیروں کی طرح منانے والے بہت سے مسلمان بھی ہیں۔اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے عطا کیے ہوئے پاکیزہ اور مہذب احکامات کو پش پست ڈالتے ہوئے کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرکے نہ صرف یہ کہ اپنے نامہ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کررہے ہیں بلکہ مسلم معاشرے کی پاکیزگی کو بھی ان بے ہودگیوں سے ناپاک اور آلودہ کر رہے ہیں۔ یہ صرف مسلمانوں ہی کے لیے خطرناک نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کے لیے نہایت مضر ہے۔یہ جہاں غیر اسلامی عمل ہے وہیں ایک سماجی ناسور اور کھلی ہوئی بے حیائی ہے۔جبکہ بے حیائی اور بدنگاہی سے اسلام میں سختی سے منع کیاگیا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:
تم بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ خواہ وہ علانیہ ہوں یا مخفی۔(سورۃ انعام۔ آیت نمبر:151)
دوسری آیت میں ارشاد موجود ہے:
شیطان کے نشان قدم کی پیروی نہ کرو۔کیوں کہ جو اس کی پیروی کرے گا وہ اس کو بے حیائی اور برائی ہی کا حکم دے گا۔(سورۃ بقرہ)
نبی کریم ﷺ نے تو حیا کو ایمان کے حصوں میںسے ایک حصہ قرار دیا ہے۔حدیث شریف میں ہے:
ایمان کے ستر سے زائد شعبے ہیں اور حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
دوسری حدیث میں ہے: اگر تمہارے پاس حیاء نہیں ہے تو جو چاہو کرو۔
معلوم ہوا اگر حیا ہی انسان کو برائیوں سے روکتی ہے۔حیا ہی کے دم سے اس کو اشرف المخلوقات جیسا عظیم مرتبہ ملا۔اس کے بر عکس اگر حیا سے
انسان محروم ہے تو رزیل وذلیل کام بھی کرنے میں اس کو ذرہ برابر بھی پریشانی نہیں ہوتی۔اس کے علاوہ بہت ساری قرآنی آیات میں اللہ رب العزت نے عورتوں اور مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور پردہ کی اہمیت کا اندازہ تو اس بات سے لگا لیجیے کہ عورتوں کو جاہلیت اولیٰ کی بے پر دگی سے منع کر دیا گیا۔
لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب غیروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر مسلمان مرد عورتیں ویلنٹائن ڈے میں ان احکامات کی اعلانیہ کھلم کھلا خلاف ورزیاں کرتے ہیں۔اور اسلامی تہذیب ثقافت کو چھوڑ تقلید غیر میں سر گرداں نظر آتے ہیں۔اللہ سب کوعقل سلیم دے!ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر اس پہلو پر غور کریں کہ آج کے مسلمان بالخصوص نوجوان اپنی تہذیب و اقدار کو چھوڑ کر غیروں کے ایجاد کردہ گناہوں سے لبریز رسم و رواج کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں۔کیا ہم ان کی اسلامی تر بیت نہیں کر پاتے یا ان کو صاف ستھرا معاشرہ نہیں مل پاتا؟اللہ کرے دل میں اتر جائے مری بات!

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

استقبالِ رمضان اور لاک ڈاؤن

تحریر: شگفتہ عبدالخالق، ممبرامضمون نگار معلمہ اور داعیہ بھی ہیں۔ جوں ہی حکومت کی طرف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے