بدکاروں کا تہوار: ویلنٹائن ڈے

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی، مالیگاؤں

اِس وقت پوری دنیا میں ایک نئی خرافات جاری ہوگئی ہے اور وہ ہے ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کی خرافات۔ یہ ’’بے حیائی‘‘ کا تہوار ہے اور 14فروری کو بدکار نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اِس دن ’’بے حیائی‘‘ کے نئے نئے مظاہرے کرتے ہیں۔’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کیسے شروع ہوا؟ اِس بارے میں بڑی عجیب عجیب اور ’’حیا سوز‘‘ واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کے بارے میں سب سے پہلی روایت ’’روم‘‘ میں قبل مسیح کے دور سے ملتی ہے جب روم کے بت پرست مشرکین 15فروری کو جشن مناتے تھے : ( feast of lupercaoius wolf ) کے نام سے جانا جاتا تھا یہ جشن وہ اپنے دیوی دیوتائوں کے اعزاز میں انھیں خوش کرنے کے لئے مناتے تھے ، ان دیوی دیوتائوں میں ( pan ) فطرت کا دیوتا۔ februata jano( عورتوں اور شادی کی دیوی ) pastoral gol lupercalius (رومی دیوتا جس کے کئی دیویوں کے ساتھ عشق ومحبت کے تعلقات تھے ) شامل ہیں۔ اس موقع پر ایک برتن میں تمام نوجوان لڑکیوں کے نام لکھ کر ڈالے جاتے تھے جس میں سے تمام لڑکے باری باری ایک پرچی اٹھاتے اور اس طرح قرعہ اندازی کے ذریعہ منتخب ہونے والی لڑکی اس لڑکے کی ایک دن ، ایک سال یا تمام عمر کی ساتھی ( sexual companion ) قرار پاتی۔ یہ دونوں محبت کے اظہار کے طور پر آپس میں تحفے تحائف کا تبادلہ کرتے اور بعض اوقات شادی بھی کرلیتے تھے۔ اسی طرح ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کارڈز پر دکھائے جانے والے نیم برہنہ اور تیرکمان اٹھائے ہوئے ’’ کیوپڈ ‘‘ ( cupid ) اس کی تصویر بھی ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کی خصوصی علامت ہے اور رومن عقیدے کی روسے ’’وینس‘‘ ( محبت اور خوبصورتی کی دیوی ) کا بیٹا ہے جو کہ لوگو ں کو اپنے تیر سے نشانہ لگاکر محبت میں مبتلا کردیتا ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا)
’’بدکاری کے تہوار‘‘ کا نام ایک پادری کے نام پر
’’بدکاری کے تہوار‘‘ کے لئے 14فروری کی تاریخ کا انتخاب کیا گیاجس دن رومیوں نے ایک عیسائی پادری ’’ ویلنٹائن ‘‘ کو سزائے موت دی تھی۔ واقعہ یوں ہیکہ رومی بادشاہ claudiusکے عہد میں روم کی سرزمین مسلسل کشت وخون کی وجہ سے جنگوں کا مرکز بنی رہی اور یہ عالم ہوگیا کہ ایک وقت میں claudiusکو اپنی فوج کے لئے مردوں کی تعداد بہت کم نظر آئی۔ جس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ روم کے نوجوان اپنی بیویوں کو چھوڑ کرپر دیس جنگ کے لئے جانا پسند نہیں کرتے تھے۔ بادشاہ نے اس کا حل یہ نکالا کہ ایک خاص عرصے کے لئے شادیوں پر پابندی عائد کردی تاکہ نوجوانوں کو فوج میں آنے کے لئے آمادہ کیا جائے۔ اس موقع پر ایک پادری ’’ سینٹ ویلنٹائن ‘‘ نے خفیہ طور پر نوجوانوں کی شادی کروانے کا اہتمام کیا۔ جب یہ راز فاش ہوا تو بادشاہ claudius کے حکم پر ’’سینٹ ویلنٹائن‘‘ کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال کر سزائے موت کا حکم سنادیا گیا۔ جیل میں یہ پادری جیلر کی بیٹی کو دل دے بیٹھا جو روزانہ اس سے ملنے آیا کرتی تھی لیکن یہ ایک راز تھا کیونکہ عیسائی قوانین کے مطابق پادریوں اور راہبوں کے لئے شادی یا محبت کرنا ممنوع تھا۔ اس کے باوجود عیسائی ’’ویلنٹائن‘‘ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ جب رومی بادشاہ نے اسے پیشکش کی کہ اگر وہ عیسائیت چھوڑ کر رومی خدائوں کی عبادت کرے تو اسے آزادی عطا کی جائے گی۔ بادشاہ اسے قربت دے گا اور اپنی بیٹی سے اسکی شادی بھی کرے گالیکن اس نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکار کردیا جس کے نتیجے میں اسے رومی جشن سے ایک دن پہلے 14فروری کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ مرنے سے پہلے اس نے جیلر کی بیٹی کو ایک خط لکھا ، جس کا خاتمہ from your velentineکے الفاظ سے کیا۔ بہت سے ویلنٹائن کارڈز پر لکھے جانے والے greetingcardsکے الفاظ from your velentineاسی واقعہ کی یاد تازہ کرنے کے لئے ہیں۔ ویلنٹائن کے نام سے کم ازکم تین مختلف پادری ہیں اور تمام کی موت کا دن 14فروری ہے ، 694ء میں یورپ gelasiusنے سرکاری طورپر وہ 15فروری کے رومی فیسٹول lupercaliaکو بدل کر14فروری کو ’’سینٹ ویلنٹائن ڈے‘‘ منانے کا اعلان کیا اور لاٹری کے ذریعہ لڑکی کے انتخاب کی رومی رسم میں یہ رد وبدل کیا کہ پرچی میں نوجوان لڑکی کے نام کے بجائے عیسائی پادریوں کے نام لکھے جاتے اور تمام مرد اور عورتیں ایک ایک پرچی اٹھاتے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ہر مرد یا عورت جس عیسائی پادری کے نام کی پرچی اٹھاتی اسے اگلے سال تک اسی پادری کے طور وطریق کو اپنانا ہوتا تھا۔ ایک عیسائی پادری ’’ ویلنٹائن ‘‘ کے حوالے سے منایا جانے والا دن اس یوم کی تاریخ تہوار ، رسوم ورواج ، تحریف درتحریف کے عمل سے گزر کرتاریخ میں ایسی شرمناک شکل اختیار کرچکا ہے جس کی عملی ، عقلی فکری بنیادیں ابھی تک مغرب بھی تلاش کررہا ہے۔ویلنٹائن ڈے کے پس منظر کے بعد یہ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک مکمل عیسائی اور مغربی تہوار ہے ، جس میں کئی مختلف طریقوں سے بے راہ روی کی جا تی ہے ، اہل روم اپنے دیوتا ’’ لیوپرکس ‘‘ کو خوش کرنے کے لئے ایک رسم ادا کرتے تھے۔ اس رسم میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنا ساتھی چنا کرتے تھے ، طریقہ کار یہ ہوتا کہ لڑکیاں بھیڑکی کھال میں خود کو چھپالیتی تھیں ، لڑکے باری باری آتے بیرکی چھڑی سے لڑکی کی پشت پر ہلکی سی ضرب لگا تے ۔ ضرب لگنے پراگر لڑکی اپنی جگہ چھوڑدیتی تولڑکا اسے لے کر چلا جاتا اور اگر لڑکی جگہ نہ چھوڑتی تولڑکا آگے بڑھ جا تا ۔ یہ رسم اس وقت ختم ہوتی جب آخری لڑکی بھی اپنی جگہ چھوڑدیتی ، اس دن کو ’’ یوم محبت ‘‘ اور رسم کو ’’ سینٹ ویلنٹائن ڈے ‘‘ کا نام دیا گیا۔
سُرخ گلاب بھیجنے کا رواج
14فروری اور ویلنٹائن کے متعلق ایک فحش روایت یہ بھی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں روم میں ویلنٹائن نام کا ایک پادری ، ایک راہبہ ( nun ) زلف گرہ گیر کا اسیر ہوگیا۔ چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لئے نکاح ممنوع تھا اس لئے ایک دن ویلنٹائن نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لئے اسے بتایا کہ اسے خواب میں یہ بتایاگیا ہے کہ 14فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ جسمانی تعلقات قائم بھی کرلیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائیگا۔ راہبہ نے اس پر یقین کرلیا اور دونوں جوشِ عشق میں سب کچھ کربیٹھے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے یعنی ان دونوں کو قتل کردیا گیا ۔ کچھ عرصے بعد چند لوگوں نے انہیں محبت کا شہید جان کر عقیدت کا اظہار کیا اور ان کی یاد میں یہ دن منانا شروع کردیا۔ ایک واقعہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ’’سینٹ ویلنٹائن‘‘ نام کا ایک معتبر شخص برطانیہ میں بھی تھا ۔ یہ بشپ آف ٹیرنی تھا۔ جسے عیسائیت پر ایمان کے جرم میں 14فروری کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ قید کے دوران بشپ کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی اور وہ اسے محبت بھرے خطوط لکھا کرتا تھا ، اس مذہبی شخصیت کے ان محبت ناموں کو ’’ ویلنٹائن ‘‘ کہا جاتا ہے۔ چوتھی صدی عیسوی تک اس دن کو تعزیتی انداز میں منایا جاتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس دن کو محبت کی یادگار کا رتبہ حاصل ہوگیا اور برطانیہ میں اپنے منتخب محبوب اور محبوبہ کو اس دن محبت بھرے خطوط ’’ پیغامات ‘‘ کارڈز اور سرخ گلاب بھیجنے کا رواج پاگیا۔ برطانیہ سے رواج پانے والے اس دن کو بعد میں امریکہ اور جرمنی میں بھی منایاجانے لگا ، تاہم جرمنی میں دوسری جنگ عظیم تک یہ دن منانے کی روایت نہیں تھی۔ برطانوی کاؤنٹی ویلز میں لکڑی کے چمچ 14فروری کو تحفے کے طور پر دیئے جانے کے لئے تراشے جاتے اور خوبصورتی کے لئے ان کے اوپر دل اور چابیاں لگائی جاتی تھیں۔ جو تحفہ وصول کرنے والے کے لئے اس بات کا اشارہ ہوتیں کہ تم میرے بنددل کو اپنی محبت کی چابی سے کھول سکتی ہو۔ جیسے جیسے یہ دن گزرتا گیاہر سال اس میں مختلف قسم کے افعال ، رسومات اور رجحانات بھی شامل ہوتے رہے ۔
کارڈ بھیجنے کا رواج
’’بدکاری کے اِس تہوار‘‘ میں ’’کارڈ‘‘ بھیجنے کا رواج ایک عیسائی ملکہ نے شروع کیا ۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم مسلمان بھی اُن کی نقل کرتے ہیں اور ’’عید کارڈ‘‘ بھیجتے ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اول یورپ میں یہ تہوار منایا جاتا رہا لیکن زیادہ شہرت نہ پاسکا ۔ 1414 ء میں ’’اینگ کوٹ‘‘ کے مقام پر جنگ ہوئی اور اس جنگ میں ڈیوک آف آرینز کی بیوی گرفتار ہوگئی ۔ ملکہ کو فورٹ آف لندن میں قید کردیا گیا۔ فروری1415ء کو ڈیوک نے اپنی بیوی کے نام ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کی مناسبت سے ایک نظم لکھی ، یہ نظم کارڈز پر لکھوائی اور یہ کارڈفور ٹ آف لندن بھجوایا۔ یہ دنیا میں ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کا پہلا کارڈتھا۔ بعدازاں برطانیہ کے بادشاہ ’’ایڈورڈ ہفتم‘‘ نے اس نظم کی موسیقی تیار کروائی ۔ یہ موسیقی برطانیہ کے موسیقار ’’جان لیڈگیٹ‘‘ نے ترتیب دی تھی۔ یہ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کا گیت تھا۔ ملکہ وکٹوریہ نے ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ پر کارڈ تقسیم کرنے شروع کئے۔ ملکہ ہر سال فروری کے دوسرے ہفتہ کے آخری دن سو قیمتی اور خوشبودار کارڈ اپنے عزیز واقارب کو بھجواتی تھی۔ ملکہ کی پیروی میں دوسرے عمائدین نے بھی کارڈز بنوائے اور تقسیم کرنے شروع کردئیے ۔ یوں ویلنٹائن ڈے پر کارڈز بھجوانے کی رسم شروع ہوگئی۔
کھلے عام فحاشیت کا دن
’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کے نام پر نوجوانوں کو ’’فحاشی اور بدکاری‘‘ کرنے کے لئے ایک دن مل گیا جسے تہوار کے طور پر منایا جانے لگا۔ کون نہیں جانتا کہ’’ ویلنٹائن ڈے‘‘ پر نکاح کے بندھن سے قطع نظر ایک آزاد اور رومانوی قسم کی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے (جو کہ سراسر بے حیائی ہے) ، جس سے لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ ملاپ ، تحائف اور کاڈز کا تبادلہ اور غیر اخلاقی حرکات کا نتیجہ زنا اور بد اخلا قی کی صورت میں نکلتا ہے جواس بات کا اظہار ہے کہ ہمیں مرد اور عورت کے درمیان ’’آزادانہ تعلق‘‘ پر کوئی اعتراض نہیں ۔ اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عفت مطلوب نہیں ، اپنے نوجوانوں سے پاکدامنی درکار نہیں ۔ اس دن ایسی خوشی کا اظہار ہوتا ہے جیسے یہ کوئی شرعی اور مسلمانوں کی خاص عید ہو ۔ اس دن نوجوان لڑکے اور لڑکیا ں اور بالخصوص اسکول وکالج کے طلباء وطالبات اور دفاتر کے ملازمین جو ش وخروش سے جشن مناتے ہیں ۔ اس دن انٹرنیٹ کلبوں اور موبائل فونوں پر کافی رش رہتا ہے ۔ راہ چلتی لڑکیوں کو پھول وغیرہ پیش کرنے کے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔ ہرطالبہ اپنی قریبی سہیلی کا ’’پرو‘‘ ہوتی ہے کہ وہ اپنی کلائی پر سرخ رنگ کا ربن باندھے گی ۔ سرخ رنگ کا لباس زیب تن کیا جاتا ہے ، جوتے ، بال ، بلاوزر ، کلپ وغیرہ سب سرخ رنگ کا ہوتا ہے ۔ سرخ رنگ کے غبارے جن پر ( i love you ) لکھا ہوتاہے ۔ ہاتھوں پر نام اور دلوں کے نشانات اور ناموں کے پہلے حروف نقش کروائے جاتے ہیں ۔
مغرب کی مرتی ہوئی تہذیب کی نقل
’’بدکاری اور فحاشی‘‘ کے تہوار’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کا آغاز اور اس کا فروغ مغرب سے ہی ہوا لیکن اہل مغرب کے بارے میں یہ بات کرنا ہمارے نزدیک بالکل فضول اور بے معنی ہے کیونکہ ان کے نزدیک تو بے حیائی وبے شرمی کی کوئی حد ود باقی نہیں رہیں ۔ جنسیت اور زنا کاری کی وجہ سے اہل مغرب کا خاندانی نظام بالکل تباہ ہوگیا ہے ۔ بہن بھائی اور ماں بیٹے کی تمیز کا فرق بھی مٹ چکا ہے ۔ کتنے ہی ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں کہ بھائی اپنی بہن سے اور ماں نے بیٹے سے منہ کالا کیا۔ گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ آئے دن کیا کھیل رچاتے ہیں یہ بھی سب کو معلوم ہے۔ مغرب میں خاندانی نظام بالکل تباہ ہوچکا ہے اور تہذیب کا جنازہ نکل گیا ہے۔ ہر طرف شیطنیت چھائی ہوئی ہے اور انسان جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزار رہا ہے۔ جانور کبھی ’’ہم جنس پرستی‘‘ نہیں کرتے اور مغرب میں کھلے عام ’’ہم جنس پرستی‘‘ کی جارہی ہے۔ حیرت تو مشرق والوں پر ہورہی ہے جن کی شرم و حیا کی مثال دی جاتی تھی۔ آج مغرب کی مرتی ہوئی تہذیب کی نقل مشرق والے بھی کررہے ہیں۔ اِس معاملے میں مشرقی میڈیا نے بھی ’’بے حیائی‘‘ پھیلانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ کسی بھی نیکی یا بدی کے پھیلنے میں میڈیا اہم کردار اداکرتا ہے۔ عوام الناس چونکہ اس سے براہ راست منسلک ہوتے ہیں اسلئے ہر وہ چیز ان کے قلوب واذہان پر اثر کرتی ہے جو میڈیا کے ذریعہ تشہیر پاتی ہے ۔ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کے فروغ میں بھی مغربی میڈیا کے ساتھ مشرقی میڈیا پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے خوب کردار ادا کیا۔ چند سالوں میں اس نام نہاد ’’ یوم محبت ‘‘ کو اتنا عام کردیا کہ اب مشرقی ممالک کے ہر شہر کے چھوٹے سے چھوٹے گلی محلے میں بھی آوارہ اور بدمعاش قسم کے لفنگے شریف زادیوں کو پھول پیش کرکے ’’اظہار محبت‘‘ کرتے نظر آنے لگتے ہیں۔
مسلم والدین کی ذمہ داری
’’بدکاری کا تہوار‘‘ اب پوری دنیا میں بڑے زور وشور سے منایا جارہا ہے۔ اب اِس معاملے میں مسلم والدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوان بیٹوں اور بیٹیوں کو ’’بدکاری اور فحاشی‘‘ کے اِس تہوار سے بچائیں۔ اپنی اولاد کو بتائیں کہ اﷲ اور اُس کے رسول نے ’’حیا‘‘ کو ایمان کا اہم جزو بتایا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ہر نبی علیہ السلام کو یہ حُکم دیا ہے کہ وہ اپنی اُمت کو ’’حیا‘‘ کی تعلیم دیں اور اُس کی اہمیت سے آگاہ کریں۔اب جس میں ’’حیا‘‘ ہی نہیں ہوگی تو وہ گدھے کی طرح اعمال کرتا پھرے گا اور ’’ویلینٹائن ڈے‘‘ منانا گدھوں کا ہی عمل ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے