یہ ایجاد ہے اغیار کی، جس سے بچنا ضروری ہے

تحریر: محمد عابد علی نظامی ازہری
پرنسپل جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء دہلی
9984716868

پچھلے چند سالوں سے اقوام متحدہ اور اپنے آپ کو مہذب اور ترقی یافتہ کہنے والے ملکوں نے ایک نئی روایت شروع کی ہے کہ سال کے دنوں کو کسی نہ کسی شخصیت یا کسی خاص واقع اور حادثے سے جوڑ کر یاد کرتےہیں ۔ اس اقدام کو کسی حد تک قابل تحسین قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کے ساتھ یہ روایت بھی جو زور پکڑ رہی ہے کہ حکومتی ادارے صرف اسی دن اس کے متعلقہ مسئلے پر غور و خوض کرتے ہیں اور سال کے بقیہ دن اس کے مقصد کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔
یہ قضيہ ضرور منصف مزاج افراد کو حیران کن کر رکھا ہے اور با مقصد باتیں کرنے والے کے مزاج و منصوبے پر یہ کتنا کھرا اترتا ہے؟!
میں مانتا ہوں کہ اس دن کو کسی شخصیت سے خاص کرکے اس کی اچھائیوں کو سامنے لانا ، تاکہ سماج و معاشرے میں پننے والے ہر تنکے کے لیے ، ان کی شخصیت ایک آئیڈیل بن کر ابھرے، لیکن اس ڈے پر برائیوں اور فحاشیوں کا جشن مناکر اور مغربی یونیورسٹیوں اور کالجز کو آڈا بنا کر ، آخر مغربی قوم اور مغرب پرست افراد اس سے معاشرے کو کیا سبق دینا چاہتے ہیں!؟
قوم کا ہر فرد جانتا ہے کہ یہ طریقہ کار کتنا کامیاب ہے، کچھ دنوں کی تخصیص بلا مقصد و ہدف بھی کی گئی ہے جن میں شہد دکھا کر برائیوں کا دروازہ، ویلنٹائن کے نام پر مختص کیا گیاہے ۔
یہ وہی دن ہے جو آج نوجوانوں کے درمیان ناجائز تعلقات کی ابتداء اور شادی سے پہلے غیر شرعی میل ملاپ کی علامت بن چکا ہے ، اسی دن معشوقہ سے محبت کا اظہار کیا جاتا ہے اظہار کے طریقےمتعدد ہیں کوئی پھول دےکر کوئی گفٹ دے کر کوئی اور کسی طریقے سے۔۔۔۔
پہلی بات یہ ہمیں ضرور جان لینا چاہیے کہ محبت کے اظہار کے لیے کسی دن یا کسی وقت کو مقرر کرلینا عالم عشق ومحبت میں درست قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اس اظہار کے لیے یہ بھونڈے سوقیانہ ، بازاری طریقہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ یہ تو ایک احساس ہے جس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ اس کے لئے کوئی وقت مختص ہے یہ تو ایک رشتہ ہے دو دلوں کا، جب ایک میں نغمہ چھڑتا ہے تو دوسرا خود بخود جھوم اٹھتا ہے ۔
دوسری بات یہ کہ اس کی بنیاد ہی مشرکانہ رسوم و رواج پرہے جس کا مقصد خواہشات کی تکمیل تک پہنچنا ہے اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں اور جو دن ماں باپ یا مزدوروں کے ساتھ مختص ہیں اسلام نے اسے مکمل وصول بنایا ہے آپ اپنی ماں باپ بھائی بہن بیٹی بیوی وغیرہ سے ہر دن ہر پل محبت کریں اور مزدوروں کے حقوق کی رعایت کرتے ہوئے ، بروقت اس کی مزدوری کی آدائیگی ، اس سے نشان محبت کی سب سے بڑی علامت ہے ۔
ویلنٹائن ڈے ناجائز خواہشات کی تکمیل کا ایک دروازہ ہے جویک بار اگر ہمارے معاشرے میں بھی کھل گیا تو لا تعداد اجتماعی برائیاں جنم لےکر پورے معاشرے کوتہس نہس کر دے گی ، جو آئے دن اس تعلق سے پیش آنے والے واقعات و حادثات اس پر روشن دلیل ہے۔ شریعت کی پاسداری اور اس پر عمل ان برائیوں کے سد باب کا بہترین ذریعہ ہے۔
جس طرح سے محبت کے نام پر لوگ ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں یہ سماج کے ریت اور رواج کے بھی خلاف ہے اس طرح کی محبت پر ایک اچھا معاشرہ کبھی تشکیل نہیں پا سکتا بلکہ اچھے سماج اس طرح کے منافقانہ محبت نذر آتش کر دیتے ہیں۔
اور رہی بات اسلام کی تو اسلام میں اس طرح کے پیار کا کوئی تصور ہی نہیں اور ہاں جائز عشق و محبت کے لیے علماء کرام نےرہنما اصول طے کئے ہیں، جو فیملی سوسائٹی اور قوم وطن کے سلامتی کے ضامن ہیں۔
انسان کا سب سے خطرناک دشمن ، قدیم،شاطر ، عیار پسند افراد ہیں ۔ وہ ایسے انسان کو اس کام پر ابھارتا رہتا ہے جو قوم وفرد، سماج اور سوسائٹی کے لئے زہر قاتل ہے ۔
اور شیطان ان ساری برائیوں کو اس طرح مزین کرکے پیش کرتا ہے کہ لوگ فطری اور غیر فطری طریقہ سے اس برائی میں ملوث ہوجاتے ہیں ان ساری برائیوں میں ایک غیر شرعی غیر اسلامی غیر فطری غیر اخلاقی محبت کا اظہار ہے جسے لوگ ویلنٹائن ڈے کے نام سے جانتے ہیں جو بیہودگی کی انتہا پر پہنچ کر ہی منایا جاتا ہے ۔ سرخ لباس زیب تن کئے ہوئے ایک دوسرے کو پھول دیتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ مرد عورت کا اس طرح بےحجابانہ ملاپ جہاں عورتوں کے ماتھے سے حیاکی چادر نوچ لیتا ہے ، وہیں مرد کے سر سے انسانیت کا تاج اتار کر پھینک دیتا ہے ۔ اور ان دونوں کو انسانیت کی وادی سے نکال کر ایک ایسی وادی میں پھینک دیتا ہے ۔ جہاں شرم و حیا نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔
اے نوجوانوں تم اس لئے نہیں پیدا کئے گئے ہو کہ کسی کی عزت پامال کرو بلکہ تمہارا وجود تو اس لئے ہے کہ تمہاری وجہ سے دوسروں کی عزت محفوظ رہ سکے۔
اور لوگ تمہیں دیکھ کرفخر محسوس کریں کہ یہ وہ شخص ہے جس نے ہمیشہ شریعت و انسانیت کی پاسداری کیں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے