جُمادی الآخرہ یا جُمادی الأخریٰ؟

تحریر: محمد شفاءالمصطفیٰ شفا مصباحی
شعبۂ تحقیق: جامعہ اشرفیہ مبارک پور

رواں مہینہ اسلامی اور قمری سال کے اعتبار سے چھٹا مہینہ ہے، جس کے آخری عشرہ سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس کے حوالے سے اکثر ذہنوں میں یہ شبہ رہتا ہے کہ اس کا اصل و صحیح نام کیا ہے؟ کیوں کہ عام طور لوگ اس مہینے کے لیے دو طرح کے نام استعمال کرتے ہیں:
(١) جمادي الآخره.
(٢) جمادي الأخرى.
آئیے اس امر کی تحقیق کرتے ہیں کہ ان دونوں اسما میں کون صحیح ہے اور کون غلط؟ یا پھر یہ دونوں صحیح ہیں اور دونوں کا استعمال درست ہے۔
ظاہر ہے کہ اس نام کا تعلق عربی زبان سے ہے۔ لہذا اس کی بحث و تحقیق کے لیے بھی ہمیں عربی اصول و قواعد اور عربی لغات کا سہارا لینا ہوگا؛ تاکہ ہم کسی صحیح نتیجہ تک پہنچ سکیں۔ تو آئیے اس حوالے سے سب سے پہلے عربی لغات کا جائزہ لیتے ہیں۔
عربی لغات کا جائزہ لینے کے بعد کھلے طور پر یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ مہینے کا اصل نام "جمادی الآخرہ” ہے نہ کہ "جمادی الأخری”۔ کیوں کہ :
عربی لغات میں اس مہینہ کا نام ” جمادي الآخره “ درج ہے۔ اس سلسلے میں بساط بھر کوشش کی مگر کسی بھی عربی لغت میں اس مہینے کا نام ” جمادی الأخری“ نہ ملا ۔
چاہیں تو عربی زبان کی کوئی لغت اٹھا کر آپ بھی دیکھ لیں؛ ہر جگہ لفظ "جمادی” کے تحت آپ کو "جمادی الاولی” اور "جمادی الآخرہ” ہی ملے گا۔ کہیں بھی "جمادی الأخری” نہ ملے گا۔
عربی اصول و قواعد کی رو سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مہینے کا نام "جمادی الآخرہ” ہی ہو نہ کہ "جمادی الأخری”۔ کیوں کہ ”جمادي الآخرة“ میں جو لفظ” آخرہ” ہے یہ لفظ "اولی” کی ضد اور اس کے بالمقابل ہے۔ کیوں کہ جس طرح اس سے پہلے دو مہینے "ربیع الأول” اور "ربیع الآخر” میں "اول و آخر” ایک دوسرے کی ضد اور بالمقابل ہیں، اسی طرح یہاں "جمادی الاولی” اور "جمادی الآخرہ” میں "اولی و آخرہ” باہم متضاد و بالمقابل ہیں۔اور "اول” کی تانیث "اولی” آتی ہے کہ "اول” "افعلُ” کے وزن پر اسم تفضیل واحد مذکر کا صیغہ ہے؛ تو اس کی تانیث "اولی” آئے گی کہ اسم تفضیل واحد مؤنث کا وزن "فُعلی” ہے۔
اسی طرح "آخرة” یہ "آخِر” کی تانیث ہے کہ "آخِر” "فاعِلٌ” کے وزن پر اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے، تو اس کی تانیث "آخِرةٌ” آئے گی کہ اسم فاعل واحد مؤنث کا وزن "فاعِلةٌ” ہے۔
اور "أخری” یہ "آخرِ” (بکسر الخاء) کی تانیث نہیں بلکہ "أخَر” (بفتح الخاء۔ بمعنی دوسرا، دو میں سے ایک، کوئی اور، غیر) کی تانیث ہے۔ جب کہ یہاں مقصود و مطلوب اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے اور وہ "آخِرة” ہے کہ یہی” اولی” کی ضد اور اس کے بالمقابل ہے۔
فرمان باری تعالیٰ:
﴿ و للآخرة خير لك مِنَ الأولى ﴾
[الضحى : ٤]لہذا اس تفصیل سے بھی واضح ہوگیا کہ مہینے کا نام ” جمادی الآخرہ” ہی ہے نہ کہ ” جمادی الأخری”۔ لہذا”جمادی الأخری” لکھنے والوں سے اس پر نظر ثانی کی اپیل ہے ۔
اب رہی یہ بات کہ اگر کوئی "جمادی الأخری” ہی استعمال کرے تو آیا اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟۔
تو اس پر عرض یہ ہے کہ ” جمادی الآخرہ” یہ علم ہے اور "اعلام” میں تغیر و تبدل منع ہے۔ لہذا لغوی اعتبار سے "جمادی الآخرہ” کے بجائے "جمادی الأخری” لکھنے اور بولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس لیے بہر حال "جمادی الآخرہ” ہی لکھنے اور بولنے کا التزام کیا جائے کہ یہی صحیح و درست ہے۔
استاذی الکریم خطیبِ محقق حضرت علامہ محمد عبد الحق رضوی دام ظلہ ( استاذ: جامعہ اشرفیہ مبارک پور۔) اپنی مشہور و معروف کتاب” اذان خطبہ کہاں ہو؟” کے ابتدائیہ میں ایک تحریر اور صاحب تحریر پر تنقید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
” جن کا مبلغ علم یہ ہے کہ انھوں نے اپنی تحریر کے نیچے جو دستخط کیے ہیں تو مہینے کا نام "جمادی الأخری” لکھا ہے، جب کہ مہینے کا علم "جمادی الآخرہ” ہے۔ جس شخص کو اپنے عربی مہینوں کے نام بھی معلوم نہ ہوں، اور جو اعلام میں تغیر کرتا ہو اس کی لیاقت معلوم، صاف ظاہر ہے۔“
( اذان خطبہ کہاں ہو؟ ابتدائیہ، ص: ٣، ٤، دائرة البرکات، گھوسی مئو۔)
استاذی الکریم دام ظلہ کے اس تنقیدی تبصرے سے وہ لوگ سبق حاصل کریں جو "جمادی الآخرہ” اور "جمادی الأخری” کے بجائے”جمادی الثانی” لکھتے اور بولتے ہیں۔ جب "جمادی الأخری” کی اجازت نہیں تو "جمادی الثانی” کیوں کر روا ہوگا۔
پھر یہ کہ "جُمادی الثانی” یہ مرکب توصیفی ہے کہ "جمادی” موصوف اور "الثانی” صفت ہے۔ اور موصوف صفت کا قاعدہ یہ ہے کہ تذکیراً و تانیثاً دونوں میں مطابقت ہو، جب کہ مطابقت یہاں مفقود ہے کہ "جُمادی” مؤنث ہے اور "الثانی” مذکر؛ حالاں کہ یہاں”الثانی” کا بھی مؤنث ہونا ضروری تھا۔ لہذا اس قاعدے کی رو سے بھی "جمادی الثانی” کا غلط ہونا معلوم ہے۔
نیز یہ کہ اہل عرب لفظ "ثانی” کا استعمال وہاں کرتے ہیں جہاں اس کے لیے کوئی "ثالث” بھی ہو، اور چوں کہ "جُمادی” کا کوئی "ثالث” نہیں ہے؛ لہذا یہاں "جمادی” کے لیے "الثانی” کا استعمال بعید معلوم ہوتا ہے۔
فقیہ فقید المثال امام احمد رضا خان قدس سرہ نے فتاویٰ رضویہ شریف میں ایک جگہ کسی عرب صاحب کی خوب گرفت فرمائی ہے اور ان کی عربی دانی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
عرب صاحب نے اپنی تحریر میں ایک جگہ "جُمادی الثانی” لکھا تھا، اس پر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ گرفت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
” جُمادی الثانی، مؤنث کی صفت مذکر! حضرت نے "جمادی” کا کوئی "تیسرا” بھی دیکھا ہوگا کہ عرب "ثانی” بے "ثالث” نہیں بولتے “
اس کے بعد تصحیح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
” مہینے کا علم "جمادی الآخرۃ” ہے، اعلام میں تصرف کیسا؟ (اگر زبر زیر اور آنکھ پر پھلی نہ ہو، فافھم۔)“
(فتاویٰ رضویہ غیر مترجم، ج: ١١، ص: ٣٤١، رضا اکیڈمی ممبئی۔)
"غیاث اللغات” میں ہے:
”و جمادی الثانی چنانکہ مشہور شدہ بہتر نیست، گویند کہ اطلاق لفظ "ثانی” آں جا باشد کہ برائے او بعد ازاں ثالث نیز بود۔“ھ
( غیاث اللغات، فصل: جیم مع میم، ص: ٢٠٨ )
"لغاتِ کشوری” میں ہے:
” "جمادی الثانی” کہنا معتبر نہیں ہے، اس لیے کہ استعمال عرب میں "جمادی الثانی” نہیں ہے۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ "ثانی” اس مقام پر آتا ہے جہاں اس کے بعد”ثالث” بھی ہو۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ "جمادی” کے آخر میں الف مقصورہ بصورت یاے تحتانی ہے جو کتابت میں رہتا ہے اور تلفظ میں بسبب اجتماع ساکنین کے گر جاتا ہے، پس جب الف مقصورہ کے سبب سے اس کی صورت مؤنث کی ہوگئی تو اس کی صفت بھی "اولی” اور "آخرہ” کے ساتھ آنی چاہیے تاکہ صفت و موصوف میں تطابق باقی رہے۔“ (لغاتِ کشوری، فصل: جیم مع میم ص: ١٣٢، مطبوعہ لکھنؤ۔)
ان مذکورہ بالا تمام تفصیلات سے یہ ثابت ہوا کہ مہینے کا علم ” جُمادی الآخرہ” ہے۔ اور چوں کہ اعلام میں تصرف و تغیر منع ہے؛ اس لیے "جمادی الأخری” یا "جمادی الثانی” لکھنا اور بولنا منع ہوگا۔ بہر صورت "جمادی الآخرۃ” ہی لکھنے اور بولنے کا التزام کیا جائے۔
فائدہ:
ان دونوں مہینوں کی وجہ تسمیہ سے متعلق لفظ "جمادی” کے تحت "معجم المعانی عربی اردو” میں ہے:
” جُمادي: (اسم) عربی مہینہ کے نام، ایک "جمادی الاولی” اور دوسرا "جمادی الآخرہ”۔ چوں کہ عربوں کے یہاں سال کے پانچویں اور چھٹے مہینوں میں کسی سردی کی وجہ سے پانی جم جاتا تھا، اس لیے وہ ان دونوں مہینوں کو "جمادی” کہتے تھے الخ۔“
نیز وجہ تسمیہ سے متعلق ایسا ہی "غیاث اللغات فارسی” میں ہے۔
ـــــــ

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

افسانہ ہی حقیقت ہے

ازقلم: غلام آسی مونس پورنوی عبداللہ کی شادی کے تقریباً 15 سال کا ایک طویل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے