ویلنٹائن ڈے سراسر فحاشی اور بے حیائی کا دن ہے

از قلم: تصویر عالم بن امیر حسین
متعلم: جامعہ ابی ہریرہ الاسلامیہ الہ آباد یوپی

اللہ تعالی نے مرد اور عورت کے رشتے میں ایک عمومی حرمت قائم کی ہے . یعنی عورت اور مرد کے آزادانہ جنسی اختلاط پر پابندی لگائی ہے اور اس پابندی کے دو مقاصد ہیں ، ایک تو یہ ہے کہ ایک ایسی سوسائٹی قائم ہو ایک ایسا معاشرہ قائم ہو جس کی بنیاد آزادانہ جنسی اختیاط کے بجائے نکاح کے اصول پر مبنی ہو۔ تاکہ ایک مضبوط خاندانی نظام کو فروغ دیا جاسکے۔
اس پابندی کا دوسرا مقصد انسان کو آزمانا ہے کہ کون اپنے نفس کو کنٹرول کر پاتا ہے اور اللہ کی اطاعت و بندگی اختیار کرتا ہے اور کون نفس کی آواز پر لبیک کہہ کر اللہ کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے.

ایک بات یاد رکھیں قارئین کرام! کے مذہب اسلام محبت سے منع نہیں کرتا وہ عورتوں کی عزتوں کی حفاظت کرتا ہے اور مذہب اسلام ہے ہی پاکیزہ اور صالح دین۔ اس لئے اللہ تعالی نے قرآن مجید کے اندر جگہ جگہ فواہش سے دور رہنے کی تاکید کی ہے، اللہ نے سورۃ النور آیت نمبر 9 9 کے اندر فرمایا "جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش (یعنی بے حیائی) پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں "
جب ویلنٹائن ڈے سراسر بے حیائی اور فحاشی کا دن ہے تو کسی بھی صورت میں ایک صالح معاشرے قائم نہیں ہو سکتا . ویلنٹائن ڈے منانا مذہبی اعتبار سے اخلاقی اور معاشرتی سطح پر غلط اور ممنوع ہے اسلام نہ صرف برائی کا سدباب کرتا ہے بلکہ برائی کی طرف جانے والے ہر راستے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے ویلنٹائن ڈے فحاشی کا دوسرا نام ہے۔
قارئین کرام! کیا آپ کی بہن یا بیٹی کسی سرخ لباس میں یا برقع میں یا پھر چادر میں ایک نامحرم مرد کے ساتھ پارک میں ریسٹورینٹ میں، کار یا بائک پر ویلنٹائن ڈے کے موقع پر محبت کے تحفے دیتے ہوئے پسند کریں گے؟ نہیں ہر گز نہیں یقینا آپ کو ناگوار گزرے گا. آج پریمی لوگ یعنی 14 فروری کے دن محبت کے پجاریوں نے ویلنٹائن ڈے کے نام پر ایک تہوار منانا شروع کیا ہوا ہے. کیا ہمیں اس دیوار کو منانا چاہیے؟ ہمیں دین اسلام کے اندر اس کی اجازت ہے؟ ہرگز نہیں۔ دین اسلام کے اصول سنہری اور لازوال ہیں قرآن مجید میں صراط مستقیم پر چلنے کی تلقین کی گئی ہے کہ ہمیں معاشرے میں کس طریقے سے زندگی گزارنی ہے۔
اللہ رب العالمین نے سورۃ النور آیت نمبر 30 اور 31 کے اندر ارشاد فرمایا کہ "مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالی سب سے خبر ہے۔ مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی زینت کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں”

ویلنٹائن ڈے دو اعتبار سے منانا ممنوع ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے یوم رومانویت ہے اس کا مطلب رومینس ڈے ۔اور رومانویت کا تصور اسلام میں اگر موجود ہے تو صرف بیوی کے درمیان موجود ہے باقی کسی بھی رشتے میں رومانویت کا کوئی تصور نہیں۔ اسلام کے اندر آزادانہ رومانویت۔ لڑکے لڑکی کا ملنا۔ ان کو تحفے تحائف دینا۔ ایک لڑکی کا اپنے غیر محرم مرد کے ساتھ ہونا۔ اسلامی تہذیب و تمدن سے ان کا دور دور کا کوئی واسطہ نہیں۔ ایک تو یہ ایک قباہت والی بات ہے

اور دوسری قباحت والی بات یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے صرف سماجی رسم نہیں ہے بلکہ ایک مذہبی رسم بھی ہے عیسائیوں کے دو بڑے فرقے کیتھولک چرچ اور آرتھوڈوکس چرچ کے مطابق ہے پورے دنیا میں 14 فروری ویلنٹائن ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ گویا کہ ایک تیر سے دو شکار کر رہے رہے ہیں ایک تو مسلمانوں کو تہذیبی طور پر گمراہ کیا جاتا ہے اور اور اپنی مذہبی رسم میں مسلمانوں کو شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس طرح سے نئے سال اور کرسمس ڈے میں کیا جاتا ہے۔ ایک غیرت مند انسان کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کر سکتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق کسی بھی قوم کی مشابہت اختیار نہیں کرسکتا۔ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "من تشبہ بقوم فھو منہ” جو بھی قوم کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہے "

ایک بات یاد رکھیں قارئین کرام ! کہ ہمارے مذہب کے اندر دین اسلام کے اندر کوئی بھی زبردستی نہیں ہے دباؤ نہیں ہے۔ ہم عیسائیوں کو ان کے گرجا گھروں میں عبادت کرنے سے نہیں روکتے ہیں ہم انہیں انجیل بائبل پڑھنے سے نہیں روکتے ہیں ہم انہیں جبرا اپنے مذہب میں داخل کرنے کی جستجو نہیں کرتے ہیں ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو تمہارا تہوار ہے وہ ہمارا بھی۔ دیوالی تمہارا تہوار ہے ہمارا نہیں۔ ہولی تمہارا تہوار ہے ہمارا نہیں ۔

کبھی آپ نے نے سنا ہے یا دیکھا ہے کہ رمضان کہ رمضان کہ رمضان کے روزے ایک عیسائی نے رکھا ہو یا عید الفطر الفطر ادا کیا ہو یا عید الاضحی کے دن قربانی کی ہو کبھی حج کیا ہو؟ آپ نے کبھی نہیں دیکھا لیکن ایک مسلمان اسلامی طرز عمل کو اختیار کرنے کے بجائے غیر مسلموں کے طرز عمل کو اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے
آج مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ تہوار کم و بیش ہر اسلامی ملک میں اپنی جڑیں مضبوطی سے گاڑ چکا ہے اور امت مسلمہ کے نوجوان کھلے دل و دماغ سے نہ صرف اپنایا ہے بلکہ وہ یہود و نصاریٰ سے بھی بڑھ چڑھ کر زیادہ جوش و خروش کے ساتھ منانے کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں جو مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ اور باعث شرم ہے۔ یاد رکھیں کہ ہماری آنے والی نسلوں کی عزت و حیاء کی بقا کی بقا کی بقا صرف اور صرف اسلام کی روشن تعلیمات میں ہے اس لئے اپنے بچوں اور بچیوں کو اسلامی تعلیمات ضرور دیں تاکہ دین کی اصل حقیقت کو جان سکے سمجھ سکے۔

اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہمیں اس بے حیائی کے عالمی دن سے محفوظ رکھے آمین

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ہمارےبارے میں ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانبدارانہ نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

آج بھی ہو جو ابراھیم سا ایماں پیدا

تحریر : سراج احمد آرزو حبیبی قربانی عربی زبان کے لفظ(قرب) سے مشتق ہےجسکا معنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے