اردو زبان کے تحفظ کا مسٔلہ

تحریر: محمد نظر الہدیٰ قاسمی
نور اردو لائبریری حسن پور گنگھٹی بکساما مہوا ویشالی بہار
8229870156

اردو زبان جس میں ہماری تہذیب پوشیدہ ہے، جس زبان کو اپنی ماں کی طرف منسوب کرکےہم فخر کے ساتھ اسے مادری زبان کہتے ہیں، اس زبان کا حال اور چال ان دنوں بہت ہی ناگفتہ بہ ہے، اس کی حالت زار کو دیکھ کر جگر منھ کو آجاتا ہے، اس کی حالت کا اندازہ اونچے بنگلے میں رہنے والے اور اے سی گاڑیوں میں بیٹھ کر گاؤں گرام کے گرد آلود آب و ہوا سے اپنے کپڑے بچانے والے نہیں لگا سکتے، ہمیں اس کی زبوں حالی کا پتہ اور اندازہ اسی وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے ارد گرد گھومیں گے، سماج میں رہنے اور اٹھنے بیٹھنے والے سے اس کی حالت زار کے تعلق سے تفتیش کریں گے، اپنے مکاتب و ملحقہ مدارس کا جائزہ لیں گے، اسکول و کالج سے وابستہ اساتذہ سے اس کی تنزلی کے اسباب دریافت کریں گے تو اس وقت ہم صحیح نتیجہ پر پہنچ پائیں گے کہ اردو کے ساتھ کیا سازش ہورہی ہے، اس سازش کو انجام دینے والے لوگ کون ہیں؟ صحیح اور سچی بات یہ ہے کہ گاؤں اور اس کے اطراف و اکناف میں اردو کی حالت بد سے بدتر ہے،اب اردو کی ترقی کی بات کرنے کے بجائے اس کے تحفظ کی فکر کرنا انتہائی ضروری ہے، اردو کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب کہ اس کا تحفظ ہو، گویا کہ ترقی کے لئے تحفظ شرط اول ہے۔
اس کے تحفظ کے لئے پہلے تنزلی کے اسباب تلاشنے ہوں گے کہ کیا وجہ ہے کہ وہ زبان جس کا ایک زمانہ میں طوطی بولتا تھا،اس کے پڑھنے اور پڑھانے پر لوگ فخر محسوس کرتے تھے، کسی شناسا یا غیر شناسا سے گفتگو ہوتی تھی تو سینہ چوڑا کرکے سر اٹھا کر اپنا تعارف پیش کرتے تھے کہ ہم اردو کے استاذ ہیں، لیکن اب سینہ چوڑا کرنا تو دور کی بات سر اٹھا کربھی اپنا تعارف پیش کرنے کی جرأت نہیں جٹاپاتے، آخر یہ احساس کمتری کہاں سے آیا،اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، اس زبان کی زبوں حالی کی سب سے بڑی وجہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ مکتب کا نظام ماضی میں جو تھا وہ اب نہیں، ہمارے گاؤں میں مکتب تو ہے؛لیکن والدین اپنے بچوں کو مکتب میں بھیجنا اپنی عزت کے منافی سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے بچے دس کلووزن کا کتابوں سے بھرابیگ پیٹھ پر تو اٹھا کر کنونٹ چلے جاتے ہیں؛ لیکن دوسو گرام کی دو کتاب (نورانی قاعدہ،اردو کی پہلی) اٹھاکر مکتب نہیں جاتے، اس میں بچوں سے زیادہ والدین قصور وار ہیں، والدین کا یہاں پر دو رخا نظریہ ہوتا ہے،اگر کسی کے پاس دو بچے ہوتے ہیں اس میں کا ایک بچہ مکتب میں تعلیم حاصل کر رہا ہو اور دوسرا بچہ اسکول میں، تو اسکول کے بچے کے جوتے کو پالش دیکر اس کے تسمے باندھنا والدین فخر سمجھتے ہیں اور جو بچے مکتب میں ہیں ان کی ناک کی رطوبت کو صاف کرنا حقیر سمجھتے ہیں،اس لئے والدین کو اس سے اپنے آپ کو آزاد کرکے سب سے پہلے بچوں کو دینی تعلیم دلانی ہوگی، یہ بچوں کے حق میں بھی مفید ہے اور والدین کے حق میں بھی۔جب مکتب کی تعلیم کا فروغ ہوگا تو اس ضمن میں ہمارے بچے اردو سے آشنا ہوں گے،اس کی تنزلی کا دوسرا سبب یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں سب موضوع کے لئے کوچنگ کا نظم ہوتا ہے لیکن اردو بیچاری کے لئے کوئی نظم نہیں،اگر اردو کی تعلیم کا نظم کوچنگ اور اسکول میں ہوتا بھی ہے تو وہاں کے پرنسپل اور سرپرست اردو کے اساتذہ کے ساتھ دورخا معاملہ کرکے انہیں احساس کمتری میں ملوث کردیتے ہیں،اسی اسکول اور کوچنگ میں انگریزی وغیرہ کے اساتذہ ہوتے ہیں تو ان کو تنخواہ دینے کے تعلق سے پرنسپل حضرات کا سینہ وسیع ہوتا ہے اور اردو کے اساتذہ کو تنخواہ دینے میں بخل کرتے ہیں اسی وجہ سے اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلبہ بھی احساس کمتری کے شکار ہوجاتے ہیں، اس حالت میں اردو کی ترقی کا خواب دیکھنا تو درکنار تحفظ بھی ممکن نہیں۔اردو کی زبوں حالی کی تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اساتذہ چاہے وہ اسکول،کالج یا ملحقہ مدارس کے ہوں نہ اردو پڑھاتے ہیں اور نہ اس کی فکر کرتے ہیں، اس حالت میں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری زبان محفوظ ہوگی ۔اگر ہم واقعی اردو کا بھلا چاہتے ہیں اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح ماضی بعید میں اردو پروان چڑھی ہوئی تھی ویسے ہی پھر پروان چڑھنے لگے تو اس کے لئے ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا، جو اساتذہ مکتب میں لگے ہوئے ہیں وہ مکتب کے بچوں کو ابتدائی طور پر اس لائق بنا دیں کہ انہیں کوچنگ یا اسکول وغیرہ میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، کوچنگ اور اسکول کے اساتذہ اپنے بچوں کے اندر اتنی لیاقت پیدا کردیں کہ کالج وغیرہ میں جاکربچے اپنے آپ کو کمزور محسوس نہ کریں، اور کالج کے پروفیسر ان حضرات ان بچوں کے اندر ایسی طوفانی صلاحیت پیدا کردیں کہ وہ جہاں جائیں جس جگہ بیٹھیں فخر کے ساتھ کہہ سکیں کہ ہم اردو کے پروفیسر ہیں۔یہ تمام باتیں اسی وقت ممکن ہیں جب تمام لوگ انفرادی طور پراردو کے تعلق سے حساس ہوجائیں ورنہ وہ دن دور نہیں کہ ہماری اردو تصنیفات و تالیفات لائبریری کی زینت بن کر رہ جائیں گی، جیسے کہ فارسی زبان جسے لوگ دور سے ہی عبرت کی نگاہ ڈال کر یہ کہتے پھرتے ہیں کہ یہ فارسی کتاب ہے۔اللہ تعالیٰ بھلا کرے امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم کا کہ انہوں نے بہار کے چپہ چپہ میں اردو کے تحفظ اور مکاتب کے قیام کے تعلق سے امارت شرعیہ کے ذمہ داروں اور کارکنوں کا پورا قافلہ عوام کے حوالہ کردیا،ان کی تقریروں سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوۓ کہ اب اردو کی ترقی نہیں بلکہ تحفظ کا معاملہ آگیا ہے ، اردو کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جبکہ پہلے اس کا تحفظ ہو۔حضرت امیر نے اردو کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مکاتب کے قیام پر بھی زور دیا اس لیے کہ اردو کی ترویج و اشاعت میں مکاتب و مدارس کا اہم رول رہا ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بہار کے مختلف اضلاع میں "فروغ اردو سیمنار و مشاعرہ” کا انعقاد: ایک نظر میں

تحریر: اسجد راہی، ایڈیٹر قومی ترجمان ہر سال ریاست بہار میں اردو ڈایریکٹوریٹ و اردو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے