یوم ہوس (ویلنٹائن ڈے) کی خرافات سے بچیں

برائے کرم معاشرے میں بےحیائی پھیلانے والی رسموں کا خاتمہ کریں!!!

تحریر:محمد اورنگ زیب مصباحی گڑھوا
رکن: مجلس علمائے جھارکھنڈ

میرے پیارے نبی ﷺ کو جس اخلاقی نظام کے ساتھ مبعوث فرمایا گیا اسی میں ایک اہم ترین وصف حیا بھی ہے، جو اسلامی تعلیمات کی جانب مؤثر ہے، جس کے متعلق نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ”حیا شعبۂ ایمان سے ہے، یہ یہ وہ شرافت و مروت کی علامتی وصف ہے جو انسانی فطرت ہی کا خاصہ ہے، جس کے ذریعہ انسان کمال اخلاقیات اور انسانیت کا پیکر بن جاتا ہے، یہ انہی اوصاف میں سے ایک ہے جو انسان کو حیوانیت سے طرۂ امتیاز بخشتا ہے اور برے کاموں اور بری باتوں سے روکتا ہے اور فواحش سے محفوظ رکھتا ہے،حیا کی انہیں اہمیتوں کے پیش نظر قرآن و سنت میں کثرت سے ذکر اور تاکید کی گئی ، آپ دیکھیں کہ عورت کو پردے کا حکم دیا گیا کہ غیر محرموں سے پردہ کریں، اپنی خوبصورتی اور زیب و زینت کو غیر محرموں پر ظاہر نہ کریں، وہیں مردوں کو عورتوں کا حاکم ضرور بنایا مگر انہیں بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا تاکہ فحش اور بدکاریوں سے اجتناب کے ساتھ اس کے خدشات سے بھی مکمل دوری اختیار کریں۔ اسی فطری حیا کے پیش نظر نکاح میں میں کنواری عورتوں کے سکوت کو رضامندی سمجھا گیا کہ زبان سے اظہار و اقرار میں حیا مانع ہے، اسی کی وجہ سے اندرون خانہ مردوعورت کے معاملات کو بیرون خانہ ذکر سے منع کیا گیا اور بھی نہ جانے کتنی باریکیاں اور حکمتیں اسلام کے نظام عفت و حیا میں پوشیدہ ہیں، جسے اہل مغرب اور ان کے پیروکار سمجھنے سے قاصر ہیں ہیں۔

خرافاتی رسم ویلنٹائن ڈے کی حقیقت
اس چھوٹی سی تمہید کا مقصد دور حاضر میں روز بروز پنپتی برائیوں اور بےحیائیوں کی منحوسیت سے آگاہ کرنا ہے، حالات حاضرہ پر نظر کریں تو معلوم ہوگا کہ اہل مغرب اور مغرب زدہ انسان ہر دن عیاشیوں ،خرمستیوں ، بےحیائیوں اور برائیوں کے لئے بہانے تلاش کرتا ہے، جس کے تناظر میں فضول خرچیاں، بےحیائیاں اور بدکاریاں خوب عروج پاتی ہیں، بظاہر فنکشن کی مناسبت بھلے کچھ بھی ہو مگر بنظر غائر دیکھا جائے تو اس میں ہوس کے پجاری پیش پیش نظر آتے ہیں، انہیں خرافاتی رسومات میں سے ایک منحوس رسم "ویلنٹائن ڈے” بھی ہے، جس میں ایک کنوارا لڑکا کسی کنواری لڑکی کو گلاب دے کر اظہار محبت کرتا ہے اگر لڑکی بھی اس محبت پر راضی ہو گئی تو پھر کیسی کیسی بدکاریاں انجام پاتی ہیں اس بارے میں سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اس میں لڑکے لڑکیوں کے اہل خانہ کی کس طرح عزت خاک آلود ہوتی ہے اس کا اندازہ بھی کافی مشکل ہے، اگر لڑکی رضا مندی کا اظہار نہیں کرتی تو بسا اوقات معاملہ رفع دفع ہو جاتا ہے مگر اکثر معاملہ جبر و تشدد کا لبادہ اوڑھ کر جبری زنا اور پھر اس جرم کو مخفی رکھے جانے کے لیے قتل تک پہنچ جاتا ہے، پھر دو خاندانوں میں قتل غارت کا وہ بازار گرم ہوتا ہے جس کا تجربہ قارئین خود کر چکے ہوں گے۔
چونکہ 14فروری کو عاشقوں اور منچلوں کے تیوہار کے طور پر منایا جاتا ہے اب یہ منحوس رسم کب شروع ہوا اس بارے میں کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں مگر اس تعلق سے ایک غیر مستند داستان پائی جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں "ویلنٹائن” نامی ایک پادری تھا جو ایک راہبہ کے حسن کا شکار اور اس کی محبت میں گرفتار ہوگیا تھا، چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا، اس لیے ایک دن ویلنٹائن نے اپنی معشوقہ کی تشفی و اطمینان کے لیے اسے ایک جھوٹا خواب بیان کیا کہ 14فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب ، راہبہ صنفی ملاپ، جنسی استحصال بھی کر لے تو کوئی گناہ نہیں سمجھا جائے گا، اس کی معشوقہ راہبہ نے اس پر یقین کر لیا پھر 14 فروری کو جوش عشق یا ہوس میں بے حیائی، زناکاری کا وہ نمونہ بنا اور منحوس کام کے ذریعے کلیسا کی حرمت کی دھجیاں اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی، انجام بھی وہی ہوا جو کلیسا کی بےعزتی و بے حرمتی کرنے والوں کا عموماً ہوا کرتا ہے یعنی انہیں قتل کردیا گیا۔
چند سالوں تک ویلنٹائن کو ایک مجرم کی حیثیت سے ہی جانا جاتا رہا مگر بعد میں کچھ منچلے ہوس کے پجاریوں نے ویلنٹائن کو شہید محبت کے درجہ پر فائز کر دیا اور اس کی یاد میں "ویلنٹائن ڈے” منانا شروع کر دیا ۔ کلیسا اور اس کے مخلصین نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ان کی سخت مذمت بھی کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا، مگر انکی سختی ہوس کے پجاریوں کو اثر انداز کر سکے اس معیار کی نہ تھی، اور ابھی چند سال قبل بھی کچھ پادریوں نے ویلنٹائن ڈے کی مذمت میں سخت بیانات کسے مگر ان پادریوں ہی میں سے کچھ ویلنٹائن جیسے ہی ہوس کے پجاری ہوتے ہیں جو اس کا کھلے عام سپورٹ کرتے ہیں۔
آپ اس پس منظر پر غور کریں کہ اہلِ مغرب اسے یوم محبت کے طور پر مناتے ہیں یا یوم یومِ ہوس اور یومِ زناکاری، جو اصل میں تہوار ہی نہیں ہے اور جس کی بنیاد ہی مذہب و سماج سے بغاوت اور اخلاقیات و انسانیت کو ہوس کی نذر پر پڑی ہو، اس میں بے حیائی ، بدکرداری اور زناکاری قابل تعجب نہیں، مگر اہلِ مغرب نے اسے شہید محبت اور اس کی یاد میں یومِ محبت کا نام دیکر اور جنسی بےراہ روی کو اپنا کر لفظ محبت کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ ہاں اسے یومِ ہوس ضرور کہہ سکتے ہیں کیونکہ محبت میں خلوص ہوتا ہے اور ہوس میں مفاد، محبت شادی کی جانب ہادی ہوتی ہے جبکہ ہوس نفسانی خواہشات کی تکمیل جو زناکاری کے گڈھے میں ڈھکیل دیتی ہے، کم از کم بےحیائی کا بدنما داغ ضرور جبین اخلاق پہ لگا دیتی ہے۔
ویلنٹائن ڈے کی چند متیقن خرابیاں
ویلنٹائن ڈے منانا کفار و مشرکین سے مشابہت ہے، اس کی بنیاد مذہب و ملت کی بغاوت پر ہے، اس کا نتیجہ مردوں اور عورتوں کے درمیان شادی کے ذریعے جو پاکیزہ رشتہ ہے اسے تار تار کر ان کے درمیان ناجائز تعلقات کو عوام میں مقبول کرانا ہے، زناکاری کو فروغ دینا ہے کہ معاشرہ بےعزت اور بے غیرت بغیر نسب کے ہوجائے۔ ان سب کے علاوہ بھی ہزاروں خرابیاں ہیں اس منحوس رسم میں، آج ان خرافاتی مراسم کے ذریعہ معاشرہ کو جس عریانیت ، بدتہذیبی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یورپ میں عیسائی عورتوں کی خوبصورتی رہتے تو اس کے پیچھے ہزاروں ہوس کے پجاری گھومتے ہیں مگر خوبصورتی زائل ہوتے ہوتے ہی وہ بھکارن سے بھی بدتر ہو جاتی ہیں، اس کا شوہر بھی چھوڑ جاتا ہے اس کی اولاد الگ خرمستیوں میں مگن ہوتے ہیں، پھر وہی حال مردوں کا بھی ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں ایک گلاس پانی تک نصیب نہیں ہوتا،جب تک وہ خود کما نہیں سکتے، وہاں باقاعدہ کوئی خاندان نہیں کہ آپسی محبت بڑھاپے میں بھی قائم رہ سکے۔
خیر جس نے بھی اس بے حیائی کو فروغ دیا اور اس کا پس منظر کچھ بھی ہو یہ بہت ہی بے شرمی اور بے غیرتی کی بات ہے ، یاد رکھیں مشرکین کچھ بھی کریں مگر ہم تو مسلمان ہیں کم از کم ہم تو اسلامی تعلیمات پر عمل کر دنیا کے لیے مثالی بن سکتے ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قیامت دن بدن قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی ہے اور اس کی نشانیاں روز روشن کی طرح واضح ہوتی جارہی ہیں قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بے حیائی عام ہو جائے گی، کھلم کھلا زناکاریاں ہوں گی، کیا اب ہم اللہ تعالی کے عذاب کے منتظر ہیں یا طلوع الشمس بالمغرب کے منتظر ہیں، مگر اے پیاروں اس کے بعد تمہاری توبہ قبول ہی نہ ہوگی۔
فحاشی پھیلانے والوں، بدکرداری کو فروغ دینے والوں اور زناکاری کو عام کرنے والوں کے لیے رب کا فرمان قرآن مجید میں یہ ہے:ترجمہ:-بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میں فحش پھیلے وہ دنیا و آخرت میں دردناک عذاب کے مستحق ہیں، اس سے مغرب زدہ مسلمانوں کو غور کرنا چاہیے کہ ہم کس منحوس رسم کو فروغ دینے میں مصروف ہیں ہمارا انجام کیا ہوگا، ہماری ذمہ داری ہے کہ ان تک رب کا پیغام اور اسلامی تعلیمات کو پہچائیں اور ان بےحیائی بھرے رسوم پر سدباب کیلئے مختلف لائحہ عمل تیار کریں۔
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آج ہمارے مغرب زدہ مسلمان اپنی معاشی تنگی سے چھٹکارا حاصل کرتے مگر وہ مغربی خرافات میں مصروف تضیع اوقات اور اسلامی تعلیمات اور اپنی روایات ، تہذیب وثقافت کو چھوڑ مغربی تہذیب ,جسے عیاشوں اور بدکرداروں نے وجود بخشا، کے دیوانے بنے پھرتے ہیں، ضرورت ہے کہ ہم قیامت کی نشانیوں سے سبق حاصل کریں ورنہ قیامت یوں آجائے گی کہ توبہ تو دور پلک جھپکنے کی بھی مہلت نہیں ملے گی، ابھی وقت ہے گناہوں سے باز آ جائیں۔ اللہ تعالی ہمارے معاشرے کو بےحیائی اور بدکاری بالخصوص زناکاری سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے