فحاشیت کا دوسرا نام ویلنٹائن ڈے ہے

تحریر: ریاض فردوسی، پٹنہ ۔9968012976

یقینا اللہ تعالیٰ عدل کااوراحسان کااوررشتے داروں کودینے کاحکم دیتا ہے اوروہ بے حیائی اوربُرائی اورزیادتی سے روکتا ہے،وہ تمہیں نصیحت کرتاہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو(سورہ النحل آیت۔90)
حدیث پاکﷺ میں وارد ہے کہ کوئی گناہ ظلم و زیادتی اور قطع رحمی سے بڑھ کر ایسا نہیں کہ دنیا میں بھی جلدی ہی اس کا بدلہ ملے اور اخرت میں بھی سخت پکڑ ہو۔اس حکم کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے اخلاقی، معاشرتی، معاشی، قانونی اور سیاسی و تمدنی حقوق پوری ایمان داری کے ساتھ ادا کیے جائیں۔
اللہ تعالی انسانوں کوتین برائیوں سے روکتا ہے جو انفرادی حیثیت سے افراد کو، اور اجتماعی حیثیت سے پورے معاشرے کو خراب کرنے والی ہیں: پہلی چیز فحاشی ہے جس کا اطلاق تمام بیہودہ اور شرمناک افعال پر ہوتا ہے۔ ہر وہ برائی جو اپنی ذات میں نہایت قبیح ہو، فحش ہے۔ مثلًا بخل، زنا، برہنگی و عریانی، عمل قوم لوط، محرمات سے نکاح کرنا، چوری، شراب نوشی، بھیک مانگنا، گالیاں بکنا اور بدکلامی کرنا وغیرہ۔
اسی طرح علی الاعلان برے کام کرنا اور برائیوں کو پھیلانا بھی فحش ہے، مثلا جھوٹا پروپیگنڈا، تہمت تراشی، پوشیدہ جرائم کی تشہیر، بدکاریوں پر ابھارنے والے افسانے اور ڈرامے اور فلم،
(آج کل فحش Web seriese)کے ذریعے نفسانی خواہشات کو ابھار کر برائیوں کو فروغ دیا جارہاہے،عریاں تصاویر، عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر آنا، علی الاعلان مردوں اور عورتوں کے درمیان اختلاط ہونا، اور اسٹیج پر عورتوں کا ناچنا اور تھرکنا ، ناز و ادا کی نمائش کرنا وغیرہ۔
اے لوگوجوایمان لائے ہو!تم شیطان کے نقشِ قدم کی پیروی نہ کرواور جو شخص شیطان کے نقشِ قدم کی پیروی کرے گاتوبلاشبہ وہ اسے بے حیائی اوربُرائی کا حکم دے گااور اگر تم پراللہ تعالیٰ کافضل اوراس کی رحمت نہ ہوتی توتم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہو پاتا لیکن اللہ تعالیٰ جس کوچاہتاہے پاک کرتاہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا،سب کچھ جاننے والا ہے۔(سورہ نور۔آیت۔21)
ہادی برحقﷺ کا ارشاد گرامی ہے:’’حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے (صحیح مسلم، رقم:75) دوسرے مقام پر یوں ارشاد فرمایا:’’إذا لم‘‘ اگر آپ میں حیا نہیں تو جو جی میں آئے کریں(سنن ابی داؤد، رقم:4797)
شیطان تو ہمیںبرائی کی نجاستوں میں آلودہ کرنے کے لیے ہر طرح سے تلا بیٹھا ہے کہ اگر اللہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں نیک و بد کی تمیز نہ سمجھائے ، اصلاح کی تعلیم و توفیق سے نہ نوازے تو ہم میں سے کوئی شخص بھی اپنے بل بوتے پر پاک نہیں ہو سکتاہے۔اللہ کی مشیت ہے کہ وہ کسے پاکیزگی بخشے، اور کس کو ناپاک اور گناہوں سے آلودہ کر دے ،یہ عمل اندھا دھند نہیں ہے بلکہ علم کی ،طلب راہ حق کی سعی کی،نیتوں کی پاکیزگی کی بنا پر ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کس میں بھلائی کی طلب موجود اور کون برائی سے رغبت رکھتا ہے۔ ہر شخص اپنی خلوتوں میں جو باتیں کرتا ہے انہیں اللہ سن رہااورجان رہا ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنے دل میں بھی جو کچھ سوچا کرتا ہے، اللہ اس سے بے خبر نہیں رہتا۔ اسی براہ راست علم کی بنا پر اللہ فیصلہ کرتا ہے کہ کسے پاکیزگی بخشے اور کسے نہ بخشے۔
سینٹ ویلنٹائن ڈے (Saint Valentine’s Day) جسے ویلنٹائین ڈے (Valentine’s Day) اور سینٹ ویلنٹائن کا تہوار (Feast of Saint Valentine) بھی کہا جاتا ہے محبت کے نام پر مخصوص عالمی دن ہے اسے ہر سال 14 /ء فروری کو ساری دنیا میں سرکاری، غیر سرکاری، چھوٹے یا بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔سینٹ ویلنٹائن ایک مسیحی راہب تھا۔ بک آف نالج کا مذکورہ اقتباس میں ہے:’’ویلنٹائن ڈے کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کالیا (Luper Caliaa) کی صورت میں ہوا۔ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی قمیضوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ بعد میں جب اس تہوار کوسینٹ ’ویلن ٹائن‘ کے نام سے منایا جانے لگا تو اس کی بعض روایات کو برقرار رکھا گیا۔ اسے ہر اس فرد کے لیے اہم دن سمجھا جانے لگا جو رفیق یا رفیقہ حیات کی تلاش میں تھا۔ سترہویں صدی کی ایک پراُمید دوشیزہ سے یہ بات منسوب ہے کہ اس نے ویلن ٹائن ڈے والی شام کو سونے سے پہلے اپنے تکیہ کے ساتھ پانچ پتے ٹانکے اس کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے وہ خواب میں اپنے ہونے والے خاوند کو دیکھ سکے گی۔ بعد ازاں لوگوں نے تحائف کی جگہ ویلنٹائن کارڈز کا سلسلہ شروع کر دیا۔‘‘
14 فروری کا یہ ’یومِ محبت‘ یایوم فحاشی سینٹ ویلنٹائن سے منسوب کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کے بارے میں محمد عطاء اللہ صدیقی رقم طراز ہیں:’’اس کے متعلق کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں البتہ ایک غیر مستند خیالی داستان پائی جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ (Nunn) کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے۔ چونکہ مسیحیت میں راہبوں اور راہبات کے لیے نکاح ممنوع تھا۔ اس لیے ایک دن ویلن ٹائن نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لیے اسے بتایا کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کر لیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے ان پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کر گزرے۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اُڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے یعنی انہیں قتل کر دیا گیا۔ بعد میں کچھ شیطان کے پرستاروں نے ویلن ٹائن کو’شہید ِمحبت‘ کے درجہ پر فائز کرتے ہوئے ان کی یادمیں دن منانا شروع کر دیا۔شروعات میں چرچ نے اس وقت ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔لیکن اب اس نے بھی خاموشی سے اس کو تسلیم کر لیا ۔ دنیا میں ویلنٹآئن ڈے منانے والی ایسٹر ہالینڈ مائونٹ ہولیوک کالج کی طالبہ تھی وہ پہلی انسان تھی جس نے امریکا میں ویلنٹآئن ڈے منایا۔اس نے ربن، رنگین تصویریں اور تسموں سے ویلنٹائن ڈے کو رنگین اور رومانوی بنا دیا۔ویلینٹائین ڈے کے نام پر نا جانے کتنی بہنیں اپنے سب سے قیمتی گہنے عزت سے محروم ہوجاتی ہیں۔زنا کا کھلے عام مظاہرہ ہوتا ہے۔نیم عریاں لباس میں ملبوس کتنی ہی بیٹیاں ایک ہی دن میں بربادی کے گہرے سمندر میں سماں جاتی ہیں۔اللہ کے قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی ہوتی ہے۔2019 ء میں بی بی سی کی رپوٹ کے مطابق ایک ہی دن میں 13 کروڈ CONDOM کوفروخت کیا گیا۔جتنی فحاشی اورزناکاری ویلینٹائین ڈے کے دن ہوتی ہے اتنی زناکاری پورے سال نہیں ہوتی ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کو ایک دن محبت کا اظہار کر لیا تو کیا مضائقہ ہے،کیا خاوند اپنی بی بی کو یا ماں، باپ،بھائی،بہن،ایک دوسرے کو اظہار محبت نہیں کر سکتے،کیا اس کے لیے بھی اسلام منع کرتا ہے۔لیکن میرے بھائیوں کیا سچّی محبت کسی خاص دن کی محتاج ہوتی ہے۔کسی بھی دن اقرار محبت کیا جا سکتا ہے۔خاص دن ہی کیوں؟دراصل اب یہ بہترین کاروبار بن گیا ہے،اسی لیے طرح طرح کے اشتہار کے ذریعے اسے فروغ دیا جارہا ہے۔پرنٹ میڈیا، الیکٹرونک میڈیا،اور مشہور شخصیات اس کو تقویت دینے میں سرگرم ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہم غیر کی اقتداء کیوں کریں کیا کسی عیسائی نے عید الفطرکی نماز ادا کی ہے؟
کیا کسی ہندو نے عید الاضحی کے موقع پر قربانی دی ہے؟ کیا کسی یہودی نے ماہ رمضان میں 30روزہ رکھے ہیں؟
انسانی نفسیات میں یہ ہے کہ کوئی انسانی گروہ اگر گناہ کا عادی ہو جاتا ہے اور پورے ارادے کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ وہ بد ی کو نیکی اور برائی کو اچھائی ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔گزشتہ چند عرصہ سے ہمارے معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی کا سیلاب جس تیزی سے پروان چڑھا ہے، یہ ایک افسوس ناک اور خطرناک صورت حال ہے، جس کا سد باب ضروری ہے، ورنہ فحاشی اور بے حیائی کا یہ سیلاب پورے ملک کو لے ڈوبے گا۔ جنسی اشتعال انگیزی پر مشتمل حیا باختہ عورتوں کی تصاویر اس قدر عام ہو گئی ہیں کہ گھریلو استعمال کی عام اشیاء کو بھی ان سے آلودہ کر دیا گیا ہے۔ اخبارات ورسائل کے سرورق پر فلمی اور ماڈلنگ کی دنیا کی خواتین کی نیم عریاں تصویروں کا چھپنا ایک عام معمول ہے، جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی تھی، وہ ٹی وی چینلوں اور فیشن شوز نے پوری کر دی ہے، فحاشی اور بے حیائی پھیلانے والے برقی آلات گھر گھر عام کر دیے گئے ہیں، انٹرنیٹ او رموبائل کمپنیوں کے نت نئے پیکچز او راسکیمیںاور ویب سیریز اس وبا کو عام کرنے میں مؤثر کردار ادا کر ر ہی ہے۔
نبیﷺ کا فرمان ہے کہ ہر دین کا ایک مخصوص شعار ہوتا ہے او راسلام کا شعار ’’حیا‘‘ ہے۔
ابلیس کے آزر نے ترشوائے نئے بت !
شریعت اسلام کی رو سے غیر مردوں اور غیر عورتوں کا ایک دوسروں سے ملنا اور اظہارمحبت کرنا حرام ہے۔الیکٹرانک میڈیا نے عورت کو ایک بازاری اور جنس کی تسکین کا سامان بنا دیا ہے۔ میڈیا کا اصل ٹارگٹ متوسط طبقے کی خواتین اور نوجوان نسل اور مسلمان ہیں۔یہ اس میڈیا کی ہی تباہ کاریاں ہیں کہ کچھ سال پہلے تک آٹھ دس سال کی بچیاں جنھیں صرف کھیل کھلونوں اور گڑیوں کی فکر رہتی تھی آج اپنے ساتھی کلاس فیلوز کو محبت نامہ لکھ رہی ہیں اور والدین کی روک ٹوک نہ ملنے دینے پر یہی بچے خود کشی جیسے انتہائی اقدام بھی اٹھالیتے ہیں یا رشتہ نہ ملنے پر قتل جیسا سنگین جرم بھی کر دیتے ہیں۔
آیت حجاب کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ان الفاظ میں ہے کہ مسلمان عورت کو جب کسی مجبوری سے باہر نکلنا پڑے تو ان کو جلباب یعنی بڑی چادریں اپنے سروں پر اس طرح اوڑھ لینا چاہیے کہ رخسار، گردن، گلا اور سینہ پوری طرح چھپ جائے اور راستہ دیکھنے کے لیے صرف ایک آنکھ کھلی ہونی چاہیے۔ صحابی کی تفسیر حجت ہی نہیں؛ بلکہ بقول بعض علماء مرفوع حدیث کا درجہ رکھتی ہے۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوئی تو انصار عورتیں ایسی تواضع وانکساری سے سروں پر کالی چادریں ڈال کر نکلتی تھیں گویا ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہوں جو ذرا سی حرکت سے اڑجائیں گے۔نیز حالت احرام میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث ہے کہ جب مردوں کا گزر ہوتا تھا تو ہم عورتیں اپنے چہروں کو ڈھانک لیتی تھیں؛ حالانکہ حالت احرام میں کشف وجہ یعنی چہرہ کا کھولنا واجب ہے؛ لیکن ایک عمومی واجب پر عمل کرنے کے لیے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی احرام کے واجب کو ترک کردیتی تھیں، ورنہ اگر چہرہ کا حجاب عام حالت میں مستحب ہوتا تو استحباب کے لیے صحابیات اور خاص طور سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ترک واجب نہ کرتیں۔ رواہ ابوداود)
ایک رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ کی ہزاروں porn sites پر کروڑوں نہیں، اربوں عریاں اور فحش تصاویر اور ویڈیو کلپس قطعی بے قیمت اور با آسانی دستیاب ہونے کا آخر کیا مقصد ہے؟ بے شک یہ کاروبار بھی ہو گا۔ لیکن ذرا غور تو کیا جائے کہ یہ کیسا کاروبار ہے جس میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور لوگوں کو اس کی طرف کسی معاوضے کے بغیر یا انتہائی قلیل معاوضے کے ذریعے مائل کیا جا رہا ہے۔ یہ کیسا کاروبار ہے جس میں سرمایہ کاری کرنے والے بنا نفع حاصل کر کے خوش ہیں۔ یہ میگا سائٹس جو لوگ فنانس کر رہے ہیں، آخر انھیں کس طور اور کتنا سرمایہ واپس مل رہا ہے اور کہاں سے مل رہا ہے؟ اس بزنس کی کوئی ریگولیٹری ا تھارٹی کیوں نہیں ہے؟ اس پر کوئی وتھ ہولڈنگ ٹیکس کیوں نہیں ہے؟ اس کی امپورٹ پر کوئی ڈیوٹی عائد کیوں نہیں ہوتی؟ اس کاروبار کے کسی بھی مرحلے پر جی ایس ٹی کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا؟ اس پورے کاروبار ی نظام کا کوئی چیک سسٹم کیوں نہیں؟غور کریں تو ان سوالات کے جوابات مل جایں گے۔

(حوالہ جات۔تفسیر ابن عباسؓ۔تفسیر ابن کثیر۔تفہیم القرآن۔تفسیر فیوض الرحمان،
Chambers 21st Century Dictionary, Revised ed., Allied Publishers, 2005 ISBN 978-0-550-14210-8
انسائیکلو پیڈیا بک آف نالج
انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا
اقتباس از:ویلنٹائن ڈے‘ از محمد عطاء اللہ صدیقی، ص3)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

استقبالِ رمضان اور لاک ڈاؤن

تحریر: شگفتہ عبدالخالق، ممبرامضمون نگار معلمہ اور داعیہ بھی ہیں۔ جوں ہی حکومت کی طرف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے