ویلنٹائن ڈے ایک ناسور رسم

از قلم: محمد معراج حسامی
حیدرآباد، انڈیا
فون نمبر : 8686542273

انسان کی فطرت میں حیا ہے
مذہبِ اسلام کا ازل یہ طرۂ امتیاز ہے کہ اسکی ہر تعلیم فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہوتی ہے ، کہ اخلاق کے سلسلہ میں تزکیہ وتصفیہ کے مضا میں بیان کئے گئے ہیں ، اعمال وافعال میں نفاست وسنجیدگی کو پسند کیا گیا ہے، افکار کی درستگی کو ابھارا گیاہے، نظریات وخیالات کی عمدگی کو سراہا گیا ہے، حیاداری وپردہ داری کو معاشرہ کی زینت بتائ گئ ہے، حیاتِ انسانی کے تمام مراحل میں رذائل سے منزہ ہونے کی تربیت کی گئی ہے، لیکن معاشرہ کے اندر انسانی ذہن ودماغ کو پراگندہ کرنےکی ایک ایسی رسمِ بے جا چل پڑی ہے جو کسی ناسور سے کم نہیں، ایسی قاتلانہ رسم ہے جس کو مغرب زدہ کلچر کی نظر میں سینٹ ویلنٹائن ڈے (Saint Valentine’s Day) کہتے ہیں،جسے ویلنٹائین ڈے (Valentine’s Day) اور سینٹ ویلنٹائن کا تہوار (Feast of Saint Valentine) بھی کہا جاتا ہےیہ محبت کے نام پر مخصوص عالمی دن ہے اسے ہر سال 14 فروری کو ساری دنیا میں سرکاری، غیر سرکاری، چھوٹے یا بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔ اس دن شادی شدہ و غیر شادی شدہ جوڑے ایک دوسرے کو پھول اور تحائف دے کر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں، اوباشی اور وارفتگی کے سلسلہ میں مستقل پروگرامس بناۓ جاتے ہیں ، مختلف طریقوں سے ناچ گانے ،فحش باتیں رومانوی انداز کی ملاقاتیں ،جنم جنم تک ساتھ جینے اور مرنے کے وعدوں کو تقویت دی جاتی ہے ، عشق ومحبت میں اپنی انسانیت کو خاک میں ملائی جاتی ہیں، حیوانیت وعریانیت کو دعوتِ نظارہ دی جاتی ہے،گناہِ بے لذت کےلئے قابل فخر والی جوانی کے ساتھ غیر منصفانہ اقدام کیا جاتا ہے یقینا یہ رسم ایک ایسا ناسور ہے جس کے سننے اور دیکھنے کے بعد حساس دل اور نفیس انسان کی آنکھیں ڈبڈباجاتی ہیں ،دل پسیجنے لگتا ہے، کلیجہ منہ کو آجاتا ہے کیونکہ یہ وہ ہلاکت خیز صورت ہے، جسکے نتائج نہایت سنگین ہوتے ہیں ،مقاصد میں تخریب کاری کارفرما ہوتی ہے ، عزائم پراگندہ ہوتے ہیں ، فحش مناظر کی بھرمار ہوتی ہے ، عیاشی کو فروغ ملتا ہے ، نیز محبت وتعلق کوغلط رنگ دیدے دیاجاتا ہے اور اس کی بہت ساری غلط صورتیں پیداکرلی جاتی ہیں ، تعلقات کی چادر میں اسلام کی دھجیاں اڑائ جاتی ہیں ، معاشرہ کی پھول جیسی بیٹیاں ناجائز وفا داریوں کے دعوے میں پھانسی جاتی ہے، عفت وعصمت کے حدود کو پامالی ہوتی ہے، شرم وحیا کی اہمیت سے آنکھیں چرائ جاتی ہیں، پیار ،محبت ، عشق اور تعلق کے نام پر جنسی ہوس کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔

متنازعہ روایت کی یہ دین ہے
اسی بنیاد پر ویلنٹائن ڈے کے نام سے منایاجانےوالا تہوار متنازعہ روایات لئے ہوۓ ہے جو دیمک کی طرح پھیلتا چلاجارہاہے، لیکن معاشرہ بد مزاج طبقہ ایسی رسم کو نقشِ پا بناۓہوۓ ہیں جسکی حقیقت سے کوئی سروکار نہیں ،اس کی ابتداء و انتہا موضوع اور بے معنی ہے، ذیل میں چند درج کی جاتی ہیں 
(1)ایک عام ذرائع اور مشہور روایت کے مطابق تیسری صدی عیسیوی کی سلطنت روم میں حکمران کلاڈئیس دوم نے نوجوانی میں شادی کرنے پر پابندی عائدکردی تھی۔کلاڈئیس کا خیال تھا کہ شادی شدہ اور بچوں والوں کی نسبت غیر شادی شدہ مردبہتر سپاہی اور جنگجو ثابت ہوتے تھے لہٰذا اس نے نوجوانوں کو ایک مخصوص عمر سے پہلے شادی کرنے سے منع کردیا۔ اس نے شاہی فرمان کے باوجود ایک عیسائی پادری سینٹ ویلنٹائن پیار کرنے والے جوڑوں کی شادیاں کرواتا رہا اور اس جرم میں شہنشاہ نے اسے پھانسی پر چڑھادیا۔ اسی پادری کی یاد میں ویلنٹائن ڈے منایا جانے لگا۔
(2)ایک دوسری روایت کے مطابق سینٹ ویلنٹائن روم کی ایک جیل میں قید تھا اور وہ جیل کے نگران کی بیٹی کے عشق میں گرفتار تھا۔ اس نے ناظمِ جیل کی بیٹی کے نام محبت نامہ لکھا جس پر الفاظ "From your Valentine” درج تھے اور اسی دن سے ویلنٹائن ڈے اور اس کے کارڈز اور تحائف کی ریت چل پڑی۔
(3)کچھ مورخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ قدیم یونان اور روم میں زرخیزی اور کاشتکاری کے دیوتا Lupercalia کا دن 14 فروری کو منایا جاتا تھا اور اسی تہوار پر نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ایک دوسرے سے منسوب کیا جاتا تھا۔ بعد میں یہی دن رومی سلطنت اور پھر تمام مغربی دنیا میں یوم محبت کے طور پر منایا جانے لگا۔

انسدادِ فواحش کا قرآنی ونبوی نظام
فواحش اور منکرات کا جو زور ہے یہی نہیں بلکہ اس طرح کے دیگر امور کی دین ہے یہود و نصاریٰ کی زد میں آکر مسلمانوں میں بھی بےحیائی کو رواج دینے کا عروج پر ہے بالخصوص ناجائز محبت کی ایسی ایسی فلمیں دیکھتے اور بناتے ہیں اور ایسے اخبار و رسالے شائع کئے جاتے ہیں ایسے ناول اور افسانوں کو شہرت دی جاتی ہے جن سے بچنا تو در کنار ،بلکہ بے حیائی کا شیوع ہوتا ہے قرآن کریم میں ایسے بد مزاج اور گندی فکر پھیلانے والوں کے حق میں وعیدِ شدید سنائی ہے۔

"بلاشبہ جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والوں میں بد کاری کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے "( النور۱۹ )

احادیث مبارکہ کے الفاظ ومعانی بھی اس بات پر دال ہیں کہ رشتۂ محبت کو درست منزل پر پہونچانے کےلئے نیک جذبات کارفرما ہونا ضروری ہے ،اپنی ہوس کی پیاس بجھانے کی آرزوئیں پیشِ نظر نہ ہو رب کی رضا جوئ کی فکر وابستہ ہو ،سماجی ، ومعاشرتی زندگیوں میں ہدایاتِ نبوی کو لائحہ عمل بنایاجائے یہى جہد کاریاں غیر مجاز تعلقات کی لہر تھمنے کا سبب ہوگی ،ایمانِ کامل وترقی کی راہیں فراہم ہوگی۔

حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا 
’’جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے دشمنی ،اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے نہ دیا تحقیق اس کا ایمان مکمل ہو گیا۔‘‘ (رواہ ابو داود ٢٢٠/٣ -٤٦٨١ والحاکم ١٧٨/٢ – ٢٦٩٤)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
’’أوثق عری الإیمان،الموالاۃ في اﷲ والمعاداۃ في اﷲ والحب في اﷲ والبغض في اﷲ‘‘
’’ ایمان کی بلندی یہ ہے کہ اللہ کے لیے دوستی ہو،اللہ کے لیے دشمنی ہو، اللہ کے لیے محبت ہو اور اللہ کے لیے بغض ہو۔‘‘(الطبراني؛ السلسلۃ الصحیحۃ : ١٧٢٨)۔

جس سے حقیقی محبت ہو اس سے محبت کا اظہار بھی کیا جائے وہ بھی اسلامی طریقے سے، نہ کہ ویلنٹائن ڈے جیسے مخصوص دن کا انتظار کیا جائے، جس نے بھی اس دن کو یوم محبت کا نام دیا اس نے انسانیت پر بڑا ظلم کیاہے ، کیونکہ”ویلنٹائن ڈے” ہر اعتبار سے ناسور ہے ، اس کا اصل مقصد عورتوں اور مردوں کے درمیان ناجائز تعلقات کو فروغ دینا بلکہ تقدس عطا کرنا ہے؛”ویلنٹائن ڈے” منانے کا مطلب مشرک رومی اور عیسائیوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے، اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا
"جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انھیں میں سے ہے”
(سنن أبي داؤد، کتاب اللباس / رقم: ۴۰۳۱)

آج ویلنٹائن ڈے کے عنوان کے پسِ پردہ  جو کچھ ہو رہا ہے وہ سوائے بربادی کے کچھ نہیں، ایک طرف بے حیائی و عریانیت پھیل رہی ہے تو وہیں دوسری طرف معاشرے کے خاندانی نظام میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے؛  اگر آج ہم نے اپنی نوجوان نسل کو اس مغربی خرافات سے آگاہ نہیں کیا، جو اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ اور مغربی تہذیب کے دیوانے ہیں، تو وہ دن دور نہیں کہ ہماری نسل بھی مغرب کے طور طریقے سے آراستہ و پیراستہ ہوجائیں گے؛جہاں تک بھی ہوسکے اسلامی تعلیمات پر عمل کریں، اس کے ارتکاب سے مکمل اجتناب کریں اس دن کو بے شرمی و عریانیت کے طور پر منانے کے بجائے ”حیا ڈے” کے طور پر منائیں حیا کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنائیں؛حق تعالیٰ جل مجدہ حسنِ عمل  کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ازالہ شُبہات در آیاتِ جہاد (قسط دوم)

تحریر: کمال مصطفیٰ ازہری جوکھنپوریجامعة الأزهر الشريف ، مصر بسم الله الرحمن الرحيم شبہ نمبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے