حکیم کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا

تحریر: محمد شہادت حسین فیضی، کوڈرما جھارکھنڈ


ایک عربی کہاوت ہے۔”فعل الحکیم لا یخلو عن الحکمة” یعنی حکیم کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ بے شک ایک حکیم صادق ایسا ہی ہوتا ہے گرچہ وہ حکمت ہرایک کو نظر نہیں آتی۔اور کیوں نہ ہو کہ "دیدۂ کور کو،کیا آئے نظر،کیا دیکھے”۔ اور نظر آتی بھی ہے تو ہر شخص اسکو تسلیم نہیں کرتا، مگر دلائل و براہین کے بعد۔ تاہم وہ لوگ جن کے دلوں میں حکیم کی عظمت و بزرگی بسی ہوتی ہے وہ بغیر کسی چوں و چرا کے مانتے بھی ہیں اور تسلیم بھی کرتے ہیں۔ ویسے حکیموں میں بھی فرق ہوتا ہے۔ مثلا جو حکیم صادق اور طبیب حاذق ہیں وہ مریض کے لیے ایسے نسخے تجویز کرتے ہیں جس سے مرض کا خاتمہ ہو، اگرچہ مریض کو وقتی طور پر کچھ تکلیف ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ جبکہ حکیم کاذب اور ڈھونگ طبیب وہ ہوتے ہیں جن کی نظر مرض پہ نہیں ہوتی ہے بلکہ مریض کی طبیعت اور اس کی جیب پہ ہوتی ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ احمقوں کی دنیا میں ایسے ہی حکیموں کی پذیرائی ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے کے مروجہ جلسے اور اس میں بلائے جانے والے نیم حکیم مقررین اور نام نہاد شعراء اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ ناجائز فرمائشیں پوری کر کے بلائے جاتے ہیں، جن کی نظریں معاشرے کی بیماریوں پہ ہوتی ہیں اور نہ ہی اس کی اصلاح پر ۔انہیں فکر ہوتی ہے تو محض نذرانوں کی۔انہیں دلچسپی ہوتی ہے تو فقط انتظامیہ کی جیب اور سامعین کی طبیعت سے۔ وہ سامعین میں عشق رسول اور اطاعت رب العالمین کو جگانے کے نام پر ضرور تقریر کرتے ہیں اور نعت پڑھتے ہیں۔ جبکہ خود وہ ان پہ خود عمل پیرا نہیں ہوتے۔اور نہ سامعین کی اصلاح سے ان کو کوئی غرض ہوتا ہے۔ اور ہو بھی کیسے کہ "اوخویشتن گم است کِرا رَہبری کند”۔ یعنی جو خود گمراہ ہو وہ کسی اور کی کیا راہنمائی کرے گا۔یہ فارسی مقولہ سو فیصدی ان پہ چسپاں ہوتا ہے۔ جبکہ جو اصل قائدین ملت اور نباض قوم ہیں۔جن کی نہ کوئی فرمائش ہوتی ہے نہ ڈیمانڈ اور وہ پورے خلوص کے ساتھ صرف مرض کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اصلاح معاشرہ کی تشکیل جن کا مقصد و مطلوب ہوتا ہے۔ لیکن ان کی باتیں احمقوں کو خشک لگتی ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ان کی باتوں میں لذت نہیں ہے۔ مزا نہیں آرہا ہے اور پھر مجلس سے اٹھ کر جانے لگتے ہیں۔ ہماری بربادی کی داستان یہیں سے شروع ہوتی ہے کہ جہاں اصلاح ہونا تھا وہیں فساد پیدا ہو گیا۔ اللہ تعالی ہماری حالت پر رحم فرمائے۔ آمین۔
ہمیں علمائے حق اور حکیمان ملت سے حق اور حکمت کی باتیں سن کر روشن مستقبل کی طرف گامزن ہونے کی ضرورت ہے۔
وہ ذات گرامی جن کے بارے میں اللہ تعالی نے قرآن مقدس میں فرمایا ہے کہ "آپ کو آپ کے رب نے وہ سب کچھ بتا دیا جو آپ کے علم میں نہیں تھا”(سورۃالنساء،آیت:113)
یعنی وہ سارے راز ہائے کائنات جہاں تک انسانی تصور بھی نہیں پہنچ سکتی وہ سارے راز ہائے سربستہ اور رموز کائنات سے بھی آقاکریم صلی اللہ علیہ و سلم کو آگاہی تھی۔ ایسے رسول کہ ان کی ہر بات وحی خدا ہو۔ تو ایسے حکیم کا کوئی عمل حکمت سے خالی کیسےہو سکتا ہے؟ بے شک آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل دین اسلام اور انسانی فلاح کی حکمتوں سے لبریز ہے۔ میں یہاں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کی دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔ جو عین تقاضائے وقت اور حکمت بالغہ کے ساتھ غلبۂ اسلام کے لیے ناگزیر ہے۔ اگرچہ میں جن حکمت آمیز واقعہ کو پیش کرنے جا رہا ہوں اس پر مستشرقین کے ساتھ دشمنان اسلام نے شدید ترین اعتراضات کیے تھے جس کے جامع اور تسلی بخش جوابات بھی دیے جا چکے ہیں۔ میں یہاں ان کا جواب نہیں دے رہا ہوں بلکہ اہل ایمان کے لیے بطور درس ایک حقیقت بیان کر رہا ہوں۔
(1) آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے راجح قول کے مطابق کل گیارہ (11) شادیاں کی تھیں۔ ان میں سے صرف حضرت ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے انسان کامل ہونے کی حیثیت سے انسانی ضرورت کے لیے نکاح کیا۔
10 نبوی رمضان کو ان کے وصال کے بعد شوال میں حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے سماجی ضرورت کے لیے نکاح کیا کہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیٹیوں کی نگہداشت کے لیے ایک خاتون خانہ کی ضرورت تھی۔ اس کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ طاھرہ رضی اللہ عنہا سے لے کر حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا تک جو نو (9) عقدکیے ان سب کا مقصد رشتۂ مصاہرت سے اسلامی تحریک کو مضبوط کرنا تھا۔ کیونکہ عرب قبائل میں نسبت مصاہرت کی بڑی اہمیت تھی وہ مصاہرت (سسرالی رشتہ) سے قبائل کے درمیان قربت پیدا کرتے تھے۔ کیوں کہ داماد، یا دامادکے قبیلہ سے جنگ لڑنا یا محاذ آرائی کرنا بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ طوالت سے بچنے کے لیے تمثیلا صرف دوامہات المومنین کا ذکر جمیل حسن ادب کے ساتھ پیش کرتا ہوں۔
(1) ام حبیبہ رملہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا یہ عبداللہ بن جحش کے عقد میں تھیں۔ یہ دونوں میاں بیوی مسلمان ہو کر ہجرت کر کے حبشہ)ایتھوپیا)چلے گئے۔ وہاں جانے کے بعد عبد اللہ بن جحش مرتد ہوکرعیسائی مذہب قبول کر لیا اور وہیں مربھی گئے۔ لیکن حضرت ام حبیبہ استقلال کے ساتھ ایمان پر قائم رہیں۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ان کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے محرم آٹھ (8)ہجری میں حضرت عمروبن امیہ ضمری کے ذریعہ نجاشی بادشاہ کو اسلام کی دعوت پیش کی۔ اور یہ بھی پیغام دیا کہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے میرا (آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم) کا نکاح کردے۔ نجاشی بادشاہ نے اسلام قبول کیا اور اپنی باندی ابرہ کے ذریعہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو پہنچایا۔ ام حبیبہ پیغام سن کر اس قدر خوش ہوئیں کہ اس وقت جو کچھ ان کے پاس تھا وہ سب ان کو عطا فرما دیا۔ اور خالد بن سعید بن العاص کو اپنا وکیل بنایا۔ خالد ابن سعید نے ام حبیبہ کی جانب سے پیغام نکاح کو قبول فرمایا۔ تو بادشاہ نے آقا کریم کی جانب سے چار سو دینار مہرکی رقم ان کو عطا کیا اور پھر دیگر ساز و سامان کے ساتھ بادشاہ نے حضرت ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو شرحبیل بن حسنہ کے ساتھ مدینہ طیبہ بھیج دیا۔ (تاریخ طبری،تاریخ اسلام، طبقات ابن سعد)
17/ رمضان، 2/ ہجری کو غزوۂ بدر میں ابوجہل کے مارے جانے کے بعد ابو سفیان اہل مکہ کے درمیان سب سے بڑے قائد بن گئے تھے۔ اور اس کے بعد غزوۂ احد شوال، 3/ہجری اور غزوۂ خندق شوال،5/ہجری میں کفار مکہ کے وہی سپہ سالار تھے۔ ان کی مخاصمت کو کم کرنے اور ان کے لیے ایمان قبول کرنے کو آسان بنانے کے لیے ہی آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے غائبانہ نکاح کا انتظام کیا۔ کیوں کہ اندیشہ تھا کہ اگر ام حبیبہ حبشہ سے مکہ آ گئیں تو ان کے والد ابوسفیان آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح نہیں ہونے دیں گے۔ رشتۂ مصاہرت قائم ہونے کے بعد ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی مخالفت کمزور ہو گئی اور کچھ ہی دنوں کے بعد 17/ رمضان، 8/ ہجری بمطابق: 7/جنوری، 630 عیسوی کو فتح مکہ کے موقع پر ایمان لا کر مسلمان ہو گئے۔ رضی اللہ عنہ۔
حضرت ابوسفیان کے ایمان لانے سے اسلام کو جو طاقت ملی وہ تاریخ کا ایک خوش آئند باب ہے۔
(2) ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث بن حزن رضی اللہ عنہا جو پہلے ابو رہم بن عبدالعزی کی زوجیت میں تھیں۔ جب بیوہ ہو گئیں تو ان سے رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ،7 ہجری میں عمرۂ قضا سے فارغ ہونے کے بعد نکاح کیا۔ ایک روایت کے مطابق ان کی آٹھ بہنیں تھیں جو مکہ کے آٹھ بڑے گھرانوں میں تھیں۔ ان میں حضرت ام الفضل لبابہ بنت حارث، حضرت عباس بن عبدالمطلب کی زوجہ تھیں۔ اسی لیے حضرت میمونہ نے اپنے نکاح کا وکیل حضرت عباس کو بنایا تھا۔ عمرۂ قضا کے موقع پر جب تین دن کے لیے آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں قیام پذیر تھے ان ہی دنوں میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت میمونہ کا نکاح آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا۔ اور انہوں نے ہی چار سو درہم مہر ادا کیا تھا۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے حضرت جعفر بن ابی طالب کے ذریعہ مکہ پہنچنے سے پہلے ہی نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ اورجب یہ پیغام حضرت میمونہ کو ملا اس وقت وہ ایک اونٹ پہ سوار تھی۔ انہوں نے خوش ہو کر فرمایا کہ یہ اونٹ اور جو کچھ اس پہ ہے وہ سب اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔ نکاح کے بعد آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں ہی ایک شاندار ولیمہ کا پروگرام بنایا تھا تاکہ اہل مکہ کا تالیف قلب ہو سکے۔ لیکن اہل مکہ نے مہلت نہیں دی اور اصرار کیا کہ آپ وعدہ کے مطابق مکہ سے تشریف لے جائیں۔ تو حضور اکرم صلی اللہ وسلم نے وعدے کے مطابق فورا ہی صحابۂ کرام کو مکہ سے کوچ کرنے کا حکم دیا۔ اور حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ کو حضرت میمونہ کو اپنے ساتھ لانے کے لیے وہیں چھوڑا۔ چنانچہ حضرت ابو رافع حضرت میمونہ کو لے کر دوسرے دن مقام سرف میں آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے۔
الغرض: آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا ہر واقعہ دعوت توحید ورسالت اور اسلامی طاقت و قوت کے استحکام کے لیے ہی ہوئے ہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا متعدد شادیاں کرنا بھی اسی قبیل سے ہے۔ کہ قبائلی نظام میں رشتہ داری اولین اہمیت کی چیز سمجھی جاتی ہے۔ ان شادیوں سے بہت سارے لوگوں سے رشتہ داریاں قائم ہوئیں اور ان کے دل اسلام کے لیے نرم ہوئے، جس کے تاریخی شواہد موجود ہیں۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے علاوہ دوسری تمام شادیاں حقیقتا ازدواجی تقاضے کے تحت وقوع پذیر نہیں ہوئیں۔ بلکہ ان کے ذریعے بھی اہم دعوتی و سیاسی مقاصد حاصل کیے گئے۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کے بھی بہت سارے مقاصد تھے۔ ان میں تین اہم مقاصد یہ ہیں:
(1) ایک ساتھ اہل مکہ کے آٹھ اہم گھرانوں سے رشتہ داری قائم کرنا۔
(2) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جو قریش کے سب سے بڑے اور ماہر فوجی افسر تھے۔حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے حقیقی بھتیجے تھے۔ جن کو انہوں نے اپنے بیٹے کی طرح پالا پوسا تھا۔ نکاح کے بعد کفار مکہ کا ایک فوجی جنرل آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ہو گیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس کے بعد حضرت خالد بن ولید نے کفار کی جانب سے کسی فوجی مہم میں حصہ نہیں لیا۔ یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گئے۔ اور ان کا مسلمان ہونا کس قدر اہمیت کا حامل ہے امام بیہقی کی اس روایت میں ملاحظہ کریں۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عمرو بن العاص دونوں ایک ساتھ مسلمان ہو کر جب مدینہ تشریف لائے تو ایک شخص نے بلند آواز میں علان کیا”قد أعطت مكة المقادة بعد هذين۔(البيهقي من طريق الواقدي) یعنی ان دونوں کے بعد اہل مکہ نے اپنی نکیل دے دی ہے۔
(3) نکاح کے بعداسی موقع پر مکہ مکرمہ میں ولیمہ کے نام پر تالیف قلب کی ایک اہم تقریب منعقد کرنی تھی۔ جو اہل مکہ کی ضد کی وجہ سے نہ ہو سکی ورنہ اس کے بھی بہت فائدے ہوتے۔
خلاصۂ کلام۔
حکمت و دانائی، بصارت و بصیرت، ہر کام کی منصوبہ بندی، ہر کام کے انجام دہی سے قبل اور مابعد کا تدبر، انسانی فلاح و بہبود کے لیے تسخیر کائنات کا علم و ہنر، تہذیب و تمدن میں اعلی اقدار کا حصول، عدل و انصاف کے ذریعہ دنیا میں امن و امان قائم کرنے کی جدوجہد وغیرہ یہ وہ صفات ہیں جو ہمارے اکابرین کا خاصہ تھا۔ یہ مومنین کے صفات ہیں۔ ہمیں بھی ان صفتوں کے حامل ہونی چاہیے۔ جب ہی ہم کامل مومن ہیں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

قطعیات میں ایک قول حق:دیگر اقوال باطل

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ قسط اول میں بیان کیا گیا کہ قطعیات میں اجتہاد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے